تازہ ترین : 1
Cholistan K Saqafti Rang

چولستان کے ثقافتی رنگ

پاکستان کے نقشے پر نظر ڈالیں توجنوبی سرحد کے ساتھ جہاں بہاولپور نظر آتا ہے وہاں دریائے ستلج کے پار ایک ریگستان ہے اس کو دنیا روہی یا چولستان کے نام سے جانتی ہے،اس خطے کوقدرت نےطرح طرح کی نعمتوں سےمالامال کیاہے

صفدر حسین:
پاکستان کے نقشے پر نظر ڈالیں توجنوبی سرحد کے ساتھ جہاں بہاولپور نظر آتا ہے وہاں دریائے ستلج کے پار ایک ریگستان ہے اس کو دنیا روہی یا چولستان کے نام سے جانتی ہے۔ اس خطے کو قدرت نے طرح طرح کی نعمتوں سے مالا مال کیا ہے۔ شمال اور شمال مشرق سے آنے والے دریائے ستلج اور ہاکڑہ ماضی میں اس کی چھاتی پر بہتے تھے۔ ان کے پانیوں کی موجیں جھاگ اڑاتی‘ شور مچاتی سر اٹھاکر چلتیں اور یہاں کے سرسبز و شاداب میدانوں میں جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھتیں۔
اس کی چھاتی پر سے بہنے والا ایک دریا ہاکڑہ خشک ہوگیا۔ دریا کے خشک ہوتے ہی یہاں کے میدان بھی خشک ہوتے ہوتے ایک کمزور و ناتواں جسم کی طرح آخر کار مردہ ہوگئے۔ آخر وقت کی رفتار اور ہواؤں کی یلغار نے اس کے جسم کو ریزہ ریزہ کر کے ریت کے سنہری ذرات میں بدل کررکھ دیا اب بھی جولائی کے مہینے میں جب یہاں برکھا رُت آتی ہے اور برسات برستی ہے تو اس کے طول و عرض میں سبز رنگ کی قالین بچھ جاتی ہے۔
یہاں جب ہوائیں چلتی ہیں تو یہاں کی نباتات اور مٹی کی بھینی بھینی خوشبو‘ پرندوں کی ڈاریں اور جانوروں کی دھاڑیں موسیقی کی سات سروں کو جنم دیتی ہیں۔ ماضی میں دنیا کے دو قدیم ثقافتی مراکز موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے وسط میں ہونے کی وجہ سے اس علاقے سے بھی ایک تہذیب نے جنم لیا جس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس تہذیب و تمدن کے روشن پہلو تھے اور اس کو منفرد مقام حاصل تھا۔
اس کی ثقافت کے انفرادی پہلو آج بھی اپنی تابانی کے ساتھ قائم ہیں۔ مٹھڑلی زبان کے عظیم شاعر حضرت خواجہ غلام فرید  نے صحرا کو دل والوں کا گہوارہ اور درمندوں کا مسکن قرار دیا ہے فرماتے ہیں
جتھ کرڑکنڈو بوئیں ڈھیراے
اُتھ درمنداں دے ڈیرے
یہاں کے باسی فطرت کی ایک آزاد دنیا میں اپنے موشیوں کے ساتھ اپنی نامعلوم منزل کی طرف پانی اور گھاس کی تلاش میں سررگرداں رہتے ہیں کیونکہ نان و نفقہ کی تمام ضروریات وہ انہیں سے پورا کرتھے ہیں۔
چولستانی کچی مٹی کے گھروں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں گھاس پھوس اور جھاڑیوں کے پتوں سے بنائی جاتی ہیں۔ چھتوں میں کھجور کے تنوں کے شہتیر ڈالے جاتے ہیں۔ یہ گھر گول شکل کے ہوتے ہیں کن کو ”گویا“ یا جھوک کہتے ہیں ان گھروں کے صحن وسیع ہوتے ہیں تاکہ چولستانی اور ان کے مویشی صحن میں باآسانی رہ سکیں۔برکھارُت کے دنوں میں یہاں کی زمین کے طول و عرض میں سبز رنگ کی قالین بچھ جاتی ہے لیکن خشک سالی کے دنوں میں یہ گھاس خشک ہو جاتی ہے اور اس کا رنگ بھورا ہوجاتاہے۔
چولستان کے جن علاقوں میں نہروں سے آبپاشی کی جاتی ہے وہاں پر کیکر‘آگ‘ بیری‘ جنڈ‘ سفیدہ‘ شیشم وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ ان درختوں کے پھولوں اور پھلوں کے کئی رنگ ہوتے ہیں۔ ان کی بھینی بھینی خوشبو اور مہک دل کو لبھانے والی ہوتی ہے۔ یہاں کی رنگ برنگی جڑی بوٹیاں بھی فطرت کا حسین شاہکار نظر آتی ہیں۔ چولستان کے جغرافیائی نقوش اگرچہ پھیکے ہیں لیکن اس کے ثقافتی رنگ طول و ارض میں پھیلے ہوئے ہیں۔
چولستان کا جو حصہ سرسبز ہے وہاں پر تو بارش کے بعد جغرافائی نقوش بھی فطرت کی طرف سے مختلف رنگون کے ساتھ ابھر آتے ہیں۔ رنگ برنگے پھول اور سرسبز نباتات اور پھولوں سے رنگ دیتی ہے۔ چولستان کی سرزمین پر کئی رنگوں کے ہرن بھی پائے جاتے ہیں۔ یہاں پر پایا جانے والا بارہ سنگھا بھورے رنگ کا ہوتا ہے جبکہ چنکارا ہرن سفید شکم اور کھلتے مٹیالے سنہری رنگ کا ہوتاہے۔
جنگلی درندہ سیاہ گوش بھی پایا جاتا ہے جس کا رنگ سیاہ اور نوکدار کانوں پر سیاہ رنگ کے کھڑے بال ہوتے ہیں۔ یہاں کے گیدڑوں کا رنگ سرخی مائل ہوتاہے جبکہ یہاں کی لومڑیوں کا رنگ مٹیالا ہوتا ہے۔ چولستان کے بلند و بالا اور زرد رنگ کی ریت کے ٹیلوں کے اوپر سانپوں کا رینگنا بھی دیدنی ہوتا ہے۔یہاں پر پائے جانے والے سانپوں کی ساٹھ اقسام ہیں جو کہ سیاہ‘ سفید‘ پیلے ‘ سرخی مائل اور کئی دوسرے رنگوں کے ہوتے ہیں۔
چولستان کی سرزمین پر پائے جانے والے رنگ برنگے کبوتر‘ نیلے اور سفید مور‘ سیاہ کوے‘ رنگ برنگی چڑیاں‘ سبز طوطے‘ الو‘ چنڈول‘سیاہ و سفید گدھیں‘ تلیر‘ عقاب ‘ شکرے‘ باز‘ شاہین اور کونج یہاں کی سرزمین کا قدرتی زیور ہیں
بقول خواجہ فرید
تڈڑے چیکن گھیرے گھوکن
جو کھاں‘ ترکھا لونبڑ کوکن
گوہن شوکن‘ سانپے پھوکن
نانگین دی شوں شوں ہے یار
چولستان کی زندگی میں رنگوں کا عنصر زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔
وہ سرخ‘ سبز‘ پیلا اور نارنجی رنگ ک ے لباس زیب تن کرتے ہیں حتیٰ کہ ان کے ریگستانی جہازوں کے لباس بھی ان کے اپنے لباس جیسے ہوتے ہیں۔ جو ان سرخ یا مالٹے رنگ کی پگڑی باندھتے ہیں جبکہ خواتین قوس و قزح کے رنگوں کے چلمن اوڑھتی ہیں۔ بڑی عمر کی خواتین گھاگرا (غرارہ) پہنتی ہیں۔ جو 15سے 18میٹر کپڑے کا بنا ہوتا ہے۔ لنگیاں(تہبند) کُرتے‘ دوپٹے اور چزیاں چولستانی خواتین اپنے ہاتھ سے بناتی ہیں۔
خواتین چاندی کے زیورات بھی بڑے شوق سے پہنتی ہیں جو بہت وزنی ہوتے ہیں۔ ان زیورات میں کٹ مالا‘ پازیب‘ چندن ہار‘ ہسی ‘ بندے‘ لاکٹ‘ زنجیری‘ مرکیاں اور کئی اقسام کے زیورات پہنتی ہیں۔ اونٹ اور بکریوں کی اون سے دریاں بنائی جاتی ہیں جن کو ”فلاسیاں“ کہتے ہیں یہ بہت گرم ہوتی ہیں اور سالہا سال چلتی ہیں۔ چولستان ی خود بھی مختلف رنگوں کے کپڑے پہنتے ہیں اور اپنے اڑن کھٹولے (اونٹ) کو بھی سرخ‘ پیلے اور نیلے کپڑے پہناتے ہیں۔
بیلوں اور بھیڑ بکریوں کو بھی مختلف رنگوں کے موتی‘ لوہے‘ پیتل اور تابنے کے زیورات کے ساتھ پہنائے جاتے ہیں۔
کھدر کے کپڑے‘ کھیس اور لنگیاں یہاں کی مقامی صنعت کی مصنوعات ہیں۔ خواتین کی اکثریت چولی اور غرارا زیب تن کرتی ہیں جو کہ نیلے‘ پیلے‘ سبز‘ نارنجی اور مختلف قسم کے تیزو چمکدار رنگوں میں ہوتے ہیں۔ بعض کواتین ان کے اوپر شیشے بھی جڑواتی ہیں ۔
اجرک چولستان (بہالوپور) کی مقامی سوغات ہے جو کہ سرخ‘ سیاہ او بنفشی رنگ کی ہوتی ہے۔ اس کو مرد اور خواتین دونوں اوڑھتے ہیں۔ یہ تحفہ کے طور پر فخر سے پیش کی جاتی ہے۔ اس کو پگڑی کے طور پریا کنڈھے پر ڈالا جاتا ہے ۔ اس کو خواتین دوپٹے کے نعم البدل کے طور پر بھی استعمال کرتی ہیں۔ اس کے ڈیزائن‘ مربعی‘ مستطیل اور دائروی شکل کے ہوتے ہیں۔
پریمی اس سوغات کو بڑے فخر سے اپنی محبوباؤں کو تحفے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ چولستان میں کپڑے رنگنے کی صنعت بھی مقامی ہے۔ کپڑے رنگنے والوں کو ”رنگساز“ یا نیل گر“ کہتے ہیں۔ یہ کچے اور پکے رنگوں میں کپڑے رنگتے ہیں۔ بھورا‘ سرمئی‘ نیلا اور سبز پکے رنگ ہیں جبکہ سبز (Parrot Green)‘ نیلا‘ گلابی‘ پیلا اور زعفرانی رنگ کچے ہوتے ہیں۔
احمد پور شرقیہ کے نواحی قصبہ نیل والا اور نیل کے تالاب ماضی کے آثار کی صورت میں اب بھی موجود ہیں۔ بہاولپور شہر کا محلہ نیل گراں بھی نیل کے کاریگروں کا مسکن رہا ہے۔ سرائیکی خطہ میں آج بھی سفید کپڑوں پر ناریاں اور جٹیاں اپنے بوچھن (دوپٹوں) اور بزرگ اپنے لباسا خاص طور پر پگڑیوں پر نیل استعمال کرتے ہیں۔ نیل صوفیاء کا بھی پسندیدہ رنگ رہا ہے ۔
ایک ااور اہم سوغات یہاں پر بننے والی گِندیاں ہیں جو کہ کپڑے کے ٹکڑوں کو جوڑ کر بنائی جاتی ہیں۔ یہ ٹکڑے علم ریاضی کی اشکال کے طرز کے ہوتے ہیں اور مختلف رنگوں کے تقابل (Contrast)سے بنائی جاتی ہیں۔
یہ خواتین ہاتھ سے بناتی ہیں۔ یہ تحفہ ہر چولستانی کے گھر ہوتا ہے ۔ چولستان میں اشادیوں کے موقع پر دلہا ارو دلہن کو بھی خوب تیار کیا جاتا ہے۔
دولہا کو رنگدار دھوتی (لاچا) اور کرتا(جو کہ عموماََ سفید ہوتا ہے اور کڑھائی دار ہوتا ہے) زیب تن کرایا جاتا ہے اور سر پر سفیدی پگڑی پہنائی جاتی ہے جس کے سرے پیلے یا گلابی رنگے کئے ہوتے ہیں، پہنائی جاتی ہے۔ دلہن کو سونے کی مرکیاں(بالیاں)‘ پوپا(بڑا تیلا)‘ جھمکے پہنائیجاتے ہیں جبکہ چاندی کے زیورات میں کٹ مالا‘ چندن‘ پازیب ‘ حسی بھی پہنائی جاتی ہے۔
سورج غروب ہونے کے بعد یعنی ستاروں کی چھاؤں میں ڈولی پر رخصت کی جاتی ہے۔
چولستان کی ہندو آبادی شادی کے موقع پر دلہن کی مانگ میں صندور کا رنگ ڈال کر مانگ بھرتی ہے۔ چار پھیرے دولہا آگے اور تین پھیرے دلہن آگے”پوترا گنی“ جلا کر لگوائیجاتے ہیں پھیروں کے بعد دلہن کی مانگ میں صندور لگایا جاتا ہے اور مالا پہنائی جاتی ہے جو کہ پیلے اور سرخ پھولوں کی ہوتی ہے یہ مالا دولہا دلہن کے گلے میں پہناتا ہے ۔
چولستان کی ہندو آبادی ہولی اور دیوالی کے موقع پر مختلف قسم کے رنگ اویک دوسرے پر ڈالتی ہے اور دیوالی کے مرقع پر مختلف قسم کے رنگ اور ایک دوسرے ڈالتی ہے اور بھنگرا ڈال کر کوشی کا اظہار کرتی ہے۔ چولستانیوں کی زندگی میں ایک اور رنگ بچے کی پیدائش پر نظر آتا ہے۔ بچے کی پیدائش پر عزیز و اقارت بچے کے والد کے اوپر پیلا رنگ گھول کر ڈالتے ہیں جبکہ لڑکی کی پیدایش پر کوئی خاص انتظام نہیں کیا جاتا ۔
سفید رنگ کا ”چوڑا“ جو کہ ہاتھی دانت کا بنا ہوتا ہے‘ ہندو امراء کی خواتین شوق سے پہنتی ہیں۔ چولستان کی نباتات میں ”پیلو“(پیلوں) ایک معروف پھل ہے اس کا پھل چنے کے دانے کے برابر ہوتاہے اس کے کئی رنگ ہوتے ہیں۔ نیلا‘ پیلا‘ سبز‘ گلابی وغیرہ اس کو چن کر چولستانی بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ چولستانیوں کے نزدیک ”جال“(پیلو) ریت میں اگتی ہے وار خود رو درخت ہے لہٰذا یہ کسی کی ملکیت نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ پیلوں چننے سے کوئی نہیں روکتا اور قدرت کی اس نعمت سے سب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ فرید نے اس کے بارے میں ایک کافی لکھی ہے جو ان الفاظ میں شروع ہوتی ہے آچنٹروں رل یار پیلھوں پکیاں نیں پیلوں چننے کا کام علی الصبح شروع ہوتاہے اور دوپہر تک جاری رہتا ہے ۔ اسک کام میں سب ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ آپس میں ہنسی مزاق کرتے ہیں گویا کام کا کام مفت کے دام۔
چولستان ایک ایسا بے آب و گیاہ ہے جہاں سالہا سال بارش نہیں ہوتی۔ بارش مانگنے کیلئے کئی کئی جتن کئے جاتے ہیں۔ مثلاََ مکوڑوں کی لمبی ٹانگیں باندھ کر انہیں مسجد کے دروازے پر لٹکایا جاتا ہے اگر مینڈک ادھر دھر ٹرانے لگیں یا چیونٹیاں اپنے بل سے بڑی تعداد میں نکل پڑیں یا وہ اپنے سفید انڈے اٹھائیجاتی نظر آنے لگیں تو یہ سمجھا جاتاہے کہ بارش ہونے والی ہے ۔
چولستانیوں کا سب سے اہم اور پسندیدہ مشغلہ تفریحی میلوں میں شرکت کرنا ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے اونٹوں کو سجا کر اہل خانہ سمیت بزرگان دین کے مزارات پر خاس عقیدت کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔ میلوں میں جھومر دالتے ہیں ساتھ ہی حضرت خواجہ غلام فرید کی کافیاں گاتے ہیں۔ خواجہ غلام فید ہر چولستانی کیلئے عقیدت کا نام ہے جسے سنتے ہی سب مانوس ہوجاتے ہیں۔
آپ کا کلام یاد رکھنا چولستانیوں کے نزدیک علمیت اور عقلمندی کی دلیل ہے ، کوئی روہیلہ جب ہجر اور فراق سے چور ہوتا ہے تو خواجہ فرید کی کافی گاتا ہے۔
”میڈا عشق وی توں منیڈا یار وی توں“
اس کافی کی سر کے ساتھ ہی اس کے سامنے محبوب کا جلوہ سراپا ہوتاہے ۔ چولستانی اپنے بچوں کو رسمی تعلیم نہیں دیتے بلکہ موروثی کام کو کرنا عزت اور وقار کی علامت سمجھا جاتاہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ چولستانی آج تک ترقی یافتہ دنیا کی طرف نہیں لوٹے۔
آج کے اس ترقی یافت دور میں بھی چولستانی ٹوبوں سے پانی پیتے ہیں اور اس میں وہ حقارت بھی محسوس نہیں کرتے اگر ان کے پانی کے مسئلہ کو حل کردیا جائے تو یقیناََ ان کی زندگی بدل جائے گی۔ پھر بھی چولستان کے لوگ بڑی محنتی اور صبر والے ہیں۔
وقت اشاعت : 2014-02-25

(7) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں