بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
روس پر اقتصادی پابندیاں
یورپ اور امریکہ بھی نقصان سے محفوظ نہیں رہیں گے۔۔۔ روس پر کرائن میں مداخلت کے الزام میں امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے عائد شدہ پابندیوں کو 18 ما ہ گزرچکے ہیں۔
روس پر کرائن میں مداخلت کے الزام میں امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے عائد شدہ پابندیوں کو 18 ما ہ گزرچکے ہیں۔ ابھی تک روس نے ان پابندیوں کا بھر پور طریقے سے سامنا کیا ہے ۔ چند ہفتے قبل آئی ایم ایف نے خبردار کیا تھا کہ اگر روس پر امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے عائد کردہ اقتصادی ،تجاری ومعاشی پابندیاں برقرار رہیں تو روسی معیشت 10 فیصد سکڑ سکتی ہے۔

ڈیڑھ برس کے عرصے کے میں روس سے تعلق رکھنے والی کم وبیش 150 کاروباری شخصیات کے بیرون ملک اثاثہ جات منجمد کرتے ہوئے ان پر سفری پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ اس طرھ روس کی درجنوں بڑی کمپنیوں اوربینکوں پر بھی امریکی اور یورپ کی اقتصادی منڈیوں اور بینکوں کے ساتھ کاروبار کرنے پر پابندیا ں لگائی جا چکی ہیں۔
امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کا نشانہ بننے کے بعد روس نے یورپی ممالک سے کھانے پینے کی اشیاء اپنے ہاں منگوانے پر پابندی عاید کر دی تھی جس سے یورپی کسان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
سال گزشہ میں یورپی کسانوں کو اپنی مصنوعات روس کی منڈیوں میں فروخت کرنے کی اجازت نہ ملنے سے 5.5 ارب یورو کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ روس حکومت سمجھتی ہے کہ اب سے ایسی اقتصادی وتجارتی اور معاشی پالیسیاں وضع کرنے کی ضرورت ہے جن پر عملدرآمد کے ذریعے وہ اپنی معیشت کو تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھ سکے۔
امریکہ اور یورپی ممالک نے 2014 میں کریمیا کے روس کے ساتھ الحاق پر بطور احتجاج روس پر پابندیوں عائد کر دی تھیں۔
اس کے بعد سے ان پابندیوں کو بتدریج سخت سے سخت تر کرنے کا عمل جاری ہے۔2013 میں روس اور امریکہ کے درمیان باہمی تجارت کا حجم38 ارب ڈالر تھا جو 2014 کم ہو کر 34.3 ارب ڈالر کی سطح پر آگیا تھا۔ یورپی ممالک کو روس پر پابندیاں عائد کر نے کی وجہ سے جو نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے وہ امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے ۔ آسٹرین انسٹیٹیوٹ آف اکنامک ریسرچ کے مطابق یورپی ممالک کا معاشی نقصان آنے والے چند ماہ میں 100 ارب یورو کی سطح سے بھی آگے جا سکتا ہے۔

امریکی آئل کمپنی، ایکسون موبائل ،روس کے ساتھ سب سے بڑی کاروباری شراکت اور امریکی کمپنی ہے اور اس کے حکام کے مطابق پابندیوں کے نتیجے میں کمپنی کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو چکاہے ۔ متذکرہ بالا امریکی کمپنی نے روس کی ایک بڑی کمپنی کے ساتھ سمندر سے تیل نکالنے کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا تھا جس پر عملدرآمد رک چکا ہے۔ امریکی کمپنی تیل کی تلاش کے مختلف منصوبوں میں روسی کمپنیوں کی شراکت دار بھی ہے۔

روسی بجٹ کا 50 فیصد حصہ تیل کی برآمدات سے حاصل شدہ سرمائے سے پورا کیا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر اس کی تیل کی برآمدات بڑھنے کی بجائے کم ہو جاتی ہیں اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بھی گزشتہ برس کے مقابلے میں 50 فیصدتک گر جاتی ہیں تو اس صورتحال میں روسی معیشت کا زوال پذیر ہونا طے ہے۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ تیل کی برآمدات میں کمی یا اس کی قیمتوں میں کمی میں سے کون سی چیز روس کو زیادہ معاشی نقصان پہنچا رہی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ روسی حکومت اور یورپی ممالک میں سے کون پہلے معاشی حوالے سے گھٹنے ٹیکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان