تازہ ترین : 1
71 Main Hathiaar Dalnay Ka Hukam Nehin Aya Tha

71ء میں ہتھیار ڈالنے کاحکم نہیں آیاتھا“

سقوط ڈھاکہ کے چشم دیدگواہ میجر(ر) محمد شبیراحمد

سیّدبدرسعید:
میجر(ر) محمد شبیراحمد کاشمارپاک فوج کے ان افسروں میں ہوتا ہے جنہوں نے 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں حصہ لیا۔حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ستارہ شجاعت دیاگیا۔ 1971ء کی جنگ میں یہ مشرقی پاکستان میں لڑے اور پھر دیگر فوجیوں کی طرح بھارتی قیدکاٹی۔ انہوں نے وہاں کی صورتحال کوبہت قریب سے دیکھا۔
میجر(ر) محمد شبیراحمد اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُن کے سینے میں کئی راز محفوظ ہوچکے ہیں۔گزشتہ دنوں اُن سے 1971ء کی جنگ کے حوالے سے خصوصی گفتگو ہوئیج س میں عام پاکستانی کی دلچسپی کی حامل کئی نئی باتیں بھی سامنے آئیں۔یہ ہماری تاریخ کی ایسی داستانیں ہیں جوچھپالی جاتی ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت اعلی سیاستدان بھارتی خفیہ ایجنسی کے پے رول پرکام کر رہے تھے۔
اُن سے کی گئی گفتگو پیش خدمت ہے۔
فیملی: 1971ء کی جنگ میں آپ کس محاذپرتھے؟ میجر(ر) شبیر: میں مشرقی پاکستان میں تھا۔ وہاں میں اُس واحدبریگیڈمیں تھا جولڑنے کے قابل تھا۔
فیملی: کہا!وہاں واقعی سبھی لوگ پاکستان کے خلاف ہوچکے تھے؟ میجر(ر) شبیر:وہاں لوگ ہمارے خلاف ضرور تھے لیکن محب وطن پاکستانیوں پر مشتمل ایک بہت بڑا طبقہ ”الشمس“ اور ”البدر“ کی صورت آخری وقت تک مزاحمت کرتارہا۔
اسی طرح اب بھی وہاں پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ بستے ہیں۔مثال کے طور پر 1994ء میں مجھے ڈھاکاجانے کااتفاق ہوا تو میں بازار اپنی بیٹی کیلئے ساڑھی خریدنے گیا۔دکاندارکوجب معلوم ہواکہ میں پاکستان سے آیاہوں تواُس نے مجھے سے پیسے لینے انکار کردیاتھا۔ کافی اصرار کے بعد بھی اُس نے انتہائی کم قیمت بتائی۔یہ اُن کی پاکستان سے محبت تھی۔
دراصل جس طرح کچھ عرصہ قبل تک کراچی کاایک عام آدمی مجبورکیاجاچکاتھا۔ اسی طرح 1971ء میں مشرقی پاکستان کے عام لوگ مجبورہوچکے تھے۔
فیملی: مشرقی پاکستان میں ہماری فوج کی کیا حالت تھی؟ میجر(ر) شبیر: مغربی پاکستان سے دو ڈویژن فوج مشرقی پاکستان پہنچائی گئی تھی لیکن اُس کے پاس کوئی بڑاہتھیار نہیں تھا۔فضائی مددبھی حاسل نہ تھی۔ یہ فوج عام لوگوں کوکنٹرول کرنے کیلئے بھیجی گئی تھی۔
یہ کسی نے سوچاہی نہیں کہ بھارت حملہ کردے گا۔خیال تھاکہ شایدانڈیا تھوڑے سے حصہ پر حملہ کرے جس سے ویسے ہی نمٹاجاسکتاہے۔
فیملی: 1971ء کی جنگ میں شکست سیاسی تھی یافوجی؟ میجر(ر)شبیر:جہاں تک فوج کاتعلق ہے توسچ یہی ہے کہ فوج کا استعمال غلط ہواتھا۔فوجی حوالے سے ذمہ داری ایک فوجی کمانڈرپرہی جاتی ہے جوکہ اُس وقت جنرل یحییٰ تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ اُس وقت جوجنگ سیاسی طور پر لڑنی چاہیے تھی اس کیلئے فوجی طریقہ استعمال کیاگیا اورجوفوجی طریقے سے لڑنی چاہیے تھی ،اس کیلئے سیاسی طریقہ استعمال کیاگیا۔

فیملی: 1971ء کی شکست میں جنرل نیازی کتنے ذمہ دار تھے؟ میجر(ر) شبیر:جنرل نیازی کی کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔آپ جتنے مرضی نہتے جنرل اور فیلڈمارشل بٹھادیں اور پھر اُن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر میدان میں ڈال دیں کہ لڑائی لڑکردکھاؤ تو کیاوہ لڑسکتے ہیں؟ہمارے پاس لاجسٹک سپورٹ ہی نہیں تھی۔وہاں دفاع کاجوطریقہ اختیار کرنے کا کہاگیا، وہ فوج کی کسی کتاب میں نہیں لکھا ہوا۔
اس کا نتیجہ وہی نکلنا تھا جوآپ کے سامنے ہے۔
فیملی:ہتھیارڈالنے کاحکم کس نے دیاتھا؟میجر(ر)شبیر:جہاں تک مجھے پتاہے ہتھیار ڈالنے کاکوئی حکم نہیں آیاتھا۔جنرل نیازی نے جی ایچ کیوکوصورتحال بتائی تھی کہ اب یہ حالات ہیں۔جی ایچ کیو میں جنرل یحییٰ کی طرف سے جواب آیا کہ صورتحال کے مطابق خود فیصلہ کریں۔تب جنرل نیازی کے پاس دوراستے تھے یاتو وہ سارے بندے مروادیتا پھر ہتھیار ڈال دیتا۔
اب فیصلہ عوام کوکرناہے کہ اس موقع پرکونسافیصلہ بہترتھا۔
فیملی:کیاواقعی سیاسی یافوجی قیادت کی طرف سے ہتھیار پھینکنے کاکوئی حکم نامہ نہیں تھا؟میجر(ر) شبیر:اُس وقت جوٹروپس بیٹھے ہوئے تھے اور آگے مورچوں میں لڑرہے تھے اُن تک ہتھیار ڈالنے کاکوئی باقاعدہ آرڈرنہیں آیاتھا۔ 16دسمبر کی صبح سرنڈرہوا جبکہ اس سے پہلے شام تک حکم یہ تھاکہ آخری دم تک لڑیں گے۔

فیملی: لڑنے کاحکم دینے کے چند ہی گھنٹوں بعدہتھیار ڈالنے کافیصلہ کیوں کیاگیا؟میجر(ر) شبیر: میرے علم کے مطابق جب یہ فیصلہ کیاگیاتب کئی جگہوں پرپہلے ہی ہتھیار ڈالے جاچکے تھے۔
فیملی:ہتھیار ڈالنے کاباقاعدہ فیصلہ کس کاتھا؟میجر(ر) شبیر: جنرل نیازی اور دیگر لوکل کمانڈروں کافیصلہ تھا۔ فیملی: کچھ لوگوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیاتھا؟ میجر(ر) شبیر: انکارنہیں کیاتھا۔
وہ اُس وقت جہاں پھنس گئے تھے وہاں سے نکل ہی نہیں سکتے تھے۔اُن میں سے بہت شہید بھی ہوئے۔ کچھ بچ کرآنے میں کامیاب ہوگئے۔
فیملی:وہاں توہتھیار ڈالنے کی ایک باقاعدہ تقریب ہوئی تھی جوٹی وی پر بھی نشر کی گئی۔کیاوہ سب کسی باقاعدہ حکم نامے کے بغیر ہوگیا؟میجر(ر) شبیر:جی! ہتھیار ڈالنے کافیصلہ اور جو کچھ ہواوہ وہاں کے لوکل کمانڈرزکے فیصلے تھے۔
اعلیٰ قیادت کی طرف سے باقاعدہ حکم نامہ نہیں تھا۔
فیملی: کہاجاتاہے کہ بھارت نے اسلئے بھی 1971ء کے قیدی رہاکئے کہ ریڈکراس کے عمل دخل کے بعد ان قیدیوں پر بھاری بجٹ صرف ہو رہاتھا؟ میجر(ر) شبیر:ظاہرہے فوج کورکھنے پراُن کابھاری بجٹ خرچ ہورہاتھا۔فوجی تو25سے 35ہزارتک تھے۔زیادہ لوگ عام شہری تھے جنہیں گرفتار قیدیوں کی بنیاد پرسیاسی طورپر جومفادات حاصل کرنا چاہتاتھا، اُس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکا۔
وہ قیدیوں کے بدلے کشمیر چاہتاتھا لیکن اس میں اسے کامیابی نہیں ہوسکی۔
فیملی:ذوالفقار علی بھٹوکو اس سلسلے میں کس قدر کریڈیٹ جاتاہے؟قیدوں کی واپسی خاص ان کی وجہ سے ممکن ہوئی یااس وقت جوبھی وزیراعظم ہوتایہ کریڈیٹ اسے مل جاتا؟میجر(ر) شبیر:بھٹو صاحب کے بارے میں یہی کہوں گا کہ وہ انتہائی ذہین سیاستدان تھے۔اُن کے دورمیں قیدیوں کی واپسی ہوئی توظاہر ہے کریڈیٹ بھی اُنہی کوملتاہے۔
لیکن ظاہر ہے اُن کی جگہ وہاں بچہ بھی ہوتا تواُسے یہ کریڈیٹ مل جاتا۔
فیملی:1971ء کے حوالے سے الزام لگایاجاتا ہے کہ پاکستانی فوجیوں نے وہاں بہت قتل وغارت کی تھی۔
میجر(ر)شبیر:دیکھیں میں تواپنی بات کروں گا کہ میں نے جودیکھا میں اُس کاگواہ ہوں۔ بات یہ ہے کہ الزامات لگاتے وقت صورتحال کوبھی دیکھنا ضروری ہے۔ اگرحالات کنٹرول کرنے کیلئے ہوا میں گولیاں چلائی جارہی ہوں تواس کامطلب یہ تونہیں کہ قتل وغارت ہوگیا۔
جہاں تک میں نے دیکھا وہاں 98فیصدیہی ہواتھاکہ جوان ہوا میں گولیاں چلارہے تھے اور جوڈھاکہ یونیورسٹی والا واقعہ ہے تووہاں جویونٹ تھی، اُس پر پہلے یونیورسٹی سے فائرنگ کی گئی تھی۔ اُس یونٹ نے باقاعدہ فائر کرنے کی اجازت لی تھی اور پھر مقابلہ ہواتھا۔اسی طرح جولوگ کہتے ہیں کہ 30لاکھ لوگ ماردیئے تھے تویہ بات درست نہیں ۔30لاکھ توہمارے پاس گولیاں نہیں تھیں۔
ایسا پراپیگنڈااُن پاکستانیوں نے زیادہ کیاہے جوفوج کے ساتھ منسلک نہیں تھے۔
فیملی:انٹیلی جنس بیورومیں کام کرنے کی وجہ سے بہت سے رازوں کے امین ہوں گے۔یہ بتائیں کہ ”را“ کس حد تک پاکستان کے سیاسی ومعاشرتی معاملات میں دخل دیتی ہے؟میجر(ر) شبیر:ذرا ماضی سے مثال دوں گا آپ اس آئینہ میں دیکھیں تو حال کی کئی مثالیں بھی سامنے آجائیں گی۔
مجھے شیخ مجیب الرحمن کے بارے میں یہ بات ایک ایسے افسرنے بتائی جواُس کے ساتھ جیل میں قیدرہا۔اُس کاکہنا تھا کہ مجیب الرحمن نے اُسے بتایاکہ وہ 1951ء سے انڈین انٹیلی جنس کیلئے کام کرتاتھا، جس کے اُسے اُس وقت 25ہزار روپے ملتے تھے۔
فیملی:سنی سنائی بات پر کیسے یقین کیاجائے۔کوئی مضبوط وجہ بھی توہو۔میجر(ر) شبیر:میں اسی طرف آرہاتھا ،بات یہ ہے کہ اس کے بعد1961ء میں مجیب الرحمن نے باقاعدہ طلبا کی ایک تنظیم بنائی تھی جس کامقصد یہ تھا کہ وہ بنگلہ دیش کی آزادی کیلئے کام کرے، اب یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ اس قسم کی تحریکوں یاتنظیموں کیلئے بہت زیادہ فنڈنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔
وہ فنڈنگ بھارتی خفیہ ایجنسی کی طرف سے آرہی تھی۔مجھے اپنی تمام ترتحقیق کے باوجود آج تک اُس کے آمدنی کے ذرائع کاعلم نہیں ہوسکا۔وہ بھارتی خفیہ ادارے کاپیڈسیاست دان تھا۔اسی طرح آپ اسکے 6نکات دیکھ لیں۔اگران 6 نکات پرعمل ہوتاتو دودن کے بعد پاکستان ٹوٹ جاتا۔اگران 6نکات کے ساتھ وزیراعظم بن جاتا تو مغربی پاکستان کاکیاہوناتھا۔اس کااندازہ آپ خودلگالیں۔

فیملی:یہ توماضی کوباتیں ہیں،حال کی کوئی مثال دے دسکیں گے؟میجر(ر)شبیر: شیخ مجیب کے بعد آپ کراچی کے خود ساختہ جلاوطن سیاست دان کی زندگی کا مطالعہ کرلیں۔جس دن کراچی یونیورسٹی میں اُن کی نئی طلبہ تنظیم بنی اُس دن سے کراچی یونیورسٹی میں خون خرابہ شروع ہوگیا۔ اسکے بعد اُن کارابطہ طلبا سے نہیں ٹوٹا۔قائداعظم کے مزار پرپاکستان کاپرچم کس نے جلایا تھا؟کراچی الگ کرنے کے مطالبات کرنے والے سیاسی رہنما کے والد ایک مسجد کے امام تھے۔
وہ کوئی ارب پتی شخص نہیں تھے۔ سوچئے آج تک اُن کی فنڈنگ کہاں سے آرہی ہے؟ میں الزام نہیں لگاتا کہ یہ کہاں سے لے رہے ہیں لیکن سوال تواُٹھا سکتاہوں۔ آج ان کے سارے اداروں کاآڈٹ کرالیا جائے توسوال اُٹھے گاکہ یہ رقم کہاں سے آتی ہے؟ یہ جماعتیں پاکستان میں تقسیم کاعمل شروع کرواتی ہیں۔چاہے اسے صوبہ کہیں یاکوئی اور نام دے لیں۔شیخ مجیب الرحمن نے بھی اسی طرح سفرکیا، اس کی آمدنی کا بھی کوئی بظاہر ذریعہ نہیں تھا۔
اُس نے بھی الگ حیثیت کے مطالبات کئے اور تشدد کوفروغ دیا۔یہی کہانی آپ کوآج کی سیاست میں بھی نظر آئے گی۔ہمارے طلباء کو”را“ خاص طور پراپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
فیملی:کہاجاتاہے کہ پاکستان کے پاس”را“ کی تخریب کاریوں کے ثبوت ہیں کیایہ کسی فورم پر سامنے بھی لائے جاتے ہیں۔
میجر(ر) شبیر:جی بالکل،خفیہ اداروں کی طرف سے یہ ساری معلومات اُس وقت کی حکومت کودی جاتی ہے تاکہ جب وہ طرفہ ملاقات ہوتووہاں کی حکومت کے سمانے بھی یہ معاملہ اُٹھایا جائے۔
پاک بھارت مذکرات یاملاقاتوں کے وقت بھارتی ذمہ داران کے سامنے یہ معلومات بھی رکھی جاتی ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ سیاست دانوں کی سیاسی مصلحتیں آڑے آجاتی ہیں، ان کی ترجیح پاکستان کی بجائے اپنے مفادات ہوتے ہیں، میں نے کسی حکومت کی ترجیح پاکستان نہیں دیکھی۔
وقت اشاعت : 2015-12-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں