بند کریں
بدھ مارچ

مزید انٹرویوز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان کا اسلامی آئین سیکولر عناصر کی حبس بے جا میں اورمدارس کے نصاب میں ترمیم کی ضرورت ہے
اسرار الہند یا اس طرح کی جو تنظیم بھی منظر عام پر لائی گئی ہے یا خود ہی آگئی ہے ایسی تنظیموں سے ہمارا کوئی تعلق واسطہ ہے اور نہ ہی انہیں کبھی اپنا سمجھا ہے سید عطاء الموٴمن شاہ بخاری کا ”اُردو پوائنٹ“ کوانٹرویو
مصنف : سید ذکر اللہ حسنی
وہ کون بدذوق ہوگا جو خطابت وحریت کے بادشاہ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے ناواقف نہ ہو۔ گزشتہ روز ان کے فرزند مجلس احرار اسلام پاکستان کے مرکزی امیر مولانا عطاء الموٴمن بخاری اپنی جماعت کے مخلص ساتھی جناب محمد طاہر سلیم کی دعوت پر فالج میں مبتلاء ہونے کے باوجود قباء مسجد افغان آبادمیں عوام سے خطاب کیلئے تشریف لائے۔ بعدازاں مولانا محمد یعقوب کے مدرسہ ضیاء المکةُ المکرمہ میں بستر علالت پر ہی موجودہ حالات پر گفتگو کی لمبی نشست ہوئی جوہدیہ قارئین ہے۔

مولانا عطاء الموٴمن بخاری نے اپنی گفتگو کا آغاز اسلام آباد کچہری کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنی جماعت سے ملتے جلتے نام ”احرار الہند“ نامی جماعت کی تردید کی اور کہا کہ اس طرح کی جو تنظیم بھی منظر عام پر لائی گئی ہے یا خود ہی آگئی ہے ایسی تنظیموں سے ہمارا کوئی تعلق واسطہ ہے اور نہ ہی انہیں کبھی اپنا سمجھا ہے۔ یہ پتا نہیں کون لوگ ہیں اور ان کے کیا مقاصد ہیں؟ انہوں نے کہا مجلس احرار اسلام پاکستان سمجھتی ہے کہ بے گناہوں کو مارنا یا قتل کرنا کسی بھی طریقے سے جائز نہیں ہوسکتا۔
قرآن کریم کا واضح حکم موجود ہے کہ ناحق کسی کو قتل نہ کرو۔ مجلس احرار کا تقسیم پاکستان سے قبل اور آج تک کا کردار سب کے سامنے ہونا چاہیے کہ ہندوستان میں انگریز کی سخت ترین مخالف بالخصوص قادیانیت کے مسئلے میں بھی ہماری جماعت کے بزرگوں کی پالیسی عدم تشدد کی تھی۔ تحفظ ختم نبوت کا مسئلہ دیگر تمام مسائل کے مقابلے میں مسلمانوں کیلئے اعتقادی بھی ہے اور جذباتی بھی ۔
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور دیگر احراری بزرگوں کو خطابت میں جو کمال حاصل تھا کہیں بھی ان کی تقریر کے نتیجے میں کبھی کسی قادیانی کو مارا یا جائیداد کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ محض لفظ احرار استعمال کرنے سے کوئی اس کا رکن یاذمہ دار نہیں کہلا سکتا۔ مختلف ذہنوں اور مذاہب کے لوگ اپنے ساتھ احرار کا لفظ لگاتے رہے ہیں۔ اسی طرح ”احرار الہند“ یا اس قسم کے دوسرے گروپوں کی کاروائیوں کی مذمت کرتے ہیں قتل وقتال ہمارا شیوہ نہیں ہے۔
اسی طرح حکومتی اقدامات کے نتیجے میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں ان کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر سے نامعلوم اور بے گناہ خواتین ، بچے وبزرگ بھی مارے جا رہے ہیں۔
موجودہ بدامنی سے نمٹنے کیلئے حکومتی اور طالبان کمیٹی کے مذاکرات ،جنگ بندی اور اب حکومتی کمیٹی کی تشکیل نو پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا عطاء الموٴمن کا کہنا تھا کہ کمیٹی میں فوجی ایجنسیز اور فوج کے نمائندوں کو شامل کرنے سے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات معدوم ہوتے نظر آتے ہیں۔
حکومت یہ بتائے کہ پہلے سے منتخب کمیٹی پر عدم اعتماد کیوں ہوا اور اب یہ پراعتماد کمیٹی کیسے کہلائے گی؟ انہوں نے کہا درحقیقت اب مذاکرات کے امکانات ختم ہوجائیں گے ان نمائندگان کے ذریعے طالبان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ حکمرانوں نے جن لوگوں سے معاملات طے کرنا ہے اس کیلئے پرانی کمیٹی ہی بہتر تھی جس کی وزیراعظم کود سربراہی کرتے۔
حالات تو سب آپریشن کی نشاندہی کرتے ہیں مگر ہر صورت مذاکرات کی ٹیبل پر آنا ہوگا۔ آپریشن کسی صورت ملک وقوم کے مفاد میں نہیں۔ لاکھوں لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں باقی کریں گے۔ جولوگ اپنے آبائی گھروں کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ آباد ہوں گے تو ان کی نسلوں کے ذہنوں میں نفرت پیدا ہوگی۔ علیحدگی پسند ذہن کو اپنی کارروائیاں کرنے میں آسانی پیدا ہوگی۔
را، موساد، خاد اور بلیک واٹر ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ مساجد، شیعہ سنی مفادات پر حملوں کے ثبوت انہیں لوگوں کے خلاف ہیں۔ بلیک واٹر کے خلاف مقدمات درج کرکے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔ پاکستان میں امن ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا امریکی اور پاکستانی مفادات کبھی ایک نہیں ہوسکتے۔ امریکہ افغانستان کے بعد ان علاقوں میں اپنے ڈیرے جمانا چاہتا ہے مزاحمت کاروں کو ختم کرنے کیلئے آپریشن کا دباوٴ بڑھ رہا ہے۔
شمالی وزیرستان آپریشن کا مطالبہ یا دباوٴ امریکہ کا آج سے نہیں کئی برسوں سے ہے۔ حکمران امریکی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے اس کے غلام بن کریہ قدم نہ اٹھائیں تو بہتر ہے ۔ امریکہ افغانستان کے بعد ان علاقوں میں اپنے قدم اٹھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے جمعیت علماء اسلام ف کے قومی سیاست میں کردار پر مختصر تبصرہ میں کہا کہ جمعیت ایک طرف تو حکومت میں شامل ہے اس لئے کھلم کھلا حکومتی اقدامات کی نہ مخالفت کرتے ہیں نہ حمائت کرتے ہیں۔
بین بین چلتے ہیں۔ تمام دینی اور محب وطن اداروں، شخصیات اور جماعتوں کو متحد ہوکر اس مسئلے کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی اور واضح ودوٹوک موٴقف اختیار کرنا ہوگا۔
انہوں نے آئین پاکستان کی اسلامی شقوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 1951ءء میں لیاقت علی خاں مرحوم ملک کے وزیراعظم تھے انہوں نے علماء سے کہا کہ پاکستان کے اسلامی دستور کیلئے متفقہ دستوری خاکہ دیں۔
جس کا پہلا اجلاس علامہ سلمان ندوی کی زیرصدارت ہوا جس میں مشرقی ومغربی پاکستان کے جید علماء نے 22نکات منظور کئے۔ جب یہ چھپ کر منظر عام پر آئے تو مجلس احرار اسلام نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے الگ واضح نکتہ شامل نہ ہونے پر تحریک چلائی اور اس وقت ملک میں 2500جلسے کئے۔ ان 31علماء کے سامنے اپنا مطالبہ رکھا جس پر 33علماء کا اجلاس کراچی میں ہوا اور ایک سب کمیٹی بنادی گئی جس میں علماء نے مجلس احرار کے مطالبہ کا جائزہ لے کر عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کو الگ نکتہ کی صورت میں شامل کیا اور 23نکات بن گئے۔
اس کی پوری تفصیل مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی 423صفحات پر مشتمل کتاب”قادیانی مسئلہ“ کے پہلے ایڈیشن میں موجود ہے۔ اس اجلاس میں مجلس احرار کے پانچ نمائندے بھی شامل تھے۔ یہاں یہ حقیقت بھی انہوں نے بتائی کہ 73کے آئین میں اس دستوری خاکہ کو قرار داد کی شکل میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا جسے5جولائی77تک قانون کا حصہ نہ بنایا جاسکا تھا۔
سابق مرحوم صدر جنرل ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے ذریعے اس کو قانون کا حصہ بنایا گستاخ رسول کی سزا اور تعزیرات کو بھی قانون کا حصہ جنرل ضیاء نے بنایا تھا اسی طرح قرارداد مقاصد کو بھی آئین کا حصہ اور مآخذ جنرل ضیاء نے قرار دیا تھا۔
مولانا عطاء الموٴمن نے کہا کہ اس لئے 73کے آئین کو اسلامی نہیں کہا جاسکتا۔ اسلامی دفعات کی روشنی میں قوانین نہ بن سکے اور اب تک قرارداد مقاصد کو مآخذ نہیں مانا گیا اس لئے موجودہ قوانین آئین اور مذہب سے متصادم ہیں۔
آئین کی شق62/63بھی کتنی لاگو ہے؟ سب کو معلوم ہے۔ عملی طور پر ملک میں نہ ہی مکمل آئین نافذ ہے اور نہ ہی مکمل قوانین پر عمل درآمد ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا خواتین کے حقوق کے نام پر تو کبھی ایجوکیشن ریفارمز کے نام پر ملک کے اسی آئین کے تحت سیکولر قوانین بنائے جارہے ہیں۔ حال ہی میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سرعام آئین پاکستان کی دھجیاں اڑائی ہیں مگر کوئی کچھ نہیں بولا۔
انہوں نے کہا عدالتی نظام بھی آئین کے اصل مآخذ کے خلاف ہے۔ ملکی آئین میں تعزیرات غیر اسلامی ہیں، حدوداللہ کا نفاذ نہیں ہے۔ سودی نظام موجود ہے۔ ہندوستان کا تعزیرات ایکٹ صرف املاء کی غلطیاں درست کرکے 1935انڈیا ایکٹ نافذ ہے۔ اسی آئین کے تحت غیر مسلموں کو شراب فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ یونیورسٹیوں اور کالجز میں لڑکیوں کو نچایا جارہا ہے، موسیقی کی تربیت دی جارہی ہے۔
پوش آبادیوں میں ہم جنس پرستی کا فروغ عام ہوچکا ہے۔ جبکہ ہر محلہ اور ہاسٹل اس بازار کا نقشہ پیش کررہا ہے۔کون سا کام آئین پاکستان کی اسلامی شقوں کے خلاف نہیں ہورہا؟؟؟ مگر آئین میں موجود اسلامی دفعات قید ہیں اور حبس بے جا میں ہیں۔ علماء اور دینی قوتوں کا فرض ہے کہ آئین کی بند کتاب میں قید اسلامی شقوں کو سیکولر ،دین بیزار قوتوں سے آزاد کرائیں۔
دین کے نام لیواوٴں کو اب نور، بشر اور فاتح خلف امام کے مسائل کو دفن کرکے اسلام کے دفاع کی جنگ کیلئے متحد ہونا ہوگا۔ اب علماء وصوفیوں کو حجروں سے نکل کر بگڑے ہوئے معاشرے کو درست کرنا ہوگا۔ عدالتیں اسلامی آئین کے نفاذ کا اعتماد بھی کھو چکی ہیں۔ بڑے عہدوں کو استثناء دے دیتی ہیں۔ دین اسلام میں تو حکمرانوں اور خلفاء کو بھی عدالتی استثناء سوائے پیغمبروں کے کسی کو حاصل نہیں۔
کیونکہ پیغمبر تو کرتے ہی وہ ہیں جو اللہ انہیں کہتا ہے۔ دینی قوتوں کو دلائل کے ساتھ دوسرے لوگوں کوقائل کرنا ہوگا کہ دین اسلام میں عورتوں کے پردے کے احکام سے خواتین کو احترام ملتا ہے یا مغرب وسیکولر کے عورتوں کو ننگا کرکے پوسٹر بنانے سے خواتین کو احترام ملتا ہے۔ہر ڈکٹیٹر کے غاصبانہ قبضے کو اسی عدلیہ نے جائز قرار دیا۔ جبکہ پیپلزپارٹی کے ہر دور میں لاقانونیت عروج پر پہنچی۔

انہوں نے دینی مدارس کے نصاب ونظام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو بہترین طریقے سے چلانے کی صلاحیت علماء میں ہے۔ ملک کا بیوروکریٹ سول یا فوجی بالادست طبقہ انگریز کے نظام کو چلانے کا تربیت یافتہ ہے۔ اس سے اسلامی نظام کے نفاذ کی امید قائم نہیں کی جاسکتی۔ پولیس، تعلیمی اداروں، سکولوں، فوج، میڈیا اور ہر شعبے کے افراد مدارس کو پیدا کرنا ہوں گے۔
مدارس زبان کے مخالف نہیں۔ مغربی تہذیب اور ثقافت کے خلاف ہیں۔زبان دشمنی نے ہمیں ایک طبقے تک محدود کردیا ہے۔ انہوں نے کہا اس وقت اگر کوئی کہتا ہے کہ انگریزی زبان نہ سیکھی جائے اسے کنویں میں لٹکا کر اوپر سے بند کردینا چاہئے۔ بلکہ اب تو حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ مکمل اسلامی علوم وفنون پر عبور رکھنے والا باعمل شخص کلین شیو بھی ہے تو اسے اپنا ماننا پڑے گا اسے اعلیٰ عہدے تک پہنچانا پڑے گا۔
اب مدارس میں وہ نصاب لانا پڑے گا جس سے مدرسے کا فارغ التحصیل جج، وکیل، پروفیسر، صحافی، ڈاکٹر، تاجر، صنعتکار اور معاشرے کے دوسرے بااثر طبقات میں اپنی جگہ بناسکے۔ ان سے تقابلی بحث کرسکے۔ مدارس میں سیرت، سیاست اور فنون کو شامل کرکے نظریاتی اور مشنری افراد پیدا کرنے ہوں گے۔علماء خود کو زکوٰة خور بنانے کی بجائے زکوٰة ادا کرنے والا بنانے کی کوشش کریں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا سید عطاء الموٴمن شاہ بخاری نے اس گفتگو میں کھل کر ان باتوں پراظہار خیال کیا ہے جن سے عام طور پر ہمارا دین دار طبقہ صرف نظر کرتا ہے۔وفاق المدارس وبالخصوص اور مذہبی جماعتوں ودینی طبقہ کو بالعموم ان کی گزارشات پر ضرور غور کرنا چاہئے۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-10

(6) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید ذکر اللہ حسنی

سید ذکر اللہ حسنی معروف صحافی ہیں، ایک قومی روزنامے کے فیصل آباد میں بیورو چیف ہیں۔

سید ذکر اللہ حسنی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان