تازہ ترین : 1
Rana Mashood Interview

صوبے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کررہے ہیں :رانا مشہود احمد خان

ملک کے پہلے لیپ ٹاپ مینوفیکچرنگ ،اسمبلنگ پلانٹ کے قیام سے تعلیمی انقلاب آئیگا صوبائی وزیرتعلیم رانا مشہود احمد خان کا”اُردوپوائنٹ“ کوخصوصی انٹرویو

انٹرویو ۔اعجازاحمد:
گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات کیے گئے ہیں جس کے سودمند نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت پنجاب میں تعلیم کی ترقی اور فروغ کیلئے قابل ستائش اقدامات ہوئے جس کا سراہا پنجاب حکومت کے سرہے۔ گوکہ ہائرایجوکیشن کے شعبے میں وہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے جس کی توقعات تھیں لیکن اس کے باوجود انفراسٹریکچر میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی اور معیار تعلیم بھی بلند ہوا۔

پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ آج بھی اس بات پر بضد ہے کہ بہتر تعلیم کیلئے پرائیوٹ سیکٹر سسٹم کی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی لیکن درحقیقت اگر بغورجائزلیا جائے تو سرکاری تعلیمی نظام اس وقت اپنے بہترین دور سے گزر رہا ہے اور اسے بہتر انداز میں چلایا جا رہا ہے۔ پرائیوٹ سیکٹر تک آج بھی ایک مخصوص طبقہ کی رسائی ہے جبکہ اکثریت سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستہ ہے۔
صوبہ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں گراس روٹ پر تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کیے گئے جس میں سکولوں اور کالجز کی حالت بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ معیار تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے اساتذہ کو بھی معاشی سہولیات دی گئیں لیکن اس کے باوجود کہیں نہ کہیں مسائل اب بھی موجود ہیں۔ ان مسائل کے حل کیلئے پنجاب حکومت کیا اقدامات کررہی ہے اور مستقبل میں تعلیم کی ترقی کیلئے حکومت کن پروگرامز پر کام کررہے، ان سبھی سوالات کا جواب تلاش کرنے کیلئے ”اُردوپوائنٹ ڈاٹ کام “نے صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس میں انہوں نے تندوتیز سوالات کے انتہائی نرم رویے سے جوابات دئیے جو ایک خلاصہ کی شکل میں آپ کیلئے پیش خدمت ہیں۔


سوال: ابتداء میں آپ یہ بتائیے کہ گزشتہ پانچ سال میں بھی آپ کی جماعت پنجاب میں حکومت میں تھی، جو اقدامات گزشتہ پانچ سال میں کیے گئے کیاسوفیصد ان کے نتائج توقعات کے مطابق رہے ہیں یا آپ سمجھتے ہیں کہ بہتری کی گنجائش موجود ہے؟
رانا مشہود: بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ موجودرہتی ہے۔ یہ وسائل پر منحصر ہے کہ آپ ان وسائل کا استعمال کیسے کرتے ہیں، پنجاب حکومت نے گزشتہ دور میں جو بھی اقدامات کیے ان کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں اور صوبہ کے چھوٹے شہروں سے لیکر تمام بڑے تعلیمی اداروں میں معیار تعلیم بہتر ہوا ہے جس سے ہم مطمئن ہیں اور جو بہتری کی گنجائش رہ گئی ہے اس کیلئے اب اللہ نے پھر موقع دیا ہے اور پوری توانائی کے ساتھ اقدامات کیے جائیں گے۔


سوال: کیا پنجاب میں تعلیم سستی ہوئی ہے، یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ایک عام آدمی اپنے بچوں کو کم پیسوں میں بہتر تعلیم دلوا سکتا ہے؟
رانا مشہود: ہم نے پوری کوشش کی کہ تعلیم کو اس قدر سست کیا جائے کوئی بھی بچہ محض اس لیے تعلیم سے محروم نہ رہے کیونکہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارا ٹارگٹ تھا کہ پنجاب کے تمام بچے جب سکول کو عمر کو پہنچیں وہ سکول بھی جائیں اس سلسلے میں کتابیں مفت فراہم کیں گئیں اور سکولوں میں چاردیواری سمیت بنیادی سہولیات کیلئے بھی خطیر رقم خرچ کی گئی۔

اگر بڑے شہروں کی بات کی جائے تو تعلیمی اداروں کو مفت بسیں فراہم کیں کی گئیں جبکہ فیسوں میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ تعلیمی اداروں نے متوسط گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو فیسوں میں خاصی رعائت بھی دی ہے۔ یہ ابھی آغاز ہے اور اس سلسلے کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔


سوال:پنجاب میں تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے انرولمنٹ ایمرجنسی لگانے کے حوالے سے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور اس کے فوائد کیا ہونگے؟
رانا مشہود:جی ہاں،پنجاب میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے انرولمنٹ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سرکاری اور نجی سکولوں میں ہر سال 10لاکھ بچوں کا داخلہ یقینی بنایا جائیگا۔

اگلے 3سال کے دوران پنجاب کے ہر علاقے میں5سال سے 9سال تک عمر کے 100فیصد بچوں کی سکولوں میں انرولمنٹ کا ہدف پورا کر لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی رہنمائی میں گذشتہ 5سال کے دوران مسلم لیگ (ن) کا تعلیمی ویژن بہت واضح رہا ہے۔ہم نے کوشش کی ہے کہ تعلیمی اداروں سے محض ڈگریاں بانٹنے کی بجائے ”علم “بانٹا جائے تاکہ ہمارا معاشرہ علم ،انسان دوستی او رشعور کی روشنی سے منور ہو سکے۔
یہی وجہ ہے کہ اس سال پنجاب کے بجٹ میں230ارب روپے سے زیادہ رقم صرف تعلیم کے شعبے کے لیے رکھی گئی ہے۔ پاکستان کو اگر ترقی کرنی ہے تو ہمیں انفراسٹرکچرمیں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ چلتے پھرتے انسانوں پر بھی سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔


سوال:سکالر شپ کے حوالے سے مستقبل کے کیا پلان ہیں جن پر فوری طور پر عمل کرنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں؟
رانا مشہود: صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں کے 15ہزار ذہین اور ضرورت مند طلبا و طالبات کو گذشتہ 4سال کے دوران 2ارب روپے کے سکا لر شپ فراہم کی گئی ۔

پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ میں اس سال مزید 2ارب کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے منافع میں سے 9ہزار مزید طلبا و طالبات کو میرٹ کی بنیاد پر وظائف دئیے جائیں گے۔


سوال: ملک کے پہلے لیپ ٹاپ مینوفیکچرنگ / اسمبلنگ پلانٹ کے قیام کے کیا فوائد حاصل ہونگے؟
رانا مشہود:ملک کے پہلے لیپ ٹاپ مینوفیکچرنگ / اسمبلنگ پلانٹ کے قیام سے تعلیمی انقلاب آئیگا کیونکہ طلبہ بہترنتائج دیں گے اور انعام میں انہیں میرٹ پر لیپ ٹاپ دئیے جائیں گے ۔

اس کے ساتھ ساتھ بے روزگار نوجوانوں کے لئے بھی ملازمت کے مواقع پیدا ہونگے۔ شرح خواندگی اور معیار تعلیم بڑھانے کیلئے حکومت پنجاب کے اقدامات عملی ہیں اور ان پر بہتر انداز میں کام ہورہا ہے ۔


سوال:تعلیمی اداروں میں کمپیوٹرکی اہمیت کو بڑھانے کیلئے حکومت کے پاس کیا پالیسی ہے؟
رانا مشہود:ہمارے نئے منصوبے کے تحت آٹھویں سے لے کر دسویں جماعت تک کے بارہ لاکھ طلبا و طالبات کو آئی پیڈ سائز کے ٹیبلٹ کمپیوٹر فراہم کیے جائیں گے، جن میں ان کی درسی کتب اور دیگر تدریسی مواد شامل ہوں گے۔

اس طرح ان بچوں کو بھاری بستوں سے نجات مل جائے گی۔ان کمپیوٹرز کے حامل تمام سکولوں کا سرور حکومت پاکستان کی ڈیجیٹل لائبریری سے منسلک ہو گا۔ہر سال طلبا و طالبات کو بارہ لاکھ کمپیوٹر فراہم کرنے سے ملک میں یکساں نظام تعلیم کو فروغ دینے میں مدد ملے گی اور اس منصوبے کا رواں سال سے ہوجائیگا ۔


سوال:ترقی یافتہ ممالک کی طرح پنجاب حکومت نے کارپوریٹ سیکٹر کو بھی تعلیم کی ترقی کیلئے ساتھ ملانے کافیصلہ کیا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟
رانا مشہود:پنجاب حکومت کا ویژن ہے کہ ہم کارپوریٹ سیکٹر کے ساتھ تحقیقی امور کو وسعت دیں۔

وزیر اعلیٰ کے اسی ویژن کو سامنے رکھتے ہوئے صوبہ میں” نالج سٹی پراجیکٹ“ متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت دنیا کی معروف یونیورسٹیوں کے کیمپس پاکستان میں قائم کئے جائیں گے۔ پنجاب حکومت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے اہم اقدامات کر رہی ہے جس میں پنجاب یوتھ فیسٹیول بھی شامل ہے۔گزشتہ یوتھ فیسٹیول میں میں 3.3 ملین نوجوانوں نے حصہ لیا اور 26 عالمی ریکارڈ قائم کئے جو کہ دنیا کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے۔

وقت اشاعت : 2014-01-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں