بند کریں
پیر مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
متحدہ عرب امارات میں لیبر اصلاحات
غیر ملکی مزدوروں کے حقوق کی جانب پہلا قدم۔۔۔۔ متحدہ عرب امارات کو دیگر تیل پیدا کرنے والے ہمسایہ خلیجی ممالک کی طرح کم تنخواہ پانے والے مزدوروں کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے نئے لیبر قوانین متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دیگر ممالک سے آنے والے عارضی تارکین وطن اور انہیں ملازمت فراہم کرنیوالے مقامی اداروں کے درمیان کام کے حوالے سے طے پانیوالے معاہدات کی نگرانی کے نظام کو موٴثر بنایا جاسکے۔
متحدہ عرب امارات کو دیگر تیل پیدا کرنے والے ہمسایہ خلیجی ممالک کی طرح کم تنخواہ پانے والے مزدوروں کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ ان ممالک کی تعمیرو ترقی میں اپنا خون پسینہ ایک کرنے والے غیر ملکی ہنر مندوں اور مزدوروں کو ان کی محنت کا جائز صلہ نہیں ملتا ۔
اس حوالے سے متحدہ عرب امارات اور اس کے ہمسایہ عرب ممالک میں یہ قانون رائج ہے کہ بیرون ملک سے یہاں محنت مزدوری کے لیے آنے والوں کو اپنی آجر کمپنی کے ساتھ کڑی شرائط پر کام کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔اگر تارکین وطن کو ان کے کام کا معاوضہ پورا ادا نہیں کیا جاتا تو اس کے باوجود غیر ملکی ملازمین کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اس ملازمت کو خیر باد کہہ کر کسی دوسری جگہ ملازمت اختیار کرلیں کیونکہ ازردئے قانون وہ اسی کمپنی یا فرد کے ہاں ملازمت پر مجبور ہوتے ہیں جس نے انہیں سپانسر کیا ہوتا ہے۔

لیبر قوانین میں اصلاحات کے ذریعے آجراور اجیر کے درمیان کام کے حوالے سے طے پانے والے معاہدات کو شفاف بنایا جائے گا اس کہ علاوہ آجر اور اجیر کے درمیان کسی معاہدے کے قبل ازوقت خاتمے اور غیر ملکی ملازمین کو کسی بھی دوسری جگہ ملازمت حاصل کرنے کا حق دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ملازمت فراہم کرنے والی کمپنی یا فرد کاغیر ملکی ملازمین کے ساتھ طے پانے والے معاہدات مروجہ ریاستی قوانین کے تابع ہوں۔

نئی پالیسی کے تحت غیر ملکی ملازمین کے ساتھ مقامی کمپنیوں یا افراد کو ایک بنیادی معاہدہ کرنا ہو گا جو ان کے وطن چھوڑنے سے قبل ہی طے پائے گا اور اس کے بعد یہ معاہدہ متعلقہ ملک یا عرب امارات کی لیبر منسٹری میں جمع کروایا جاے گا جو اس کا جائزہ لینے کے بعد حتمی منظوری دے گی جس کے بعد متعلقہ غیر ملکی شخص کو ورک پرمٹ جاری کر دیا جائے گا۔
یہ معاہد غیر ملکی ملازم کے متحدہ عرب امارات میں داخلے کے ساتھ ہی نافذ العمل سمجھاجائے گا اور اس میں کوئی بھی فریق اپنی مرضی سے ترمیم واضافہ نہیں کر سکے گا آجر اور اجیر کے درمیان دے پانے والے معاہدے کو دونوں میں سے کوئی بھی فریق ختم کر سکے گا اور اس صورت میں غیر ملکی مزدور یا ہنرمند کسی بھی دوسری جگہ ملازمت کے حصول کا اہل ہو گا۔
متحدہ عرب امارات کو عرب دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔
یہاں غیر ملکی مزدوروں اور ہنر مندوں کی مجموعی تعداد 4.5 ملین ہے اوران میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوبی ایشائی ممالک سے ہے۔
متحدہ عرب امارات کی لیبر منسٹری کی جانب سے 500 لیبر انسپکٹرز تعینات کئے گئے ہیں اور ملک میں لیبر یونین قائم کرنے کی اجازت نہیں۔ رواں برس اپریل کے مہینے میں ملک کے شمالی حصے میں زیر تعمیر ایک عمارت پر کام کرنے والے ایشیائی مزدوروں کے اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت کے بعد پرزور احتجاج کرتے ہوئے درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-10

(1) ووٹ وصول ہوئے