تازہ ترین : 1
Motasib Budhuoon Ki Musalmanoon K Khilaf Inteqami Karwaiyaan

متعصب بُدھوں کی مسلمانوں کیخلاف انتقامی کارروائیاں۔۔۔۔

برما میں انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی برادری کی خاموشی لمحہ فکریہ! بلوائیوں کے ہاتھوں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام نے ظلم و بربریت کی ایک مثال قائم کر دی

محبوب احمد :
برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا سن کر روح کانپ اٹھتی ہے ۔ پوری دنیا میں مسلمانوں پر روح فرسا مظالم ڈھائے جا رہے ہیں لیکن برما میں ہونے والے مظالم کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ روہنگیا مسلمانوں کا ایک مدت سے استحصال کیا جا رہا ہے، مسلمانوں کے خلاف عالمی پراپیگنڈے سے فائدہ اٹھا کر متعصب بدھسٹ برما سے مسلمانوں کا صفایا کرنا چاہتے ہیں۔
برما میں مسلمانوں کے خلاف مظالم اور وحشتوں کا وہ سلسلہ شروع ہے کہ جو رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ حکومت اور فوج کی سرپرستی میں برما کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ عالمی میڈیا، یواین اوسمیت انسانی حقوق کی ٹھیکیدار بین الا قوامی تنظیمیں جو جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے شور مچاتی نظر آتی ہیں۔ آج برما میں ہونیوالے ظلم و ستم انہیں نظر نہیں آرہے ۔
عالمی برادری اوران کے نام نہاد تنظیموں نے ان مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ مسلمانوں کے معاملے میں اقوام متحدہ نے بھی ہمیشہ دوغلا کردار ادا کیا ہے۔ دنیا کی ہر تہذیب وتمدن میں اور ہر مذہب وملت میں انسان کے لیے کچھ حقوق معین کئے گئے ہیں لیکن انسانی حقوق کی جو تصویر اسلام نے پیش کی ہے وہ کہیں نظر نہیں آتی، اس لیے کہ جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں اور اسلامی رہنماوٴں کی پاک وپاکیزہ زندگیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ اسلامی تعلیمات میں تمام چیزوں کے حقوق بیان کئے گئے ہیں حتیٰ کہ بے زبان جانوروں ، پیڑپودوں، پھولوں، پھلوں اور ٹھوکروں میں آنے والے پتھروں تک کے حقوق اسلام نے بیان کئے ہیں، پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ اشرف المخلوقات انسان کو یونہی چھوڑ دیا گیا ہو۔
دنیا میں بہت سے گروہ اور افراد ایسے ہیں کہ جوعام تہذیبوں میں پائے جانے والے حقوق انسانی کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور انہیں پیروں تلے روندتے ہیں، ایسی ہی کچھ حالت آج کل برما میں دکھائی دے رہی ہے۔ جہاں بلوائیوں کے ہاتھوں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام نے ظلم و بربرست کی ایک مثال قائم کر دی ہے ۔ برما کی تاریخ کئی ہزار سال پرانی ہے۔
اس قدیم سلطنت کاجدید نام میانمار ہے۔ برما میں تیل ، گیس ذخائر اور قیمتی پتھر کی بہتات ہے ۔ یہ ملک علاقے کے لحاظ سے جنوب مشرقی ایشیاء کی دوسری بڑی ریاست ہے ۔ بحر ہند کے شمال مشرقی کونے میں واقع دنیا کی اس سب سے کشادہ خلیج کو کہتے ہیں جس کے دلربا مشرق کنارے کی 1930ء کلومیٹر لمبی اور 2سو کلو میٹر گہری ساحلی پٹی برما کیلئے بحرہندمیں تجارت اور بے پناہ سمندری حیات سے مستفید ہونے کے مواقع میسر کرتی ہے۔

روہنگیا اور دوسری اقلیتوں کے خلاف برما میں عدم تشدد کے پرچاری بدھ مت کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل عام کی داستان مسلسل آج کی جدید اورانسانی حقوق کی علمبرداری کی عویدار دنیا کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ عام لوگوں کے مذہب، نسل، زبان، عقیدے، علاقے کی بنیاد پر نہایت ظالمانہ طور پر ہلاک کرنے کے انداز ظاہر کرتے ہیں کہ ان علاقوں میں انسانیت کی ارتقائی ترقی دوسرے ممالک سے ابھی بہت پیچھے ہے۔
برما میں روہنگیا اور دوسری اقلیتوں کی نسل کشی کی مسلسل تاریخ چلی رہی ہے ۔ بھارت میں بھی اقلیتوں کو جلا کر یا تشدد سے ہلاک کرنا معروف مشغلہ ہے ۔ برما میں انسانیت سوز مظالم کی داستان جو مسلمانوں کی نسل کشی سے متعلق ہے کا اندازہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی مسلمانوں کو قبروں میں زندہ دفن کیا گیا۔ قتل عام میں سکیورٹی ادارے بھی شامل رہے ۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق کئی علاقوں میں اجتماعی قبریں بھی ملی ہیں جن میں مدفن افراد کے ہاتھ ار پیر بندھے ہوئے ملے ۔1948ء سے لے کر اب تک برما میں مسلمانوں کے خلاف ملک کے اندر ایک درجن سے زائد بڑے فوجی آپریشن ہوچکے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف 1948 میں ہونے والے سب سے پہلے آپریشن (B.T.F) میں 30ہزار سے زائد مسلمانوں کے ظالم بدھوں نے قتل کر دیا تھا۔
2001میں ہونے والے آپریشن میں سینکڑوں مسلمان شہید اور سینکڑوں گرفتار کر کے اغواء کے کرلئے گئے، جن کا آج تک کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ 1991سے 2001تک مختلف فوجی آپریشنز میں 18سو سے زائد گاوں جلا دیئے گئے۔ 200 سے زائد مساجد کو شہید کر کے اس جگہ پر گھوڑوں کے اصطبل اور فوجی مراکز بنا دیئے گئے۔ 1984میں2سو ایسے خاندان جو ہجرت کر کے سمندری سفر کر رہے تھے فوج نے ان کی کشتیاں الٹ دیں جس سے یہ 200خاندان صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔
1978میں 3ہزار سے زائد مسلمانوں کے 20سربراہوں کو زندہ دفن کر دیا گیا، اسی سال ایک مسجد سے 120خواتین کی نعشیں ملیں ۔ اپریل 1948 میں مسلمانوں کے خلاف بودھ عوام نے مظالم کا جو سلسلہ شروع کیا تھا صرف ضلع اکیاب میں بدھسٹوں کے ہاتھوں 8ہزار مسلمان شہید کر دیئے گئے۔ اپریل 1992میں بدھسٹوں سے مسجد پر حملہ کر کے 2سو سے زائد مسلمانوں کے شہید کیا۔ 1950کے فوجی آپریشن میں 30ہزار ، 1956کے آپریشن میں 13ہزار، 1996 کے آپریشن میں 25ہزار، 1978کے آپریشن میں 3لاکھ، 1991کے آپریشن میں 2لاکھ 25ہزار اور 96ء اور 97ء کے آپریشنز میں60 ہزار مسلمان بنگلہ دیشن ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔
ایک اندازے کے مطابق برما میں تقریبا 8لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں جنہیں حکومت شہریت دینے سے انکار کرتی ہے۔ برما میں بودھ مت مذہب سے تعلق رکھنے والے روہنگیا مسلمانوں کے بنگلہ دیش سے آئے ہوئے غیر قانونی مہاجرین سمجھتے ہیں اورا ن کو برما سے نکالنا چاہتے ہیں۔ برما میں انسانی ہلاکتوں کے حالیہ واقعات نہایت دلخراش ہیں کہ ان میں زیادہ افراد کو زندہ ہی آگ لگا کر مار دیا گیا اور کئی کو شدید تشدد سے۔
بچوں اور عورتوں کی جلی ہوئی نعشوں کے ڈھیر دورقدیم کی قتل وغارت گری کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ برما میں شامل صوبہ اراکان کے روہنگیا مسلمان برما کے تو مسلسل انسانیت سوز کار روائیوں کا نشانہ بنتے چلے آ رہے ہیں۔ افسوس در افسوس کہ جان بچا کر وہاں سے قریبی ممالک کی طرف بھاگنے والے افراد بھی بدترین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ میں ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیاجا رہا ۔
برما میں مسلمانوں پر ظلم و وحشت کا سلسلہ اور اس پر اسلام دشمن قوتوں کی خاموشی اور رضامندی کوئی نئی بات نہیں۔ جب ایک اقلیتی آبادی کو کچلنے کے لیے حکومت برسرپیکار ہو اور جس کی 25 فی صد سے زائد آبادی ہجرت پر مجبور ہو چکی ہو اور باقی آبادی فوجی سنگینوں کے رحم و کرم پر ہو تو اسے عصری تاریخ کا سیاہ المیہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس المیے کی سیاہی اس وقت اور بھی زیادہ ہوجا تی ہے جب انسانی حقوق او جمہوریت کے عالمی علمبرداروں اور ٹھیکیداروں کے اس سنگین انسانی مسئلے پر کوئی حرکت کرتے ہوئے نہ دیکھا جائے۔
4جنوری 1948کو جب برما نے انگریزوں سے برائے نام آزادی حاصل کی اور وہاں بدھسٹوں کی حکومت قائم ہو گئی ( درحقیقت اب بھی امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی غلام حکومت ہے اور برما کی حکومت جو کچھ بھی کرتی ہے انہیں کے حکم پر کرتی ہے ) پورے برما خصوصاََ اراکان میں بھی روہنگیا نامی قبیلے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں پر بدھسٹوں کی جانب سے نہ تھمنے والے مظالم کاجو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ تاحال جاری ہے۔

برما میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم وستم اور زیادتیوں کا سلسلہ دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مصائب میں گھرے مسلمانوں پر برما میں عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے ۔ برما کے مسلمانوں کی نسل کشی کے معاملے میں عالمی برادری اور مغربی قوتیں مسلسل اسلام دشمنی کا ثبوت دے رہی ہیں۔ مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا ہمار دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو برما میں ہونے والے مظالم کیوں نظر نہیں آتے؟ مسلم حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ فوری طورپر برما میں مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں۔
بلاشبہ برما میں روہنگیا باشندوں پر ہونے والے قتل عام پر عالمی برادری کا مئوثر رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا اور نہ ہی مسلم اکثریتی ممالک کی طرف سے اس حوالے سے کسی مناسب ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ برما کی حکومت نے بین الاقوامی میڈیا کا داخلہ ممنوع قرار دے کر خبروں پر قد غن لگا رکھی ہے، اگر سلامتی کونسل نے برما میں جاری روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی نہ روکی اور انہوں نے خود اپنے تخفظ کے لئے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرلیا تو اس کی ذمہ داری برما حکومت پر ہو گئی۔
دنیا میں مسلمانوں کی تعداد 2ارب سے زائد ہے۔ 70فیصد معدنی ذخائر کی مالک یہ قوم انہی نااہل حکمرانوں کے تسلط کی وجہ سے غلامی کی زندگی گزار رہی ہے ۔ اب اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اسلامی دنیا کے ممالک متحدہو جائے تاکہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ روکا جا سکے۔ ان کے جان ومال کی حفاظت کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ 1982میں پاس ہونے والے شہریت کے قانون کاخاتمہ کر کے مسلمانوں کے تمام شہری حقوق دیئے جائیں۔
اقوام متحدہ سمیت عالمی امن کے نام نہاد ٹھیکیداروں کو برما میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام اور ان کو زندہ جلانے کے واقعات نظر نہیں آرہے۔ 40لاکھ سے زائد مسلمانوں کو بدترین تعصب اور دہشتگردی کا سامنا ہے۔ لاکھوں افراد اپنی جانیں بچانے کیلئے ہجرت پر مجبور ہیں مگر ان کو راستوں اور مہاجر کیمپوں سے پکڑ کر زبردستی مرتد ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے، یہاں اقوام متحدہ پر بھی بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا دوہرا معیار ترک کر کے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنا موٴثر کردار ادا کرے اور برما میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے۔
وقت اشاعت : 2014-05-07

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں