تازہ ترین : 1
Mar Giraye Jane Wale Musafir Tiyare

مارگرائے جانے والے مسافر طیارے

شک یا دہشت گردی کی بنیاد ر انسانی جانوں کا نقصان کب تک؟۔۔۔۔۔ گزشتہ دنوں یکے بعد دیگرے طیاروں کی گمشدگی اور ان کے گرنے کی خبریں منظرعام پر آئی ہیں جس نےماضی میں گرائےجانےوالےمسافربردار طیاروں کی یاد تازہ کردی ہے

تہمینہ رانا:
9/11کے حملوں کے بعد لوگوں نے کئی ماہ تک ہوائی جہاز میں سفر کرنا ہی چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے فضائی شعبے کی کمر ہی ٹوٹ گئی تھی۔ تاہم کچھ عرصے کے بعد حالات نارمل ہوگئے اب ملائشین جہاز کی گمشدگی کے بعد اس شعبے کو ایک بار پھر ویسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا۔ گزشتہ دنوں یکے بعد دیگرے طیاروں کی گمشدگی اور ان کے گرنے کی خبریں منظر عام پر آئی ہیں جس نے ماضی میں گرئے جانے والے مسافر بردار طیاروں کی یاد تازہ کردی ہے۔
لوگ ابھی تک گمشدہ ملائیشین ایئر بس کو نہیں بھولے۔ ان حادثوں میں بہت سی قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے لیکن جن جہازوں کو غلط فہمی کی بناء پر مار گرایا جاتا ہے اس کے متعلق قانون بنانے اور عملدرآمد کروانے کی اشد ضرورت ہے۔
ائیر الجیریا اے ایچ 501، 25جولائی 2014ء
الجزائر میں حکام کے مطابق قومی فضائی کمپنی ائیر الجیریا کے بور کینا خاسو سے دارالحکومت الجئیرز جاتے ہوئے لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کا ملبہ مالی سے ملا۔
بورکینا فاسو کا یہ طیارہ سرحد سے 50کلو میٹر دور گر کر تباہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں جہاز پر سوار 116مسافر ہلاک ہوگئے۔ الجزائر حکام نے دہشت گردی کے امکانات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سلسلہ میں فوجی تفتیش کار بھجوانے کا اعلان کیا ہے۔
ملائیشین طیارہ ایم ایچ 17جولائی 2014ء
یوکرین کی فضائی حدود میں ملائیشیا کے مسافر بردار طیارے ایم ایچ 17کو ممکنہ طور پر میزائل سے گرائے جانے کے واقعے نے ماضی میں میزائل حملوں کے شکار بنائے جانے والے طیاروں کی یادیں تازہ کردیں ہیں۔
یوکرین کے علاقے رونیسک میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے کا بلیک باکس اور 198 افراد کی لاشیں باغیوں نے قبضے میں لے لیں۔ باغی رہنماؤں نے جہاز کے مسافروں کی یہ لاشیں گرمی میں خراب ہونے سے بچانے کیلئے ٹرین کے اے سی والے ڈبوں میں محفوظ کرلیں اور حادثے کا ذمہ دار یوکیرنی فوج کو قرار دیا۔ جبکہ امریکہ نے کہا کہ جنہیں میزائل کے ذریعے ایم ایچ 17کو نشانہ بنایا وہ روس سے باغیوں کے پاس آیا۔
ادھر یوکرینی حکومت باغیوں کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے۔ حادثے کا سبب جو بھی ہو لیکن ان قیمتی اور معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والوں کو کیا ملا۔ کیا ان کا قصور صرف اتنا ہی تھا کہ وہ اس بدقسمت جہاز میں تھے جس کا فضائی راستہ اس جنگ زدہ علاقے سے گزرتا تھا۔ سائبرین ائیرلائینز کی پرواز نمبر 1812: 14اکتوبر 2001ء کی ایک صبح کو گھروں سے خوش باش نکلنے والے مسافروں کو قطعی علم نہ تھا کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر اور منزل موت ہوگی۔
اس روز سائبیرین ائیرلائنز کا یاک طیارہ اسرائیل کے شہر تل ابیب سے روس کے شہر نووسیبرسک جانے کیلئے اڑا تو اپنی منزل پر پہنچنے کی بجائے بحیرہ اسود کی خطرناک لہروں سے ٹکراکر پاش پاش ہوگیا۔ اس حادثے میں جہاز میں سوار تمام 78افراد ہلاک ہوگئے۔ اس حادثے کے حوالے سے یوکرینی فوج نے شروع میں انکار کرنے کے بعد قبول کرلیا کہ اس کی فوج نے جنگی مشقوں کے دوارن اس کو دشمن کا جہاز سمجھ کر اڑادیا تھا۔

ایران ایئر کی پرواز نمبر 655
3جولائی 1988ء کو ایران ایئر کی دبئی جانے والے ایئر بس اے 300 طیارے کو امریکہ نے ایف 14لڑاکا طیارہ سمجھ کر مار گرایا۔ 1979ء میں ایرانی انقلاب سے پہلے امریکہ نے یہ ایف 14لڑاکا طیارہ ایران کو فروخت کیا تھا۔ جولائی 1988ء میں امریکی جہاز سے اسی طیارے پر دو میزائل داغے گئے۔ اس حملے کی وجہ سے طیارے میں سوار تمام 290مسافر اور عملے کے ارکان ہلاک ہوگئے۔
طیارے میں سوار مسافروں کے لواحقین اور ایرانی حکومت نے اس حادثے کو ”مجرمانہ کارروائی“ ظلم اور قتل عام کہہ کر اس پر احتجاج بھی کیا تھا جبکہ امریکہ مسلسل زور دیتا رہا کہ غلطی کے باعث یہ سنگین حادثہ رونما ہوا۔ 1996ء میں ایران نے امریکہ کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ بھی دائر کیا تھا اور بعد میں امریکہ نے ہلاک ہونے والوں کو ہر جانے کی رقم بھی ادا کی تھی لیکن کیا رقم سے ان کے پیارے واپس آجائیں گے۔
ٹیکنالوجی پر عبور رکھنے والے امریکہ کا بیان کہ یہ غلط فہمی کی بنا پر ہوا بات خود غلط فہمی کے سوا کچھ اور نہیں۔
کورین ائیر لائنز کی پرواز نمبر 007
یکم ستمبر 1983ء کو نیورک سے سیول جانے والے کورین ائیر لائنز کے مسافر طیارے کو سوویت یونین کے ایک لڑاکا طیارے نے مارا گرایا۔ اس میں عملے سمیت جہاز میں سوار سبھی مسافر لقمہ اجل بن گئے۔
یہ طیارہ اپنا راستہ بد کر سابق سوویت یونین نے طیارے کی تباہی کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنا جرم قبول کرتے ہوئے الزام تراشی کی کہ اس طیارے کے ذریعے جاسوسی کی جارہی تھی۔ یعنی جاسوسی کی بھینٹ چڑھنے والے افراد کی آخری منزل موت بنا دی گئی۔
لیبئین ایئرلائنز کی پرواز نمبر 114
لیبئین ایئر لائنز کے بوئنگ 200-727طیارے کو مصر کے صحرائے سینا کے اوپر اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے 21فروری 1973ء کو خراب موسم اور فنی خرابی کے باعث تباہ کردیا۔
یہ طیارہ شمالی مصر کے اوپر راستہ بھٹک گیا تھا اور اسرائیل کے کنٹرول والے علاقے میں داخل ہوگیا تھا۔ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے اسے خبردار کرنے کیلئے پہلے شاٹ فائر کئے اور طیارے کو اترنے کے سگنل دئیے۔ مگر بعد میں دو لڑاکا طیاروں نے جہاز کو گھیرے میں لے کر میزائلوں سے اڑا دیا۔ اس میں عملے سمیت سوار 113افراد میں سے صرف 5افراد ہی زندگہ بچ پائے تھے۔

کیتھے پیسفلٹ ائیرویز کی پرواز نمبر سی 54
کیتھے پیسفک ائیرویز کا سی 54سکائی ماسٹر طیارہ بینکاک سے ہانگ کانگ کیلئے 23جولائی 1954ء کو روانہ ہوا۔ چین کے ایک جزیرے ہنان کے ساحلی علاقے پر چین کے ایک لڑاکا طیارے نے دوران پرواز اس پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار 19مسافروں میں سے 10ہلاک ہوگئے۔ چین کا موقف تھا کہ اس نے جہاز کو حملہ آور مہم پر آیا ہوا فوجی طیارہ سمجھ لیا تھا۔

ائیر بلیو فلائٹ 202پاکستان
28جولائی 2010ء کو ائیر بلیو کی پرواز کو کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے مارگلہ کی پہاڑیوں پر ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طیارے کو گرایا گیا ہے مگر حکومت اسے اسلام آباد میں دھند اور شدید بارش کے باعث ہونے ولا حادثہ قرار دینے پر مصر ہے۔ یہ حادثہ تھا یا حملہ تھا اس میں عملہ سمیت 152 افرادموت کی وادی میں جاسوئے۔
جہاز تباہ ہونے سے قبل کنٹرول ٹاور سے اس کا رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکراتے ہی جہاز کو آگ کے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تفتیشی ٹیم نے بلیک باکس کو قبضے میں لے کر تفتیش کا دائرہ بڑھا دیا تھا مگر اس کے باوجود ابھی تک جہاز کے گرنے کے اصل اسباب سامنے نہیں آسکے۔
10اگست 1999ء کو پاکستان نیوی کے جہاز کو انڈیا نے مارگرایا تھا۔
جہاز میں سوار 16افسران اور سیلرز سبھی شہید ہوگئے تھے۔ نیوی ٹریننگ ائیر کرافٹ کو دو بھارتی لڑاکا طیاروں نے نشانہ بنا کر مار گرایا تھا۔ پاکستانی حدود کے اندر 2تا تین کلو میٹر فاصلے پر جہاز کا ملبہ جمع کیا گیا تھا جس سے یہ واضح ہوگیا کہ جہاز کو پاکستانی حدود کے اندر نشانہ بنایا گیا تھا ور یہ بھارت کی سراسر جارحیت تھی۔ اٹلانٹک نامی یہ جہاز پاکستانی سمندری حدود کی نگرانی پر تعینات تھا۔

9/11کے واقعہ میں بھی ایک مسافر طیارہ ایسا بھی تھا جسے زمین سے میزائل کے ذریعے نشانہ بنا کر مار گرایا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے جہاز میں سوار سبھی مسافر عملہ کے ارکان سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔ سرکاری سطح پر اس کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔
گزشتہ دنوں ریاض سے پشاور آنے والی پاکستان آنے والی ائیر لائنز کی پرواز نمبر PK756 کو باچا خان ائیر پورٹ کی حدود کے اندر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
جس سے جہاز میں سوار تین افراد زخمی ہوگئے۔ ان میں سے ایک مسافر خاتون بعد میں ہلاک ہوگئی جبکہ عملے کے دو افراد زخمی ہوئے۔ اس فائرنگ کی ذمہ داری کسی نے بھی قبول نہیں کی۔ انہی دنوں میں کوئٹہ میں بھی ایک مسافر طیارے کو لیزر گن سے نشانہ بنایا گیا جبکہ کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔
گمشدہ جہازوں کی بات کریں تو ایم ایچ 370کی گمشدگی ہوائی سفر کی جدید تاریخ میں سب سے بڑے سربستہ راز کی حیثیت رکھتی ہے۔
ملائشین ائیر لائن کے بوئنگ 777کے لاپتہ ہونے کے 4ماہ بعد ہی تحقیقاتی ادارے اس گھتی کو سلجھانے کے قریب بھی نہیں پہنچے ہیں۔
فضائی حادثات اور حملوں سے تحفظ کیلئے فضائی کمپنیوں کو ترجیحی بنیادوں پر یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ فضائی صنعت پر لوگوں کا اعتماد برقرار رہے۔ 2009ء میں ائیر فرانس کی فلائٹ 447کے حادثے کے بعد کچھ سفارشات میں بلیک باکسز اور ڈیٹا ریکارڈکے کام کے طریقہ کار میں تبدیلیاں تجویز کی گئی تھیں۔
اس کے علاوہ ٹرانسپونڈر کی بیٹری کی عمر کو 30دن سے بڑھا کر 90دن کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔اس کے علاوہ ایسے قوانین بھی وضع کئے جانے چاہئیں کہ طیارے غلط فہمی کی بناء پر یا دہشت گردی کی بھینٹ نہ ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ ٹریکنگ لگانے میں ناکامی کا ایک پہلو فضائی کمپنیوں کی لابنگ ہے۔ ٹریکنگ ٹیکنالوجی کی موجودگی میں حکومتوں کو بین الاقوامی سطح پرایک سمجھوتے پر پہنچنے کی ضرورت ہے۔
وقت اشاعت : 2014-08-18

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں