تازہ ترین : 1
Yemen Main Fouj Kashi Masla Ka Haal Nahi

یمن میں فوج کشی مسئلہ کا حل نہیں

یمن کے تاریخی احوال میں جائے بغیر تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فوجوں کی مدد سے حوثی باغیوں نے ملک کے دارلحکومت صنعاء اور شمال کے دیگر بڑے شہروں پر قبضہ کرنے کے بعد جنوبی یمن کے تاریخی شہر عدن کی جانب بڑھ رہے ہیں

ایشیاء دنیا کا وہ براعظم ہے جہاں مقامی خطوں کو بحران در بحران کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس یورپ ، امریکہ سے لے کر اسٹریلیاء اور نیوزی لینڈ تک سب ہی ملک مزے میں ہیں۔مغربی ملکوں نے دو عظیم جنگوں میں کروڑوں جانیں گنوا کر باہمی تنازعات کو پر امن انداز میں حل کرنے کا سبق سیکھ لیا ہے۔ ایشیائی ملکوں ے بھی کم جانیں نہیں گنوائیں لیکن کوئی سق نہیں سیکھا۔
اس بار آتش فشاں کے دھانے پر بیٹھے مشرق وسطیٰ میں ہی یمن کا بحران درپیش ہے جہاں برسوں سے سیاسی نا آسودگی، امریکہ و ایران کی مداخلت اور پڑوسی عرب ملکوں کی نااہلی جیسے عوامل نے اس تاریخی ملک کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیا ہے۔اس خانہ جنگی کے چار مقامی فریق ہیں جن میں شمال کے کوہستانی علاقہ سے تعلق رکھنے والے زیدی شیعہ، حوثی قبائل کا کلیدی کردار ہے جب کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح اور ان کی وفادار فوج،دوسرا فریق، موجودہ صدر ہادی منصور اور ان کی حامی فوج تیسرا فریق اور مقامی سنی قبائل چوتھا فریق ہیں۔
بیرونی عوامل میں القاعدہ کی یمن شاخ، برسوں سے یہاں کارفرما ہے۔ داعش نے حال ہی میں یہاں قدم جمانے کی کوشش کی ہے جب کہ امریکہ دو دھایئوں سے یمن میں مصروف عمل ہے اور لگ بھگ ایک دھائی سے ایران حوثی قبیلے کی مدد سے یمن اپنا حلقہ اثر قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ یوں یمن میں ایک ایسا اکھاڑہ بن گیاہے جہاں بیک وقت کئی پہلوان باہم لڑ رہے ہیں۔

ملکہ سباء کے ملک یمن کے تاریخی احوال میں جائے بغیر تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فوجوں کی مدد سے حوثی باغیوں نے ملک کے دارلحکومت صنعاء اور شمال کے دیگر بڑے شہروں پر قبضہ کرنے کے بعد جنوبی یمن کے تاریخی شہر عدن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ عدن کو بچانے ، صنعاء اور دیگر شہروں کا قبضہ چھڑوانے اور باغیوں کو ان کے آبائی علاقوں میں واپس دھکیلنے کے مشکل مشن کا بیڑا اٹھائے سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی فضائیہ یمن میں بھرپر فضائی آپریشن کر رہی ہے۔
سعودی عرب نے اب تک کے جنگی اھداف حاصل کر لئے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں اس نے باغیوں کی فضائیہ کو جسے ایران کی مدد حاصل تھی،تباہ کر دیا۔فضائی مزاحمت کے امکان ختم کر دئے اور یمن کی فضاؤں میں مکمل کنٹرول حاصل کرتے ہوئے نو فلائی زون قائم کر دیا۔ اب اگلا مرحلہ باغیوں کی رسد اور اسلحہ و بارود کے ذخائر اور فوجی فارمیشنوں کو تباہ کرنا اور ان کی پیشقدمی کو روکنا ہے۔
وقت بتائے گا کہ عرب اتحاد اس مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوا ہے لیکن حوثیوں کی پٹائی ہوتے دیکھ کر سابق صدر علی عبداللہ صالح نے ان سے قطع تعلق کرنے اور عرب اتحاد کے ساتھ تعاون کی پیشکش کی ہے۔اصول جنگ کے تحت محض فضائی کارروائی سے کسی فوج اور بطور خاص چھاپہ مار دستوں کی لڑاکا استعداد مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکتی۔ یمن میں زمینی جنگی کارروائی ناگزیر ہے۔
باور کیا جاتا ہے فضائی آپریشن کے نتیجہ میں یمن کے قانی صدر ہادی منصور کی وفادار فوجوں کو دوباہ منظم ہونے کا موقع مل گیا ہے۔ یمن کی فوجی اور ان کے ساتھ دوسری لائن میں سعودی عرب اور مصر کے فوجی دستے زمینی جنگ میں حصہ لیں گے لیکن اس سے پہلے متحارب فریقوں میں امن فارمولہ کیلئے بات چیت شروع ہو جائے تو فریقین بڑے جانی نقصان سے بچ سکتے ہیں۔
اس ضمن میں دو اہم اشارے ملے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ یمن کے معاملہ پر سعودی عرب سے بات کرنے کیلئے تیار ہے جب کہ سعودی فرمانروا شاہ سلیمان نے یمن کی سیاسی قیادت کے ساتھ ملاقات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
یمن بحران میں پاکستان کے کردار پر ملک کے اندر اور عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ کویت پر عراق کی چڑھائی کے دوران پاکستان نے جب ایک ڈویڑن فوج سعودی عرب بھیجی تھی اس وقت تو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی لیکن اب حالات بدلے ہوئے ہیں۔
طاقتور میڈیا ہر اقدام کو جانچتا ہے۔ جب سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی مدد کی درخواست کی تو ملک کے اندر اس معاملہ پر ایک قومی بحث شروع ہو گئی جو اب بھی جاری ہے۔ حکومت اور جی ایچ کیو دونوں رائے عامہ کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں جب کہ پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد سعودی ضروریات کا جائزہ لینے کیلئے ریاض میں موجود ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی زوردار بحث چل رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کی فوجی مدد کرنی چاہیے یا نہیں۔ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کے عزم سے علم ہوتا ہے کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاع و سلامتی کے ضمن میں کوئی معاہدہ تو موجود ہے جس کی تفصیلات کبھی عام نہیں کی گئیں۔ بعض سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے یمن میں کارروائی کیلئے فوج بھجوانے کا نہیں کہا۔
اگر سعودی عرب کی سرحدوں یا ملک کے اندر بعض مقامات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو ماضی کی طرح پاکستان اپنے مخصوص فوجی دستے سعودی عرب بھجوا سکتا ہے۔ سعودی عرب میں پاکستان کی فوجی قوت ہمیشہ موجود رہی۔ ان میں فوجی دستے اور فوجی مشیر دونوں ہی شامل ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ اگر سعودی عرب کی مدد کی گئی تو سعودی سرحدوں کی حفاظت یا ملک کے اندر ہی تعیناتی کیلئے ہو گی۔ہاں یہ ضرور ہے کہ پاکستانی فوجی مشیر سعودی بری فوج، فضائیہ اور بحریہ کو ملٹری آپریشن کیلئے مشورے دے سکتے ہیں کیونکہ فاٹا جیسے دشوار گزار علاقوں میں پاکستان کی بری فوج اور فضائیہ کی مشترکہ کارروائیوں نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور یہ قابل قدر تجربہ یمنی باغیوں کو کچلنے میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
وقت اشاعت : 2015-04-04

(2) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں