بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نواز ‘مودی ملاقات دو طرفہ تعلقات پر اثرات؟
بھارت کے نومنتخب وزیر اعظم نریندرمودی کی تقریب حلف برداری میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی شرکت ، دونوں ملکوں کی پوری سفارتی تاریخ میں ایک منفرد واقعہ ہے۔ سفارتی و سیاسی اعتبار سے یہ غیرمعمولی پیشرفت بھی ہے
سہیل عبدالناصر:
بھارت کے نومنتخب وزیر اعظم نریندرمودی کی تقریب حلف برداری میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی شرکت ، دونوں ملکوں کی پوری سفارتی تاریخ میں ایک منفرد واقعہ ہے۔ سفارتی و سیاسی اعتبار سے یہ غیر معمولی پیش رفت بھی ہے کیونکہ ایک طرف مودی پوری انتخابی مہم کے دوران پاکستان مخالف ماحول کو گرماتے رہے اور الیکشن جیتنے کے بعد توقع نہیں کی جا رہی تھی کہ وہ دیگر سارک سربراہان سمیت وزیر اعظم پاکستان کو دورہ دہلی کی دعوت دیں گے۔
مودی کو اس دعوت پر شکست خوردہ کانگرس اور اپنے انتخابی اتحاد کی دیگر انتہا پسند ہندو جماعتوں کی طرف سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف کیلئے بھی مودی کی دعوت قبول کرنا آسان کام نہیں تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ آج ہی اس دعوت نامہ کے بارے میں فیصلہ کر لیا جائے گا لیکن حکومت کو فیصلہ کرنے میں مزیدچوبیس گھنٹے لیے۔
ملک کے اندر تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت،وجہ تاخیر بنی۔ تمام آراء طلب کرنے کے بعد فیصلہ وزیر اعظم نے خود کرنا تھا۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ ہم نے اپنی رائے وزیر اعظم کو دے دی ہے اب فیصلہ وہ خود کریں گے۔ مشاورت کے سلسلہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی لاہو رمیں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ ملاقات سب سے اہم تھی جس کے اگلے ہی روز وزیر اعظم کی دہلی روانگی کا سرکاری اعلان کر دیا گیا۔

پاکستان نے مشروط طورپر مودی کی طرف سے دعوت قبول کی۔اس تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہونے کے بعد دہلی کو آگاہ کر دیا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان کی تقریب میں شرکت اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب دوطرفہ تعلقات کے اعتبار سے یہ دورہ نتیجہ خیز ثابت ہو۔ اور یہ اسی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے جب دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کی الگ سے دو طرفہ ملاقات ہو، معطل شدہ مذکراتی تسلسل کی بحالی کاامکان پیدا ہو۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں تو مجوزہ ملاقات کا تفصیلی ایجنڈا بھی دے دیا تھ۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ اگر دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کی ملاقات ہوتی ہے تو اس میں مسئلہ کشمیر کے حل،آبی تنازعات ،سیاچن و سرکریک جیسے مسائل کو حل کرنا، تجارتی تعلقات کو فرو غ دینا،انسداد دھشت گردی اورعوامی رابطوں کو فروغ دینے جیسے امور زیر غور آئیں گے۔
یہ تمام موضوعات دراصل دونوں ملکوں کے درمیان اس معطل شدہ جامع مذاکرات کے آٹھ نکات ہیں جسے اب بھارت جامع مذاکرات کا نام لینے سے بھی کتراتا ہے۔
وزیر اعظم کے وفدمیں مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کی شمولیت یہ واضح کرنے کیلئے کافی ہے کہ نئی دہلی کے اس دورہ کیلئے پاکستان کی شرائط تسلیم کی گئیں اور یہ محض مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں ہو گی بلکہ اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے سربراہان دوطرفہ تعلقات کے موضوع پر بھی غور کریں گے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں وزراء اعظم کی ملاقات کے بعد خارجہ سیکرٹری بھی باہم ملیں گے اور معطل شدہ مذاکراتی عمل کی بحالی کیلئے کوئی اعلان کیا جا سکتا ہے۔
مذکورہ تقریب میں شمولیت کیلئے دہلی سے دعوت اسلام آباد کیلئے قدرے غیر متوقع تھی اسی لئے دفتر خارجہ نے فوری طور پر دعوت کا خیرمقد م نہیں کیا بلکہ یہ کہاکہ اس دعوت نامہ پر غور کیا جا رہا ہے۔
اسی دوران سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے بھی کوئی ردعمل نہیں دیا۔ تاہم جب وزیر اعظم کے دورہ دہلی کا حتمی اعلان کر دیا گیا تو سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیا۔پیپلزپارٹی،تحریک انصاف، جے یو آئی اور اے این پی نے مجوزہ دورہ دہلی کے فیصلے کو سراہا۔جماعت اسلامی نے دورہ پر تنقید کی جب کہ جماعت الدعوة جیسی تنظیموں نے اس فیصلے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے کی کوشش کی۔
بھارت میں بھی صورتحال ملی جلی تھی۔ بھارتی میڈیا شدت سے اسلام آباد کے جواب کامنتظر تھا اور کہا گیا کہ وزیر اعظم نواز شریف اس تقریب حلف برادری کے غیر اعلانیہ خصوصی مہمان ہوں گے جب کہ سری لنکا کے صدر کو بھی اہمیت حاصل ہو گی۔
مودی بھاری اکثر یت کے ساتھ جیت کر تو آ گئے ہیں لیکن حکومت کرنا ان کیلئے ایک چیلنج ثابت ہو گا۔ سب سے پہلے تو انہیں خود کو ایک مدبر حکمران ثابت کرنا ہو گا جو محض ایک ہندو قوم پرست جماعت کا راہنماء نہیں۔
مودی نے اس جانب پیشرفت شروع کر دی ہے اور انتخابی نعروں اور ماحول سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا ہے کہ ان کا اصل کام مندر بنانا نہیں بلکہ بیت الخلاء بنانا ہے جس کی بھارت کی غریب آبادی کو اشد ضرورت ہے۔ انتخابات کے دوران ان کی پاکستان مخالف تقاریر کو دیکھا جائے تو انہیں وزیر اعظم نواز شیرف کودورہ دہلی کی دعوت نہیں دینی چاہیے تھی لیکن یہاں بھی انہوں نے ماضی کے طرزعمل سے رجوع کرتے ہوئے ایک دلیرانہ پیشرفت کی۔
مودی کیلئے سہولت یہ ہے کہ بطور وزیر اعظم وہ اپنے باس خود ہوں گے اور انہیں فیصلوں کیلئے کسی کی خوشنودی درکار نہیں ہو گی۔ اس کے برعکس من موھن سنگھ دو بار بھارت کے وزیر اعظم رہے لیکن سیاسی طور پر وہ سونیا گاندھی کے دست نگر تھے۔من موھن دبو اور کمزور شخصیت کے مالک تھے جس کا پاک بھارت تعلقات کو شدید نقصان ہوا۔ اٹل بہاری واجپائی نے مخالفت کی پروا کئے بغیر مینارپاکستان کا دورہ کیا تھا لیکن من موھن سنگھ اس سیاسی جرات سے عاری تھے۔
پورے بھارت کامیڈیا کہہ رہا ہے کہ منموھن سنگھ دلی خواہش کے باوجود بی جے پی کے خوف سے پاکستان نہیں گئے۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستان کے سابق آمر پرویز مشرف نے چار نکاتی فارمولہ کے ذریعہ انہیں مسئلہ کشمیرکا جو حل پیش کیا وہ پورے کشمیر کو بھارت کی جھولی میں ڈالنے کے مترادف تھا لیکن من موھن سنگھ اس موقع سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے۔مودی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مضبوط قوت ارادی کے مالک اور خود فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ورہیں۔
چنانچہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ان کے دورمیں دونوں ملکوں کے تعلقات میں کوئی جوہری تبدیلی نہ سہی لیکن بتدریج بہتری کا عمل شروع ہو سکا ہے۔ رہی مودی کی ہندو قوم پرستانہ سوچ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ سر تا پا ایک متعصب ہندو راہنماء ہیں لیکن ان کے سامنے تلخ حقائق ہیں۔ پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اب گجرات کے وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ بھارت کے وزیر اعظم ہوں گے۔
وہ بھارت کے کارپوریٹ سیکٹر کے کندھوں پر سوار ہو کر ایوان اقتدار تک پہنچے ہیں۔اس سیکٹر کے فائدہ کیلئے اب انہیں ملک کے اندر تجارت و سرمایہ کاری کیلئیے سازگار ماحول پیدا کرنے پڑے گا۔پڑوسیوں بالخصوص پاکستان کے خلاف اشتعال کو فروغ دے کر اور جنگجویانہ پالیسیاں اختیار کر کے وہ یہ منزل حاصل نہیں کر سکتے۔اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے انہوں نے وزیر اعظم نواز شیرف سمیت سارک سربراہان کو نئی دہلی مدعو کیا۔
بھارت کا تنازعہ صرف پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ سری لنکا کے ساتھ بھی انکے تعلقات معاندانہ ہیں۔مودی کو اپنی طاقتور شخصیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے ہوں گے۔اگر وہ آر ایس ایس کے نعروں کے اسیررہے تو بھارت من موھن سنگھ کے دور سے بھی پیچھے چلا جائے گا۔
نریندرامودی یا ان کی ٹیم میں خارجہ تعلقات کا کوئی ماہرنہیں۔
بھارت کے دو وزرائے اعظم سیماراؤ اور اٹل بہاری واجپائی پہلے وزیر خارجہ بنے بعد ازاں انہیں وزیر اعظم بننے کا موقع ملا۔ اس سے پہلے پنڈٹ نہرو خارجہ پالیسی کی خود تشکیل کرتے تھے جب کہ اندرا گاندھی کو پارتھا سارتھی سمیت نامورماہرین کا ساتھ حاصل تھا۔ مودی کی اس خامی کے برعکس نواز شریف دو بار پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔انہیں بھارت کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ سرتاج عزیز جیسے جہاندیدہ ان کے مشیر برائے خارجہ امور ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ مودی خارجہ پل پالیسی کے بارے میں اپنی ٹیم کا کس طرح انتخاب کرتے ہیں اور خارجہ تعلقات بالخصوص پاکستان جیسے پڑوسیوں کے ساتھ مراسم کے ضمن میں کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-28

(0) ووٹ وصول ہوئے