تازہ ترین : 1
Muhaagreen Ka Buhran

مہاجرین کابحران

یورپ ہجرت کرنے والے سسک سسک کرمررہے ہیں

ترکی کے ساحلی علاقے ایجیئن پر 34شامی مہاجرین کی نعشیں ملی ہیں۔ ان میں کم ازکم سات بچے بھی شامل ہیں۔بظاہریہ معلوم ہوتاہے کہ لوگ یونان کے جزیرے لیس بوس کے پار جانے کی کوشش کررہے تھے۔ شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث تباہی وبربادی شہریوں کامقدربن چکی ہے اور وہ اپنی جانوں کو محفوظ بنانے کے لئے یورپ ہجرت کرنے پرمجبور ہیں۔ اس بارے میں یہ کہاجارہاہے کہ تقریباََ ایک ملین کے قریب افراد ایجیئن کراس کرچکے ہیں یاوہ اسے عبورکرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔
مہاجرین کی بڑی تعداد سمندرمیں ڈوب رہی ہے۔ مذکورہ تازہ ترین واقعہ کے حوالے سے درست اعدادشمار پیش نہیں کئے جاسکتے کہ ڈوبنے والی کشتی پرکتنے لوگ سوارتھے۔ ان میں سے 24نعشیں ترکی کے ضلع ایوالک کے ساحل پر پائی گئیں جبکہ دیگر نعشیں ضلع ڈکلی کے قرب وجوارمیں ملیں۔ کوسٹ گارڈزاور مقامی پولیس کے اہلکاروں نے12افراد کو سمندر اور ایوالک کی ساحلی پٹی پرموجود چٹانوں سے ریسکیوکیاجبکہ مزید مہاجرین کی تلاش جاری ہے۔
ایوالک کے گورنر نامک کمال نازی کاکہناہے کہ یہ انسانیت کے خلاف بہت بڑا جرم ہے۔ ان کااشارہ ان لوگوں کی جانب تھا جومہاجرین کی یورپ سمگلنگ کے دھندے میں ملوث ہیں اور وہ لوگوں کومرنے کیلئے سمندرکی جانب دھکیل دیتے ہیں۔ گورنرکاکہناتھاکہ تقریباََ 50 سے 60 مہاجرین جن کاتعلق عراق’ شام اور الجیریا سے تھا اور وہ سمندر میں دوکشتیوں پر سوارتھے، کے ساتھ یہ المناک حادثہ پیش آیا۔
مرنے والوں میں 2چھوٹی بچیاں اور 5چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔ مہاجرین اور پناہ گزین کاترکی کے راستے یونان جانے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ تقریباََ 2500افراد براستہ ترکی یونان داخل ہو رہے ہیں۔ انٹرنیشنل آرگنائریشن آف مائیگریشن کے ترجمان، جوئیل میکملن، کاکہناہے کہ مہاجرین کوسخت اورشدید سردی کے موسم میں بہت زیادہ تکالیف کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔
بہت سے مہاجرین موسم کی شدت کے باعث بیمارہوکرمرجاتے ہیں جبکہ اکثر سمندرمیں حادثہ پیش آنے کے بعد ڈوب کرمررہے ہیں۔ آئی او ایم کی جانب سے پیش کئے جانے والے اعدادوشمارکے مطابق گزشتہ برس 3771مہاجرین یورپ کی جانب ہجرت کے دوران بحیرہ روم عبور کرتے ہوئے مارے گئے۔ اس سے قبل 2014ء میں 3279 افراد جاں بحق ہوئے تھے یعنی 2015ء میں 2014ء نسبت زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
گزشتہ برس نومبر میں ترکی اور یورپ یونین میں یہ معاہدے چے پایاتھاکہ وہ یورپ آنے والے مہاجرین کی مدد کرے گا اور اس کے بدلے میں یورپ ترکی یورپی یونین میں شمولیت پربات چیت کرے گا۔ ترکی میں تقریباََ 2.2ملین شامی مہاجرین رہ رہے ہیں اور وہ ان پر 8.5ارب ڈالرزخرچ کرچکا ہے۔ یہ رقم ان کے کھانے اور رہائش پرصرف کی گئی ہے اور یہ گزشتہ پانچ برسوں میں صرف ہوئی جب شام میں خانہ جنگی شروع ہوئی۔
یہاں رہنے والے مہاجرین کاقانونی طور پر کام کرنے کاحق حاصل ہے اور نہ ہی بچوں کی اکثریت سکول جاتی ہے۔ عالمی قوتوں کے درمیان جاری چپقلش اور کشمکش کے باعث شام تباہی و بربادی کے ڈھیر کی شکل اختیارکرچکاہے اور اس کے شہری دربدرکی ٹھوکریں کھانے اور سسک سسک کر مرنے پرمجبور ہوچکے ہیں اور اس کی تمام ترذمہ داری امریکہ یورپ اور بعض اسلامی ممالک پرعائد ہوتی ہے۔ جنہوں نے اپنے مفادات کی خاطر شام کومیدان جنگ بنادیااور دنیا کوجنگ عظیم دوئم کے بعد مہاجرین کے بڑے مسئلے کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔
وقت اشاعت : 2016-01-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں