تازہ ترین : 1
10 Aisi Mulazmatain Jo Tareekh Ka Hissa Ban Chuki Hain

10 ایسی ملازمتیں جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں

ماضی میں ایسی بہت سی ملازمتیں ہوتی تھیں جو آج تاریخ کی کتابوں میں ہی درج ہے۔ تیزی سے ہونے والی ٹیکنالوجی نے جہاں ہماری زندگی کو آسان کر دیا ہے وہاں بہت سی ملازمتوں کو بھی ختم کر دیا ہے۔

امین اکبر:
ماضی میں ایسی بہت سی ملازمتیں ہوتی تھیں جو آج تاریخ کی کتابوں میں ہی درج ہے۔ تیزی سے ہونے والی ٹیکنالوجی نے جہاں ہماری زندگی کو آسان کر دیا ہے وہاں بہت سی ملازمتوں کو بھی ختم کر دیا ہے۔ذیل میں ہم آپ کو ایسی 10 ملازمتوں کے بارے میں بتا رہے ہیں ، جو کم از کم ترقی یافتہ ممالک خاص طور پر برطانیہ سے ختم ہو چکی ہیں۔

گیس لیمپ جلانے والے:
1807 سے ہی گیس کے لیمپ جلانے والے برطانیہ سے جرائم کو کم کرنے میں اہم کردارکر رہے تھے۔ ہر شہر، قصبے اور گاوٴں میں لیمپ لائٹر ہوتے تھے جو شام کو گلیوں کے لیمپ جلاتے اور صبح کو بجا دیتے۔
اس ملازمت کو زوال 1879 میں آنا شروع ہوا جب برطانیہ میں پہلی سٹریٹ لائٹ نصب کی گئی۔ 20 ویں صدی کے شروع تک تمام گیس لیمپوں کو بجلی کے بلبوں سے بدل دیا گیا تھا۔

چند شہروں کے مرکز میں ابھی بھی گیس لیمپ موجود ہیں مگر ان کے ساتھ ایسی ڈیوائسز لگی ہیں جو انہیں خود جلا اور بجھا دیتی ہیں۔
کمپوزیٹر ( چھاپے کے حروف جوڑنے والا):
کبھی اس فن کو کیمیا کے فن کی طرح اہم سمجھا جاتا تھالیکن ٹیکنالوجی کی ترقی سے جدید سے جدید چھاپے خانے آنے کے بعد کمپوزیٹر بھی تاریخ کا حصہ بن گئے۔

لاش چور:
چوری اگرچہ اچھی بات نہیں مگر قبروں سے لاشوں کی چوری کبھی اچھا خاصا پیشہ تھا۔ لاش چوروں کے گاہک سائنس دان ہوتے تھے ، جو اپنے تجربات میں لاشوں کو استعمال کرتے تھے۔
لاشوں کی چیرپھاڑ سن 3 عیسوی سے جاری ہے مگر 1700 اور 1800 کی صدیوں میں طبی ترقی کے باعث لاشوں کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔ایک دفعہ تو سینکڑوں خاندانوں کے دل یہ معلوم کر کے ٹوٹ گئے کہ اُن کے پیاروں کی لاشیں چرا لی گئی ہیں۔

1838 میں اناٹومی ایکٹ منظور ہوا جس کے تحت لوگ اپنی مرضی سے اپنے اجسام سائنسی تجربات کے لیے عطیہ کر سکتے تھے۔ اس کے علاوہ اسی زمانے میں دو لاش چوروں کی کہانی نے اس پیشے کو ہی قبر میں دفنا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ دو لاش چور ایک قبرکھود رہے تھے ایک متعفن لاش کے باعث بیمار ہوئے اور مر گئے۔
کراسنگ صاف کرنے والے:
ایک وقت تھاکہ برطانیہ کا طبقہ اشرافیہ سٹرکوں کی کراسنگ کی گندگی پر سے گزرتے ہوئے اپنے جوتوں کو یا اپنے گھوڑوں کے سموں کو خراب کرنا نہیں چاہتا تھا۔
اشرافیہ کے ان نخروں نے ایک نئے پیشے کو جنم دیا۔ جو لوگ گندی سڑک پار کرنا نہیں چاہتے تھے ، وہ سڑک پر بیٹھے کراسنگ صاف کرنے والوں کو پیسے دیتے ، جو ان کے گذرنے کے لیے یا گزرنے سے پہلے ہی سٹرک صاف کر دیتے۔
20 ویں صدی میں سڑکوں اور سیوریج کا نظام درست ہونے سے یہ پیشہ بھی ختم ہوگیا۔
جگانے والے:
1920تک لوگ جگانے والوں کو مخصوص وقت بتاتے اور جگانے والے اس مخصوص وقت پر آکر ان کا دروازہ بجا کر یا لمبی لاٹھی سے کھڑکی بجا کر ان کو جگا دیتے۔
جگانے والوں کو اس وقت تک دروازہ بجانے کا حکم ہوتا جب تک مطلوبہ شخص جاگ نہ جائے۔
نوجوان اور عورتیں حتیٰ کہ پولیس والے بھی اضافی آمدن کے لیے جگانے والے کی خدمات فراہم کرتے تھے لیکن جدید ٹیکنالوجی کی آمد کے بعد یہ پیشہ بھی ختم ہوگیا۔
ماتم کرنے والے:
19 ویں صدی میں لوگوں کے جنازے بھی شان سے اٹھتے تھے۔
اس شان کو بڑھانے کیلئے امیر خاندان ماتم کرنے والوں کو اجرت پر بلاتے تھے۔ 1900 کے عشرے تک ماتم کرنے والے بھی اپنی عزت گنوا بیٹھے اور یہ پیشہ بھی ختم ہوگیا۔
جہازوں کی آواز سننے والے:
1930 کے عشرے تک برطانیہ کا حملہ آور جہازوں کے خلاف واحد دفاع کان ہوتے تھے۔دشمن کے جہازوں کی آوازیں سننے والوں نے مخصوص طرح کے اوزار بنا رکھے تھے۔
اس دوران آوازوں کو سننے کے لیے ساوٴنڈ مرر بھی بنائے گئے۔ یہ کنکریٹ کی بہت بڑی ڈسکس ہوتی تھی کو آواز کو ایک جگہ مرکوز کرتی تھی، جہاں اسے مائیکرو فون سے چلایا جاتا تھا۔
دوسری جنگ عظیم میں رائل ائیر فورس نے ریڈار بنا لیا اور جہازوں کی آواز سننے والوں کی نوکری کی نوعیت بھی بدل گئی۔
جونک سے خون جمع کرنے والے:
18ویں اور 19ویں صدی میں ایک پیشہ جونک سے خون جمع کرنے والوں کا بھی تھا۔
یہ لوگ جونک کی مدد سے اپنا خون جمع کرکے ڈاکٹروں کو فروخت کرتے جو ان پر تجربات کرتے تھے۔ جلد ہی ڈاکٹروں کو بھی احساس ہو گیا کہ اس طرح جمع کیے ہوئے خون کو محدود مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ جونکوں کے ذریعے خون نکالنے والے بھی بیمار ہونے لگے۔ 1900 تک یہ پیشہ کافی حد تک ختم ہوگیا۔ تاریخی طور پر جونک سے خون نکال کر درجنوں امراض کا علاج کیا جاتا رہا ہے۔

انسانی فضلہ جمع کرنے والے:
ان لوگوں کی ڈیوٹی ہوتی تھی کہ ہر روز صبح سویرے یا رات کو گھروں سے انسانی فضلہ جمع کر کے شہر سے باہر کھیتوں میں ڈال دیتے تھے۔جلد ہی شہروں میں فلش سسٹم آگیا ، جس کے بعد یہ پیشہ بھی ختم ہوگیا۔
چوہے پکڑنے والے:
چوہوں کو پکڑنے کی ملازمت صدیوں تک عام ملازمت سمجھی جاتی رہی۔
19 ویں صدی کے وسط میں لندن کے جیک بلیک کو اس وقت بڑی مقبولیت ملی جب اس نے ملکہ کا چوہے پکڑنے والا ہونے کا دعویٰ کیا۔
یہ چوہے پکڑنے والے چوہے کو مار کر بھی پکڑتے اور زندہ بھی۔ زندہ چوہوں کو امیر عورتیں خرید کر مہنگے پنجروں میں بطور فیشن کے رکھتیں۔جب حکام نے گلیوں کو صاف رکھنے کے جدید طریقے تلاش کر لیے تو یہ ملازمت بھی ختم ہوگئی۔
وقت اشاعت : 2016-01-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں