تازہ ترین : 1
Karachi or Mumbai

کراچی اور ممبئی

دونوں شہروں میں کئی چیزیں مشترک ہیں۔۔۔۔۔ حیرت والی بات یہ ہے کہ کراچی جو اپنی تیز رفتار ترقی میں ممبئی سے بہت آگے تھا امن و امان کے مسائل کی وجہ سے اس کی وہ ترقی ماند پڑتی جارہی ہے

اے یودانی:
ایک سروے کے مطاق دنیا کے سستے ترین شہروں میں کراچی اور ممبئی سرفہرست ہیں۔ لیکن حیرت والی بات یہ ہے کہ کراچی جو اپنی تیز رفتار ترقی میں ممبئی سے بہت آگے تھا امن و امان کے مسائل کی وجہ سے اس کی وہ ترقی ماند پڑتی جارہی ہے۔ کراچی اور ممبئی دونوں شہر بندرگاہوں اور کاروباری سرگرمیوں میں اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی کو وفاقی دارالحکومت کی حیثیت حاصل رہی۔
اسلام آباد کو وفاقی دارالحکومت کا درجہ دینے کے باوجود بھی کراچی کی صنعتی ترقی اور خوشحالی پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ کراچی کا ذکر ہوتے ہی وہاں کے لوگوں کی محبت ، وسعت قلبی اور اخوت کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔ کراچی میں پایا جانے والا بھائی چارہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ شہر ہمیشہ سے ایسے رہا ہے کہ اس کے دن اور رات ایک جیسے ہیں۔ لوگ تفریح اور سیر و سیاحت کے شوقین ہیں مگر ساتھ ساتھ کام کرنے کو بھی پسند کرتے ہیں مگر آج کراچی کے شہری عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں۔
کراچی نہ صرف پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے بڑا شہر ہے بلکہ یہ تجارتی، صنعتی اور اقتصادی حوالے سے بھی بڑا مرکز ہے۔ پاکستان کے اہم صوبے سندھ کا صوبائی دارالحکومت بھی کراچی ہی میں ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا ہوئی اڈہ اور بندرگاہ بھی کراچی میں ہیں۔ انگریز دور حکومت میں اس شہر کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے کئی کام کے گئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ قیام پاکستان کے بعد بھی اس شہر کی معاشی ترقی کی رفتار کم نہیں ہوئی اور پاکستان بھر سے لوگوں کو روزگار کیلئے اسی شہر کا رخ کرنا پڑتا تھا۔

کراچی میں اندرون سندھ، پنجاب خیبر پختونخوا، بلوچستان غرض کہ پاکستان کے ہر علاقے سے لوگ یہاں روزگار کیلئے آئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہاں ملک کے ہر علاقے کی زبان اور رہن سہن کے مختلف انداز دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ مختلف رنگوں کے امتزاج کی وجہ کراچی کو ”منی پاکستان“ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان کے اس خوبصورت اور صنعتی ترقی کے حامل شہر کو نجانے کس کی نظر لگ گئی ہے کہ اس شہر میں ہونے والے پرتشدد واقعات نے اس کے حسن کو گہنا کررکھ دیا ہے۔
وہ شہر جو غریبوں اور بے روزگاروں کیلئے باعث اطمینان اور چھت کی طرح تھا۔ آج وہاں سب سے زیادہ بے سکونی اور بے چینی پائی جاتی ہے اور ترقی کی رفتار بھی ویسی نہیں رہی جیسی کہ اس شہر کے مطابق ہونی چاہیے تھی۔
دوسری جانب بھارت کا شہر ممبئی ہے۔ جو پاکستان کے دیگر شہروں کی نسبت کراچی سے کافی مماثلت رکھتا ہے اس کی بندرگاہ اور ہوائی اڈے کے علاوہ سڑکوں پر موٹر سائیکلوں او کاروں کا ہجوم بھی کراچی سے ملتا جلتا ہے۔
ٹیکسی ڈرائیوروں کا انداز اور سڑکوں پر قانون کا احترام نہ کرنا بھی کراچی کی طرح ہے لیکن کچھ حوالوں سے ممبئی میں کراچی کی نسبت ترقیاتی کاموں کا رجحان زیادہ نظر آتا ہے مثلاََ یہاں سمندر کے بیچ بنایا گیا پل ”باندرا۔ ورلی“ شہر میں سفر کرنے کی نسبت ایک اچھا بائی پاس ہے اس پل سے لوگوں کے قیمتی وقت کی بچت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں چلنے والی ”مونوریل“ اور میٹرو بھی شہریوں کی سفری سہولیات میں سرفہرست ہیں۔
رمضان المبارک میں ممبئی میں مینارہ مسجد کے علاقے میں افطار سے قبل جو ہجوم ہوتا ہے وہ بھی کراچی جیسا ہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کا معاشی حوالے سے اہم اور خوبصورت شہر سب سے زیادہ پر امن اور مثالی ہوتا مگر بدقسمتی سے بدامنی اور قتل و غارت اس خوبصورت شہر کی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ کراچی اور ممبئی میں بھلے کچھ چیزیں مشترک ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ کراچی ممبئی کی نسبت زیادہ تیزی سے ترقی کرتا ہوا شہر بن سکتا ہے۔ اگر اس جانب توجہ کی جائے تو شہر کراچی نہ صرف اس خطے بلکہ دنیا بھر میں اپنی مثال آپ بن جائے گا۔
وقت اشاعت : 2014-06-26

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں