تازہ ترین : 1
Sham main khon ki holi qatal o garat ki nai dastan raqam

شام میں خون کی ہولی قتل و غارت کی نئی داستان رقم

اقوام متحدہ کی عارضی جنگ بندی کی اپیل رائیگاں خونریز تنازع میں سینکڑوں جاں بحق ہزاروں زخمی انفراسٹرکچر تباہ شہری نقل مکانی پر مجبور

محبوب احمد
شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث دہشت گردی قتل و غارت اور سامراجی حملے معمول بن چکے ہیں ریاستی اور سماجی ڈھانچہ منہدم ہونے سے انسانی تہذیب و ثقافت کے ابتدائی مراکز کا حامل اور قدرتی دولت سے مالا مال یہ خطہ سامراجی لوٹ مار کی ہوس کے ہاتھوں تاراج ہوتا جارہا ہے ملت اسلامیہ کے اہم مقامات اور تاریخی آثارات کو شدید خطرات لاحق ہونے سے مشرق و وسطیٰ میں قیام امن کے لیے خانیوالی کوششیں داﺅ پر لگی ہوئی ہیں خانہ جنگی کی بھڑکتی آگ نے جہاں ملک کے انفراسٹرکچر کو تباہ کیا ہے وہیں لاکھوں افراد اس آگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں خونریز تنازع کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 3 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جن میںسے زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے ایک اندازے کے مطابق 2011 سے لے کر اکتوبر2013 تک 12 ہزار سے زائد بچے ہلاک ہوئے ان میں سے سینکڑوں کو دور مار بندوقوں یا اسٹائپر گنز سے مارا گیا سب سے بڑھ کر ستم ظریفی یہ دیکھنے کو ملی کہ 17 برس سے کم عمر بچوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا عالمی عدم توجہی کے باعث شام کے پناہ گزین اب اس قدر مجبور ہوچکے ہیں کہ وہ محفوظ مستقبل کی تلاش میں جان داﺅ پر لگا کر یورپ اور دیگر ممالک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں شامی شہر غوطہ میں تباہی و بربادی کی نئی داستان رقم کی جارہی ہے شامی فورسز کی بمباری نے عمارتوں اور ہسپتالوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے کھانے پینے اور ادویات کی قلت سے شہری نقل مکانی پر مجبور ہیں اقوام متحدہ کی عارضی جنگ بندی کی اپیل کے باوجود شام میں فریقین کے درمیان سیز فائر معاہدہ طے نہ ہوسکا یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں سے جاری بمباری میں جاں بحق افراد کی تعداد 5 سو کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے جن میں سے زیادہ تعداد معصوم بچوں کی ہے جبکہ ہزاروں زخمی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں خون میں نہائے پھول سے بچے عالمی برادری سے اپنا قصور پوچھ رہے ہیں لیکن انسانی حقوق کے چیمپئنز کے پاس اس کا کوئی جواب موجود نہیں لوگ اپنے پیاروں سے بچھڑنے کے غم میں نڈھال ہیں کویت اور سویڈن کی درخواست پر سلامتی کونسل میں شام کے مشرقی الغوطہ میں جاری وحشیانہ بمباری روکنے اور فریقین میں جنگ بندی کے لئے ایک قراداد پر رائے شماری بھی کی جارہی ہے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کے مسورے میں شام میں 30 دن کی جنگ بندی متاثرین تک خوراک اور ادویات کی فراہمی اور زخمیوں کو وہاں سے ہسپتالوں میں لائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے یہاں یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آ یا ویٹو کے اختیارات رکھنے والا روس اس قرارداد کو منظور ہونے دے گا یا اسے ویٹو کردیا جائے گا قرارداد کی منظوری کے لیے سلامتی کونسل کے کم سے کم9 ارکان کی حمایت ضروری ہے بشرطیکہ ویٹو پاور رکھنے والے ممالک روس چین امریکہ برطانیہ اور فرانس میں سے کوئی ایک ملک اسے ویٹو نہ کرے شام میں جاری خانہ جنگی میں اہم عالمی طاقتوں میں سے جہاں کچھ صدر بشار الاسد کی حمایت کررہی ہے تو وہیں بعض شامی حکومت کے خلاف محاذ آرائی کرنیوالے جنگجو کروہوں کو امداد فراہم کررہی ہیں امریکی صدر بشارالاسد پر شام میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتا ہے اوراس کا کہنا ہے کہ شام کے مسئلے کے حل کے لیے صدر اسد کی حکومت کا خاتمہ ضروری ہے روس کی یہ کوشش بھی ہے کہ اس مسئلے کا سیاسی حل نکالا جائے اگرچہ امریکہ کا بھی یہ موقف ہے کہ شامی بحران کا سیاسی حل ہی نکل سکتا ہے لیکن بحران کے آغاز سے ہی امریکہ باغیوں کو فوجی امداد فراہم کررہا ہے دوسری طرف شام میں امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دولت اسلامیہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف فضائی کاروائی بھی کررہا ہے۔

یاد رہے کہ 2013 میں اسی علاقے میں کیمیاوی حملے سے شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے شام میں بمباری کے باعث بچوں کی مسلسل ہلاکتوں پر کہا تھا کہ کسی لغت میں دو الفاظ نہیں جو اس دکھ کا اظہار کرنے کی طاقت رکھتے ہوں اس لئے احتجاجاً خالی اعلامیہ جاری کرتے ہیں اب کی بار پھر شام میں معصوم بچوں کی ہلاکتوں پر خالی اعلامیہ جاری کیا جارہا ہے کیونکہ کسی لغت میں دو الفاظ موجود نہیں جو ایسے سانحات اور مظالم کو بیان کرنے کی صلاحیت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں جنگ کے دوران بچوں کی ہلاکتیں ہمارے مستقبل کا قتل ہیں جس سے دنیا آنے والے نسلوں کے بہترین ذہنوں سے محروم ہورہی ہے،ان معصوم جانوں کے ضیاع پر والدین کو تسلی دینے اور انصاف کے حصول کی یقین دہانی کے لئے الفاظ نہیں مل رہے دیکھا جائے تو جنگ کے دوران سب سے زیادہ نقصان بچوں کی ہلاکتوں کی صورت میں سامنے آیا ہے اور اس کے لئے کوئی ایسے الفاظ نہیں مل رہے ہیں جو ان کرب ناک سانحات کا احاطہ کرسکتے ہوں شام میں جاری خون آشام جنگ میں بچوں کی ہلاکتوں اور چند زخمی بچوں کے دل دہلانے والی تصاویر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے مشرقی وسطیٰ کی صورت حال موجودہ سطح تک لانے میں بعض عرب ممالک کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن یہاں اور بھی کئی قوتیں ایسی ہیں جن کی نظرین قدرتی وسائل سے مالا مال اس خطے پر جمی ہوئی ہیں اگر اس جنگ کا فوری حل نہیں نکالا گیا تو اس کے بدترین اثرات سے خطے کا کوئی ملک بھی محفوظ نہیں رہے گا اقوام متحدہ پر اب بہت بھاری ذمہ دار ہے کہ وہ خاموش تماشائی کا کردار اد اکرنے کے بجائے ایسے موثر اقدامات کرے کہ جس سے امن کا قیام یقینی ہوسکے عراق کے بعد شام ہی وہ ملک ہے جہاں تاریخ اسلام کے آثار سب سے زیادہ ہیں جن میں کئی پیغمبروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور مشاہیرہ اسلام کے مزارات ہیں لہٰذا اسلامی برادری کو بھی چاہئے کہ وہ شام کی سیاسی صورتحال پر محض تماشائی بننے کی بجائے اپنا متفقہ نقطہ نظر واضح کرکے قیام امن کے لئے مشترکہ جدوجہد کرے۔

وقت اشاعت : 2018-03-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں