تازہ ترین : 1
Roos Turky Talluqaat Main Tanao

روس، ترکی تعلقات میں تناوٴ

اردگان کا اظہار افسوس تلخی میں کمی لا سکے گا؟

منصور الرفاعی:
ترکی کی جانب سے روسی فائٹر جیٹ طیارہ مار گرائے جانے کا واقعہ دونوں ممالک کے تعلقات میں سخت کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔ صدر پوٹن نہ صرف اس پر شدید برہمی بلکہ ترکی پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ ایک محتاط انداز کے تحت ترکی کی 45 فیصد گیس کا انحصار روس پر ہے۔ اسے موسم سرما میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

روسی فائٹر جیٹ طیارہ مار گرائے جانے کے واقعہ کو ترکی نے اپنی سرحدوں کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ ترک حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے کئی مرتبہ روسی فائٹر جیٹ طیاروں کو سرحدی خلاف ورزیوں پر وارننگ جاری کی گئی تھی مگر اس پر کان نہیں دھرے گے۔
روس کی جانب سے اقتصادی پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد ترک صدر طیب اردگان معذرت خواہاں رویہ پر اتر آئے ہیں۔
روسی طیارے کو گرانے کی تفصیل وہ روس سے شیئر کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ وہ صدر پوٹن سے کئی مرتبہ ٹیلی فونک رابطے کی کوشش بھی کر چکے ہیں۔ جسے صدر پوٹن کی جانب سے پذیرائی نہیں ملی۔
ماسکو میں ایک تقریب کے دوران صدر پوٹن ترکی کو اپنے فائٹر جیٹ طیارے کو گرائے جانے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترک حکمرانوں پر شاید اللہ ناراض ہے۔
یہی وجہ ہے ان کے ہاتھوں روسی طیارہ گرانے کا واقعہ پیش آیا انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اللہ ان کو سزا دینا چاہتا ہے۔
روس کی جانب سے نہ صرف ترکی پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان آزادانہ ویزا پالیسی بھی ختم کر دی گی ہے۔ صدر پوٹن کی برہمی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کریملن میں اپنے خطاب میں کہا کہ ترکی کی حکمرانوں کو یہ گمان میں نہیں رہنا چاہیے کہ روس کی جانب سے صرف ٹماٹروں کی تجارت پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔

روس اور ترکی کے تعلقات میں تناوٴ کی وجہ سے صدر طیب اردگان کی تشویش بڑھتی جار ہی ہے ۔ انہیں خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ترکی کی اقتصادی ترقی کا پہیہ متاثر ہو سکتا ہے جو ان کی شبانہ روز کی کوششوں کی وجہ سے ترکی کی شاہراہ پر گامزن ہوا تھا۔
روس اور ترکی کے مابین تناوٴ پر امریکی صدر باراک اوباما نے بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پیرس حملوں کے بعد داعش عالمی امن کے لیے سخت خطرہ بن چکی ہے ۔
اس تنازعے سے داعش کا اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے اور وہ مغرب میں اپنا حواریوں کو دہشت گردی کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔
صدر پوٹن ترکی پر داعش سے تیل خریدنے کا الزام بھی عائد کر چکے ہیں مگر ترک صدر اس کی سختی سے تردید کر چکے ہیں۔ صدر طیب ادگان کا کہنا ہے کہ اگر روسی صدر داعش سے تیل کی سیل کے دستاویزی ثبوت پیش کریں تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

قبل ازیں صدر اوباما طیب اردگان کو ٹیلی فونک رابطے کے ذریعے اپنی حمایت کا یقین دلا چکے ہیں ترک ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ترکی مشترکہ دشمن داعش کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پر عزم ہیں لیکن ترکی بخوبی جانتا ہے کہ امریکہ مشکل کی گھڑی میں ہمیشہ اپنے دوستوں کو دغا دیتا آیا ہے۔ پچھلے سال طیب اردگان کی حکومت کو گرانے کے پیچھے امریکہ کی پشت پناہی کا ہی ہاتھ تھا جو ترک اپوزیشن کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ترکی شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف بھی کسی قسم کی کارروائی کا حامی نہیں تھا جس پر امریکی اتحادیوں کی جانب سے ترکی پر سخت دباوٴ ڈالاگیا۔ اسی دباوٴ کے نتیجے میں ترکی نے امریکی اتحادیوں کو شامل اور مشرق وسطیٰ میں داعش کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اپنی دو ائربیس دینے کا اعلان کیاتھا۔ اب مشرق وسطیٰ پر مختصر عرصے میں امریکی جیٹ طیارے کارروائی کر کے واپس ائربیس پر آسکتے ہیں۔

روسی دباوٴ کو کمی لانے کے لیے ترکی نے بیک ڈور ڈپلومیٹک پالیسی بھی شروع کر رکھی ہے ۔ترکی وزیراعظم احمد اوگلو نے روس کو دوبارہ ڈائیلاگ شروع کرنے اور الزامات کی سیاست کو مسترد کرنے کی دعوت دی ہے۔ دوسری جانب نیٹو نے ترکی روسی پابندیوں کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے جو روسی پابندیوں کی وجہ سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
طیب اردگان نیٹو کی طرف سے زبانی حمایت کے اعلان کو کافی نہیں سمجھتے۔
نیٹو اتحادیوں کا ٹریک ریکارڈ اس حوالے سے زیادہ اچھا نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صدر طیب اردگان روس سے معذرت پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ اس صورتحال میں زیادہ نقصان ترکی کا ہو گا۔ وہ اس معاملے کو جلد از جلد ختم کرنے میں سخت سنجیدہ ہیں۔ اب یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اس کا اندازہ آنے والے اگے چند روز میں ہو جائے گا۔
وقت اشاعت : 2015-12-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں