بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیکولر بھارت
جہاں غیر ہندووٴں کو جینے کا حق حاصل نہیں۔۔۔۔۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بر سر اقتدار آئی تو اس کے ساتھ ہی بھارت کے نام نہاد سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی صدابلند ہونا شروع ہو گئی۔
بھارت خود کو ایک سیکولر ملک قرار دیتا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار اس ملک کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ اس میں ہندووٴں کے سوا کسی اور کو جگہ ہی نہیں ملتی۔2005ء میں ا س وقت کے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے راجندرسچر کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی جس کا مینڈیٹ بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کو حاصل معاشی تعلیمی اور سماجی حقوق کا جائزہ لے کر ایک رپورٹ کرنا تھا۔
جسٹس راجندرسچر اور ان کے ساتھیوں نے 403 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ مرتب کر کے 30نومبر2006کو لوگ سبھا میں پیش کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ بھارت کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 14 فیصد ہے لیکن ان معاشی سیاسی اور سماجی حالت اچھوتوں سے بھی بدتر ہے ۔ افسر شاہی اور مسلح افواج میں بھارتی مسلمانوں کا تناسب 2.5 فیصد ہے۔
2014 میں بھارت کے عام انتخابات کے نتیجے میں کٹرہندوشناخت رکھنے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بر سر اقتدار آئی تو اس کے ساتھ ہی بھارت کے نام نہاد سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی صدابلند ہونا شروع ہو گئی۔
بھارت آئین کہنے کی حد تک غیر ہندواقلیتوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے لیکن بی جے پی جیسی انتہاپسند جماعتیں اپنی عوامی طاقت کے بل بوتے پر مسلمانوں، سکھوں ،عیسائیوں اور دلت قوم سے تعلق رکھنے والوں کو کچل کر رکھ دینا چاہتی ہے ۔ غیر ہندووٴں کو ہندو بنانے کیلئے بی جے پی کی اتحادی انتہا پسند ہندو تنظیموں نے ”گھر واپسی“ کے نام سے ایک مذموم مہم شروع کر رکھی ہے۔

بھارت میں اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے کیلئے امریکی سینٹ نے ایک کمیشن تشکیل دیا تھا جس نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ 2014 کے انتخابات تک بھارتی مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں 2012 کے مقابلے میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کو مرتب کرنے میں خود بھارتی حکومت کے پیش کردہ اعداد وشمار کو ہی بنیاد بنایا گیا تھا ۔
بھارتی حکومت نے 2013 میں خود تسلیم کیا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف تشدد کے کم و بیش 823 واقعات رونما ہوئے جن میں 133 افراد جاں بحق ور 2ہزار کے قریب زخمی ہوئے تھے۔
امریکی سینٹ میں یہ رپوٹ بھارتی انتخابات سے قبل پیش کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود اس کی بنیاد پر کوئی ایکشن لینے کی بجائے امریکی حکومت نے اسی مودی کے ساتھ جپھیاں ڈالنے کا سلسلہ شروع کر دیا جنہیں وزارت عظمیٰ سنبھالنے سے قبل تک امریکی ویزا حاصل کرنے کا اہل بھی نہیں سمجھا جاتاتھا۔
بھارتی حکومت کی مرضی سے بھارتی نظام تعلیم کو بھی ہندو بنانے کی کوشش عروج پر ہیں اور نصابی کتب میں ہندووٴں کے دیوی دیوتاوٴں کے قصے شامل کئے جا رہے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف ہندو بچوں کے ذہنوں میں زہر بھرنے کیلئے یہ جھوٹی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں کہ مسلمانوں کے اپنے دور حکومت میں ہندو خواتین کے ساتھ بہت برا سلوک کیا اور ہندووٴں کو جبراََ مسلمان بنایا گیا تھا۔

اس صورتحال میں جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہندو سیاستدانوں کے عزائم کی راہ میں بھارتی آئین یا عدالتیں رکاوٹ بن سکتی ہیں ان کیلئے افضل گورو کی مثال پیش کرنا ہی کافی ہے جنہیں پھانسی پر لٹکانے کیلئے بھارتی عدلیہ کے اعلی ترین جج نے لکھا تھا کہ ”افضل گورو کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہ ہونے کے باوجود انہیں اسلئے سزائے موت سنائی جا رہی ہے کیونکہ بھارت کا ” قومی شعور“ اس سزاسے ہی مطمئن ہو سکتا ہے ۔ “ افضل گورو کو توایک جھوٹے مقدمے میں پھانسی پر چڑھا دیا گیا لیکن گجرات میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا قاتل آج بھارت کا حکمران ہے اور بھارتی آئین اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکا اور اسے اس قتل عام سے باعزت بری کیا جا چکا ہے اور یہی بھارتی معاشرے کا اصل چہرہ ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-21

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان