تازہ ترین : 1
Modi Ka Dora e Roos

مودی کادورہ روس

ہتھیاروں میں خود انحصاری کی جانب ایک قدم بھارتی وزیراعظم مودی کے حالیہ دورہ روس کے موقع پرسردجنگ دورروایتی حریف ایک مرتبہ پھرقریبی حلیف بن گئے ہیں۔ 2007-08ء میں بھارت نے امریکہ سے سٹرٹیجک پارٹنر کاوفاعی معاہدہ کررکھاتھا۔مودی کے حالیہ دورہ روس کے دوران نہ صرف ایٹمی ٹیکنالوجی بلکہ جنگی ہیلی کاپٹروں کی تیاری کامعاہدہ بھی طے پاگیا۔

Tomy Wilkes:
بھارتی وزیراعظم مودی کے حالیہ دورہ روس کے موقع پرسردجنگ دورروایتی حریف ایک مرتبہ پھرقریبی حلیف بن گئے ہیں۔ 2007-08ء میں بھارت نے امریکہ سے سٹرٹیجک پارٹنر کاوفاعی معاہدہ کررکھاتھا۔مودی کے حالیہ دورہ روس کے دوران نہ صرف ایٹمی ٹیکنالوجی بلکہ جنگی ہیلی کاپٹروں کی تیاری کامعاہدہ بھی طے پاگیا۔
اب بھارت کی یورپی یونین اور امریکہ کے بجائے اسلحے کی تیاری میں خود کفالت کی ویرینہ خواہش پوری ہونے کاامکان پیداہوگیا۔اس دیرینہ خواہش کی تکمیل کیلئے صدر پوٹن نے بھارت کومشترکہ مہم جوئی کی پیش کررکھی تھی جسے مودی کے دورہ روس کے دوران عملی جامہ پہنایا گیا۔ یہ مودی کافوجی ہتھیاروں میں خودانحصار کی جانب پہلاقدم ہے جومہنگے یورپی اسلحے کی درآمداور غیرملکی انحصارمیں کمی کادعویٰ کرتے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ روس،بھارت کوجنوبی ریاست آندھراپردیش میں 1200میگاواٹ کے چھ ایٹمی ریکٹربھی دے گا۔یہ ان چھ ایٹمی ایکٹر کے علاوہ ہیں جوروس تامل ناڈو میں تعمیرکررہاہے۔ مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد بھارت کااسلحے جمع کرنے کاجنون دوبارہ پکڑرہاہے جس کی وجہ سے ہمسایہ ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے۔بھارت پچھلے چارسال میں سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کرنیوالاملک بن چکاہے۔
چھوٹے ایٹمی ہیڈ وے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کیلئے روسی صدرپوٹن سے مذاکرات کے ذریعے مقامی ہتھیاروں میں خودکفایت کی جانب بھارت نے پہلاقدم اٹھالیاہے جس کی یقین دہانی روس نے بھارت کومودی کے دورے سے قبل ہی کرادی تھی۔بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے بھارت بلکہ روس کے مفادمیں بھی ہے۔روس اس معاہدے کے ذریعے اپنی کمزور معیشت کودوبارہ پاؤں پرکھڑاکرناچاہتاہے۔
اس منصوبے کے تحت روس نے مودی کو میک ان انڈیا پروگرام کی پیش کش کر رکھی تھی۔ روس اور بھارت کے سردجنگ کے دورسے قریبی تعلقات ہیں مگرحالیہ برسوں میں امریکہ سے اسرائیل نے بھارتی دفاعی مارکیٹ سے روس کونکال باہرکیاتھا۔ایک اندازے کے تحت دونوں ممالک نے بھارت کے ساتھ اگلے سات سال کے دوران 130بلین ڈالرزکااسلحہ خریدنے کے معاہدہ کررکھا ہے۔
اب صدرولادیمیرپوٹن نے بھارتی دفاعی مارکیٹ میں دوبارہ قدم جمانے کیلئے اس مقامی سطح پراسلحہ مینوفیکچر کرنے کی پیش کش کی ہے۔ناپ انڈین بیوروکریٹ امیتابن کانٹ نے تصدیق کی ہے کہ بھارت کوگلوبل مینوفیکچرنگ بیس بنانے کیلئے روس کے ساتھ دفاعی معاہدے”میک ان انڈیا“ منصوبے کے تحت معاہدے کئے گئے ہیں۔ روسی آفیشنل کاکہناہے کہ مودی کے دورہ روس کے دوران ہلکے ہیلی کاپٹرکی تیاری کی جوائنٹ مہم جوئی بھی شامل ہے جوبھارتی فوج کے ساتھ ساتھ روسی آرمی کوبھی سپلائی کئے جائیں گے۔
بھارتی ریاستی سطح پرچلائی جانیوالی ہندوستان ائروناٹک اورا نیل امبانی ریلائنس ڈیفنس اس معاہدے میں مقامی پارٹنر منصوبے کی تیاری اپرایک بلین ڈالرلاگت آئے گی۔ بھارت اپنی ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کیلئے بھی روس کی طرف جھکاؤظاہرکررہاہے تاکہ اوورسیزایندھن کے اثاثے سے معیشت کوفروغ دے سکے۔انڈین آئل کارپوریشن اور آئل انڈین دونوں ریاستی سطح پرچلانیوالے ادارے روزنیفٹ رشیاکے ساتھ سائبیریامیں آئل منصوبے کے 29فیصدسٹاک خریدنے کیلئے مذاکرات کررہے ہیں۔اس منصوبے کے عملی شکل پانے کے بعد بھارت توانائی کی ضروریات پربھی قابوپالے گا۔
وقت اشاعت : 2016-01-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں