تازہ ترین : 1
DJ Butt Interview

ابھی تو زندگی شرو ع ہوئی ہے!!

ڈی جے آصف بٹ کو شہرت راتوں رات نہیں ملی اس میں اُن کی انتھک محنت شامل ہے

ماہ نور:
آصف نذر بٹ کو ڈی جے بٹ بننے میں کتنے برس لگے؟
ڈی جے بٹ:
کئی سال لیکن برسوں سے کہیں زیادہ میری انتھک محنت ہے جس نے مجھے آج اس مقام پر پہنچایا۔ میں1996 میں ماڈل ٹاوٴں سی بلاک کی اس مارکیٹ میں تھرموکول(Thermocol) کے ”کافی کپ“ بیچنے آیا تھا جہاں عارف صاحب نے خالصتاََ ایک مارکیٹک سٹائل میں بات ہوئی جو پھر ایک مضبوط رشتے میں بدل گئی۔
دراصل ان کی کافی باز زیادہ بزنس کرتی تھی چنانچہ میں نے اسی جگہ جہاں آج یہ سٹوڈیو ہے بی سی بی(B.C.B) یعنی بٹ کافی بار بنایا اور ماڈل ٹاوٴن کے رہائشیوں کو ”کافی “ بیچنا شروع کر دی۔جب میری کافی کے خریدار بڑھنے لگے تو ایک صنعتکار حسن ممتاز صاحب نے کہا”لاہور میں تو ٹھنڈصرف تین چار ماہ رہتی ہے ایسا کام کرو جو زیادہ چلے“ تو میں نے ان کی پارٹنر شپ میں نتھیا گلی اور ایوبیہ میں کافی بار شروع کئے۔
آپ یقین کیجئے یہ 2000 کا دور تھا اور میرے پاس 70CC موٹرسائیکل تھی میں اپنے گھر گلبرگ سے کک مارتا اور ایوبیہ جا کر دم لیتا، یہی نہیں بلکہ مری میں اپنے کافی بار کے ساتھ اسلام آباد، ایف10 میں بھی ”کافی کپ“ سپلائی کرنے جاتا۔ مری میں یہ بزنس حسن ممتاز کی شراکت سے 4مہینے تک چلتا رہا اور میں ہر مہینے ایک مرتبہ امی کو ملنے لاہور ضرور آتا کیونکہ امی کو ملے بغیر لمبا عرصہ مجھ سے کٹتا ہی تھا اور وہ میرے لئے ہر لمحہ دعا کرتی رہتیں پھر مجھے”بھاگ “ لگنے لگے۔
ماڈل ٹاوٴن کا شاید ہی کوئی گھر ہو جہاں میری کافی نہ پی گئی ہو۔ میاں منشا، سہیل ضیاء بٹ اور صاحبزادہ سیف الرحمٰن ، سب میرے ”کلائنٹ“ ہیں ۔ میں اپنے کیفے میں بہت اچھا میوزک چلاتا جس سے لوگوں کو میری سلیکشن کی داد دینا پڑتی۔ 2003 تک میں ڈی جے(DJ)نہیں تھا مگر کلائنٹ اچھے میوزک کی وجہ سے دوست بن جاتے تھے ۔ فیصل جواد دوستی ہی کی وجہ سے 2002 میں مجھے قاہرہ(مصر) لے گئے ان کی ہونے والی بیوی کے بھائی وہاں ڈی جے تھے اور میوزک کے بے شمار آلات اور جدید مشینری اُن کے استعمال میں تھی میں نے انہی سے ہی ہنر سیکھا میں 21 دن اُن کے ساتھ رہا چونکہ بچپن سے ہی تیز اور انتھک تھ اس لئے اُن کا سبق جلدی یاد ہو گیا اور جب میں پاکستان واپس آیا تو ذہن بن چکا تھا کہ میں نے ”ڈی جے“ہی بننا ہے ۔
میری سلیکشن اچھی تھی ایک لیپ ٹاپ، ایک بریف کیس اور کرائے کا ساوٴنڈ سسٹم۔۔۔2003 تک میں نامور ڈی جے بن گیا اور2004 میں اپنا سامان خرید کر”ویڈنگ ایونٹ“ شروع کر دئیے۔ میں ایک ایک دن میں 10،10 ایونٹس کرتا مجھے اللہ تعالیٰ نے اتنا نوازا کہ2005 کے بعدمیں نے خود ڈی جے کی کرسی پر بیٹھنے کی بجائے اپنے آفس کے لڑکوں کو ڈیوٹیز دینا شروع کر دیں اور خود صرف نگرانی کرتا۔

شادیوں یا ایونٹس کا ڈی جے سیاسی ڈی جے کیسے بنا؟
ڈی جے بٹ:
2007 کا سال میری جدوجہد کا زبردست سا ل ہے۔ مجھے طاہر القادری صاحب نے مینار پاکستان پر رمضان المبارک کے شیبنے کے لیے بک کیا۔ہزاروں کے مجمعے کے لئے میں نے جو انتظام کیا اس پر انہوں نے 50ہزار مجھے اور 50ہزار میری لیبر کو انعام دیا۔ اس کے بعد میں ایک فائیو سٹار ہوٹل کا ڈی جے بنا ، لمز یونیورسٹی میری کلائنٹ ہے بلکہ بڑے بڑے سیاستدان اور بزنس مین مجھے اپنے فنگشن سونپ کر بے فکر ہو جاتے ہیں۔
یوسف صلاح الدین کے گھر میں کتنے ہی سال بسنت کرتا رہا ہوں اب تو بسنت کو نظر ہی لگ گئی ہے۔
ترقی کے زینے طے کرتے ہوئے اپنا بچپن یا د آتا رہا یا محنت کے دوران کچھ یا د نہ رہا؟
ڈی جے بٹ:
میں کبھی نہیں بھولتا کہ میں ایک غریب لیکن ایماندار الیکٹریکل انجینئر نذربٹ کا بیٹا ہوں جو نوکری سے اپنے پانچ بچوں کا پیٹ پالتے تھے میں گلبرگ کے علاقے نبی پورہ اے ون میں پیدا ہوا جہا ں ہم کرائے کے مکان میں رہتے تھے مجھ سے ایک بڑی بہن اور دو چھوٹی بہنیں اور سب سے چھوٹا فیصل بٹ میرا پیارا بھائی۔
۔ میری ایک بہن اس وقت یونیورس سکول سسٹم میں پڑھا رہی ہے اور دوسری اسلامیات میں ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہے۔ میں نے میٹرک کے بعد ایف سی کالج میں داخلہ لیا تھا لیکن حالات نے آگے پڑھنے نہیں دیا اور میں نے نوکری کر لی۔1988 میں ابا نے کرائے کے مکان کی جگہ ایف سی کالج کچی آبادی میں پونے دو مرلے کا گھر بنایا۔1995 تک ہم وہیں مقیم رہے۔ میں نے ایک فیکٹری میں ”لوڈر“ کے طور پر کام شروع کیااور کچھ عرصہ بعد ایک یسٹورنٹ میں ”آرڈرٹیکر“ بن گیا۔
یہاں سے ایک مہربان اسلم صاحب مجھے اپنے ساتھ کراچی لے گئے جہاں انہوں نے ایک نیا ریسٹورنٹ کھولنا تھا۔ یہیں میں نے کافی بنانا سیکھی لیکن میں لاہور کے بغیر نہ رہ سکا اور واپس آکر ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ جوائن کر لیا اوریہ میری آخری نوکری تھی۔ دراصل میں نے سوچ لیا تھا کہ بڑھنا ہے تو پھر مختلف انداز میں سوچنا ہوگا۔ تب میں نے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کافی کپ کی سپلائی کا کام شروع کیا۔
میں آپ کو مزے کی بات بتاوٴں کہ جب میں ایف سی کالج میں پڑھ رہا تھا تو امیر ترین بچہ تھا۔ میری جیب میں دس روپے ہوتے تھے میں دوستوں کو پہلوان کے بونگ پائے کھلاتا، تب50 پیسے کا نان ملتا تھا۔ مجھے یاد ہے تب50 روپے بجلی کا بل آجاتا تو سارے گھر کا بجٹ”اپ سیٹ“ ہو جاتا پھر جو روکھی سوکھ ہوتی وہی کھاتے۔ امی کہتیں ”حلال کایہی ہے گذارہ کرنا پڑے گا۔

جس جگہ کسی کا کام کرتے تھے وہاں اپنا کام کرنا کیسا لگا؟
ڈی جے بٹ:
بہت ہی اچھا۔۔ میں نے ”بی سی بی“ کے ساتھ ساتھ کولڈ ڈرنک کارنر کھول لیا اور 2008 میں ساوٴنڈ سسٹم باہر سے منگوانا شروع کر دیا۔ میں اپنے اللہ تعالیٰ کا اتنہائی شکر گذار ہوں مجھے زندگی میں قدم قدم پر اچھے لوگ ملے۔ زیادہ ترآلات میں کاشف مجید صاحب سے خریدتا تھا انہوں نے ہی2008 میں مجھے اولمپک کے دوران باہر کی دکھائی پھر میرے ماموں جو جاپان میں ہیں انہوں نے مدد کی اورآج میرے پاس کئی ٹریک ساوٴنڈ کامہنگا ترین سامان موجود ہے۔
میں نے اس مارکیٹ میں تین بلڈنگز بھی خرید رکھی ہیں جس میں آلات رکھے ہوئے ہیں ۔ میں اس علاقے میں اپنی مارکیٹ کا صدر بھی ہوں اور ہم نے امن تحفظ کمیٹی بھی بنا رکھی ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ ہتھیاروں سے بہتر ہے ہم اپنی آنکھیں کھلی رکھیں جاگتے ہوئے آدمی سے بہادر کوئی نہیں ہو سکتا۔
دھرنے کے دنوں میں تو یہ لمبی غیر حاضری لگی ہوگی؟ ویسے عمران خان کے دھرنوں نے ڈی جے بٹ کو شہرت تو خوب دی ؟
ڈی جے بٹ:
اس طویل دھرنے سے قبل جب عمران خان صاحب نے پشاور میں ڈرون حملوں کے خلاف 2 دن کا دھرنا دیا تو انہیں اپنے انتظام کے لیے اچھے ”ڈی جے“ کی ضرورت تھی۔
میجر حسن بلال مجھے 2007 سے جانتے تھے مشرف دور میں اُن سے ملاقات ہوئی تھی انہوں نے ہی عمران خان صاحب سے ملاقات کروائی۔ جب دھرنے سے واپس آرہا تھا تو عمران خان صاحب کا فون آیا۔ ڈی جے بٹ تم نے میرا دھرنا کامیاب کیا آج سے تم پی ٹی آئی کے آفیشل ساوٴنڈ مینجر ہو چانچہ میں نے سیاسی جلسوں کو بیگ گراوٴنڈ میوزک سے سجانا شروع کر دیا۔ میں نے بھی ترانے بنائے اور پھر اسلام آباد کے طویل ترین دھرنے میں تو خان صاحب سے اس قدر زبردست کوآرڈینیشن ہوگی کہ جب میں ترانہ لگاتا وہ خاموش ہو جاتے اور جب وہ رکتے میں ترانہ لگا دیتا۔ اس دھرنے میں جب شیلنگ ہوئی تب انہیں اپنے ااور پرائے کی بھی پہچان ہوئی انہیں میرا نڈر ہونا پسند آیا۔
وقت اشاعت : 2015-04-28

(4) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں