تازہ ترین : 1
Shah Salman Kay Ohad e Iqtadar Ka Pehla Bars

شاہ سلمان کے عہد اقتدار کاپہلا برس

سعودی عرب قائدانہ کردارحاصل کرچکا ہے

نعیم مرزا:
سعودی عرب کے حکمران‘ خادم الحرمین الشریفین اپنے اقتدار کاایک برس مکمل کرچکے ہیں اور ان کااولین برس بہت سے نشیب وفراز سے عبادت ہے۔ 79سالہ شاہ سلمان نے زمااقتدارسنبھالنے کے چند گھنٹے بعد ہی اپنے جوں سال فرزند شہزادہ محمد بن سلمان کومملک کاوزیر دفاع مقررکردیاتھا۔ یہ تبدیلی بعدازاں بہت سی دیگر تبدیلیوں کاپیش خیمہ ثابت ہوئی۔
اس ایک برس کے عرصے میں سعودی حکمران نے ایک جار حانہ خارجہ پالیسی اختیارکی۔ انہیں اندرونی طور پر ملک کے معاشی حالات بہت بنانے کاچیلنج درپیش تھا جس کیلئے انہوں نے ملک میں کفایت شعاری کی مہم کاآغاز کیاکیونکہ مملکت کابجٹ خسارہ نئے ریکارڈ قائم کرچکاتھا۔ انہیں ملک میں جہادی گروپوں اور داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کابھی سامنا کرنا پڑااور یہ سلسلہ ہنوزجاری ہے۔
جہاں تک سعودی عرب کی جارحانہ خارجہ پالیسی کاسوال ہے تواس کاثبوت یہ ہے کہ سعودی عرب نے خطے میں مئوثر انداز میں قائدانہ کردارادا کرنے کافیصلہ کیااور اس کی وجہ یہ تھی کہ خطے میں قیادت کاخلاء واضح ہورہاتھا جس کوپُر کرنے کی اشد ضرورت تھی۔ دوسری اہم وجہ امریکہ اورا یران کے درمیان ایٹمی معاہدہ طے پانے کے بعد خطے میں ایران کی پوزیشن مستحکم ہورہی تھی اور اس کے سیاسی اثرورسوخ میں اضافہ ہورہاتھا۔
گزشتہ برس حج کے موقع پربھگدڑمچنے سے 2300سے زائد حجاج کرام شہد ہوگئے تھے ایران نے دعویٰ کیاکہ شہید ہونے والے حجاج کی اکثریت کاتعلق ایران سے تھا۔ ایران نے اس سانحہ پر سعودی عرب کو مورودالزام ٹھہرایا اور اس کی قیادت کوشدید تنقید کانشانہ بنایاتھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات بتدریج تناؤ کاشکارہورہے تھے۔ رواں برس دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی یہ کیفیت عروج پر پہنچ گئی جب سعودی عرب میں ایک شیعہ سکالر، شیخ النمر، کومملکت کے مفادات کی منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔
یہ کلی طور پر سعودی کااندرونی معاملہ تھا اور کسی ملک کو اس پر اعتراض کاحق حاصل نہیں تھا‘ لیکن ایران میں شیخ النمرکی سزائے موت پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیااور وہاں سعودی عرب کے خلاف احتجاج کاسلسلہ شروع ہوگیا۔ انتہائی افسوناک صورتحال یہ رہی کہ ایرانی مظاہرین نے تہران میں سعودی سفارتخانے پر حمہ کردیاجس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع کئے جاچکے ہیں۔
شاہ سلمان کے اقتدار کاایک برس مکمل ہونے کے حوالے سے بات کوآگے بڑھائیں توپتہ چلتاہے کہ برسراقتدار آنے کے ٹھیک 3ماہ بعد خادم الحرمین الشریفین نے مستقبل کی حکمرانی آل سعود کے نوجوانوں کے سپرد کرنے کافیصلہ کیااور 56سالہ محمد بن نائف کواپناولی عہد اور اپنے بیٹھے شہزادہ محمدبن سلمان کو نائب ولی عہد مقررکردیا جبکہ وزارت برائے امورخارجہ کاقلمدان 53سالہ عادل الجبیر کے سپرد کردیا گیا اسی طرح انہوں نے سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کومیونسپل کارپوریشنز کے انتخابات میں حصہ لینے کاحق بھی تفویض کردیا۔
شاہ سلمان کے یہ اقدامات سعودی عوام کی امنگوں‘ جذبات اور سیاسی شعور کے عین مطابق تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان اقدامات کوعوامی سطح پرپذیرائی سے نوازا گیا۔ بین الاقوامی تناظر میں دیکھا جائے توسعودی خواتین کوانتخابات میں حصہ لینے کاحق دیناایک قابل تحسین فیصلہ ہے جس کاگریڈٹ خادم الحرمین الشریفین کوجاتاہے۔ عالمی سطح پر تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سعودی معیشت پر مرتب ہونا شروع ہوچکے ہیں۔
ملک کی سب سے بڑی سرکاری آئل کمپنی Aramco، کے کچھ حصص اب نجی شعبے کوفروخت کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے اور اس عمل کی نگرانی نائب والی عہد سلطنت شہزادہ محمدبن سلمان کررہے ہیں اور یوں انہیں مملکت میں طاقتور ترین اور فیصلہ کن کردار کی حامل شخصیات میں شمار کیاجانے لگاہے۔ بعض ذرائع کے مطابق ذکورہ بالاعوامل کی وجہ سے ولی عہد سلطنت شہزادہ محمدبن نائف اور نائب ولی عہد سلطنت شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان اختیارات کے حوالے سے ایک خاموش کشمکش شروع ہوچکی ہے۔
گزشتہ برس کے دوران ہی میں سعودی عرب نے ممالک پر مشتمل ایک متحدہ فوج تیارکرنے کے خاموش منصوبے پر عملدرآمد کاآغاز کیاتھاجواب ایک حقیقت کاروپ دھاررہاہے اور یہ فوجی یاعسکری اتحاد یمن حوثی باغیوں کیخلاف ہونے والے فضائی حملوں میں کھل کرسامنے آگیاجہاں ایران زیدی شیعہ فرقہ یا حوثی باغیوں کوپراکسی کے طور پراستعمال کررہاہے۔ اس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ سعودی عرب نے عرب ممالک کی متحدہ فوج اور یمن میں کارروائیوں کے حوالے سے امریکی تحفظات کوملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اوراس کی وجہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خاص طور پرا یران کے ساتھ امریکہ کی بڑھتی ہوئی قربت نے واشنگٹن اور ریاض کے درمیان دوریاں پیداکرنے میں اہم کردارادا کیاہے۔
سعودی عرب نے گزشتہ ایک برس میں یہ ثابت کردیاہے کہ مشرق وسطیٰ اور عالمی معاملات میں ا س کے اہم ترین کودار کونظر انداز کرناممکن نہیں اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں بھر پور طریقے سے قائدانہ کردارادا کرنے اور اپنے اور اپنے دوست واتحادی عرب ممالک کے مفادات کا بخوبی تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔
وقت اشاعت : 2016-01-29

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں