تازہ ترین : 1
Pathankot Pe Dehshat Gard Hamla

پٹھان کوٹ پہ دہشت گرد حملہ۔ بھارت کا نیا ناٹک

دوجنوری 2016کو بھارتی فضا ئیہ کے اڈے پہ دہشتگرد حملے کی آڑ میں ہندو انتہا پسندایک نیا ناٹک رچا کر پاکستان کیساتھ امن مذکرات کو رکوانے کی کوشش میں ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کو اس حملے پر مورد الزام ٹھہرا کر مزید دباؤ میں ڈالنا چاہتا ہے۔

سلطان محمود حالی:
دوجنوری 2016کو بھارتی فضا ئیہ کے اڈے پہ دہشتگرد حملے کی آڑ میں ہندو انتہا پسندایک نیا ناٹک رچا کر پاکستان کیساتھ امن مذکرات کو رکوانے کی کوشش میں ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کو اس حملے پر مورد الزام ٹھہرا کر مزید دباؤ میں ڈالنا چاہتا ہے۔ نریند رمودی نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہی پاکستان کوڈرانے دھمکانے کی کوشش میں کبھی لائن آف کنٹرل کے پار پاکستانی علاقے میں بلا اشتعال گولہ باری تو کبھی ادھم پوراور گور داسپور میں جعلی حملے کراکے پاکستان کو دہشتگردی میں ملوث ہو نے کا الزام لگا کر دنیاکو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان دہشتگردوں کی پشت پنا ہی کرتا ہے۔
مودی کا اپنا داغدار ماضی انکے آڑے آنے لگا۔ بھارتی صو بہ گجرات میں2002 میں دو ہزار سے زائد مسلمانوں کے قتل عام اس وقت صو بے کے وزیرا علی نریند رمودی کے سر ہے۔ بھارتی انتہا پسند گروہ راشٹر یہ سوائم سیوگ سنگھ ( آر ایس ایس) کے سر کردوہ دہشتگر د مودی جنہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے انتہاء پسند ساتھیوں سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں بھارت کا وزیراعظم منتخب کر ا دیں تو وہ انہیں کھلی چھوٹ دینگے یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالتے ہی مودی نے اجیت دوول کوقومی سلامتی کا مشیر مقرر کیا۔
اجیت دوول اپنی انتہا پسندی اور اقلیتوں پہ ظلم ڈ ھا نے کیلئے بد نام ہیں۔ اسی طرح بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے سر براہ اوردوسری اہم پوز یشنوں پہ کٹر ہندو انتہاء پسند قابض ہو گئے اور جلد ہی انہوں نے اپنا اصلی روپ بھارت کے عوام اور دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔ نریند رمودی کے پاس ایک ہی چارہ تھا وہ یہ کہ پاکستان کے ساتھ دوستی اور امن کی خاطر مذاکرات کی جانب پیش قد می کرے۔
روس کے شہر او فا میں اپنے پاکستانی ہم منصب میاں نواز شریف کے ساتھ مذاکرات شروع کر نے کا وعدہ کر کے نریندرمودی اپنے وعدے سے پھر گئے۔ وہ اس پر مصر تھے کہ صرف دہشتگردی کے موضوع پہ بات چیت ہو سکتی ہے۔ بعد میں سلامتی امور کے مشیروں کی ملاقات سے چند گھنٹے قبل یہ بھی حیلے بہانے سے منسوخ کردی گئی۔ دریں اثناء پاکستان نے بلوچستان،کراچی اور سرحدی علاقوں میں بھارت کی جانب سے دہشت گرد حملوں کی پشت پنا ہی کے ثبوت کی تین دستاویزات اقدام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور امر یکہ کے سیکر یٹری خارجہ جان کیری کے حوالے کردیں۔
بھارت پہ بیرونی اور اندورنی دباؤ بڑ ھ رہا تھا لہذا نریند رمودی نے نیا ناٹک شروع کیا۔ پیرس میں سر سری ملاقات کے دوران وزیراعظم نواز شریف سے طے کیا گیا کہ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔ بنکاک میں قو می سلامتی امور کے مشیروں کی ملاقات خاموشی سے عمل پذیر ہوئی پھر بھارتی وزیر کارجہ سشماسوراج افغانستان سے متعلق قلب ایشیاء کا نفر نس میں شرکت کی خاطر اسلام آباد تشریف لائیں اور پاک بھارت امن مذاکرات کا سلسلہ شروع کر نے کی خاطر سمجھوتے طے پا گئے۔
اس عمل کو مزیدتقویت دینے کی خاطر نریند ر مودی25دسمبر2015 کو نوازشریف کی سالگرہ کی تقر یبات اور انکی نواسی کی شادی میں شرکت کا بہا نہ بنا کر بن بلائے لاہور اور رائے ونڈ پہنچ گئے۔ بظا ہر امن مذاکرات کے راستے اب ہموار ہو گئے لیکن مودی اور اسکے چیلوں نے ایک اور سازش تیار کررکھی تھی۔2 جنوری 2016 کو بھارتی فضائیہ کے اڈے پٹھا نکوٹ پہ مبینہ دہشتگردوں نے حملہ کردیا۔
86 گھنٹوں کے آ پریشن کے بعد چھ مبینہ دہشتگرد ہلاک کردئے۔ اور بھارتی فضا ئیہ کے کسی طیارے اور کسی دفاعی سامان کا بال تک بیکا نہ ہوا۔ حملے کے پہلے چند گھنٹوں میں ہی الزام پاکستان کے سر منڈھ دیا گیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر بھارت سے یکجہتی کا بیان جاری کر دیا۔ نواز شریف نے نریندر مودی کو اپنی حمایت کا یقین دلایا اور جب بھارتی سلامتی امور کے مشیر نے اپنے ہم منصب کو پاکستانیوں کے اس حملے میں ملوث ہونے کے شواہد مہیا کئے تو سول، فوجی قیادت کا غیر معمولی اجلاس طلب کر کے تفتیش کا وعدہ کر لیا گیا۔
لیکن بھارت کی تشفی نہ ہوئی کیونکہ وہ اس واقعے کو عذر بنا کر امن مذاکرات کو ملتوی کرنے کے چکر میں ہے۔پٹھان کوٹ حملے کے ناٹک کے سکرپٹ میں بہت سے جھول ہیں۔ پہلے تو بھارتی پنجاب پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس نے تین دن قبل حملے کی پیشگی اطلاع دے دی تھی۔ اسکے باوجود مبینہ دہشت گرد پولیس کے ایس ایس پی کی گاڑی اغواء کر کے پٹھان کوٹ کے فوجی اڈے میں داخل ہو گئے۔
انہوں نے ایس ایس پی کو زندہ کیسے چھوڑ دیا؟ ایس ایس پی اور اسکے ساتھی کا موبائل فون چھین کر مبینہ دہشت گرد وں نے پاکستان اپنی والدہ اور اپنے ہینڈلروں سے گفتگو بھی کی۔ حملے کے وقت نریندر مودی کر ناٹک کے دورے پہ تھے اور دو دنوں تک انہوں نے اپنا معمول کا دورہ ملتوی کر کے پٹھان کوٹ جانا مناسب نہ سمجھا۔ دو دہشت گرد دو دن قبل ہی فوجی اڈے میں داخل ہو چکے تھے لیکن قیلولہ فرماتے رہے اور وقت آنے پر ہلاک ہونے کو ترجیح دی۔
میڈیا میں پاکستان کے ملوث ہونے کے جو ثبوت دکھائے جا رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ بھاری تعداد میں بندوقیں، دھماکہ خیز مادہ اور اسلحہ پاکستانی ساخت کے تھے، پاکستان میں تیار کردہ دوائیں دہشتگردوں کے پاس تھیں اور انہوں نے پاکستان کالیں بھی کیں۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنی بھاری تعداد میں اسلحہ مبینہ دہشت گرد فوجی اڈے کے اندر لے جانے میں کیسے کامیا ب ہوئے ؟ تعجب کی بات یہ ہے کہ موقع اور وقت ہونے کے باجود انہوں نے بھارتی طیاروں یا ہتھیاروں کو ہدف نہیں بنایا۔
دہشتگردوں کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی نہ ہی یہ ثبوت حاصل ہو سکا کہ وہ پاکستان کی سرحد پار کر کے بھارت میں داخل ہوئے۔ بھارت کی اپنی انکوائری اور تفتیش ابھی تک مکمل نہیں ہوئی لیکن پاکستان کو الٹی میٹم دئیے جا رہے ہیں کہ اگر اس نے بھارت کے مہیا کردہ ”شواہد“ کی بناء پر کچھ گرفتاریاں نہ کیں تو امن مذاکرات ختم کردیئے جائینگے۔ ابتدائی تفتیش میں پاکستان نے ان ٹیلی فون کالوں کے متعلق ان اطلاعات کوبے بنیاد قرار دیا ہے کہ یہ نمبر پاکستان میں رجسٹرڈ تھے۔
لیکن بھارت اپنے ناٹک کا ڈراپ سین تیار کر رہا ہے کہ اس نے پاکستان کیساتھ مذاکرات کی کوشش کی لیکن پاکستان دہشت گردی کا مرتکب ہو ا۔ لہٰذا اس کہ ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ یہ انتہاء بھونڈا ناٹک ہے جس کے ذریعہ دنیا کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکا نہیں جا سکتا۔
وقت اشاعت : 2016-01-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں