تازہ ترین : 1
Naqus Security

ناقص سکیورٹی

یورپ میں نائن الیون کا خطرہ نئے سال کی آمد کو محض دو ہفتے ہی گزرے ہیں مگر پیرس کے ایک پولیس سٹیشن پر حملے کی کوشش نے ایک مرتبہ پھر یورپ میں تشویش کی لہردوڑادی ہے۔

Michel Moutot :
نئے سال کی آمد کو محض دو ہفتے ہی گزرے ہیں مگر پیرس کے ایک پولیس سٹیشن پر حملے کی کوشش نے ایک مرتبہ پھر یورپ میں تشویش کی لہردوڑادی ہے۔ انسداددہشت گردی آفیشل 2016 میں یورپ میں دہشت گردی کے زیادہ سنجیدہ خطرات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ نومبر ہونے والے پیرس حملوں میں 130 افراد داعش کے شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ زخم ایک ایسے گروپ کے ہاتھوں اٹھانے پڑے جن کے پاس کلاشنکوف رائفلز تھیں لیکن ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ محض آغاز ہے۔ یورپ میں آنے والے دنوں میں نائن الیون کا واقعہ دوبارہ پیش آسکتا ہے۔ انسداد دہشت گردی کے ایک یورپی ماہر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس حوالے سے 2015 نقطہ آغاز ثابت ہوچکا ہے ۔ایک ہی دن بیک وقت کئی ممالک اور مختلف مقامات پر حملے کئے گے جس کا مطلب یہ ہے کہ یورپ نائن الیون کی جانب بڑھ رہا ہے۔
یہ حملے انتہائی منظم انداز میں کئے گے۔ انتہا پسند ان حملوں کے لیے کافی عرصے سے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اس مقصد کے لیے یورپی نوجوانوں کو استعمال کیا گیا۔ داعش نے شام اور عراق میں ہونیوالے یورپی نوجوانوں کو تربیت اور بھرتی کر کے انہیں واپس ان کے ممالک بھجوا کر انہیں نشانہ بنا رہاہے ۔ ان یورپی نوجوانوں کے پاس نقلی سفری دستاویزات، زبان کی مہارت، سائٹس اور اسلحہ بھی ہوتا ہے ۔
ان میں سے کئی افراد کورو کابھی کیا ،مگر چند یورپ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گے اور کئی پہلے سے ہی یہاں موجود ہیں۔ حال ہی میں عراق اور شام سے واپس آنے والے جہادیوں کی گرفتاریاں کی گئی ہیں یورپی نوجوانوں کی سوچ میں واضح تبدیلی آرہی ہے۔ قدامت پسند سوچ کے حامل نوجوان داعش کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ اس ساری صورتحال پر فوری ردعمل کی ضرورت ہے۔
یورپی یونین کو (داعش) ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جو سویلین ہلاکتوں پر خوش ہوتا ہے اور معصوم شہریوں کا خون بہانے میں ذرا بھی پشیمان دکھائی نہیں دیتا۔ فرانس کی سیکورٹی کو بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ انہیں سیکورٹی کے عمل کو تیز بنانے کی ضرورت ہے۔ایلیٹ پولیس فورس کے سربراہ کرنل ہیوبرٹ بونیو کا کہنا ہے کہ کوئیک ایکشن فورسز کی جانب سے ہمیشہ تاخیر برتی جاتی ہے جس میں تیزی لانے کی اشد ضرورت ہے۔
باٹاکلین میں 90 افراد کی ہلاکت محض 20 منٹوں میں ہوگئی تھی جو یورپی یونین اور خاص طور پر فرانس کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ 13 نومبر کو پیرس کنسرٹ ہال میں ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے اس نے مزید کہاکہ پولیس کو کنسرٹ ہال میں برپا ہونے والے دہشت گردی کے حملے سے نمٹنے کے لیے عمارت میں شدت پسندوں کی پوزیشن کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے اڑھائی گھنٹے لگے۔
اس نئے طرز کے خطرے کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔ اب نئے حالات میں سکیورٹی کو ازسر نو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے یورپی یونین کو مشترکہ فورس تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ داعش کے خطرے پر قابو پایا جاسکے۔فرانس دہشت گردی کے حملوں میں مغوی بنانیوالے داعش کے لوگ پرانی وضع قطع کے لوگ تھے جو سکیورٹی فورسز کی صلاحیت میں کمی کا سبب بنے۔
اگر اس وقت فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی تو ممکنہ طور پر زیادہ افراد دہشت گردی کا نشانہ نہ بنتے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ داعش کے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ایک سرجیکل آپریشن کی ضرورت ہے۔ یہی وہ سبق ہے جو 13 نومبر کے حملوں سے اخذ کیاجا سکتا ہے۔ پیرس حملوں کو محض نائن الیون کی ریہر سل کہا جا رہاہے۔ پوری ممالک کے لیے دہشت گردی کے یہ منصوبے نئے نہیں ہیں اور انہیں کئی مرتبہ پہلے ناکام بنایاگیا۔
بشمول اگست 2010 میں فرانس ڈی جی ایس سی انٹیلی سروس نے اس کا عملی مظاہرہ کیا۔ تب القاعدہ بھی وہاں موجود تھی۔ انٹیلی جنس ٹیموں نے مشرقی یورپ میں پہلے سے موجود بارودی مواد کو دریافت کیا جن میں ہینڈ گن اور رائفلز بھی شامل تھیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں تعطل لانے میں امریکیوں نے اہم کردار ادا کیا جس کے لیے افغانستان میں ڈرون حملوں کے ذریعے دہشت گردی کے کیمپوں کونشانہ بنایا گیا جہاں ممکنہ طور پر دہشت گردی کے لیے نوجوانوں کو تربیت دی جا رہی تھی۔
ٹروٹیگنون کا کہنا ہے کہ 2016 میں ہونے والے ملٹی پل حملے اس کا تسلسل ہیں۔یورپی دارالحکومتوں خاص طور پر لندن سپیشل سروسز اس تھیوری پرکام کر رہی ہے۔ پولیس، ملٹری اور انٹیلی سروسز خطرات میںآ نے والی تبدیلی کو مہارت سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں۔ دوسری جانب بھی زیادہ موثر اور تیز رفتار طریقہ کار اختیار کئے جا رہے ہیں۔ اس سارے عمل سے حاصل ہونے والا سبق یہ ہے کہ موبائل فونز اور سوشل ویب سائٹ پر کڑی نظر رکھی ہے جائے جو مخفی حملہ کرنے والوں کا ایک اہم ہتھیار ہے۔
وقت اشاعت : 2016-01-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں