بند کریں
جمعہ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”روشن بھارت کا تاریک پہلو“
یہاں کالا جادو اور توہم پرستی عروج پر ہے گزشتہ دنوں بھی ایک خاتون کا دولت کی خاطر اپنے بیٹے کو دیوی کی بھینٹ زندہ جلا دینا اُبھرتی ہوئی معیشت کے دعوے دار بھارت کے منہ پرایک طمانچہ ہے

جی زی:
ترقی اور روشن خیالی کے نام نہاد دعوے دار بھارت میں صدیوں پرانے دقیانوسی خیالات اور توہم پرستی آج کے دور میں بھی عروج پر ہے ۔کالا جادو کی آڑ میں اور دیوی دیوتاوٴں کی خوشنودی کے لئے انسانی زندگیوں کی قربانی دی جاتی ہے جس کا شکار خصوصا بچوں کو بنایا جاتا ہے۔ بھارت میں ہر سال تقریبا تین ہزار بچوں کی قربانی دی جاتی ہے۔
جادوگروں کے اُکسانے پر لوگ بچوں کی قربانی دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ دنوں بھی ایک خاتون کا دولت کی خاطر اپنے بیٹے کو دیوی کی بھینٹ زندہ جلا دینا اُبھرتی ہوئی معیشت کے دعوے دار بھارت کے منہ پرایک طمانچہ ہے۔ ماضی میں کئی تہذیبوں میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی طرح پایا جاتا تھا۔یہ فرسودہ اور دقیانوسی رسم ورواج اب تقریبا ختم ہو چکے ہیں مگر بھارت21ویں صدی میں بھی لکیر کا فقیر بنا ہوا ہے۔
یہاں آج بھی دقیانوسی انسانی زندگیاں اس توہم پرستی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ہر سال تقریبا تین ہزار بچوں کی قربانی دی جاتی ہیں صدیوں پرانا فرسودہ اور انسانی حقوق کو پامال کرنے والا یہ نظام آج بھی بھارت میں جابجا نظر آتا ہے ۔قربانی یا نذرانے پر پورا اُترنے کے لیے بھارت میں دھرتی میں زرخیزی کے اضافہ کے لئے سیاہ یا سفید گھوڑا قربان کیا جاتے تھے ۔رامائن میں سیاہ اور مہا بھارت میں سفید گھوڑے کی قربانی کا ذکر ملتا ہے جبکہ جنوبی ہند کے گونڈ اور ماریا قبائل فصلیں بوتے وقت ایک جوان لڑکی کی قربانی دیتے تھے ۔
اُس لڑکی کو کھمبے سے باندھ دیا جاتا تھا اور قبیلے کے سردار باری باری اُس پر خنجر سے وار کرتے تھے اُس کا بہتا ہوا خون کھیتوں میں چھڑکتے تھے۔ بعض وحشی قبائل میں یہ رواج تھا کہ سالانہ قربانی کے لئے ایک نوجوان کو منتخب کر لیا جاتا۔سال بھر اس کی خوب خاطر مدارت کی جاتی حسین لڑکیاں اُس کا دل بہلاتیں اور اُسے اچھے اچھے کھانے کھلائے جاتے ۔
سال کے اختتام پراُسے ذبح کر دیا جاتا۔اسی طرح کالی یا چنڈی دیوی کے بت کے سامنے انسانی قربانی دینے کا رواج تھا ۔کہا جاتا ہے کہ آج کل اس جگہ دو ڈھائی سو بکریاں روزانہ قربان کی جاتی ہیں لیکن بھارت میں آئے دن اس قسم کے واقعات سامنے آتے ہیں کہ بچوں کو دیوی دیوتا کی خوشنودی کی خاطر قربان کیا جاتا ہے جس کے بکریاں قربان کرنے کا متبادل غیر موٴثر ثابت ہو جاتاہے ۔
تاریخ کا بغور جاتزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی قدیم تہذیبوں میں انسانی قربانی دی جاتی رہی ہے ۔ مصر میں فراعنہ دور حکومت میں ہر سال دریاے نیل میں بروقت طغیانی لانے کے لیے ایک حسین دوشیزہ کو دلہن بنا کر منجدھار میں ڈبویا کرتے تھے۔ قدیم فلسطین میں بھی کسی چٹان پر انسانی جانوں کی قربانی دی جاتی تھی ۔خالدیہ اور اشوریا میں لبل مردوک کے مندروں کی قربان گاہیں انسانی خون سے سارا سال تربتر رہتی تھیں۔
ہبل کے بت کے سامنے سیونتی کے بچے ذبح کئے جاتے تے۔ اموی مقدس میں بھی پہلے بچے کی قربانی دی جاتی تھی۔ اسی طرح دیگر کئی قبائل میں انسانی جانوں کی قربانی دی جاتی رہی ہے۔ اب وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ تقریبا ختم ہو چکا ہے اور متبادل جانوروں کی قربانی کا نذرانہ دیا جاتا ہے مگر شائنگ انڈیا بھارت میں یہ سلسلہ کسی طرح رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔
آئے دن بچوں کی قربانی کا نذرانہ پیش کرنے کے واقعات منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ایک بھارتی خاتون نے دولت کی ہوس میں اپنے بیٹے کو کالی دیوی پوجا میں زندہ جلا دیا۔ ضلع گوہاٹی میں تانترک گرو کے اُکسانے پر خاتون نے یہ قدم اٹھایا ۔اس کارروائی میں خاتون کے اہل خانہ بھی شامل تھے۔ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ترقی اور روشن انڈیا کے پُر فریب نعرے لگائے جاتے ہیں اور عوام غربت کے ہاتھوں مجبور بچوں کی قربانی پر تلے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل بھی بہت سے واقعات میں بچوں کی قربانی کی خبریں بڑھنے اور دیکھنے میں آتی رہی ہیں۔کچھ عرصہ قبل ایک بھارتی جوڑے نے اولاد کی خواہش میں پانچ بچوں کو زہر دے کر ہلاک کر دیا تھا ۔ مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے اُس جوڑے کی شادی کو بارہ سال ہو چکے تھے اور وہ بے اولاد تھے۔بھارتی پولیس کا بچوں کی موت کے حوالے سے یہ مواقف تھا کہ اُس جوڑے نے کالے جادو کی رسم کے تحت ایسا کیا ۔
اس اُمید کے ساتھ کہ ان کے ہاں بچے ہو جائیں گے ۔ بھارتی پولیس کی نا اہلی اور غفلت کا ثبوت یہ ہے کہ اُس نے بڑے دھڑلے سے اپنا بھانڈا خود ہی پھوڑ دیا کہ بھارت کے پسماندہ علاقوں میں کبھی کبھی ایسا جادو کیا جاتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ موٴثر ثابت ہوتا ہے ۔افسوسناک امر یہ ہے کہ جادوگر بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں بلکہ اُن کے اُکسانے پر ہی لوگ ایسا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
بھارتی معاشرے میں عموماََ لوگ اپنے مسائل کے حل کے لئے جادوگروں کے پاس جاتے ہیں۔ جادوگروں کی بات اُن لوگوں کے لیے حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے۔
گزشتہ دنوں کالا جادو کرنے والے بھارتی جادوگروں نے کچھ لوگوں کو دولت حاصل کرنے کے لیے کسی انسان کی قربانی دینے کا حکم دیا تو اُن افراد نے غیر انسانی سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوے اپنے بیمار بیٹے کے لیے دعا کے لئے آئی ہوئی پچاس سالہ خاتوں کو بے دردی سے قتل کردیا۔
بھارتی جادوگروں کا کہنا ہے کہ آج دُنیا میں جتنا بھی جادو کیا جاتا ہے اُ س کا بڑا حصہ بھارت ہی نے دیا ہے جس کا پول آج کھل کر پوری دنیا کے سامنے آچکا ہے ۔ مذہب اور دیوی دیوتاوٴں کے نام پر معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھیلنا ایک غیر انسانی فعل ہے جس کی بھر پور مذمت کی جانی چاہیے۔ ایک ارب سے زائد آبادی رکھنے والے ملک میں انسانی ہمدردی کے جذبہ سے سرشار نرینداد بھولکر نامی شخص نے تو ہم پرستی اور دقیانوسی روایات کے خلاف دو دہائیاں قبل آواز بلند کی تھی لیکن گزشتہ دنوں اُسے اس کی پاداش میں موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا تھا ۔
بھارتی حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے معصوم بچوں کے لئے یہ ملک قربان گاہ بن چکا ہے ۔ نہ معلوم کس وقت کوئی معصوم اس قربان گاہ پر جان کی بازی ہار جائے۔ بھارت کا یہ بھیانک روپ یقینا رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-13

(9) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان