تازہ ترین : 1
Roshan Khayal Muashra Main Imtiyazi Salook

روشن خیال معاشرہ میں امتیازی سلوک

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ میں رنگ و نسل کی بنیاد پر ملازمتیں دی جاتی ہیں اوروہاں پر کام کرنے والے پاکستانیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور تعصب برتا جاتا ہے

عنبرین فاطمہ:
عالمی میڈیا پاکستان کے خلاف ہمیشہ سے ہی یہ پراپیگنڈہ کرتا رہا ہے کہ یہاں اقلیتوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار امریکہ اور دیگر ملکوں میں جو اقلیتوں کو مشکلات درپیش ہیں اس حوالے سے عالمی میڈیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ میں رنگ و نسل کی بنیاد پر ملازمتیں دی جاتی ہیں اوروہاں پر کام کرنے والے پاکستانیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور تعصب برتا جاتا ہے۔
جہاں تک کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کئے جانے کے قوانین کی بات ہے تو اس حوالے سے قوانین پوری دنیا میں موجود ہیں لیکن بااثر لوگ ہر جگہ انصاف کی فراہمی کے حصول کی راہ میں روکاٹ بنتے ہیں۔ایسا ہی ایک کیس پاکستانی نژاد”ساریہ ندیم“ کا ہے۔جنہوں نے امریکہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہیں ایک بڑی مقامی کمپنی میں بطور ”ٹیکس ایسوسی ایٹ“ ملازمت اختیار کی۔
اس کمپنی کی شہرت پوری دنیا میں پائی جاتی ہے تقریباً ہر دوسرے بڑے ملک میں اس کی برانچز موجود ہیں اکاؤنٹنگ ،ٹیکس ، آڈٹننگ کو ڈیل کرتی ہے۔ساریہ کا سپر وائزر مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک برتتا تھا اور بات بات پر مسلم اور پاکستانی ہونے کے طعنے دیتا تھا نیز ہر وہ حربہ استعمال کرنے کی کوشش کرتا تھا کہ جس سے ساریہ ملازمت چھوڑ دے۔اس حوالے سے جب ہم نے ”ساریہ ندیم“ سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے جہاں سے تعلیم حاصل کی اسی ادارے کے ذریعے کے پی ایم جی میں ملازمت کا موقع ملا۔
مجھے اچھی تنخواہ پر وہاں رکھ تو لیا گیا لیکن میرا سینئر مینجر مسلم مرد حضرات سے نفرت کرتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ کسی طرح پراجیکٹ سے آؤٹ کروا دے۔میں اس مسئلے میں الجھی ہوئی تھی کہ مجھ سے ایک سٹیپ سینئر نے مجھے اپنے ساتھ دوستی کے مراسم بڑھانے کیلئے مجبور کرنا شروع کر دیا۔یہ دونوں سینئر آپس میں دوست تھے ان کے خلاف جب میں نے کمپنی کی انتظامیہ کو شکایت درج کروائی تو انہوں نے بجائے میرا ساتھ دینے کے ان دونوں سینئرز کاساتھ دیا اور مجھے کمپنی چھوڑنے پر مجبور کیا۔
میرے سینئر مینجر نے مجھ پر نل پرفارمنس کا الزام لگایا اور مجھے پرفامرنس امپرومنٹ پلان میں ڈال دیا اور پراجیکٹ سے بھی فائرکردیا۔میں Equal Oportunity Emplyment Comission سے رابطہ کیا یہ گورنمنٹ کاادارہ ہے جو اس طرح کے کیسز کو ڈیل کرتا ہے۔میں نے یہاں کمپنی کے خلاف شکایت درج کروائی اگلے چند دنوں میں میری شکایت کے حوالے سے کمپنی کو جب لیٹر موصول ہوا تو انہوں نے مجھے اگلے ہی دن کمپنی سے نکال دیا۔
میں نے اٹارنی ہائر کیا جس نے کیس جیتنے کی بنا پر 40%بطور کمیشن فیس کا معاہدہ کیا لیکن نہ تجربہ کاری کی بنا پر میرا اٹارنی میرا کیس صحیح طرح پیش نہ کر سکا اور عدم کیس کو ہارتا دیکھ کر عدم ادائیگی کی بنا پر میرے کیس سے دستبردار ہو گیا۔کمپنی کے تین اٹارنی تھے میں ان کے آگے ہار گئی اور جیوری کا فیصلہ میرے خلاف آیا۔یہ تو ساریہ ندیم کاکیس، کیس ہارنے کے بعد ان کے پاس پاکستان آنے کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستہ نہیں تھا۔
ہم اپنے ملک میں عدلیہ کی آزادی اور انصاف کی فراہمی کا رونا روتے ہیں لیکن یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مغرب اور امریکہ جیسے ملکوں میں بھی عدلیہ اور باثر ادارے آزاد نہیں ہیں اور انصاف کی فراہمی میں اقلیتوں کو بے پناہ مسائل درپیش ہیں۔مزید براں یہ کہ پاکستانیوں اور خصوصی طور پر مسلمانوں کے خلاف منفی پراپیگینڈہ کیا جاتا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-06-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں