بند کریں
بدھ مارچ

مزید انٹرویوز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
داعش کیا ہے؟
عراق اور شام میں جاری خانہ جنگی کے تناظر میں مشرق وسطی کی بدلتی صورتحال پر ہماری توجہ کیونکر ہو مشرق وسطیٰ پر تجزیہ کے ماہر ،، ہفت روزہ ہم شہری کے چیف ایڈیٹر شفقت اللہ کا اُردو پوائنٹ کو خصوصی انٹرویو
مصنف : اجمل جامی

http://photo-cdn.urdupoint.com/daily/images/articles/shafqatullah2.jpg?s

گلو بٹ سے لے کر طاہرالقادری کے انقلاب تک ہمارے میڈیا کے پاس لوکل قسم کے جینوئن اور نان جینوئن ایشوز کی بھرمار ہے ۔ ایسے میں عراقی خانہ جنگی اور مشرق وسطی میں آنے والی نت نئی تبدیلیوں پر ہماری توجہ بھلا کیونکر ہو۔ اول تو ہمارے ہاں عراق، شام اور پورے مڈل ایسٹ کے داخلی اور خارجی امور پر نپی تلی اور مستند آرا کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے کیونکہ دفاعی امور کے تجزیہ کاروں کی فوج ظفر موج تو ہے، لیکن جب ان سے پوچھیے کہ جناب عراق میں کیا ہو رہا ہے تو یہ حضرات عموما جواب میں اسلام آباد سے کراچی تک کا کوئی قصہ سنا دیتے ہیں۔

اسی تناظر میں ملاقات ہوئی جناب شفقت اللہ سے۔
شفقت اللہ صاحب، تاریخ، سیاست اورفلسفے جیسے موضوعات پر اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں، آپ ہفت روز ہ ہم شہری کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مشرق وسطی سے جڑے جغرافیائی اور سیاسی امور پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔ عراق میں جاری سول وار پر تجزیے کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے " پابجولاں " کے لیے شفقت اللہ صاحب سے ایک نشست کا اہتما م کیا گیا۔
۔ جس کی روداد پیش خدمت ہے۔۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق داعش نامی جہادی تنظیم نے عراق میں اپنے زیر اثر علاقوں میں نظام خلافت کا اعلان کر دیا ہے اور تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو مسلم امہ کا خلیفہ مقرر کیا ہے۔
سوال۔۔ داعش یا آئی ایس آئی ایس کیا ہے؟ اس کا ظہور اچانک ہوا ہے یا یہ سب ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے؟
جواب۔
ان کا پہلا تعارف تو القاعدہ آف عراق سے ہوتا ہے، اس وقت یہ دولت اسلامیہ فی العراق کے نام سے جانے جاتے تھے۔۔یہ لوگ دو ہزار چھ میں امریکہ کے خلاف بر سر پیکار ہوئے اور تب یہ گروہ لائم لائٹ میں آیا، اس وقت ان کا سربراہ ابو معصب الزرقاوی تھا، جو بعد میں امریکی اور عراقی فورسز کے جوائنٹ آپریشن میں مارا گیا، زرقاوی کے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری سے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔
۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ القاعدہ کی شفقت سے یہ گروہ پروان چڑھا۔ یہ بنیادی طور پر اینٹی شعیہ اور اینٹی صوفی ایزم ہیں۔ اور اس کی مثال تب دیکھنے کو ملی ، جب انہوں نے سامرہ میں مزارات پر حملے کیے۔ حالانکہ اسامہ بن لادن اور الظواہری نے ان کی ایسی پالیسیوں کی مخالفت کی اور انہیں اینٹی شیعہ کاروائیوں سے منع کیا۔

http://photo-cdn.urdupoint.com/daily/images/articles/ISIS4.jpg
سوال۔

زرقاوی تو مارا گیا تھا، داعش یہاں تک کیسے پہنچی۔؟
جواب۔ زرقاوی کے قتل کے بعد القاعدہ آف عراق کا نام ختم ہو گیا، پھر ان کی باگ ڈور ابو عمر البغدادی کے ہاتھوں میں رہی، جو عراقی فورسز کے ایک آپریشن میں مارا گیا، اس کے بعد ان کے موجودہ رہنما ابو بکر البغدادی منظر عام پر آئے، گو کہ ابو بکر البغدادی کے بارے میڈیا پر بہت کم معلومات میسر ہیں،اکا دکا تصاویر کے علاوہ یہ صاحب زیادہ نہیں دیکھے گئے۔
دو ہزار بارہ میں شام کی سول وار کے دوارن اس تنظیم کا نام بدلا، اور یہ دولت اسلامیہ فی العراق و الشام کے نام سے منظر عام پرآئے۔ اس دور میں داعش اور جبتہ النصرہ نامی تنظمیں القاعدہ سے منسلک ہونے کی دعوے دار تھیں جنہوں نے شام میں سول وار میں حصہ لیا۔ جبتہ النصر کے سربراہ ابو محمد الجولاتی ہیں۔یہ دو گروہ اختلافات کا شکار ہوئے۔ ۔ گو کہ الظواہری کی القاعدہ نے ان گروہوں کے درمیان مفاہمت کی بہت کوشش کی ۔
لیکن انجام علیحدگی پر ہوا۔ بعد میں الظواہری کی حمایت جولاتی گروپ کے ساتھ رہی۔ یہ وہ دور تھا جب الظواہری نے داعش کو شام سے نکلنے کا کہا، لیکن داعش نے ایسا کرنے سے انکار کیا، پھر ان کی آپس میں زبردست جنگ ہوئی،
سوال۔ بنیادی طور پر داعش کہاں پروان چڑھی؟
جواب۔ مشرقی اور شمالی شام میں داعش کی بنیاد رکھی گئی، یہ علاقے عراقی اور ترک سرحد کے قریب واقع ہیں، حلب شام کا دوسرا بڑا شہر ہے، جو شمال میں ترکی کے قریب واقع ہے، جہاں داعش اور دیگر گروپس کی شامی فورسزز کے ساتھ زبردست لڑائی ہوئی، اسی علاقے میں اختلافات کے بعد جبتہ النصر اور ان کے حامیوں نے داعش کے خلاف ایکشن لیا،اور داعش کو حلب سے نکال باہر کیا، پھر یہ لوگ عراق میں دیر الزور کے مقام پر پڑاو ڈالتے دکھائی دیتے ہیں، یہ وہ علاقہ ہے جو شامی سرحد کے قریب واقع ہے اور یہاں آئل ریفائنریز ہیں، پچھلے دو سال سے یہ علاقہ بحثیت مجموعی داعش کے قبضے میں ہے، گو کہ یہاں ائر پورٹ اور گریژن بھی واقع ہے جو ابھی تک شامی فورسزز کے کنٹرول میں ہی ہے۔
بنیادی طور پر 'الرقا ' کا علاقہ داعش کا مرکزی ہیڈ کواٹر سمجھا جاتا ہے، یہ دو سال سے ان کے کنٹرول میں ہے، یہاں ان کی اپنی عدالتیں ہیں، جو سخت شرعی نظام پر عمل پیرا ہیں، یعنی یہاں سزا کے طور پر ہاتھ کاٹے جاتے ہیں، سنگسار کیا جاتا ہے اور تمام کیپیٹل سزائیں نافذالعمل ہیں۔
سوال۔ عراق کی جانب داعش کی پیش قدمی کب اور کیسے ہوئی؟
جواب۔
پچھلے سال کے آخر میں خبریں آئیں کہ عراقی صوبے الانبار میں داعش نے پیش قدمی کی ہے، الانبار سنی علاقہ ہے،جغرافیائی اعتبار سے عراق کا سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن نسبتا کم گنجان ہے، یہ خطہ شام اور سعودی سرحد کے قریب واقع ہے، مجموعی طور پر الانبار عراق کا جغرافیائی طور پر پینتیس سے چالیس فیصد ہے۔۔ یہاں سنی دھرنے چل رہے تھے، اسی دوارن داعش نے الانبار کے صوبائی دارالحکومت فلوجہ پر چڑھائی کر دی، فلوجہ تاحال ان کے قبضے میں ہے لیکن رمادی پر ان کا کنٹرول جزوی ہے۔
اب تازہ معلومات کے مطابق عراقی افواج نے فلوجہ کا گھیراؤکر لیا ہے۔
سوال ۔ لیکن داعش کی سب سے بڑی کاروائی تو موصل میں دیکھنے کو ملی، اس بارے کیا کہیں گے آپ؟
جواب۔ موصل صوبہ نینوا کا دارالحکومت ہے، چند ہفتے پہلے داعش نے موصل سے پہلے ایک تاریخی شہر سامرہ پر قبضے کی کوشش کی،جہاں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
وہاں سے انہوں نے تیرہ سو افراد کی ملیشا کی صورت میں نئی گاڑیوں اور راکٹ لانچرز کی مدد سے موصل پر دھاوا بولا، موصل میں تیس ہزار کے قریب عراقی فوجی موجود تھے، یہاں موجود جرنیلوں نے فوج کو داعش کے خلاف کاروائی کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ احکامات بغداد سے موصول ہوئے ہیں، فوج انتشار کا شکار ہوئی، اسلحہ اور وردیاں چھوڑ کر فوجیوں نے جان بچائی، ان جرنیلوں کو بعد میں بغداد حکومت نے فارغ کر دیا۔

یہ جرنیل اب کہاں ہیں؟
جواب۔ اب تک کی معلومات کے مطابق انہوں نے کر د علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ اور اان دنوں یہ سویڈن اور ناروے میں پناہ لینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
سوال۔ داعش نے تکریت اور بغداد کی جانب بھی پیش قدمی کی کوشش کی وہاں ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟
جواب۔ موصل پر حملے کے فورا بعد داعش نے بغداد کی جانب رخ کیا، رستے میں تکریت آتا ہے، وہاں بھی جرنیلوں کی ملی بھگت سے پچیس سو کے قریب عراقی فوجیوں نے ہتھیار ڈالے، ان میں سے سترہ سو سے زائد فوجی شیعہ تھے،، جنہیں انتہائی بے دردی سے داعش نے قتل کیا، آپ کو یاد ہو گا کہ تکریت سابق عراقی صدر صدام حسین کا آبائی علاقہ ہے۔
تکریت سے موصل کے رستے میں عراق کی بہت بڑی آئل ریفائنری بھی واقع ہے، یہاں بھی داعش نے قبضے کی کوشش کی، اس بارے متضاد اطلاعات ہیں، کہا جار ہاہے کہ یہ ریفائنری تا حال عراقی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ داعش کی کاروئیوں کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا، اس گروہ نے بعقوبہ اور صوبہ دیالہ پر بھی چڑھائی کی کوشش کی لیکن یہاں انہیں ابھی تک خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی،
http://photo-cdn.urdupoint.com/daily/images/articles/isis5.jpg

سوال۔

بظاہر یہ انتہائی پیچیدہ جغرافیائی منظر نامہ ہے، جغرافیائی اعتبار سے عراق اس وقت کہاں کھڑا ہے؟
جواب۔ بنیادی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عراق اس وقت تین حصوں میں تقسیم ہے۔
ایک تو شمال مشرقی عراقی علاقے ہیں، یہ ایران اور ترکی کے قریب واقع ہیں، یہاں کرد زیادہ تعداد میں بستے ہیں، کہہ سکتے ہیں کہ یہاں کردوں کی آبادی مجموعی عراقی آبادی کا اکیس فیصد ہے۔
صدام کا تختہ گرنے کے بعد یہ تقریبا ایک خود مختار علاقہ بن چکا ہے، مقامی حکومت ہے، اپنا وزیر اعظم ہے، اپنی ملیشیا ہے جسے کرشمرغا کہا جاتا ہے، انہی کردوں نے کرکوک پر قبضہ کیا، جہاں تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں، کرد فقہ کے اعتبار سے شافعی مسلک سے جڑے ہیں اور ان کے ترکی اور اسرائیل کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں۔ حالیہ دنوں کردوں نے ایک ملین بیرل تیل ترکی کے ذریعے اسرائیل کو کم ترین معاوضے پر بیچا۔
اس مد میں ایک سو چار ملین ڈالر ترکی کے بنک میں موجود ہیں۔ بغداد حکومت نے ترکی کے خلاف اقوام متحدہ میں احتجاج بھی کیا کہ تیل بیچنے کا اختیار صرف مرکزی حکومت کو حاصل ہے۔
دوسرے علاقے کو ہم وسطی عراق کہہ سکتے ہیں، جس میں کسی حد تک مشرقی عراق کے کچھ علاقے بھی شامل ہیں، یہ سنی علاقہ ہے جو الانبار، بغداد، صلاح الدین، اور نینوا جیسے صوبوں پر مشتمل ہے۔
موصل کا شمار بھی اسی علاقے میں ہو گا۔ حالانکہ موصل میں اکثریت ترک اور کردوں کی ہے۔
تیسرا حصہ کہلائے گا جنوبی عراق۔۔ یہ بغداد سے جنوب کی جانب کے علاقے ہیں، یعنی ایرانی اور کویتی سرحد کے قریبی علاقے، تاریخی اعتبار سے یہاں شیعہ اکثریت میں آباد ہیں، بصرہ، کربلا نجف، کوفہ یہاں کے بڑے شہر ہیں، خوش قسمتی سے یہ علاقے ابھی بغداد کے کنٹرول میں ہی ہیں، یہاں شیعہ ملیشابھی موجود ہے، مقتدی الصدر کی سابقہ ملیشیا ، مہدی ملیشیا، الصائب اہل حق اور قطائب حزب اللہ یا عراقی حزب اللہ جیسے مسلح گروہ یہیں پائے جاتے ہیں۔

سوال۔ عراق میں داعش کے حامی مسلح گروہ کونسے ہیں؟
جواب۔ داعش پانچ یا چھے گروہوں کا مرکب ہے، ان کی کاروائیوں میں انہیں جیش الرجال الطریقہ النقشبندیہ جیسے گروہ کی بھی حمایت حاصل ہے، جس کے سربراہ عزت الدوری ہیں، عزت الدوری صدام حسین کے نائب کے طور پر جانے جاتے تھے، داعش کے ساتھ، بعث کے گروہ بھی شامل ہیں، اور بعثی گروہ اپنے سابقہ دور کا احیا چاہتے ہیں، مختلف گول ہونے کی وجہ سے ان کی آپسی جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہی، سامرہ میں داعش اور بعث پارٹی کے تصادم کی خبریں بھی منظر عام پر آئیں۔
اب امریکی بھی بعث کے خاتمے کو اپنی سنگین غلطی سمجھتے ہیں۔
سوال۔ داعش کے اصل مقاصد کیا معلوم ہوتے ہیں۔؟
جواب۔ حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، لیکن بظاہر یوں لگتا ہے جیسے سنی اور تکفیری اتحاد کے ذریعے اس جنگ کو شیعہ سنی تصادم قرار دے کر پاپولر سنی انقلاب کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ جس کی باگ ڈور داعش اپنے ہاتھوں میں ہی رکھنے کی خواہاں ہے۔
دوسری جانب اب شیعہ رضا کار اور بغداد حکومت بھی اپنی کمر کس رہی ہے۔ داعش کے لیے دور رس نتائج حاصل کرنا قطعا آسان نہ ہو گا۔
سوال۔ اس ساری صورتحال کے تناظر میں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں کہاں کھڑی دکھائی دیتی ہیں؟
جواب۔ یہ ایک انتہائی دلچسپ سوال ہے، جسکا جواب انتہائی پیچیدہ ہے، شام کی جنگ میں خیال تھا کہ داعش ، جبتہ النصرہ اور دیگر مذہبی گروہوں کو سعودی ، قظری اور دیگر خلیجی ممالک کی حمایت حاصل رہی ہے، ان گروہوں کے آپس کے اختلافات کے باعث علاقائی قوتوں کا وزن بھی مختلف پلڑوں میں گرتا رہا، اب یہ کہا جا رہا ہے کہ قطر داعش کا زیادہ حمایتی ہے، دوسری جانب نقشبدی گروہ کو اب بھی سعودی آشیر باد حاصل ہے۔
جبکہ تمام شیعہ گروہ ایران اور ایران کی چند ایک حمایتی قوتوں کے زیر اثر ہیں۔
سوال۔ کیا یہ کہنا درست ہے کہ امریکی پالیسی خاصی مبہم ہے؟
جواب۔ امریکی پالیسی بظاہر واضح نہیں، ایک طرف وہ داعش کے خلاف ہیں تو دوسری جانب شام میں معتدل مذہبی گروہ جن کا رجحان درحقیقت داعش کی ہی جانب ہے انہیں امریکہ شامی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے پانچ سو ملین ڈالر کی امداد دے رہا ہے، گو کہ اس بابت سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن یہی امداد عراق میں داعش تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

داعش عراق سے سعودی عرب کی جانب بھی پیش قدمی کا ارادہ رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ سعودی فوج بھی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ایسی صورت میں مصری فوج بھی ان ایکشن ہو سکتی ہے۔ کچھ ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق اردن کی فضائیہ نے عراقی سرحد پر داعش کے قافلوں پر بمباری کی تھی، جبکہ کچھ رپورٹس کے مطابق ماضی میں امریکہ ہی نے اردن میں ٹریننگ کیمپس بھی قائم کیے جہاں داعش کے جہادیوں کو ٹریننگ دی گئی، یہاں یہ بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ جب بھی کسی قوت نے پرائیویٹ ملیشیا کو پروان چڑھایا، تاریخ شاہد ہے کہ وہی گروہ اسی طاقت کے خلاف بر سر پیکار نظر آئے۔
۔ آپ افغان جنگ سے لے کر اب تک کا عالمی منظر نامہ دیکھ لیجیے۔۔ یہ بات درست ثابت ہو گی۔ قصہ مختصر یہ کہ مشرق وسطی میں تمام تر علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں کے مفادات ہیں، اور اپنے اپنے مفادات کی خاطر طاقت کا پلڑا بدلا جا رہا ہے۔
http://photo-cdn.urdupoint.com/daily/images/articles/isis2.jpg

سوال۔

یہ منظر نامہ یقینا ایران کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، ایران کی پوزیشن کیا ہے؟
جواب۔ ایران ، شام کی صورتحال میں براہ راست فریق ہے۔ داعش کا شام سے عراق آ جانا، سنی علاقوں پر قبضے کی کوشش بغداد حکومت کے لیے خطرے کا باعث ہے، عراقی حکومت ایرانی اتحادی ہے، اگر بغداد گرتا ہے تو یہ جنگ فرقہ وارانہ شکل اختیار کر لے گی، جس کی آگ یقینا ایران کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
ایران کی شام تک زمینی رسائی صرف عراق کے ذریعے ہی ممکن ہے، ایسی صورت میں ایران کا شام سے زمینی رابطہ منقطع ہو سکتا ہے، اس سے آپ اس علاقے میں ایرانی مفادات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ابھی تک ایران عراق میں براہ راست ان ایکشن نہیں، لیکن دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہے کہ القدس فورس کے کچھ اہلکار مشیران کی حیثیت سے بغداد حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں، جن کی کمان جنرل قاسم سلیمانی کر رہے ہیں، جن کی عراق میں موجودگی کی بھی رپورٹس ہیں۔

سوال۔ سعودی عرب کا کردار انتہائی مشکوک دکھائی دے رہا ہے۔ اس بارے کیا تبصرہ ہے آپ کا؟
جواب۔ سعودی ہمیشہ سے ہی اپنی پسند کے گروہ کی مدد کرتے رہیں ہیں، اسرائیل کی نیوز ایجنسی ڈیبکا فائیل کے مطابق، عراق شام سرحد پر واقع پوائنٹ القائم پر داعش نے کچھ عرصے کے لیے قبضہ کیا، یہاں ایک ملٹری ائیر پورٹ بھی واقع ہے، اس نیوز ایجنسی کا ماننا ہے کہ یہاں سعودی کارگو طیارے اترے، جن کے ذریعے داعش عراق اور شام کے لیے ملٹری سپلائی پہنچی، یہ وہی وقت تھا جب شامی فضائیہ نے القائم پر کاروائی کی، اور یہ کاروائی اسی ائیر بیس کو تباہ کرنے کے لیے کی گئی، اب اس کاروائی کو دیکھیں تو ڈیبکا فائل کا دعوی درست معلوم ہوتا ہے۔
اب یہ ساری صورتحال معاملے کو مزید پیچیدہ کرتی ہے۔ اسی وجہ سے حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے، لیکن آپ تمام پلیئرز کی نشاندہی ضرور کر سکتے ہیں، جو ہم اس گفتگو میں کر چکے ہیں۔
سوال۔ پاکستان یا افغانستان ان بدلتے حالات سے کس حد تک مبرا ہیں؟
جواب۔ دہشت گردوں کے تمام گروہ دنیا بھر میں آپس میں روابط رکھتے ہیں، داعش کے اندر افغانی ، چینی، ترک، ازبک اور دنیا بھرے سے آئے افراد شامل ہیں، موصل پر قبضہ کرنے والے داعش کے کمانڈر کا تعلق چیچنیا سے ہے۔
یہ بنیادی طور پر انٹرنیشنل موومنٹس ہیں، جو مختلف طاقتوں کے تابع مختلف ادوار میں ہوتی ہیں، انہیں کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے، لہذا یہ پاکستان اور افغانستان کے لیے بھی غور کا مقام ہے۔ ہمیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھنا ہو گی، اور جلد از جلد اپنے قبائلی علاقوں میں ریاست کی رٹ کو بحال کرنا ہوگا۔ امریکی انخلا کے بعد خدشہ ہے کہ اگر یہ تمام گروہ مزید تقویت اختیار کرتے ہیں تو یہ ڈیورنڈ لائن کے قریب عالمی طاقتوں کی حمایت سے القاعدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔
اس میں قابل غور معاملہ ہمارے سعودی اور ایرانی حکومت کے ساتھ تعلقات ہیں۔ ہمیں کسی بھی پلڑے میں ضرورت سے زیادہ وزن رکھنے سے گریز کرنا ہوگا۔ایران کے ساتھ ویسے بھی ہمارے تعلقات میں اعتماد کا فقدان ہے، لہذا متوازن راستہ اختیار کرنا بے حد ضروری ہو چکا ہے۔ اب ایسے میں ہم آئسولیشن بھی اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ دہشت گردی کی وجہ سے کئی بین الاقوامی معاملات میں ہم پہلے ہی تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔

http://photo-cdn.urdupoint.com/daily/images/articles/isismap1.jpg
سوال۔ تو ایسے میں پاکستان کو کیا کرنا ہوگا۔آپریشن ضرب عضب درست سمت میں ایک قدم نہیں؟

جواب۔ تیس سال سے بگڑی بیماری کو دنوں میں ختم کرنا مشکل ہے، دیر آئے درست آئے، ہمیں ایسے اقدامات بہت پہلے اٹھا لینے چاہیے تھے۔
۔ ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم مذہبی دہشت گردی کے بانی ہیں، اس اوریجنل سن کا آغاز ہمارے ہاں سے ہی ہوتا ہے،آپ اندازہ کیجئے ایک زمانے میں افغان جہاد کے لیے موساد نے فلسطینوں کو ٹریننگ دی، پھر وہی تربیت یافتہ گروہ انہی کے خلاف لڑے، بالکل ویسے جیسے ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ لہذا اب ہمیں اچھے برے کی تمیز کیے بغیر ان تمام دہشت گردوں کا صفایا کرنا ہوگا۔
ضرب عضب کے نتیجے میں چند ہفتوں میں شمالی وزیرستان میں حکومتی رٹ قائم ہو جائے گی، لیکن ہمیں جنوبی پنجاب اور کراچی پر بھی توجہ دینا ہو گی۔
سوال۔ امریکہ داعش کے خلاف براہ راست فوجی کاروائی سے کیوں گریزاں ہے؟
جواب۔ امریکہ شاید مشرق وسطی میں فعال ریاستوں کا قیام چاہتا ہی نہیں، اس سلسلے میں بہت سے تھینک ٹینکس نے درجنوں نئے نقشے بھی شائع کیے۔
جن میں جغرافیائی بندر بانٹ کی رام کہانی الاپی گئی ہے۔ اور انہی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک لانے کے لیے داعش اور طالبان جیسے کردار زندہ رکھے جاتے ہیں۔ اس بارے میں بے شمار تھیوریاں پیش کی گئیں۔ لیکن حقائق تو یہ کہتے ہیں کہ عراق نے ایک عرصے سے ایف سولہ طیاروں کی ادائیگی کر رکھی ہے لیکن ابھی تک امریکہ نے یہ طیارے عراق کے حوالے نہیں کیے۔۔ بالاخر عراق نے روس سے سینکڈ ہینڈ سخوئی طیارے خریدے۔۔
سوال۔ مشرق وسطی میں جاری یہ خانہ جنگی کب تک جاری رہ سکتی ہے؟
جواب۔ اسکا انحصار بین الاقوامی طاقتوں پر تو ہے ہی، لیکن اس سے زیادہ یہ دیکھنا ہو گا کہ اس خطے میں کونسی ایسی طاقت ہے جسکا مفاد اس آگ کے مزید بھڑکاؤمیں ہے۔

تاریخ اشاعت: 2014-07-01

(7) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     اجمل جامی

اجمل جامی بحثیت اینکر اور نمائندہ خصوصی دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں

اجمل جامی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان