بند کریں
بدھ مارچ

مزید انٹرویوز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وفاق کے پاس کو ئی ویژن نہیں اور خیبر پختونخواہ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،معاون وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
صوبے میں ٹریفک نظام کی بہتر ی کے لئے غیر ملکی کمپنیوں کی خدمت حاصل کی جا ئے گی۔ صوبے سے بھوت سکولوں اور کام چُور ملازمینوں کا خاتمہ منشور کا حصہ ہے ۔وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم اور ٹرانسپورٹ ملک شاہ محمدخان وزیر کا اُردو پوائنٹ کے ساتھ خصوصی گفتگو
مصنف : رحمت اللہ شباب
انٹرویو۔رحمت اللہ شباب ، عبداللہ صدیقی:
وطن عزیز پا کستان میں ہر دور میں ایک ہی نعرہ سننے کو مل رہاہے۔اور پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔وہ نعرہ ہے تبدیلی کا تبدیلی ایک ایسا لفظ ہے جو سیاسی جماعتوں کے منشورمیں بھی سر فہرست ہوتا ہے ۔یہ نعرہ پاکستان تحریک انصاف کی طر ف سے کچھ زیادہ ہی استعمال کیا گیا اورقوم نے اسی نعرہ کے تحت ووٹ دی اور تحریک انصاف کو پہلی با ر خیبر پختونخواہ میں حکومت بنانے کا مو قع ملا۔
اس تبدیلی کے حوالے سے اُردو پواینٹ نے خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و فنی تعلیم ملک شاہ محمد وزیر سے ایک خصوصی نشست کی جو قائدین اُردو پوائنٹ کے پیش خدمت ہے۔
اُردو پوائنٹ: آپکا تعلق جنوبی خیبر پختونخواہ سے ہے۔ پی ٹی آئی سے ہے یہ علاقہ تو ماضی میں جمعیت علماء اسلام کا گڑھ تھا۔
شاہ محمد خان: جی بالکل یہ علاقہ مولا نا فضل رحمان اور اکرم دُرانی کا علا قہ ہے اور یہاں کے لوگ اسلام اور علماء کرام کے قدردان ہے۔
اور اسی وجہ سے یہاں سے ہمیشہ علماء کے حق میں فیصلے آتے تھے ۔لیکن ان لوگوں کی غلط پالیسی اورانا کی وجہ سے اب یہ علاقہ پی ٹی آئی کا گڑھ بن چکاہے جس کی ثبوت حا لیہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی سے لگا یا جا سکتاہے اور انشاء اللہ مستقبل میں پی ٹی آئی پورے ملک کی طرح جنوبی اضلاع میں بھی کلین سویپ کریں گی۔
اُردو پوائنٹ: اس وقت جنوبی اضلاع پر متاثرین وزیرستان کا بوجھ بھی ہے اب کس طرح ہینڈل کر رہے ہو۔

شاہ محمد خان:صرف متاثرین کا بوجھ نہیں یہاں امن امان کرپشن اور لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ تھے۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور پی ٹی آئی ورکروں کے تعاون سے میں نے دن رات ایک کر کے اس خطے کو صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح پُر امن اور کرپشن سے پاک کردیا۔اس وقت لوڈشیڈنگ کا مسئلہ سنگین ہے لیکن وہ وفاق کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ جن کے لئے آپ ہمیں مجبورا سپریم کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔
متاثرین کے حوالے سے میں اپنے علاقے کے رہنے والوں غیور پختونوں کو سلام پیش کرتا ہو ۔کہ انھوں نے انصار مدینہ کا یا د تازہ کر کے نا صرف متاثرین کو اپنے گھروں میں جگہ دی بلکہ ان کے دُکھ درد میں بھی اپنی درد محسوس کی۔ ان کے علاوہ میں صوبائی حکومت اور کے کے ایف فونڈیشن کا مشکور ہوں کہ انھوں نے مشکل دور میں بھر پور ساتھ دی۔
" data-large="http://photo-cdn.urdupoint.com/6969/resize/khaas_gallery_images/2014/600x/1417235917-dsc00026-(large).jpg" alt="" src="http://photo-cdn.urdupoint.com/show_img/daily/khaas_gallery_images/2014/65x65/1417235917-dsc00026-(large).jpg" />
  • اُردو پوائنٹ: اکژ صوبے میں بوت سکولوں کا ذکر سننے کو ملتا ہے۔
    لیکن جنوبی اضلاع کا ذکر کچھ زیادہ کیا جا رہا ہے۔کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔

    شاہ محمد خان:ہاں یہ سچ ہے کہ ماضی میں اس طرح کے سکول حجروں کے طور پر استعمال کئے جا رہے تھے۔ پی ٹی آئی کے حکومت میں آنے کے بعد وزیر اعلی کے طرف سے تما آراکین اسمبلی کو خصوصی ہدایت کی گئی تھی۔ کہ تمام ممبران اپنی تمام تر توجہ عوامی مسائل پر صرف کریں۔ اور اسی طرح تمام ممبران نے اپنے حلقوں میں خوب محنت کی اب انشاء اللہ اس مسئلے سے نکل چکے ہیں۔
    میں نے خود صوبے کے سرکاری اداروں ہسپتالوں اور سکولو ں پر چھاپے لگائے اور موقع پر غیر حاضر ملازمین کو نوکری سے فارغ کردیئے ہیں ہماری حکومت کی واضع احکامات ہے کہ سرکاری ملازمین اپنی ڈیوٹیوں کو حاضری کو یقینی بنائے اور یا پھر گھر بیٹھ کر ایماندار لوگوں کو مو قع دیں تاکہ لوگو ں کے مسائل موقع پر حل کی جا سکے۔
    اُردو پوائنٹ: قبائلی علاقہ جات میں آپریشن سے صوبے پر کیا اثرات ہے اور وفاق کا تعاون کیسا ہے۔

    شاہ محمد خان: آپریشن سے صوبائی حکومت پر سخت دباؤ ہے۔کیونکہ آپریشن سے متاثر ہونے والے پناگزینو ں کیا آباد کاری تعلیم ،صحت اور دیگر ضرویات زندگی وفاقی حکومت کی زمہ داری ہے۔ لیکن وفاق نے پی ٹی آئی کے صوبائی حکومت کو بد نام کر نے کے لئے متاثرین کی تمام بوجھ صوبائی حکومت پر ڈال دی ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے ہم نے متاثرین کو بہترین سہولیات دے کر وفاق کے سازشوں کو نا کام بنادی ہے۔

    اُردو پوائنٹ: وفاق کس طرح سازش کررہاہے ۔
    شاہ محمد خان: وفاق کے پاس کوئی ویژن نہیں اور خیبر پختونخواہ میں تبدیلی کے عمل کو دیکھ کر متاثرین کو بڑھکانے کی کوشش کررہا ہے۔حالیہ دنو ں میں وفاق کی ایک ذمہ دار خاتون ماروی میمن نے متاثرین کو بڑھکانے کی کوشش کی۔ لیکن ہم نے حالات کو قابو کرنے کے لئے گرفتاریاں کی تھی اور اگلے بھی ان کی رہائی کے لیے اقدامات بھی کئے تھے ایسے میں وفاق کو سازشوں کی کیا ضرورت تھی کہ متاثرین کو بڑھکا کرروڈ پر لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
    لیکن میں وفاق کو بتانا چاہتا ہوں۔کہ ا بمتاثرین بھی تبدیلی کے سفر میں ہمسفر بن چکے ہیں کیونکہ ان کو اندازہ ہے کہ وفاق کے مقابلے میں ہم نے کیا کردار ادا کیا ہے۔اور خود رُکن قوم اسمبلی بھی صوبے کے خدمت کا اعتراف کر چکا ہے جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔
    اُردو پوائنٹ: ڈورن حملو ں کے حوالے سے پی ٹی آئی کے موقف کیا تبدیل ہو چکا ہے؟
    شاہ محمد خان: نہیں۔
    ہم اب بھی ڈرون حملوں کو ملک کی سالمیت کے خلاف سمجھتے ہیں اس حوالے سے ہم نے احتجاج بھی کئے ہیں۔احتجاج اب اس لئے نہیں کر رہے ہیں کہ پہلے اس میں عام لو گو ں کی اموات ہوتی تھی اب چونکہ سول آبادی نہیں ہے اور اسی وجہ سے ہم احتجاج نہیں کر رہے ہیں کیونکہ یہ کام وفاقی حکومت کا ہے حکومت ملک کے اند ر اور انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر ان کے خلاف آواز بلند کر نا چاہئیے۔
    کیونکہ یہ حملے ملک سالمیت کے خلاف ہے۔
    اُردو پوائنٹ: لوگوں کی شکایت ہے کہ گاڑیو ں کی پرمٹ کے اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے۔اس حوالے سے آپکا کیا کہنا ہے؟
    شاہ محمد خان: یہ پروپیگنڈہ ہے ہم نے پنجاب میں ہو نے والے رجسٹریشن کو اپنے صوبے میں شروع کیا۔اس سے پہلے یہ رجسٹریشن پنجاب میں ہواکرتاتھا۔ اور روڈ ہمارے تباہ ہو رہے تھے ہم نے اس کی ضرورت محسوس کی اور ہم نے اپنے صوبے میں شروع کروائی۔
    پنجاب میں ہو نے ہوالے رجسٹریشن میں ہیراپیری اور اب شفاق طریقے سے کیا جا رہا ہے۔اور ان سے حاصل ہو نے والے آمد نی خزانے میں جمع کی جا رہی ہے۔رجسٹریشن فیس وہی ہے جو پہلے تھا۔
    اُردو پوائنٹ:صوبے کے ٹریفک نظام میں اب بھی حامیاں ہے۔کیا کہتے ہو؟
    شاہ محمد خان: جی ہاں! ٹریفک کا نظام اب بھی پیچیدہ ہے جن کے لیے ہم نے موٹروے پولیس کی طرح الگ فورس بھرتی کرنے کے لئے مشاورت شروع کر دی ہے۔
    اور اس کے بعد شہروں کو مرحلہ وار ملکی یا غیر ملکی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے حوالے کرنے کے لیے بھی اقداما ت کر ہے ہیں جس سے ٹریفک کا نظام بہتر ہو جا ئے گا۔
    اُردو پوائنٹ: ملک صاحب آپ چونکہ فنی تعلیم کے وزیر بھی ہے۔ اس حوالے سے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟
    شاہ محمد خان: دیکھے معاشرے میں ہنرمند اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سخت ضرورت ہے۔
    حالیہ حکومت میں اس طر ف کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔اس لئے ہم نے مفت تعلیم کا اعلان کیا۔اور یہ پہلا موقع ہے کہ صوبے کے تاریح میں تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں ریکارڈ داخلے کئے گئے ہیں کیونکہ ہم سمجتھے ہے کہ اگر معاشرہ تعلیمی یافتہ اور ہنرمند ہو تو تمام حالات کا مقابلہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔اور اسی وجہ سے فنی تعلیم کے لئے پور ے صوبے میں ہنگامی اقدامات کئے گئے ہیں۔

    اُردوپوائنٹ: آپ نے چونکہ قوم سے وعدہ کیا تھا کہ مستقبل میں فاٹا یونیورسٹی بناؤ گا۔اس حوالے سے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟
    شاہ محمد خان: ہاں بالکل! میں اب بھی میں اپنے وعدے پر قائم ہوں۔اور بنوں میں فاٹا کے طلباء کے لئے کالج قائم کرچکاہوں۔میں صدر پاکستان اور گورنر کے پی کے سے مطالبہ کر تا ہوں کہ وہ فاٹا کے نوجوان نسل کو بچانے کے لئے میرے مشن میں میرا ساتھ دیں اور کالج کو فاٹا یونیورسٹی میں اپ گریڈ کریں تاکہ فاٹا کے نوجوان بھی اعلی تعلیمی یافتہ ہو کر ملک کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

    بہت بہت شکریہ ملک صاحب : اُردوپوائنٹ کے زریعے قوم کو کوئی پیغام؟
    شاہ محمد خان: جی ضرور۔میرے نوجوانوں بزرگوں ماؤں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ نیا پاکستان کے لئے ہمارے ہم قدم بنیں ۔کیونکہ یہ ملک چند خاندانوں کے ہاتھوں یرغمال ہو چکا ہے۔ اور ان سے چھڑوانہ اب صرف عمران خان کی نہیں بلکہ پورے قوم کی ذمہ داری ہے۔نوجوانوں سے خصوصی گزارش ہے کہ وہ ملک وقوم کی ترقی کے لئے دن رات ایک کرکے خوب محنت کریں اور ایک تعلیم یا فتہ معاشرہ تشکیل دیں۔اور جہاں بھی کوئی کوتاہی نظر آئے تو ان کو پی ٹی آئی شکایت سیل کو اگاہ کریں۔
    تاریخ اشاعت: 2014-11-29
    فیس بک میسینجر پر شئیر کریں

    (3) ووٹ وصول ہوئے

    مصنف کا نام     :     رحمت اللہ شباب

    رحمت اللہ شباب پشاور میں اُردو پوائنٹ کے نمائندہ خصوصی ہیں۔

    رحمت اللہ شباب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

    : متعلقہ عنوان

    پچھلا کالم
    داعش کیا ہے؟
    اگلا کالم
    ابھی تو زندگی شرو ع ہوئی ہے!!