بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
فلسطین کا دُکھ اسرائیل سے یاری
یہ ہے کہ عالمی برادری کا اصل رُوپ۔۔۔۔۔۔جنگ میں واضح طور پر نظر آ رہا تھا کہ اسرائیل جان بوجھ کر معصوم بچوں اور مریضوں کر قتل کررہا ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ماضی میں بھی اس طرح کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
مصنف : سید بدر سعید
اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر حملے اور ہزاروں بے گناہ افراد کی شہادتوں کے بعد بالآخر عالمی برادری خصوصاََ اقوام متحدہ نے اس سلسلے کو ختم کرنے کیلئے کوششوں کو کہہ دیا اور اسرائیل کو جنگی مجرم قراد دینے کے باوجود اُس سزا دینے کا فیصلہ ہوا۔ مگر مچھ کے آنسو بہانے والی اقوام متحدہ نے غزہ کی تعمیر نو میں مدد کا اعلان تو کیا ہے لیکن ایسا کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا جس کی مدد سے اسرائیل کو مستقبل میں فلسطین پر حملوں سے روکا جاسکے۔
یہ عالمی برادری کا دوغلا رویہ ہے جو سب پر عیاں ہو چکا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے اسرائیل نے فلسطین میں جس بربریت کا مظاہرہ کیا ہے وہ ساری دنیا دیکھ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مبصرین اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہو ا ہے۔ اُس نے نہ صرف فلسطین میں موجود اقوام متحدہ کے سکولوں پر بمباری کر کے اُنہیں تباہ کیا بلکہ ہسپتالوں پر بھی بمباری کی۔
اس جنگ میں واضح طور پر نظر آ رہا تھا کہ اسرائیل جان بوجھ کر معصوم بچوں اور مریضوں کر قتل کررہا ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ماضی میں بھی اس طرح کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔اسرائیل بے بنیاد الزامات لگا کر نہتے فلسطینیوں کو قتل کرتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کی جاری جنگ میں شہریوں کے ” احمقانہ اور بلا جواز“ قتل کو روکا جائے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کاکہنا ہے کہ اس جنگ میں اصل مجرم فلسطین ہے۔ ایسے بیانات بھی ریکارڈ پر ہیں کہ جن کے مطابق ان عالمی لیڈروں کاکہنا ہے فلسطینیوں کو اسرائیل پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور موجودہ صورتحال میں اسرائیل مظلوم جبکہ فلسطین قصور وار ہے۔ اب بان کی مون کا یہ کہنا کہ شہریوں کے ”احمقانہ“ اور ”بلا جواز“ قتل کو روکا جائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس جنگ میں اصل مجرم کون ہے۔
فلسطین اور اسرائیل کی اس جنگ میں شہریوں کا قتل عام کس نے کیا، وہ ساری دنیا دیکھ چکی ہے۔
گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں193 رُکن ممالک سے خطاب کرتے ہوئے بان کی مون نے کہا کہ ” دنیا غزہ کی تعمیر نوکا بھاری بھر کم کام کرنے کیلئے آگے بڑھے اور مدد کرے۔“ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اسے دوبارہ تعمیر کریں گے البتہ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ”غزہ کی یہ تعمیراب آخری بار ہوگی۔
“ بان کی مان کا کہنا تھا کہ ”تباہی کا یہ سلسلہ اب رُک جانا چاہیے۔ بان کی مون نے اپنے خطاب میں یہ نہیں بتایا کہ اس تباہی کے اصل ذمہ دار اسرائیل کو سزا کون دے گا اور یہ سزا کب عمل میں آئے گی۔ اس کے برعکس بان کی مون کے لہجہ سے واضح تھا کہ وہ بھی فلسطین کو ہی قصور وار سمجھتے ہیں اور اسرائیل کے جرائم پر آواز بلند کرنا اُن کے بس میں نہیں ہے۔
اُنہوں نے کہا پائیدار جنگ بندی کیلئے غزہ میں اسلحہ کی سمگلنگ ، راکٹ فائرنگ ، راہد اربوں کا کھولا جانا، اسرائیل کے محاصرے کے خاتمے بہت سمیت غزہ کو فلسطین کی مشترکہ حکومت کے تحت لانا ضروری ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے شعبے کے سربراہ کیونگ وانگ نے کہا : ”اقوام متحدہ اور اس کے پارٹنرز نے غزہ کے 5 لاکھ متاثرین کیلئے فوری طور پر 367 ملین ڈالرز کی امداد کی اپیل کی ہے ۔
ان کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی مجموعی آبادی 18 لاکھ ہے جس کے ایک چوتھائی سے زائد افراد کو بے گھر ہونا پڑا جبکہ 65000 افراد کے نہ صرف گھر تباہ ہوئے بلکہ وہ بمباری کی وجہ سے ہر چیز سے محروم ہو گئے۔ اس جنگ میں اسرائیل نے 144 سکولوں کو بھی تباہ کر دیا۔ اسی طرح غزہ کے ایک تھائی ہسپتال بھی تباہ کر دیئے گئے۔ بنیادی صحت کے 14 مراکز سمیت 29 ایمبولی نسوں کو بھی تباہ کیا گیا۔
اس تباہی کی وجہ سے دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو پانی اور بجلی سے محروم ہونا پڑا۔ اسی طرح سیوریج کا نظام تباہ ہو گیا۔ خوراک کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے ۔ اب تک 20 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بچے، خواتین، بزرگ سبھی شامل ہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل کی تمام ترفداری کے باوجود بان کی مون بھی کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ’اسرائیل کے دفاع کے حق کو اقوام متحدہ تسلیم کرتی ہے لیکن جو تباہی غزہ کے لوگوں پر مسلط کی گئی اُس نے بین الاقوامی قانون اور عام شہریوں اور لڑنے والوں میں فرق کے حوالے سے سنجیدہ سوال اُٹھا دیئے ہیں۔
جنرل اسمبلی میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے شعبے کی سربراہ نیوی پیلے نے بھی کہا کہ ” شہریوں، ان کے گھروں، سکولوں اور ہسپتالوں پر ہر حملہ بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس کی لازماََ مذمت کی جانی چاہیے۔ “ اُنہوں نے اپنے ویڈیو لنک کے خطاب میں تقابل کرتے ہوئے کہا اس جنگ کے دوران اب تک 1900 فلسطینی لقمہ اُجل بنے (یہ تعداد اب مزید بڑھ چکی ہے) جن کی غالب اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے۔
اس کے مقابلے میں اسرائیل کے 64 فوجی اور تین شہری بلاک ہوئے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ غزہ کہ اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد عالمی ادارے اور اقوام متحدہ جو ہمدردی جتا رہے ہیں وہ مگر مچھ کے آنسووٴں کے مترادف ہیں۔ اس بربریت کے بعد نہ تو اسرائیل پر کوئی پابندی لگائی گئی اور نہ ہی کوئی اور سزا دینے کی بات ہوئی۔ اَلمیہ یہ ہے کہ ابھی تک کوئی ایسا لائحہ عمل بھی طے نہیں کیا گی جس کے نتیجے میں اسرائیلی بربریت کولگام دی جاسکے۔
اسرائیل کو فلسطین پر حملے سے روکنے کیلئے بھی کچھ نہیں کیا گیا۔ دیگر الفاظ میں اسرائیل کیلئے اب بھی دورازے کھے رکھے گئے ہیں کہ وہ مستقبل میں پھر اسی طرح فلسطین کو آگ و خون کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتاہے۔ یہ عالمی برادری اور نام نہاد انسانی حقوق کے ٹھیکے دارروں کا اصل چہرہ ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-05

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان