تازہ ترین : 1
Turkey Ko Nazar Lag Gayi

ترکی کو بھی نظر لگ گئی۔۔۔!

ہم کمزور مسلمان جب سب کچھ کرنے کی حیثیت میں نہیں رہتے تو حقائق سے چشم پوشی کے لئے سارا ملبہ ”نظر“ پر ڈال کر خود کو جھوٹی تسلیاں دے لیتے ہیں۔ ترک قوم کا ”نظر بد“ پر بڑا اعتقاد ہے۔ ترکی کے قریباً ہر گھر، گاڑی، دفتر اور عمارت میں نظرِ بد سے بچنے کے لئے پتھر کی نیلے رنگ کی آنکھ لٹکی ہوئی ملے گی

طیبہ ضیاء چیمہ:
ہم کمزور مسلمان جب سب کچھ کرنے کی حیثیت میں نہیں رہتے تو حقائق سے چشم پوشی کے لئے سارا ملبہ ”نظر“ پر ڈال کر خود کو جھوٹی تسلیاں دے لیتے ہیں۔ ترک قوم کا ”نظر بد“ پر بڑا اعتقاد ہے۔ ترکی کے قریباً ہر گھر، گاڑی، دفتر اور عمارت میں نظرِ بد سے بچنے کے لئے پتھر کی نیلے رنگ کی آنکھ لٹکی ہوئی ملے گی۔

یہ آنکھ ترکی کی ثقافت کی علامت بن چکی ہے۔ ترکی میں پے در پے خودکش حملوں سے اس قدر دْکھ پہنچ رہا ہے کہ سوائے اس جملے کہ ترکی کو بھی نظر لگ گئی ہے، ضمیر کو بہلانے کے لئے کوئی متبادل جملہ نہیں ملا۔ نظر سے ضمیر کوسلانے کی کوشش کر تے ہیں کہ ضمیر جاگتا ہے تو آنکھیں بھی جاگتی ہیں۔ ان مسلمانوں کا کیا بنے گا؟ مسلم ممالک جب تک کلمہ توحید کے پرچم تلے متحد نہیں ہوں گے، انہیں نظر لگتی رہے گی اور یہ نظر کوئی اور نہیں خود مسلمان ایک دوسرے کو لگا رہے ہیں ۔
حسد کی نظر، عداوت کی نظر، سازش و بغاوت کی نظر، ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہو چکے ہیں اور جواز مذہب اور مسلک کو بنا رکھا ہے تاکہ احمقوں کو برین واش کرنا آسان ہو جائے۔ کبھی جہاد کے نام سے کبھی توحید کے نام سے ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں حالانکہ نہ جہاد ہے نہ توحید، سب اقتدار اور تیل کی لڑائی ہے۔ ایک خاتون نے کہا ”ترکی مغرب زدہ ملک ہے، کلمہ ابھی ان کے حلق سے نیچے نہیں اْترا۔
“ ہم بے ساختہ بول اٹھے ”تو آپ کے حلق سے اْتر چکا ہے؟“ سکھ، ہندوؤں کی نسلوں کو برصغیر کے اولیاء کرام کو کلمہ پڑھائے صدیاں بیت گئی ہیں لیکن مجال ہے کہ کلمہ ابھی تک حلق سے نیچے اترا ہو۔ ترکی کے لوگ مغرب زد ہ ہیں تو اس ملک میں مومنوں کی تعداد بھی کم نہیں۔ دنیا کے بہترین مسلمان ترکی میں آباد ہیں اور مسلم دنیا کی بے مثال تاریخ کا امین ترکی ہے البتہ بعد میں آنے والوں نے عالی شان تاریخ کو اونے پونے میں بیچ ڈالا جس طرح دور حاضر کے علماء سو اپنا ضمیر، ایمان و آخرت شہرت اور مال کے عوض بیچ چکے ہیں اور اب صرف پیشہ ور مفتی اور عاشق دکھائی دیتے ہیں۔
کوئی ان کے خلاف آواز اٹھانا تو درکنار انہیں اعلانیہ فاسق کہنے کی جرات نہیں رکھتا۔ سب سے زیادہ عیاشی کی زندگی الا ماشاء اللہ مذہبی پیشواء و عالم گزار رہے ہیں۔ دنیا بھر کے عبادت خانوں اور مذہبی درسگاہوں کو چلانے والوں کا تعلق خواہ کسی مذہب سے ہو عورت اور پیسہ بٹورنے میں مشغول ہیں۔ کوئی ان کے خلاف آواز اٹھانے کی جسارت کر لے تو یہ کلٹ اور مافیاز ہیں کہ اپنوں کو اپنوں کے ہاتھوں برباد کروا دیتے ہیں۔
دور حاضر کے دین فروش ہی عذاب الٰہی نہیں بلکہ خودکش دھماکے بھی عذاب کی علامت ہیں۔ مسلم حکمران بے گناہوں پر ظلم کر رہے ہیں تو ردعمل میں زلزلے، طوفان اور خودکش دھماکے ہو رہے ہیں۔ ترکی داعش سے تیل کے تعلقات رکھتا ہے اور دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری بھی داعش پر ڈال رہاہے؟ استنبول کے معروف سیاحتی علاقہ سلطان ا حمد سکوائر پر دھماکہ اور پندرہ لوگوں کی اموات انتہائی افسوسناک اور تشویشناک خبر ہے۔
مرنے والے غیر ملکی سیاح تھے۔ استنبول سیاحوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ سلطان احمد سکوائر پر اٹکھیلیاں لیتے کبوتر بہت یاد آتے ہیں، کبوتروں کے جھرمٹ میں ترک بْڑھیا بیٹھی دانے بیچتی ہے، اس کے چہرے سے ممتا ٹپکتی ہے، اکثر یاد آتی ہے اور دل کرتا ہے پھر اس کے پاس جا کر بیٹھ جاؤں اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اس کی آنکھوں میں پوشیدہ غم کو سمیٹ سکوں لیکن ترکی کے لوگ انگریزی نہیں جانتے اور ہمیں ترک زبان نہیں آتی۔
بے حد پیار کرنے والے مہربان لوگ ہیں لیکن خلافت عثمانیہ کے بعد ان کا بھی وہی حال ہوا جو برصغیر میں مغلیہ دور کے بعد بہادر شاہ ظفر اور اس کے بعد کے لوگوں کا ہوا۔ سلطنت عثمانیہ کو ایران کے علاوہ تمام دنیائے اسلام نے قبول کیا حتیٰ کہ مغل شہنشاہوں نے بھی سلطنت عثمانیہ کی خلافت کو تسلیم کیا۔ ایران کی اپنی بادشاہت تھی، شان و شوکت تھی، بے مثال تاریخ تھی، نہ ایرانی بادشاہت نے ترک سلطنت کو تسلیم کیا اور نہ ترک سلطنت نے ایرانی پاور کو تسلیم کیا۔
ترک صدر طیب اردگان کو دہشت گرد حملوں سے داعش کا پیغام سمجھ جانا چاہئے۔ ترکی بحیثیت مسلم مملکت جانبدارانہ رویہ اختیار کرے اور اندرون ملک بڑھتی ہوئی رفاعی و فلاحی طاقت ”حزمت تحریک“ کی دشمنی سے باز آئے۔ داخلی صورتحال مضبوط ہو گی تو خارجی ایشوز پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔ ایک طرف کچھ مسلم ممالک کی ناراضگی اور دوسری طرف اندرون ملک عوام کا رد عمل ترکی کو کمزور کرنے کا باعث بن رہا ہے۔
دہشت گردی کے پس پْشت سیاسی مقاصد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ فقط مذہبی درسگاہوں کو ہدف بنانا حقائق سے روگردانی ہے۔ ترکی میں پاکستان یا عرب ممالک کی طرح مسلکی رنگ غالب نہیں، اکثریت حنفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور تصوف میں مولانا رومی کے پیروکار ہیں۔ امن اور محبت پر یقین رکھتے ہیں۔ ”حزمت تحریک“ کے بانی معروف ترک عالم دین محمد فتح اللہ گولن اپنی تصنیف ”اسلام اور دور حاضر“ میں نوجوان نسل کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”کتنے دکھ کی بات ہے کہ ارباب سلطنت یہ بات نہ اس وقت سمجھ سکے اور نہ ہی اب یہ ان کی سمجھ میں آتی ہے۔
ہمارے سقوط اور شکست کا سبب صرف دینی مدارس ہی نہیں بلکہ اس کے برعکس جب مدارس زوال پذیر ہوئے تو اْمت کو بھی تنزل کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ ہماری تاریخ میں دینی مدارس وہی کردار ادا کرتے ہیں جو کردار آج متوسط اور ثانوی مدارس، جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا ہے۔ خانقاہوں اور مدارس نے دس بارہ صدیوں تک اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیں، انا طولیہ کے کونے کونے میں ہدایت کی روشنی پھیلائی لیکن آج ہم یقین سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ دینی مدارس نے ایک مخصوص دور کے بعد اپنی افادیت کھوئی۔
جو مدارس اور خانقاہیں دینی ریاست کے ساتھ ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکتیں وہ حقیقت میں مدارس اور خانقاہیں کہلانے کی مستحق ہی نہیں ہیں جو دینی ادارے علم کو پس پشت ڈال کر دین اور ریاست سے دشمنی کرنے لگتے ہیں وہ کسی بھی نام سے مو سوم ہوں، ان میں خرابی آتی ہے۔ جب مدارس خود گمراہی کا شکار ہو گئے تو ان پر قائم سلطنت کی عمارت بھی زمین بوس ہو گئی۔
“ ترک عالم دین نے سلطنت کی کامیابی کی بنیاد اس دور کے دینی مدارس اور خانقاہوں کو قرار دیا اور موجودہ ترکی کی حالت کی ذمہ داری بکاؤ مدارس اور خانقاہوں اور غیر ذمہ دار حکمرانوں پر ڈال دی ہے۔ نہ حکومت انہیں سنوارنا اور سنبھالنا چاہتی ہے اور نہ مذہبی سوچ کا حامل طبقہ حکومت کی سیاسی و مسلکی پالیسی کو سپورٹ کرنا چاہتا ہے۔ کہیں تو جھول ہے جو ترکی بھی دہشت گردی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔
سعودی عرب کے بعد ترکی بھی ایران کے سامنے ڈٹ گیا ہے اور ترک صدر نے مسلکی بیانات بھی داغ دیئے ہیں۔ اگر مسلکی نظریات کو ملکی سطح پر ہَوا دی گئی تو دشمنان اسلام مسلم ممالک میں تیسری جنگ عظیم کی سازش میں مکمل طور پر کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ نظر دشمنوں کی نہیں خود مسلمانوں کی اپنی لگائی ہوئی ہے۔ دھمکیوں اور جنگوں کے نتائج ہمیشہ تباہ کن ثابت ہوئے ہیں اور اس دور میں جنگوں کا فائدہ صرف دہشت گردوں کو ہو گا۔

وقت اشاعت : 2016-01-14

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں