تازہ ترین : 1
Secularism K Libade Main Hinduism Baramd

سیکولرازم کے لبادے سے ہندوازم برآمد

عالمی صہیونی کارپوریٹ کی مددسےنریندرمودی کی انتخابی فتح اس صدی میں رونماہونیوالے دو سیاسی معجزے ایک وائٹ ہاؤس میں سیاہ فارم صدر کا داخلہ،دوسرا بھارت میں نریندر مودی جیسے کم ذات ہندو کا وزارت عظمیٰ تک پہنچنا ہے

محمد انیس الرحمن:
اس صدی میں رونما ہونے والے دو سیاسی معجزے شائد دیر تک یاد رکھے جائیں ان میں سے ایک وائٹ ہاؤس میں سیادہ فارم صدر کا داخلہ اور دوسرے بھارت میں نریندر مودی جیسے کم ذات ہندو کا وزارت عظمیٰ تک پہنچنا ہے۔ ایسے امریکہ میں جہاں صرف چار عشرے قبل اگر کوئی سیاسی فام بس کی سیٹ پر بھی بیٹھ جاتا تھا تو سفید فارم اسے مار مار کر اس کی اوقات یاد دلادیا کرتے تھے اچانک ایک سیاہ فام اوباما سفید فارم ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار نامزدکردیا جاتا ہے اور اس کے بعد وہ سفید فام جان مکین کو شکست دے کروائٹ ہاؤس میں پہلے سیاہ فارم امریکی صدر کی حیثیت سے داخل ہوتا ہے ! ہم نے ان انتخابات سے تین ماہ قبل وائٹ ہاؤس کے پس منظر میں سیاہ فام اوباما کی تصویر سرورق پر شائع کی تھی اس پیش گوئی کا پس منظر اوباما نہیں بلکہ ان کی پشت پر کھڑے کارپوریٹ امریکہ کے دو بڑے نمائندے ڈیوڈراکفلر اور برزنسکی تھے۔
امریکہ افغانستان اور عراق میں اپنے صہیونی صلیبی اتحاد نیٹو کے ساتھ تباہی مچانے کے بعد اب روس کی جانب رخ کررہا تھا اور ڈیوڈراکفلر اور برزنسکی اس شعبے میں امریکہ کے صہیونی کارپوریٹ اشرافیہ کے سب سے بڑے فرنٹ مین تھے اس لیے اندازہ لگانا مشکل نہیں رہا تھا کہ امریکہ کی انتخابی سیاست میں کونسا معجزہ رونما ہونے جارہا ہے۔
بالکل اسی طرح بھارتی انتخاب سے چند ماہ قبل انہی صفحات پر کم ذات نریندر مودی کو بھی آنے والے بھارتی وزیر اعظم کے طور پر دکھایا گیا تھا وہ بھارت جو برہمن کارپوریٹ مافیا اور اسٹیبلشمنٹ کے نرغے میں ہے شودر سے ذراہی اوپر کی ذات کا شخص کیونکر وزیر اعظم بننے جارہا تھا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔
پاکستان جیسے ملک میں جمہوریت کا چارہ بننے والے عوام کو شاید تاریخ انسانی کے اس بڑے فراڈ کے پس منظر سے آگاہی نہیں ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ جمہوریت کا گھر برطانیہ کو کہا جاتا ہے۔ جی ہاں وہ برطانیہ جہاں ڈیڑھ صدی قبل تحریک آزادی نسواں اور بادشاہت کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوریت کی تحریک شروع کی گئی تھی یہ تحریک آزادی نسواں اور جمہوریت کی تحریک بعد میں امریکہ منتقل کی گئی جہاں سے ساری دنیا کو اس نئے نظریے کا تحفہ برآمد کیا گیا تھا۔
عورت چونکہ دجال کا آخری شکار اور خوفناک ہتھیار ہے اس لیے اس کی آزادی کے نام پر تحریک نے ہر خطے میں اپنی جگہ آسانی سے بنالی لیکن جمہوریت کو علاقائی ماحول میں ڈھال دیا گیا جس کے نتیجے میں کہیں سوشلسٹ جمہوریت کا نام سننے کو ملا اور کہیں اسلامی جمہوریت کا ڈنکا بجایا گیا لیکن ان سب ناموں کی آڑ میں حکومت سرمایہ دار انہ جمہوریت کی ہی رہی۔
اس کی سب سے بڑی مثال سابق سوویت یونین کے بعد کمیونزم کے سب سے بڑے گھر چین کی ہے جہاں کی پارلیمنٹ نیشنل پیپلز کانگریس کے آدھے سے زائد ارکان امریکی کانگریس کے ارکان سے بھی زیادہ متمول ہیں۔ چین وہ ملک ہے جس نے عوامی برابری کے نام پر بے پناہ ترقی کی لیکن اس سے حاصل شدہ ثمر کو سرمایہ دارانہ نظام کے سپرد کردیا۔ دوسری طرف مسلم ممالک میں جہاں جہاں اسٹیبلشمنٹ اور سرمایہ دارانہ عالمی نظام کے تحت فوجی آمر مختلف ناموں سے حکمرانی کررہے تھے اسلامی تحریکوں کو اسلامی نظام کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ مغرب کے تربیت یافتہ ان عسکری آمروں سے تھا ان میں سے بعض اسلامی تحریکوں نے اسی جمہوریت کو اسلامی جمہوریت کا لبادہ اوڑھا کر اپنی جدو جہد کی راہیں مرتب کیں لیکن نتیجہ کچھ نہ نکل سکا۔
یہ اسلامی تحریکیں یا تو اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیمیں بن گئیں یا عوام میں اپنی مقبولیت کم کرتی چلی گئیں۔ ان کے جلسے جلوس تو بڑے بڑے ہوتے لیکن بیلٹ بکس میں پرچیاں کم ہوتی تھیں یا کردی جاتی تھیں۔
امریکہ اور یورپ میں اس جمہوری فراڈکو رائج کرنے والی صہیونی اشرافیہ نے رومن تاریخ سے بڑا سبق حاصل کیا تھا۔ رومن سیزر کے ماتحت کام کرنے والی سینٹ کے ارکان عوام کے نمائدنے کہلاتے تھے لیکن حقیقت میں یہ اس وقت کے دولت مند طبقے سے تعلق رکھتے تھے عوام کی محرومیوں کے نتیجے میں انکی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوتا چلا گیا اور عوام اس مخمصے میں مبتلا رہے کہ ان کے نمائدے ان کے مسائل حل کرنے کیلئے سیزر کے ایوان میں موجود ہیں۔
جب کبھی محرومی کی شکل میں کوئی عوامی تحریک چلنے کا خدشہ ہوتا تو رومی صوبوں میں رومن گیمز کے آغاز کا اعلان کردیا جاتا یہ رومن تھیٹر اس زمانے کا کارپوریٹ میڈیا تھا۔ ایک طرف عوام ان خونی کھیلوں سے محفوظ ہوتے تو دوسری طرف رومن ایمپائر کو ری پبلک بنانے کا شوشہ چھوڑ کر عوام کے جذبات ٹھنڈے کردئیے جاتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ رومن ایمپائر زوال کا شکار ہوگئی لیکن کبھی ری پبلک نہ بن سکی۔
یہی کھیل جدید دور میں بین الاقوامی صہیونی اشرافیہ نے جمہوریت کے نام پر دنیا بھر کے عوام کے ساتھ کھیل اور تا حال کھیلا جارہا ہے۔ اب رومن تھیٹر کی جگہ کارپوریٹ میڈیا نے لے لی ہے، سرمایہ دارانہ نظام شکل بدل بدل کر دنیا کو دجالی سودی نظام میں جکڑ چکا ہے۔
گزشتہ صدی میں پچاس کی دہائی کے بعد عالمی سرمایہ دارانہ صہیونی اشرافیہ کے نمائندے براہ راست اقتدار اپنے ہاتھوں میں رکھتے تھے لیکن جیسے جیسے عوام میں تعلیمی معیار بڑھتا گیا اور انہوں نے محرومیوں کے حوالے سے سوچنا شروع کیا تو اس طریقہ کار میں بھی تبدیلی وضع کردی گئی۔
سرمایہ دارانہ اشرافیہ پشت پر آگئی اور اوباما جیسے سیاہ فام اور نریندر مودی جیسے کم ذات فرنٹ پر لائیجانے لگے۔ بھارت میں نریندر مودی کی کامیابی کے بعد سے وطن عزیز میں جو تجزیے کئے جارہے ہیں ان میں زیادہ تر اس بات پر زور ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور کارپوریٹ سیکٹر کی ملی بھگت سے بی جے پی کے نمائندے نریندر مودی کو تاریخ ساز کامیابی حاصل ہوئی ہے جہاں تک ان تجزیوں کا تعلق ہے یہ غلط نہیں ہیں لیکن موجودہ دور میں کسی بھی خطے میں ہونے والی تبدیلی کو کبھی علاقائی تناظر میں دیکھنے کی غلطی نہیں کرننی چاہیے۔
دیکھا یہ چاہیے کہ جس وقت بھارت میں یہ تبدیلی آئی ہے اس وقت دنیا میں ہوکیا رہا ہے یا کیا ہونے جارہا ہے۔۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ نائن الیون کے ڈرامے کے بعد دنیا کو مذہبی، فرقہ واریت اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کر کے آپس میں لڑانے کی حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ اس تمام معاملات کے ساتھ ساتھ روس اور یوکرائن کا مسئلہ بھی زور پکڑتا جارہا ہے۔ اس سارے معاملے میں سوچنے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اوباما انتظامیہ نے 2014ء میں ہی افغانستان سے نکلنے کی تاریخ کیوں دی تھی؟ کیا اس سلسلے میں افغانستان اور بھارت میں عام انتخابات کے نتائج کے بعد امریکہ اور اس کے صہیونی صلیبی اتحاد کو افغانستان سے نکالنامقصود تھا؟اور پھر بھارت کے کارپوریٹ سیکٹر اور کارپوریٹ میڈیا کو مودی کی پشت پر لانے کا کیا مقصد ہوسکتا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنے قیام کے دوران ہی بھارت کی بھاری سرمایہ کاری افغانستان میں کروائی ہے۔
اس میں حکومتی سیکٹر کے ساتھ ساتھ نجی سیکٹر بھی پوری طرح فعال رہا لازمی بات ہے کہ نجی سیکٹر سے تعلق رکھنے والا طبقہ ہندو اشرافیہ سے تعلق رکھتا ہے۔ امریکہ میں جہاں ایک طرف نریندر مودی کی سربراہی میں ہونے والی دہشت گردی کے باعث داخلے پر پابندی لگائی گئی وہیں عالمی صہیونی اشرافیہ کی جانب سے ہندو اشرافیہ کو یہ باور کرایا گیا کہ افغانستان اور خطے کے دیگر حصوں میں ان کی بھاری سرمایہ کاری کا تحفظ ہندو انتہا پسندی کے حوالے سے ہی محفوظ بنایا جاسکتا ہے ۔
ایسی ہی انتہا پسندی کو بروئے کار لاکر برما میں مسلمانوں کا قتل عام کروا کر انہیں اپنے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا او وہاں پر مستقل کی سرمایہ کاری کیلئے زمینیں حاصل کی گئیں لیکن عالمی کارپوریٹ میڈیا میں یہ انسانی المیہ جگہ نہ بنا سکا۔ یہی کام نریندرمودی گجرات میں کرتارہا اور اب اس کی آمد سے پورے بھارت میں غیر ہندو طبقات خاص طور پر مسلمانوں کو شدید خطران لاحق ہوچکے ہیں۔
ماضی میں اسی خوف سے فائدہ اٹھا کر سیکولر ازم کا نعرہ لگا کر کانگریس مسلمانوں ووٹوں کو حاصل کر کے انہیں کا استحصال کرتی رہی اب جبکہ ایک انتہا پسند ہندو جماعت راشٹریہ سیوک سنگھ RSS بی جے پی کی شکل میں اقتدار پر کامل قابض ہوچکی ہے بھارت اپنے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھی انتہا پسند پالیسی احتیار کرنے جارہا ہے۔
افغانستان کے حوالے سے امریکہ اور بھارت کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے، یہاں پاکستان کا مطلب پاک فوج اور آئی ایس آئی ہے۔
اس رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے پاکستان کے اندر ہی نائن الیون کے ڈرامے کے بعد سے کام شروع کردیا گیا تھا ۔ لبرل طبقے جو انتہا قلیل تعداد میں ہیں کو معاشی خوشحالی کے نام پر بھارت سے پینگیں بڑھانے کیلئے ٹاسک دیا گیا پاکستان کے نجی کارپوریٹ میڈیا میں بھارت سرمایہ کاری گئی۔ ایک نجی میڈیا نے تو ا س ذمہ داری کا سارا ٹھیکہ اپنے سرپر اٹھا لیا مشرف کی آڑ میں پاک فوج اور آئی ایس آئی کو منصوبہ بندی کے تحت نشانے پر لے لیا گیا۔
چین کو گودر تک رسائی نہ دینے کیلئے کے پی کے اور بلوچستان میں فسادات کی آگ بھڑکا دی گئی، وطن عزیز کی معاشی کمر توڑنے کیلئے کراچی کو بدامنی کی آگ میں جھونک دیا گیا جمہوریت کے نام پر ملک کباڑیوں کے سپرد کردیاگیا جنہوں نے رہی سہی کسر نکال دی۔ وطن عزیز کے قبائلی علاقے جو معدنی دولت سے بھرے پڑے ہیں انہیں انتہا پسندوں کی چراگاہ بنا دیا گیا۔
ایک طرف پاک فوج اور آئی ایس آئی کو مخصوص میڈیا کے ذیعے نشانہ بنایا گیا تو دوسری جانب قبائل علاقوں میں جنگ کی آگ بھڑکا کر پاک فوج پر حملے کروائے گئے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ان سب وارداتوں کا مقصد کیا تھا؟
اس سلسلے میں پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ امریکہ کے بعد اس خطے میں اسرائیل کا سب سے بڑ ااسٹریٹجک شراکت دار بھارت ہے۔امریکہ اور عالمی صہیونی دجالی اشرافیہ نے مشرق وسطی میں شیعہ سنی فساد اور عرب اسپرنگ کے نام سے جو کارروائی ڈالی ہے اس کا ڈراپ سین وہ پاکستان میں کرنا چاہتے ہیں ہم پہلے بھی اس جانچ نشاندہی کرچکے ہیں کہ اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ پاک فوج اور پاکستان کے جوہری اثاثے ہیں ان کی موجودگی میں اسرائل کی عالمی سیاست کا قیام ناممکن ہے۔
ایسے وقت میں جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں روس شام کے معاملات میں پوری طرح داخل ہرچکا تھا جن بوجھ کر یوکرائن میں روس مخالف صورتحال پید اکی گئی جس کی وجہ سے روس یوکرائن میں الجھ گیا اور آدھی دنیا کی توجہ اس جانب مبذول ہوگئی۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں فرقہ واریت کا کھیل عروج پر پہنچایا گیا۔ پاکستان میں شیعہ سنی اختلافات کوہوا دینے کی بہت کوشش کی گئی لیکن دونوں جانب سے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سازش کو ب تک ناکام بنایا جاتا رہا ہے۔
بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے اور بھارت کو ساتھ تجارت بڑھانے کے خواب دکھانے والوں کو آئندہ چند مہینوں میں ہی دن میں تارے نظر آجائیں گے جب نریندرمودی اپنااصل رنگ دکھائے گا اس سلسلے میں پاکستان کے قبائل علاقوں میں جاری شورش کی کیفیت پر جلد از جلد قابو پانا ہوگا اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور کراچی میں ملک دشمن عناصر کو سختی سے کچلنے کا وقت بھی آگیا ہے۔
اس دوران ایک نجی میڈیا گروپ کی پاکستان اور اسلام دشمنی کا کھل کر سامنے آنا اور ماضی کے تلخ تجربات کے باوجود قوم کا اپنی فوج اور آئی ایس آئی کی بھرپور حمایت کا مظاہرہ کرنا صحیح شگون ثابت ہو اہے۔ اس تناظر میں پاکستان دشمنوں کو خبردار ہوجانا چاہیے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم جوئی کے خلاف پوری قوم اپنی فوج کی پشت پر آجائے گی۔
وقت اشاعت : 2014-05-22

(6) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں