تازہ ترین : 1
Hur Mujahideen K Karname

حْرمجاہدین کے کارنامے

تاریخ کا سنہری باب۔۔۔۔ 7 ستمبر 65ء کو پاک بھارت جنگ میں حضرت پیر سید سکندر علی شاہ المعروف شاہ مردان شاہ شانی پیر پگارو ہفتم نے حر مجاہدین کو مجاہد فورس میں بھرتی ہونے اور 8 ستمبر کو عمر کوٹ پہنچنے کی اپیل کی

الطاف مجاہد:
جنگ ستمبر 65ء پاکستان کی قومی تاریخ کا وہ معرکہ ہے جب پاکستانی افواج نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے چھکے بھی چھڑا دیئے۔ 5 ا ور 6 ستمبر کی درمیانی شب بین الاقوامی سرحدوں کو عبور کرکے بزدل دشمن نے مکاری کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ قوم کوپاکستانی مسلح افواج پر ہمیشہ فخر رہا ہے، ستمبر65ء میں جب لاہور کے قریب واہگہ، بیدیاں، جسڑ کے مقامات پر بھارتی توپوں نے گولے اگلنے شروع کئے اور علی الصبح بھارتی طیارے جلو، باٹا پور اور ماڈل ٹاؤن تک بم برسانے لگے تو پاک فوج نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ دشمن پسپاہونے پر مجبور ہوگیا۔
دن کے ساڑھے 12 بجے صدر مملکت جنرل محمد ا یوب خان نے ریڈیو پر قوم سے خطاب میں کہا: ”عزیز ہم و طنو! ا لسلام و علیکم! دس کروڑ پاکستانی عوام کی آزمائش کا وقت آ گیا ہے۔ بھارتی فوج نے آج علی الصبح مملکت پاکستان کی حدود میں لاہور کے محاذ پر حملہ کر دیا ہے، بھارتی حکمرانوں نے کسی رسمی اعلان جنگ کے بغیر، اپنی روایتی بزدلی اور عیاری سے کام لیتے ہوئے پاکستان کی مقدس سرحد کو پامال کیا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ دشمن کو دندان شکن جواب دیں اور بھارتی سامراجیت کو کچل کر رکھ دیں۔ حالات نے دشمن کے مقابلے کے لیے لاہور کے بہادر شہریوں کا سب سے پہلے انتخاب کیا ہے۔ پاکستان کے دس کروڑ عوام جن کے دلوں میں لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے مقدس کلمات بسے ہوئے ہیں، اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں گے جب تک بھارتی توپوں کے دہانے ہمیشہ کے لیے سرد نہیں ہو جاتے بھارتی حکمران نہیں جانتے کہ انہوں نے کس جری قوم کو للکارا ہے۔
عزیز ہم وطنو! دشمن پر کاری ضرب لگانے کے لیے تیار ہو جاؤ، شکست اور تباہی دشمن کا مقدر ہے، آگے بڑھو اور دشمن پر ٹوٹ پڑو“۔
جوش و جذبہ سے بھری تقریر کا اثر تھا یا بزدل دشمن کے خلاف دلوں میں شوق جہاد کا نتیجہ کہ بچے، بڑے جوان اور بوڑھے جب سڑکوں پر نکل آئے۔ایسے میں ارض مہران کے لوگ کیوں پیچھے رہتے انہوں نے بھی حب الوطنی اور شجاعت کو نیا رْخ دیا۔

7 ستمبر 65ء کو پاک بھارت جنگ میں حضرت پیر سید سکندر علی شاہ المعروف شاہ مردان شاہ شانی پیر پگارو ہفتم نے حر مجاہدین کو مجاہد فورس میں بھرتی ہونے اور 8 ستمبر کو عمر کوٹ پہنچنے کی اپیل کی ، قلعہ میدان پہنچ کر انہوں نے اپنے خطاب میں کہا”میرے پیارے! حرمجاہدو،! آج ”اللہ نے ہمیں جہاد کا موقع عطا فرمایا ہے۔ آج کفار اپنے لشکر اور اسلحہ کے غرور میں ہم پر حملہ آور ہوا ہے تاکہ ہم کو برباد اور ہمارے وطن کو تباہ کر سکے۔
اس لیے تم آگے بڑھو اور ملک، اسلام اور قوم کی عزت و ناموس اور بقاء کے لیے مردانہ وار مقابلہ کرو۔ دیکھنا بوڑھوں عورتوں مظلوموں اور بچوں پر ہاتھ نہ اٹھانا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں اللہ تمہارا محافظ ہے۔ “
اس خطاب نے حر مریدوں میں جہاد کا جذبہ بیدار کر دیا۔ یہ جذبہ اس خانقاہ کے عقیدت مندوں میں گزشتہ صدی سے چلا آ رہا تھا جب 1896ء میں پیر حزب اللہ شاہ پیر پگارو موم المعروف تخت دھنی کے عہد میں حر مریدوں نے انگریز حکومت کے خلاف پہلی بغاوت کی تھی اور سانگھڑ کے قریب واقع مکھے کے جنگل میں متوازی حکومت قائم کی جسے گلو گورنمنٹ کا نام دیا گیا تھا بچو بادشاہ، پیر و وزیر نے برٹش سامراج کو لوہے کے چنے چبوا دیئے تھے اور آخری بغاوت شہید صبغت اللہ شاہ شانی کی تھی جنہیں 20 مارچ کو 1943ء میں حیدر آباد جیل میں پھانسی دیکر نامعلوم مقام پر سپرد خاک کر دیا گیا اور آج تک ان کے مقام تدفین کی کسی کو خبر نہیں۔
اپنے اسلاف کی روایات کے مطابق خود پیر پگارو نے بھی عمر کوٹ کو ہیڈ کوارٹر اور کیمپ بنا کر و مجاہدین کا حوصلہ بلند کیا،سندھ میں سروری، غوثیہ، لوری، جیلانی و دیگر جماعتیں اور خانقاہیں و درگاہیں بھی موجود ہیں لیکن کسینے کوئی پیش قدمی نہیں کی۔ پیر پگارو نے نہ صرف مریدین کو محاذ پر بھیجا بلکہ انہیں پاک آرمی کی کمان میں دیکر پوری طرح فوج کا ساتھ دینے، احکام کی تعمیل کرنے کی ہدایت بھی دی 20 ہزار مسلح حر تھے جو عمر کوٹ پہنچے تھے لیکن ان میں سے چند ہزار کو باقاعدہ جنگ کے لیے چنا گیا جبکہ باقی ماندہ کو رسد پہنچانے اور دیگر امدادی کاموں کے فرائض سونپے گئے۔
حروں کی جنگی حکمت عملی سے فوجی جرنیل بھی متاثر ہوئے اس کا سبب یہ تھا کہ صحرائی پٹی، دشوار گزار راستوں اور مقامی موسم و حالات سے یہ زیادہ باخبر تھے۔ تبسم چودھری تذکرہ پیران پاگارہ میں تفصیل کے ساتھ جنگ 65ء میں حر جدوجہد پر روشنی ڈالی ہے۔
رن کچھ سے رحیم یار خان تک تمام حر مجاہدین کا کمانڈ چیف خلیفہ محمد امین مینگریو کو مقرر کیا گیا حر فورس کو دو سیکٹروں میں تقسیم کیا گیا۔
ایک شمال سندھ جس میں اپر سندھ اور رحیم یار خاں تک کا علاقہ شامل تھا دوسرے میں جنوبی سندھ کو رکھا گیا پھر یہ سیکٹر سب سیکٹروں میں منتقم ہوئے اور ان کا چارج حر کمانڈروں کو سونپا گیا کہتے ہیں چیف خلیفہ اور حر فورس کے کمانڈر امین فقیر منگریو کو تمام اطلاعات بلاتوقف ملتی تھیں اور وہ ان کی روشنی میں جنگی اہداف طے کرتے تھے۔ حدیث رسول مقبولﷺ ہے ”اللہ غنی ہے اور باقی سب فقیر“ اس کی روشنی میں حر جماعت کے تمام لوگ اپنے نام کے ساتھ فقیر کا لاحقہ فخر کے ساتھ استعمال کرتے ہیں حروں کے میدان عمل میں آنے پر ہر راجستھان یا صحرائے تھر کی سردی پٹی اللہ اکبر، یاعلی مدد اور بھیج پاگارا کے نعروں سے گونجنے لگی تھی خود بھارتی فوجی قیادت نے بھی حروں کی شمولیت کا پتہ چلنے پر اس محاذ پر خصوصی توجہ دی لیکن اس کے باوجود اسے رَن کچھ اور کانجھی کوٹ کی لڑائیوں میں شکست ہوئی اور خاصا نقصان اٹھانا پڑا۔
تبسم چودھری لکھتے ہیں۔ اس جنگ میں حر مجاہدوں نے چند ہی دنوں کے اندر بھارت کی متعدد چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔ رہڑی، مونا باؤ، سوندرو، مٹھڑاؤ، میان جر، پانچلو، چھہوٹن وغیرہ جنوبی محاذ پر فتح کیے گئے اور شمالی محاذ پر گھوٹا ڑو کے قلعہ، شاہگڑھ، کشن گڑھ، سادن والی، بھٹان والی، لونگی والی، رائچند، دھرمی، سرکاری تڑ وغیرہ پر قبضہ کیا۔ اس طرح حْر مجاہدوں نے اپنی حکمت عملی سے تقریباً بارہ سو مربع میل بھارتی اراضی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

مونا باؤ:بھارت کے ریگستانی علاقہ میں کھوکھراپار ریلوے لائن پر بھارت کا ا یک بڑا شہر ہے اور بین الاقوامی سرحد سے تقریباً 20-22 میل دور ہے۔ بھارت کی طرف سے اس شہر کی حفاظت کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے تھے لیکن حر مجاہدین بھارتی فوج پر ٹوٹ پڑے اور بھارتی سپاہی دم دبا کر بھاگ گئے اور ایک سو پچاس فو جی پکڑے گئے۔ مجاہدوں کے چار پانچ افراد شہید ہوئے۔

چھہوٹن:یہ جنوبی محاذ پر بھارت کی ایک اہم چوکی تھی یہاں ایک بریگیڈ بھارتی فوج متعین تھی اور ٹینکوں، توپوں اور جدید جنگی ساز و سامان سے لیس تھی دوسری طرف حر مجاہدوں کی صرف ایک کمپنی کو بھارتی فوج سے لڑنا تھا۔ اس مقابلہ میں مجاہدوں نے تمام حفاظتی انتظامات کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ اور فجر کی نماز سے پہلے بھارتی چوکی پر چملہ آور ہوئے۔
بھارتی فوجی اس غیر متوقع حملہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور حروں نے چوکی پر قبضہ کر لیا۔ اس مقابلے میں ایک سو بھارتی فوجی مارے گئے اور حر مجاہدوں کے اٹھارہ افراد شہید ہوئے۔
سوندرو:اس چوکی پر بھارت کی ایک برگیڈ فوج سے حر مجاہدوں کی دو کمپنیوں کا مقابلہ ہوا یہ حر محاہدوں کو اس میں فتح نصیب ہوئی اور ایک بھارتی کرنل اور درجنوں سپاہیوں کو گرفتار کیا گیا۔

ڈالھی:یہ چوکی پاکستانی ہے اور اس پر بھارتی فوجوں نے حملہ کیا تھا اور مجاہدوں کو دفاعی کردار ادا کرنا تھا۔ ا ”جیسے کا پار“ چوکی پر بھی بھارتی فوجوں نے حملہ کیا تھا۔ حر مجاہدوں نے مسلسل تین دن تک کھانے پینے اور آرام کے بغیر بھارتی فوجوں کو بھگا دیا مجاہدوں کے صرف دو افراد شہید ہوئے۔
سرکاری تڑ:یہ دشمن کی اہم چوکیوں میں سے ایک تھی جہاں بھارت کے ہزاروں کی تعداد میں فوجی متعین تھے ا حرمجاہدوں نے اپنی خصوصی فوجی حکمت عملی سے اس چوکی پر حملہ کیا اور ”اللہ اکبر اور بھیج پاگارہ“ کے نعرہ لگاتے ہوئے دشمن کی صفوں پر بجلی بن کر ٹوٹے۔
اس حملہ میں دشمن کے دو سو پچاس سپاہی مارے گئے اور چوکی پر حروں کا قبضہ ہو گیا۔
گھوٹاڑو قلعہ: یہ قلعہ دور مغلیہ کی یادگار ہے یہ قلعہ راجستھان کا حصہ ہے جنگ میں اس قلعہ کو فتح کرنے کے لیے متعدد حملے کیے گئے ، اس قلعہ کی حفاظت کے لیے دشمن نے پچاس ٹینک ایک سو سے زیا دہ توپیں اور ایک برگیڈ فوج متعین کر دی تھی لیکن حر مجاہدوں نے ساتویں بار بھرپور حملہ کرکے قلعہ کو فتح کر لیا اور پاکستان کا جھنڈا، اس پر نصب کیا۔
اس معرکہ میں مجاہدوں کی نفری صرف 45 تھی۔ بھارتی ریڈیو نے دعویٰ بھی کیا کہ اس قلعہ کو واپس لے لیا گیا ہے بعد میں بھارت نے اعتراف کیا کہ یہ قلعہ پاکستان کے قبضہ میں ہے۔
کشن گڑھ قلعہ:اس قلعہ کا اصل نام ”دین گڑھ قلعہ“ تھا جسے بھارتی سامراج نے تبدیل کر دیا تھا اس قلعہ کی حفاظت کے لیے بھی بھارت نے ایک بریگیڈ فوج، ٹینکوں اور توپوں سے مسلح کرکر رکھی تھی دوسری طرف دو تین سو مجاہدوں نے چند گھنٹوں میں اس پر قبضہ کر لیا۔

دھرمی چوکی: چوکی فوجی نقطہ نگاہ سے بہت اہم تھی۔ مجاہدوں کے ایک جیش کو چوکی کے عقب سے حملہ کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ وہ جیش جب عقب میں پہنچا تو مجاہدوں نے سامنے سے فائرنگ شروع کر دی۔ بھارتی فوج نے بھی جوابی فائرنگ شروع کر دی اس اثنا میں مجاہدوں نے عقب سے حملہ کرکے بھارتی فوجوں کو شکست دیدی۔ اس حملہ میں دشمن کی تین سو لاشیں گنی گئیں اور بارہ مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا۔

سادنوالی:اس چوکی پر قبضہ کرنا بے حد دشوار تھا اس لیے کہ مجاہدوں نے اس کے لئییک سو میل کاسفر اونٹوں پر کرکے دشمنوں پر حملہ کیا۔ دشمن جوابی حملہ سے بھی قاصر رہا کیونکہ وہ بے خبر تھا اور اسے یقین تھا کہ اس چوکی پر کسی کا حملہ آور ہونا ناممکن ہے۔
ان تمام معردوں میں ایک سو مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا اور تقریباً اتنے ہی مجاہدین رخمی ہوئے۔
ان معرکوں میں جن مجاہدین نے نمایاں کارنامے انجام دیئے ان میں سے ایک فقیر محمد امین منگریو تھے جو 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں بھی حر مجاہدوں کے منتظم اعلیٰ تھے۔ انہیں حکومت پاکستان نے ”ستارہ جرات“ کا تمغہ عطا کیا۔ اس کے علاوہ جن مجاہدوں نے 1965ء کی جنگ میں نمایاں کارنامے انجام دیئے۔ ان میں سے قاضی فیض محمد فقیر راجڑ، محمد یوسف کبر، محمد ا براہیم ہنگورجو، محمد عاقل ہنگورو، محمد سلیمان مہر، جمال فقیر منگریو، امید علی فقیر نظامانی، اربیلو فقیر کٹپڑ، جانو فقیر برڑو، ربو فقیر ٹانوری، اسحاق فقیر منگریو، مانک فقیر، اللہ ورایو، فقیر وریامانی، جمالی فقیر خاصخیلی، محمد بخش، فقیر راجڑ، محمد اسماعیل فقیر راجڑ، ترکو فقیر منگریو، عبداللہ فقیر منگریو، نصیر فقیر راجڑ، بیڑو فقیر راجڑ، منٹھار فقیر راجڑ، تاجو فقیر اوٹھو، سکھیو فقیر خاصخیلی، امید علی فقیر بجرانی (شہید) جانن فقیر سنجرانی (شہید) دا د فقیر لاکھو (شہید) اسماعیل فقیر سنجرانی، پیرانو فقیر مہر، وریام فقیر خاصخیلی کے نام قابل ذکر ہیں۔

جنگ 65ء کے اختتام پر قومی اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کی جس میں حرجماعت اور پیر پگارہ کی ملی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی ستائش کی گئی تھی اس کے ساتھ ساتھ پیر صاحب پاگارہ کو ہلال پاکستان کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
وقت اشاعت : 2015-09-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں