بند کریں
پیر مارچ

مزید انٹرویوز

- مزید مضامین
حکومت پنجاب کے مثالی تعلیمی روڈ میپ کوبین الاقوامی سطح پر بے حد پزیرائی ملی ہے، قیصر رشید
90فیصد سکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کر چکے ہیں، ڈپٹی سیکرٹری بجٹ اینڈپلاننگ محکمہ تعلیم سکولزپنجاب ۔۔۔۔۔ محکمہ تعلیم پنجاب کا ”موٹو“ 100فیصد بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کرنا ہے،خصوصی انٹرویو
مصنف : ثنا اللہ ناگرہ
محکمہ تعلیم سکولزپنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری بجٹ اینڈ پلاننگ قیصر رشید نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کے مثالی تعلیمی روڈ میپ کوبین الاقوامی سطح پر بے حد پزیرائی ملی ہے،90فیصد سکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کر چکے ہیں،پنجاب میں تعلیمی نظام دوسرے صوبوں کی نسبت کافی بہتر ہے،محکمہ تعلیم پنجاب کا "موٹو"ہے کہ 100فیصد بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کی جائے، نیلسن پاکستان کے سروے کے مطابق پانچ سے نو سال کی عمر کے 89.5فیصد بچوں کی سکولوں میں انرولمنٹ ہوچکی ہے،یکساں نظام تعلیم رائج کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جس کے باعث تعلیمی نصاب 2006ء کے تحت قومی و بین الاقوامی کے معیار کے مطابق تیار کی گئی ٹیکسٹ بکس سرکاری سکولوں میں پڑھائی جا رہی ہیں لہذا اس حکومتی پالیسی پر نجی سکولوں کوبھی عمل کرنا چاہیے۔
انہوں نے "اردوپوائنٹ ڈاٹ کام"کوخصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات حاصل ہیں کہ وہ یکساں نظام تعلیم کو رائج کرنے اور نجی سکولوں کو قانونی طور پر کنٹرول کرنے کیلئے قانون میں ترمیم کر سکتے ہیں۔پنجاب میں پرائیویٹ سکولوں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے آئینی ترمیمی بل پنجاب اسمبلی میں موجود ہے اگر یہ بل منظور ہوجائے تو نجی سکولوں کی من مانی فیسوں اور نظم وضبط کی قانونی طور پر نگرانی کی جاسکتی ہے۔
قیصر رشید نے کہا کہ حکومت پنجاب نے معیاری تعلیم کے فروغ کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ تعلیم سکولز کیلئے مالی سال 2015-16ء کیلئے کل بجٹ 268.423بلین مختص کیا گیا ہے جس میں چار لاکھ اساتذہ کی تنخواہوں کیلئے205.8ارب رکھے گئے ہیں،اسی طرح ترقیاتی بجٹ 19.670ارب،غیرترقیاتی کاموں کیلئے 29.3ارب جبکہ سی ایم روڈمیپ 2011ء کے تحت نئے دانش سکولوں کیلئے 3ارب اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کیلئے 10.5ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر کے بنیادی سہولیات سے محروم سکولوں کو 53ہزار بنیادی سہولیات جن میں باؤنڈری وال،واش رومز،بجلی اور پانی کی سہولیات شامل ہیں۔ڈپٹی سیکرٹری بجٹ اینڈ پلاننگ نے کہا کہ پنجاب کے90 فیصد سکولوں میں بنیادی سہولیات فراہم کر چکے ہیں، لیکن پنجاب کے 800 سکول پانی کی سہولت سے محروم ہیں کیونکہ یہ سکول ایسے پسماندہ علاقوں میں موجود ہیں جہاں پانی میسر نہیں ہے ان سکولوں کو پانی کی فراہمی ہماری ترجیح میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ان میں 596سکول واش رومزکی سہولت سے محروم ہیں،1187پانی،6283بجلی،2991باؤنڈری وال کی سہولت سے محروم ہیں،اسی طرح 61540میں اضافی کلاس رومز بنانے کی فوری ضرورت ہے۔سکولوں میں اضافی کلاس رومز بنانے کیلئے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گریڈ اسٹیشنوں سے دور علاقوں میں موجود سکول جو بجلی کی سہولت سے محروم ہیں ان سکولوں کو ڈیڑھ ارب کے خرچ سے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی۔
انہوں نے کہا کہ طلباء طالبات کو مفت ٹیکسٹ بکس کی فراہمی پر 3.6ارب خرچ ہوتا ہے جبکہ ڈیڑھ ارب روپے کی رقم طالبات کو ماہانہ دو سو روپے وظائف دینے کیلئے مختص کی گئی ہے،14ارب روپے سکول کونسلز کو دیئے جارہے ہیں تاکہ وہ ضرورت پڑنے پرسکول کی بہتری کیلئے خود خرچ کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چھ ہزار سکولوں میں کمپیوٹرز لیبزموجود ہیں جبکہ ایک ارب روپے کی لاگت سے مزیدسات سو سکولوں میں کمپیوٹرز لیب بنائی جا رہی ہیں۔
قیصر رشید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صوبے میں نئے سکول پبلک پرایئویٹ پاٹنرشپ کے تحت بنائے جا رہے ہیں پچھلے سال 225سکول بنائے گئے اسی طرح رواں سال 60کروڑ روپے مزید 500سکول بنانے کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ ایسے سکول جن کی عمارتیں خطرناک حالت میں موجود ہیں ان عمارتوں کو بنانے کیلئے ساڑھے آٹھ ارب روپے خرچ کیے جائینگے۔ڈپٹی سیکرٹری سکول نے کہا کہ ہمارے بجٹ کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ جو بجٹ مختص کیا جاتا ہے اس کو خرچ بھی کیا جاتا ہے پچھلے مالی سال میں 92فیصد مختص بجٹ کی رقم خرچ کی گئی۔
انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ نیلسن پاکستان کے سروے کے مطابق پانچ سے نو سال کی عمر کے 89.5فیصد بچوں کی سکولوں میں انرولمنٹ ہوچکی ہے جو حکومت پنجاب اور محکمہ تعلیم پنجاب کی بہتر کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے لیکن سو فیصد انرولمنٹ یقینی بنانا ہمارا عزم ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے 94.8فیصد سکول مکمل فنکشنل ہیں،سکولوں میں اساتذہ کی حاضری کی شرح 92فیصد جبکہ طلباء طالبات کی حاضری کی شرح 91فیصدہے۔
95فیصد سکولوں میں ڈی ٹیز ماہانہ دورہ کر کے معائنہ کرتے ہیں،اسی طرح ایک لاکھ سے زائد اساتذہ کو ڈی ٹیز کے ذریعے سکولوں میں ٹریننگ دی جاتی ہے جس پر چار ارب روپے خرچ ہونگے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم پنجاب کی کاوش کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں سائنس مضامین،ریاضی اور انگلش کیایک لاکھ سے زائد ایجوکٹرز اساتذہ کو بھرتی کر کے سسٹم میں لاچکے ہیں۔
اسی طرح رواں سال بھی ایجوکیٹرز بھرتی کیے جائینگے۔انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ محکمہ تعلیم پنجاب کی بہتری کیلئے ورلڈ بنک اور یوکے بھی فنڈنگ کر رہے ہیں۔ورلڈ بنک پانچ سالہ معاہدہ کے تحت 350ملین ڈالر آسان شرائط پر قرض جبکہ یوکے پانچ سالوں میں 400ملین پونڈ کی گرانٹ دے گا جس میں ایک سو ملین پونڈ سکولوں میں اضافی کلاس رومز بنانے پر خرچ ہونگے۔
قیصر رشید نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بہت اہمیت کا حامل ہے یہ منصوبہ پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے مفاد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اورپاک فوج کے دہشتگردی کے خلاف ضرب عضب آپریشن سے حیران کن مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں ، دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے اورپوری قوم کو آپریشن ضرب عضب سے امیدیں وابستہ ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-14

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ثنا اللہ ناگرہ

ثناء اللہ ناگرہ 2006 سے پیشہ ورانہ صحافت سے منسلک ہیں۔ جنوری 2015 سے اُردو پوائنٹ میں بطور ایڈیٹر نیوز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ثنا اللہ ناگرہ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-