تازہ ترین : 1
Saudi Arab Iran Kusheedgi Aur Pakistan Ka Musbat Kirdar

سعودی عرب‘ ایران کشیدگی اور پاکستان کامثبت کردار

امریکہ مسلمانوں کی طاقت توڑنااور ان کی دولت کولوٹنا چاہتا ہے ہر کوئی سوچ رہاہے کہ کسی طرح ان دونوں کے تعلقات واپس دوستی میں تبدیل ہوجائیں

رابعہ رحمان:
آج دنیا مختلف بلاکس میں تقسیم ہے جن کی بنیاد چاہے کچھ بھی ہومگرایک عنصر جواس طرح کی ہر تقسیم پر غالب ہے وہ اپنے اپنے مفاد کادفاع اور ترویج ہے۔ یہ سوچ انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہر فیصلے اور عمل کی عکاس ہوتی ہے۔ عالم سلام بھی اس تفریق سے نہیں بچا‘ باوجود اس کے کہ ہم سب ایک اللہ اور رسول کو ماننے والے ہیں۔
دنیا کی آبادی کا تقریباََ ایک تہائی ہونے اور بے شمار قدرتی وسائل سے مالال ہونے کے باوجود مسلم اُمہ آج بالکل بے وقعت ہے جس کی بڑی وجہ نااتفاقی اور عاقبت نااندیشی ہے۔ 60کی دہائی میں قائم ہونیوالی مسلم ممالک کی تنظیم اسلامی کانفرس تقریباََ بے عمل ہوچکی ہے۔ مسلم اُمہ آج بہت سارے مسائل سے دوچار ہے‘ چاہے فلسطین ہویامقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمان یاپھربرما کے بے سہارا مسلمان ہرطرف مسلمان ہی ظلم وبربریت کاشکار نظر آتے ہیں۔
آج دنیا میں کانہ جنگی اور تباہی کے شکار بیشتر ممالک بھی مسلم اُمہ سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ ایک شدید بحران سے دوچار ہیں اور ایسے میں کچھ مسلم ممالک آپس میں دست وگربیان نظر آتے ہیں جس کی تازہ ترین مثال ایران اور سعودی عرب کاتنازعہ ہے۔ آپس میں اتحاد ویگانگت کامظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی بجائے مسلمان ممالک دوسروں کے ایماپرایک دوسرے کے خلاف محاذ بنائے بیٹھے ہیں۔
امریکہ مسلمانوں کی طاقت توڑنا اور ان کی دولت کولوٹنا چاہتاہے۔ اس ساری صورتحال میں ایک عام مسلمان پریشان ہے۔ ایران سعودی عرب تنازعے میں خطرناک رحجان مسلک کااستعمال نظر آتاہے جس کی بنیاد پر بہت سارے ممالک اپنی اپنی سوچ اور عقیدے کی بنیاد پردونوں میں سے کسی ایک کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ دونوں طرف سخت بیراور انتہا پسند سوچ غالب نظر آتی ہے۔
اس ساری صورتحال نے پاکستان کو بھی عجیب مشکل سے دوچار کردیاہے کیونکہ ہمارے دونو ں ممالک کے ساتھ تاریخی اور مذہبی روابط ہیں جس کی بنیاد پر دونوں میں سے کسی ایک کونہیں چناجاسکتا۔ پاکستان میں چونکہ اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے لہٰذا ہم مسلکی تقسیم کے کسی بھی طرح متحمل نہیں ہوسکتے۔ سعودی عرب کی سرزمین سے ہرمسلمان کامذہبی عقیدت کاایک لازوال رشتہ ہے جس سے کسی قسم کاانکار ممکن نہیں ‘ مزید برآں سعودی عرب نے ہر مشکل میں پاکستان کی بھرپور مددکی ہے۔
آج بھی لاکھوں پاکستانی روز گار کیلئے سعودی عرب میں مقیم ہیں ۔ دوسری جانب ایران ہمارا ہمسایہ برادر اسلامی ملک ہے جس کے ساتھ بھی ہمارے قریبی اور تاریخی روابط ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بدقسمتی سے اپنے اپنے مفادات کی ترویج کیلئے ایران اور سعودی عرب دونوں نے مختلف اسلامی ممالک میں پراکسی وار کوہوادی ہے جس کی بنیاد پرانتشار اور نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان بھی اسکے اثرات سے بری طرح متاثر رہا ہے اور کسی حدتک آج بھی ہے۔ ہمارے ہاں دونوں ممالک کی سوچ سے مطابقت رکھنے والے مذہبی اور سیاسی ذریعت مزید کشیدگی پیداکرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے بعد ہماری حکومت کسی حدتک دباؤ کاشکار نظر آتی تھی۔ سعودی عرب کی اعلیٰ حکومتی شخصیات نے گذشتہ دنوں اسلام آباد کے دورے کیے اور اعلیٰ حکومتی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں بھی کیں جن میں اس کا اعادہ کیاگیاکہ سعودی عرب کی سرزمین کوکسی بھی خطے کی صورت میں پاکستان بھرپور مدد کرے گا۔
یہ وہی موقف ہے جس کااظہار ماضی میں بھی کیاجاتارہاہے خصوصاََ جب یمن کے بحران کے نتیجے میں صورت حال کشیدگی ہوئی تھی تواسی پارلیمنٹ نے بھی اسی موقف کااعادہ کیاتھا۔ یادرہے 90کی دہائی میں ہونے والی پہلی خلیجی جنگ میں پاکستان کے فوجی دستے سعودی عرب میں تعینات بھی کئے گئے تھے۔ ہمارے اس موقف کوبعض مذہبی اور سیاسی حلقے ایران مخالف ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ خطرناک طرز عمل کا عکاس ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت قومی سطح پر اس سلسلے میں ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائے جس کامقصد دونوں ممالک میں کشیدگی کوکم کرنا ہو۔ پاکستان آج ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی میں مثبت کردار ادا کر رہاہے۔ ماضی میں ایران عراق تنازعے کے دوران پاکستان نے مصالحت کاکردار ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی جس کی آج بھی شدت سے ضرورت ہے مگر یہ صرف اُسی صورت ممکن ہے جب دونوں ممالک اس پر راضی ہوں۔
ہر کوئی سوچ رہاہے کہ کسی طرح ان دونوں مسلم ممالک کے تعلقات واپس دوستی میں تبدیل ہوجائیں۔ اُمہ اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم کواپنا فعال کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اسلامی دنیا کومزید تباہی سے بچایاجاسکے۔ بد قسمتی سے یہ تنازعہ ایک مذہبی اور مسلکی طرز اختیار کرتا جارہاہے جوکہ ایک انتہائی خطرناک بات ہے۔ ہمارے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کوبیان بازی سے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ مذہب اور مسلک کی بنیاد پرلوگوں کوتقسیم کرنا ایک ایسا خطرناک طرز عمل ہے جس کاتوڑ بعد میں اُن کیلئے بھی ممکن نہیں۔
برداشت، تحمل اور بربادی ہی وقت کی ضرورت ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج اقوام متحدہ اور دوسری عالمی تنظیمیں مسلمانوں کومذہبی برداشت اور بھائی چارے کادرس دے رہی ہیں جبکہ اسلامی کانفرس اور خلیج تعاون کونسل جیسی مسلمان تنظیمیں بالکل خاموش ہیں۔ ہر عمل اور پالیسی کومذہب اور مسلک کی نظر سے دیکھنے سے نفرت اور خلیج بڑھے گی لہٰذا ہمیں اس خطرناک رحجان سے فوری طور پر بچنا ہے جس کیلئے حکومت وقت کے تمام مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے علاوہ میڈیا کی بھی بنیادی ذمہ داری ہے کہ رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔ آخر ہم کب تک دوسروں کی لگائی ہوئی جنگ اور پھیلائی ہوئی نفرتوں کواپنے ہاں پروان چڑھاتے رہیں گے۔
وقت اشاعت : 2016-02-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

  • SAEED YAR KHAN Says : 04/02/2016 - 03:29:12

    If unity of muslim countries did not co-operate from each others and failed to deslove their differences.......all power full powers will take full advantages of disunity...so whom to blame....learn from China policies.....

    Reply to this comment

اپنی رائے کا اظہار کریں