تازہ ترین : 1
Yemen Fouj Ka 5 Soboon Per Qabza

یمن فوج کا پانچ صوبوں پر قبضہ

زنجبار سے حوثی باغیوں کو باہر نکال دیاگیا۔۔۔۔۔ یمنی فوک کا بڑے فوجی اڈے پر دوبارہ قبضے کا دعویٰ

فضل رحیم شہزاد:
عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ باغیوں کو محفوظ راستہ دینے کے معاہدے کے بعد شبوا صوبے سے پسپا ہوگئے اور صوبے کا کنٹرول حکومتی فوج کے پاس ہے۔اطلاعات کے مطابق یمن میں جلاوطن حکومت کی حامی فوج نے ملک کے جنوب میں ایک اور صوبے پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد سعودی اتحاد کی بمباری کی مدد سے ان کا کنٹرول کل پانچ صوبوں پر ہوگیا ہے ۔
دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جلاوطن حکومے کی حمایتی سکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز ایک اور صوبے پر قبضہ کر لیا ہے۔یمنی صدر منصوبر بادی کی حمایتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پیش قدمی میں خلیجی ممالک کی جانب سے دیے جانے والے اسلحے اور فوجیوں کا اہم کردار ہے ۔اسکے علاوہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی جانب سے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔
اے ایف بی کو عسکری ذرائع نے بتایا کہ باغیوں کو محفوظ راستہ دینے کے معاہدے کے بعد وہ شبوہ صوبے سے پسا ہوگئے اور صوبے کا کنٹرول حکومتی فوج کے پاس ہے دیگر حکام نے بھی شبوہ صوبے کا کنٹرول حکومتی فورسز کے پاس آنے کی تصدیق کی ہے۔ شبوہ میں ایک سیاسی کارکن سلیم العولاقی کا کہنا ہے کہ باغیوں نے صوبے کا کنٹرول جنوبی مودمنٹ کے حوالے کی اس سے قبل عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ شبوہ کے گورنر باغیوں کے حامی تھے ہفتے کے آغاز میں شبوہ سے اس وقت فرار ہوئے جب فوجیں صوبے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہی تھیں ۔
عسکری ذرائع نے باغیوں پر سرکاری عمارتوں میں بارودی سر نگیں لگانے کا الزام عائد کی اور کہا کہ انھوں نے دیگر صوبوں میں بھی پسپائی سے قبل بارودی سر نگیں بچھائی تھیں ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی علاقوں میں حکومتی فوج کی پیش قدمی کی بڑی وجہ باغیوں کی جانب سے پسپائی کرکے تعزمیں جمع ہونا ہے یاد رہے کہ جولائی کے وسط میں فوجوں نے عدن پر قبضہ کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی پیش قسمی صنعا کے جنوب مغرب میں ملک کے تیسرے بڑے شہر تعز کی جانب ہے یہ شہر دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کا اہم راستہ ہے جس پر گزشتہ ستمبر میں باغیوں نے قبضہ کرلیا تھا واضح رہے کہ حوثیوں نے صنعا پر قبضہ کرنے کے بعد عدن کی جانب پیش قدمی شروع کی جس پر سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا۔
تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ ملک کے جنوبی علاقوں میں حکومتی فوج کی پیش قدمی کی بڑی وجہ باغیوں کی جانب سے پسپائی کرکے تعز میں جمع ہونا ہے ۔
اے ایف بی کے مطابق عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد نے حکومتی فوج کو باغیوں سے لڑنے کے لئے جدید ہتھیار بشمول ٹینک اور بکتر بند گاڑیوں کے علاوہ سعودی عرب میں تربیت یافتہ یمنی فوجی دیئے۔یمن میں جاری مسلح تصادم میں اب تک چھ متحدد عرب امارات کے فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
یمن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حکومتی افواج نے سعودی اتحاد کی فضائی بمباری کی مدد سے حوثی باغیوں کے زیر تسلط زنجبار شہر پر دوبارہ قبضہ کرلیا ہے ۔خیال رہے کہ یمن کے جنوبی صوبے ابیان کے دارالحکومت زنجبار میں حالیہ دونوں کے دوران حکومتی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری تھی اس شہر کا سقوط حوثی باغیوں کے لئے ایک اور بڑا دھچکہ ہے کیونکہ انہیں حالیہ دنوں کئی محاذوں پر شکست کا سامنا رہاہے۔
حوثی باغیوں کو عدن کے ہاتھ سے جانے کے بعد اس ہفتے ایک اہم ہوائی اڈے سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔اطلاعات کے مطابق حکومتی افواج عدن کے مشرق میں50کلومیٹر دور واقع شہر زنجبار میں داخل ہوگئی ہیں۔عدن کے محکمہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس ہفتہ کے اختتام میں ہونے والی لڑائی میں کم سے کم 19افراد ہلاک اور150 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں جاری مہم کے دوران سنیچر کو ان کے تین فوجی ہلاک ہوگئے ۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری ایجنسی ڈبلیواے ایم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فوجی کیسے ہلاک ہوئے؟ خیال رہے کہ حوثی باغیوں نے مارچ میں جنوب کی جانب پیش قدمی کی تھی جس سے صدر منصوبادی کو سعودی عرب بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔سنی ملک سعودی عرب کا خیال ہے کہ اس کا شیعہ حریف ایران حوثی باغیوں کی مدد کررہا ہء ان کا کہنا ہے کہ ایران نے حوثیوں کو مسلح کیا ہے لیکن ایران اور حوثی دونوں ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
یمن کے مطابق صدر علی عبداللہ صالح کی فورسز کی حمایت والے حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ مسٹرہادی کی حکومت کی بدعنوانی اور ان کے شمالی گڑھ کو حاشیے پر لانے کے خلاف لڑرہے ہیں ۔اقوام متحدہ کے مطابق اس جنگ میں مارچ سے ابھی تک چارہزار ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے نصف تعداد عام شہریوں کی ہے۔ العند نامی فوجی اڈاامریکی فوج کے زیر استعمال تھا جہاں سے القاعدہ پرڈرون حملوں کی نگرانی کی جاتی تھی یمن میں حکومت کی حامی افواج نے باغیوں سے اپنے سب سے بڑے ہوائی اڈے کا قبضہ واپس لینے کا دعویٰ کیا ہے ، یہ بات حکومت کی اتحادی فوج کے ترجمان نے بی بی سی سے گفتگو میں بتائی ہے۔
عدن شہر کے شمال میں واقع العند نامی فوجی اڈے پرحالیہ دنوں میں شدید لڑائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔یمنی فوج کو اس جنگ میں سرحد پارسے سعودی فضائیہ کی مدد حاصل رہی جس کے نتیجے میں جولائی میں حوثی باغیوں سے عدن شہر کنٹرول واپس لینا ممکن ہوا، یہ بھی معلوم ہواہے کہاالعند نامی فوجی اڈاامریکی فوج کے زیر استعمال تھا جہاں سے القاعدہ پر ڈرون حملوں کی نگرانی کی جاتی تھی،رواں سال مارچ میں جب حوثی باغیوں نے پیش قدمی کی تو اس دوران اس فوجی اڈے پر بھی انھوں نے قبضہ کرلیا تھا ،اس وقت ملک کے صدر منصور ہاوی کو بھی وہاں سے فرارہونا پڑاتھا۔
سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ ایران حوثی باغیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے حکومت کی اتحادی فوج کے ترجمان نصرالقائدے نے بی بی سی کو بتایا کہ العندکافوجی اڈااب صدر ہادی کے فوجیوں کے کنٹرول میں ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت کی حامی فوجیں اب بھی اس فوجی اڈے کے اردگرد چار کلومیٹڑ تک علاقے میں موجود باغیوں کے ساتھ لڑرہی ہیں ، تاہم دوسری جانب باغیوں نے فوجی اڈے کو یمنی فوج کے قبضے میں واپس لیے جانے کی اطلاع پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
اگراس پیش رفت کی تصدیق ہوجاتی ہے تو اس سے ملک کے تیسرے بڑے شہر تعزتک زمینی رسائی حاصل کرنے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہوجائے گی۔یمن میں حکومت کی حامی فوج کو سعودی اتحاد کی جانب سے فضائی حصار مہیا کیا جارہا ہے، اب کہ یمن میں حکومت سے لڑنے والے شیعہ حوثی باغیوں کو ایران کی مدد ہے ،تاہم ایران اور حوثی باغی اس کی نفی کر رہے ہیں ۔باغیوں کو سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حامی فوج کی مدد حاصل ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ بدعنوانی کے خلاف اور شمال میں ان کی قوت کے مرکز کو صدر ہادی کی حکومت کی جانب سے غیر اہم بنائے جانے کے اقدامات کے خلاف لڑرہے ہیں ، یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ ایران کی حکومت اس بغاوت کی ابتداء سے ہی حوثیوں کی مدد کرتی رہی ہے اور انہیں اسلحے سے بھی پوشیدہ طور پر سپورٹ کرتی رہی ہے۔
مگر سعودی عرب کے واویلا کرنے اور ائراٹیکس سے زمینی حقائق کے مدنظر ایران کو یہ مدد روکنا پڑی اور ڈائرکٹ طور پر سعودی عرب اور ایران کے ایک دوسرے کے مقابلے میں آنے سے یہ خطہ محفوظ ہوگیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ جلدی ہی یمنی فوج سعودی افواج کے ایئرٹیکس کے زیر سایہ حوثی بغاوت کا مکمل طور پر قلع قمع کرنے میں کامیاب ہوجائیگی اور یمن میں امن اور تعمیر نوکاکام جلداز شروع ہوجائے گا ۔ (انشااللہ )
وقت اشاعت : 2015-09-01

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں