بند کریں
منگل مارچ

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
امریکہ میں فارمی شہد ممنوع،پولن نہ ہو تو شہد غیر معیاری ہوتا ہے
پاکستان میں اسلام کا لیبل لگا کر غیر معیاری شہد فروخت کیا جاتا ہے۔۔ امریکہ پچھلے اٹھارہ ماہ میں 208 ملین پاوٴنڈز شہد درآمد کر چکا ہے۔ اس میں سے 60 فیصد شہد ایشیائی ممالک سے درآمد کیا گیا ہے
سارہ چوہان
تمام ماہرین صحت اس بات پر متفق ہیں کہ شہد نہ صرف ایک بہترین غذا ہے بلکہ کئی بیماریوں کیخلاف موثر ترین طریقہ علاج بھی ہے مگر اب دیکھنے میں آیا ہے کہ بازاروں میں دستیاب شہد ناقص ہے اور اسے بیچنے کے لئے اس پر اسلام کا نام تھوپ دیا جاتا ہے تاکہ لوگ خیروبرکت کے لئے اس شہد کو اصلی گمان کرکے خرید لیں۔ کیا یہ شہد حفظان صحت کے اصولوں اور وائرس سے پاک ہوتا ہے؟ اس حوالے سے کوئی چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم نہیں ہے اور نہ ہی اسے مارکیٹ میں لانے سے پہلے مبینہ طور پرکسی لیبارٹری سے چیک کرایا جاتا ہے۔
ہر شہد بنانیوالی کمپنی اپنے شہد کو اصلی قرار دیتی ہے۔ اس صورتحال میں یہ جاننا انتہائی مشکل ہے کہ اصلی اور نقلی شہد کونسا ہے۔ بازار میں کھلے عام فروخت ہونیوالے شہدکو کھانے سے عام آدمی معدے اور آنتوں پر شدید انفکیشن کی وجہ سے کئی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حفظان صحت کی سوچ رکھنے والے والدین اپنے بچوں کو صحت مند رکھنے کیلئے انہیں شہد کا باقاعدگی سے استعمال کراتے ہیں مگر انہیں فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
حال ہی میں امریکہ میں ایک تحقیق کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ کی گروسری مارکیٹوں میں بھی فارمی شہدنہیں پایا جاتا۔ فوڈ سیفٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں فروخت ہونیوالا تین چوتھائی شہد مکھیوں کی پیداوار نہیں ہوتا۔ ان کے اجزائے ترکیبی میں پولن نہیں پایا جاتا۔ ان مائیکروسکوپک ذرات کی عدم دستیابی کا نیکٹر کی کوالٹی پر نمایاں فرق پڑتا ہے۔
امریکہ کی مارکیٹ میں فروخت ہونیوالے شہد میں پولن غائپ پایا جاتا ہے۔ فوڈ سیفٹی ایجنسی نے مختلف فرنچائز پر موجود شہد کا معائنہ کیا۔ ابتدائی تحقیق میں یہ بات مشاہدے میں آئی کہ امریکی گروسری کی مارکیٹیں بھارتی شہد سے بھری پڑی ہیں جس کی سپلائی یورپی مارکیٹ میں ممنوع ہے کیونکہ اس شہد میں اینٹی بائیوٹک، بھاری دھات اور پولن کی کمی پائی گئی ہے۔
فوڈ سیفٹی ماہرین نے 60 مرتبان، جگ اور پلاسٹک کے برتنوں میں شہد لیکر انہیں کولمبیا سمیت 10 ریاستوں میں مشاہدہ کیا۔ 76 فیصد گروسری مارکیٹ میں آنیوالے نمونوں میں پولن غائب پائے گئے۔ شہد سے پولن کی عدم موجودگی اس کی کوالٹی کو متاثر کرتی ہے۔ پاکستان میں شہد ایک بڑا اور نفع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ عام صارفین کی ضروریات کے پیش نظر شہد کی مکھیوں کا قدرتی انداز سے شہد بنانا ممکن نہیں ہے۔
اس ڈیمانڈ کو پورا کرنے کیلئے فارمی شہد کا طریقہ معرض وجود میں آیا۔جبکہ فارمی شہد پولن سے محروم ہوتا ہے۔امریکی تحقیق کیمطابق ایسا شہد مفید نہیں ہوسکتا۔ پاکستان میں شہدکی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے کئی طریقے استعمال کئے جاتے ہیں تاہم معروف طریقہ مکھیوں کے برتنوں میں گڑرکھنا ہے۔ اس شہد میں نہ تو پھولوں کے پولن ہوتے ہیں اور نہ ہی یہ حفظان صحت کے اصولوں کے تحت کارآمد ہوتا ہے۔
مگر شہد بیچنے والے کاروبار حضرات اسے سو فیصد خالص اور اسلامی شہد قرار دینے پر بضد ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اور امریکی مارکیٹ میں بروکر ایسے خام شہد کسی بھی صورت میں خریدنے سے انکاری ہیں جن میں پولن نہیں پایا تھا۔ انہی کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اصلی شہد کیلئے اس بات کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ اس میں پولن کی مقدار پائی جاتی ہے۔
اسی لئے کاروباری کمپنیاں اور حضرت چین کا اشہد خریدنے میں دلچسپی نہیں لیتی کیونکہ اس میں پولن سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ 2001ء میں چینی شہد کی امریکہ درآمد پر سخت پابندیاں اور بھاری ٹیرف عائد کر دیا گیا تاکہ اس کو منگوانے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ امریکہ پچھلے اٹھارہ ماہ میں 208 ملین پاوٴنڈز شہد درآمد کر چکا ہے۔ اس میں سے 60 فیصد شہد ایشیائی ممالک سے درآمد کیا گیا ہے۔ اس میں سے 45 ملین پاوٴنڈز شہد صرف بھارت سے منگواتا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان میں خالص اور پولن والا شہد ایکسپورٹ کردیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں صارفین ناقص اور غیر پولن والا شہد استعمال کرتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان