تازہ ترین : 1
Pakistan Ka Matlab Kiya

پاکستان کا مطلب کیا ؟لاالہ الااللہ قائد کے تصور پاکستان میں سیکولرزم کی کوئی گنجائش نہ تھی

قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل 101بار اور قیام پاکستان کے بعد 14مرتبہ کہا کہ پاکستان کے آئینی ڈھانچے کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی

قائداعظم  کی اسی اسلامی سوچ کے مطابق مارچ 1949ء میں پاکستان کی مرکزی اسمبلی نے قرار داد مقاصد منظور کی تھی جس میں نفاد اسلام کا عہد کیا گیا اور وزیراعظم لیاقت علی خان ن اپنی تقریر میں کہا تھا،” یہ قرارداد قائداعظم کی سوچ کی ترجمانی کرتی ہے۔“
قیام پاکستان کے ایک ماہ قبل علامہ شبیر احمد عثمانی قائداعظم سے ملاقات کے لئے دہلی میں ان کی قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔
علامہ عثمانی نے ان سے پوچھا: اب جبکہ اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان بن رہا ہے۔ آپ یہ فرمائیں گے کہ پاکستان میں آئین کونسا ہوگا؟“ اس پر قائداعظم نے دوٹوک انداز میں کہا:” پاکستان میں قرآنی آئین ہوگا۔ میں نے قرآن مجید ترجمہ سمیت پڑھا ہے اور میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ قرآنی آئین سے بڑھ کر کوئی آئین نہیں ہو سکتا“۔
گورنر جنرل کی حیثیت سے فروری 1948ء میں قائداعظم نے پاکستان کے آئین کی تشکیل کے وقت و اشگاف الفاظ میں کہا تھا، ” آئین ساز اسمبلی کو ابھی پاکستان کا آئین مرتب کرنا ہے۔
میں نہیں جانتا کہ اس آئین کی آخری شکل کیا ہو گی مگر مجھے یقین ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی اصولوں کا آئینہ دار اور جمہوری انداز کا ہوگا۔ اسلام کے یہ اصول آج بھی اسی طرح عمل زندگی پر منطبق ہو سکتے ہیں جس طرح وہ تیرہ سو سال پہلے ہو سکتے تھے۔ اسلام نے ہمیں انسانی مساوات اورہر ایک کے ساتھ عدل و دیانت کی تعلیم دی ہے “۔ (اہل امریکہ کے نام ایک پیغام)
قائداعظم ہر مسلمان کے مانند اسلام کو مکمل ضابطہ حیات سمجھتے تھے اور معاشرت، سیاست، معیشت کے تابع قراد دیتے تھے ۔
انہوں نے قیام پاکستان سے قبل 101بار اور قیام پاکستان کے بعد 14مرتبہ کہا کہ پاکستان کے آئینی ڈھانچے کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ قائداعظم ایک سچے، کھرے اور مخلص مسلمان تھے ۔ وہ علماء کا احترام کرتے تھے۔ چنانچہ ان کی خواہش پر 15اگست کو کراچی میں مولانا شبیر احمد عثمانی اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی نے پاکستان کا پرچم لہرایا۔
انہوں نے ” ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن“ نامی محکمے کا سربراہ نو مسلم مفکر علامہ محمد اسد کو مقرر کیا جو قرآن ، عربی زبان اور اسلامی تعلیمات کے ماہر تھے اور اپنے رسالے ” عرفات“ میں پاکستان کے آئین، قانون، معاشی نظام اور نصاب تعلیم کو اسلامی بنیادوں پر استوار کرنے کے حوالے سے طویل مضمون لکھ چکے تھے، چنانچہ علامہ اسد نے 18اکتوبر 1948ء کو ریڈیو پاکستان کی نشری تقریر میں واضح کہاتھا کہ ڈیپارٹمنٹ آف ” اسلامک ری کنسٹرکشن“ کا کام پاکستان کے قانونی ڈھابچے کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنا ہے“ ۔
قائداعظم کی وفات کے بعد یہ محکمہ بوجودہ فعال نہ رہ سکا اور علامہ اسد اس سے الگ ہوگئے۔
قائداعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کے ایک آزاد وطن دلا کر جو عظیم الشان ملی خدمت انجام دی اسی کے پیش نظر علامہ شبیر احمد عثمانی نے ان کے انتقال پر کہا تھا، ”قائداعظم اورنگ زیب کے بعد مسلمانوں کے عظیم ترین راہنما تھے“۔
قائداعظم کے تصور پاکستان میں سیکولرزم یا کسی اور ازم کی ہرگز گنجائش نہ تھی۔
مندرجہ بالا تصریحات سے واضح ہے کہ وہ صدق دل سے ملک میں شریعت کا نفاذ چاہتے تھے۔ بانی پاکستان اور مسلمانوں کے اسی تصور کے مطابق تحریک پاکستان کے دوران میں مسلم لیگ سے جلسوں میں نعرے لگتا تھا۔
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الٰہ اِلا للہ!
اگر وطن عزیز میں اللہ کا قانون نافذ ہو چکا ہوتا تو آج ہم ان مصائب اور فتنوں سے دوچار نہ ہوتے جن میں آج ہم مبتلا ہیں۔
ایٹمی پاکستان میں اسلام اور اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی دفعات موجود ہیں لیکن ان کے عملی نفاذ کی راہ میں حکومتی اداروں پر قابض اقلیت حائل ہے۔مثلا سود کے خلاف عدالت عظمیٰ میں رٹ دائر کر کے اس معاملے کو التواء میں ڈال رکھا ہے نفاذ اسلام کے سلسلے میں یہ منافقت ہمارے آلام و مصائب کا سب سے بڑا سبب ہے اسے ترک کر کے ہی قوم اسلام کی ابدی برکات سے بہرہ رو ہو سکتی ہے۔
وقت اشاعت : 2014-03-23

(3) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں