تازہ ترین : 1
Modi Hakomat Ka Tehveel Arazi Bill

مودی حکومت کاتحویل اراضی بل

سمارٹ سٹی کے نام پر غریب کسانوں کی زمینیں ہتھیانے کا سلسلہ جاری۔۔۔ بھارتی ریاست مہاراشٹر میں جنوری 2015ء سے مارچ تک چھ سوکسانوں نے خود کشی کی

رابعہ عظمت:
میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہے میری فصل برباد ہوگئی میرے والد نے مجھے گھر سے نکال دیا اور میرے تین بچے بھوک سے مررہے ہیں۔یہ اس بدنصیب بھارتی کسان کاخط ہے جو خودکشی کرتے ہوئے موقع سے ملا۔بھارت میں کسانوں کی حالت زار کااندازہ اس ہولناک واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے جلسے میں ایک کسان نے حکومتی رویے بھوک ومفلسی سے تنگ آکر درخت سے لٹک کر خود کشی کرلی جبکہ آپ کے لیڈر کچر یوال بھی کسانوں کے مسائل پر سیاست کرتے ہی رہ گئے۔
افسوس جلسے میں شریک سینکڑوں افراداور میڈیا صرف تماشا دیکھتا رہا غریب بدنصیب کسان کی جان بچانے کے بجائے اس کی تصویریں اتارنے پر زیادہ زور دیا گیا۔بھارتی کسان گجیند رکے لٹکٹے کے وقت اور بعد میں بھی تقریریں چلتی رہیں۔کچر یوال نے بھی اپنی تقریر میں موت پر دکھ سے زیادہ سیاہی بیان بازی اور پوائنٹ اسکورنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی دراصل مودی کے تحویل اراضی بل کیخلاف کسانوں کی بڑھتی ہوئی خودکشیوں کے واقعات پر سیاست کا بازارگرم ہے۔
کسانوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے میں تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں مصروف ہیں۔ چنددن قبل کا نگریس نے بھی دہلی میں رام لیلا کے میدان میں کسان ریلی کا انعقاد کیا تھا۔راہول گاندھی نے مودی سرکار کو سوٹ بوٹ والی حکومت قراردیتے ہوئے کسانوں کے مسئلے پر اس کو آڑے ہاتھوں لیا۔عام آدمی پارٹی نے کانگریس سے زیادہ فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسانوں کے لئے معاوضے کا اعلان بھی کیا یعنی کاشتکاروں کے مسائل کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کو زیر کرنا بھارتی سیاستدانوں کا مشغلہ بن چکا ہے۔
افسوس ایک کسان نے سرعام موت کو گلے لگالیا اس پر بھی چند دن سیاست چلے گی لیکن ہوگا وہی جو مودی سرکار چاہے گی۔حیرت اس بات کی ہے کہ مذکورہ معاملہ جو سب کے سامنے وقوع پذیر ہوا اس میں بھی کسان کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں تھا۔
بھارتی لوگ سبھا میں مرکزی وزیرزراعت نے مہارا شٹر کے صرف ان تین کسانوں کا ذکر کیا جنہوں نے اپنی جانیں لیں لیکن رواں سال جنوری اور مارچ کے درمیان ان چھ سوکا شتکاروں کو بھول گئے شاید وہ حکومت کی نظرمیں تکنیکی غلطی سے مرے ہیں ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ میں صرف بھارتی ریاست مہارا شٹرمیں 601کسانوں نے خود کشی کی۔
یعنی اس حساب سے یومیہ سات کسانوں نے اپنی جان لی۔پچھلے سال2014ء میں ایک ہزار کسانوں نے خودکشی کی مگر اس سال کے ابتدائی تین ماہ میں 30فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔جس کی بڑی وجہ مودی حکومت کا کسان مخالف تحویل اراضی بل ہے جو صنعتکاروں اور کار پوریٹ طبقے کو فائدہ پہنچانے کیلئے بنایا گیاہے تاکہ غریب کسانوں کی زمینوں کو اونے پونے داموں ہتھیانے میں آسانی ہوا بھی تک مذکورہ بل کو بھارتی پارلیمنٹ سے منظوری نہیں مل سکی بل کے تعلقات کے پیش نظر اپوزیشن نے متحدہ طور پر اس بل کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔

فی الوقت بھورت کی ریاستوں اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے کسانوں کی حالت بدسے بدتر ہوتی جارہی ہے۔پہلے سیلاب اور بے موسم برسات کی وجہ سے کھیت تباہی کا منظر پیش کر رہے تھے اب حکومتی پالیسیوں نے کسانوں کو خود کشی پر مجبور کر دیا ہے جبکہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ان المناک واقعات کی لیپاپوتی میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں اور بڑی تعداد میں کسانوں کی خودکشی کو فطری موت قراردینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ انہیں کم سے کم معاوضہ ادا ئیگی ہو۔
کئی اضلاع کسانوں کو صرف1200 روپے تک کا معاوضہ ادا کیاگیا۔کسانوں کی ایک تنظیم کے مطابق کسانوں کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خودکشی کے رجحان کی وجہ انہیں ان کی محنت کا معقول معاوضہ نہ ملنا ہے جس کے باعث کسان اپنا وہ قرض ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں جو وہ کپاس کی کاشت کیلئے لیتے ہیں۔تنظیم نے مزید بتایا کہ کپاس کے لئے بہت سی کیڑے مار ادویات استعمال ہوتی ہیں بھارت میں ان ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں جس سے کسان کو اپنی فصل کیا آدھی قیمت ملتی ہے۔
جبکہ حکومت کی اس حوالے سے مدداونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔
بھارتی کسانوں کی تنظیم وداربہ جان اندلن سمیتی کے مطابق سال 2013ء سے اب ریاست مہارا شٹر میں 2900 کسان خودکشی کر چکے ہیں جن میں سے اکثر کپاس کاشت کرتے تھے۔اعدادوشمار کے مطابق 1995ء سے اب تک دولاکھ 96ہزار434 کسانوں نے خود کشی کی حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ان اعدادوشمار کوکم کرکے دکھایا گیا ہے پہلے یہاں بھارت میں کسانوں کی خود سوزی کی خبریں ریاست مہارا شٹر اور آندھراپردیش کے تلنگانہ کے علاقے سے آتی تھیں اب ان میں نئے اضلاع کا اضافہ ہوگیا ہے۔
ان میں بنڈیل کھنڈ جیسے پسماندہ علاقے ہی نہیں بلکہ ہریانہ پنجاب اور مغربی آنند پردیش جیسی ریاستیں بھی شامل ہوگئی ہیں اور اس میں مودی کا وابئر گجرات بھی شامل ہے۔تقریبأٴ پانچ برس قبل زراعت سے متعلق لاگت اور قیمت کمیشن نے بھارتی پنجاب میں کچھ واقعات کی بنیاد پرخودکشی کی وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کی تھی ۔اس میں سب سے بڑی وجہ کسانوں پر بڑھتا ہواقرض ایک اور وجہ منڈیوں میں بیٹھے ساہو کاروں کی طرف سے زیادہ سود کی شرح سے وصولی کرنا بھی ہے لیکن یہ رپورٹ بھی سرکاری اداروں میں دب کر رہ گئی ہے۔
اصل میں کھیتی باڑی میں زرعی مصنوعات کی گرتی قیمتیں بھی کسان کی مایوسی کا بڑا سبب ہے۔
پنجاب ہریانہ اور مغربی اترپردیش جیسے علاقوں میں کسانوں کی لاگت میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے اس میں سب سے زیادہ اضافہ آبپاشی کی سہولیات پر اٹھنے والے اخراجات ہیں۔تلنگانہ میں جب کاشتکاروں کی خودکشی بڑھتی تو قرض اس کی بڑی وجہ تھی۔بینکوں سے قرض نہ ملنے کی صورت میں کسان ساہو کاروں کے پاس پھنسنے لگے اور ان سا ہو کاروں کے چنگل سے نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے چنانچہ وہ موت کو گلے لگانے لگے۔

گزشتہ ایک برس میں بیشتر فصلوں کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ درج کی گئی ہیں۔ظاہر ہے اس سے کسانوں کی آمدنی میں بھی کمی ہوئی لیکن ان کی آمدنی بڑھانے کے لئے حکومتی سطح پر کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ایک سال کے اندر اندر کسانوں کو قدرتی آفات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قدرتی آفات کے بعد راجستھان ،اترپردیش،مہارا شٹر اور گجرات میں جس طرح سے کسانوں نے خود کشیاں کیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی طور پر ان کو بہت کچھ داؤپر لگا تھا جو برباد ہوگیا۔
بھارتی کسانوں کے نمائندے دکھے پٹیل نے ایک پریس کانفرس میں وزیر زراعت کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ جنوری 2015ء سے اب تک 622کسان خودکشی کر چکے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے صرف تین کسانوں کی خودکشی کی رپورٹ منظر عام پر لائی گئی ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری حکومت کسانوں کے مسائل کے حل میں کس قدر سنجیدہ ہے؟
جس کا اندازہ مودی حکومت کے تحویل اراضی بل کے مندرجات سے لگایا جاتا ہے۔
یہ ترمیمی بل برطانوی دور کی یادلاتا ہے۔اس کی شقیں ڈومعنی الفاظ پر مشتمل ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کی آڑمیں من مانے طریقوں سے کسانوں کی اراضی چھیننے کا بڑا ہتھیار ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بل بھارتی کا رپورٹ طبقے نے تیار کرویاہے اس کا مقصد صرف کارپورٹ اداروں بین الاقوامی کمپنیوں اور سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو پہلے آرڈیننس جاری کرنے اور اب یہ ترمیمی بل لانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی ۔
یہ وہی بی جے پی ہے جو اقتدار میں آنے سے قبل آرڈنینس راج کے خلاف شور مچایا کرتی تھی اب اس نے مرکزی اقتدار میں آنے کے بعد حکمرانی کو آرڈنینس راج میں تبدیل کردیا ہے مذکورہ بل میں 9 تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں سے کسی ایک کو بھی لائق اعتنانہ سمجھا گیا حکومت کی ایک ترمیم یہ بھی ہے کہ وہ شاہراؤں اور ریلوے لائن کے دونوں جانب ایک کلومیٹر کے دائرے میں اراضی لے سکتی ہے دوسری ترمیم کی رو سے حصول اراضی سے متاثرہ خاندان کے ایک فر کو سرکوری ملازمت دینا ہوگی۔

خیال رہے کہ تحویل اراضی کا جو قانون یوپی اے حکومت نے 2013ء میں پاس کیا تھا اسے قانونی شکل سے قبل تمام فریقوں سے مشورہ کیا گیا تھا اس میں صنعتی پٹہ سرکاری اشتراک کا منصوبہ علاقے میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا منصبوبہ اور سستے مکانات کی تعمیر وغیرہ کی شرائط شامل تھی۔اور کاشتکاروں سے اراضی اسی صورت میں لی جاسکتی تھی جب ملکان کی 80فیصد تعداد اس پر رضا مندی ظاہر کر دے اس کے برعکس مودی حکومت نے اس اہم اور بنیادی شق کو ختم کر دیا جو کسانوں کے مفادات کے تحفظ کی ضامن تھی۔

کانگریس نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے بعض صنعتی گھرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اس قانون کی اصل روح کو مجروح کر دیا ہے جس سے کاشتکار طبقے کوشدید نقصان پہنچے گا۔کارپورٹ اداروں کے بارے میں تاثر ہے کہ موجودہ حکومت کو برسراقتدار لانے میں ان کا اہم کردارتھا اور اب حکومت اسی احسان کابدلہ چکارہی ہے۔
دوسری جانب تحویل اراضی قانون پر مسلسل احتجاج کے بعد سمارٹ سٹی کا شوشہ چھوڑدیا گیا ہے کاشتکار مخالف پالیسیاں ترک کرنے کی بجائے اب بھارتی عوام کو یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں شہروں کی آبادی میں انتہائی تیزرفتاری سے اضافہ ہورہا ہے کہا جارہا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے اب درجنوں اسمارٹ سٹی بنائے جائیں گے اور ایک ایسے ہی سمارٹ سٹی کی تعمیر دریائے سا برمتی کے کنارے جاری ہے ۔
فی الحال ان شہروں میں دوبڑی عمارتوں اور ان کیلئے زیرزمین جدید بنیادی ڈھانچہ کے آغاز کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا لیکن منصوبے کے مطابق اس میں چمکتے ہوئے تاورنصب ہونگے پینے کا صاف پانی میسر ہوگا۔کوڑا کرکٹ نہ صرف جدید طریقوں سے اٹھایا جائے گا اس سے بجلی بھی پیدا کی جائے گی۔یہ کسی لگثرری سے کم نہیں لیکن غریبوں کا اس میں کیا کام ایک اندازے کے تحت ہندوستان میں شہری آبادی کے لئے زریندرمودی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران 2022 ء تک ایک سمارٹ سٹی تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا ہندوستانی کمپنی کے پی ایم جی کے مطابق اس منصوبہ پر ایک ٹریلین ڈالر کی لاگت آئے گی اور اتنی بڑی سرمایہ کاری ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہیں ۔
بھارتی گجرات کے نواح میں سب سے پہلا سمارٹ سٹی کی تعمیر شروع ہوچکی ہے۔سابق وزیراعظم منموہن سنگھ سخت سرمایہ دارانہ معاشیات کے حاجی سمجھے جاتے ہیں اس لئے ان کی حکومت بھی ایسا ہی بل لانا طاہتی تھی جیسا موجودہ حکومت لائی ہے لیکن بی جے پی اور دیگر جماعتوں کی مداخلت کے بعد ماحول یکسر بدل گیا اور ایک ایسا قانون بناگیا جس میں کسان کو احساس تک نہ ہو کہ اس کی زمین اس سے چھینی جارہی ہے۔
ہندوستان میں کسان کی زمین سمیٹنے کاقانون پہلی بار1894ء میں بنا تھا۔برطانوی دور تسلط میں اس میں باربار ترامیم کی گئیں کئی تبدیلیاں ہوئیں اور اب یہ قانون ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں بھارتی حکومتیں من مانے طریقے سے کسانوں کی زمینیں چھین لیں۔
اترپردیش میں مایاوتی کے دور حکومت میں کسانوں کی زمینوں پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔بعد ازاں اسے صنعتکاروں کو اونچے داموں فروخت کردیا گیا کسانوں نے اپنی اراضی کی لوٹ مار کودیکھتے ہوئے عدالت کادروازہ کھٹکھٹایا عدالت نے حکومت پر کسانوں کی زمینیں خریدنے پر پابندی عائد کردی ۔
قبل ازیں لینڈایکوزیشن ریبلیٹیشن اینڈری سٹیبلشمنٹ بل2011ء میں منظور ہوا تھا موجود تحویل اراضی بل ہو بہو اسی کی نقل ہے یعنی شکاری نیا لیکن جال وہی پرانا ہے۔2013ء کا قانون بننے کے پہلے چند برسوں میں کسان کی زمین کے سلسلہ میں عوامی مفاد کے منصوبے چلانے کے مسئلہ پر بحث ہو تی رہتی تھی۔ منموہن سنگھ کی حکومت صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بے چین نظر آتی تھی۔
نتیجہ یہ ہوا کہ کسانوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اس اشتعال سے بچنے کیلئے حکومت نے اسی سمت میں قدم اٹھانا شروع کر دیا2013ء کا قانون اسی ماحول میں پارلیمنٹ میں لایا گیا اور اسے تمام جماعتوں نے منظوری دی۔
تحویل اراضی بل کیخلاف بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتابنر جی بھی میدان میں اتر آئی ہیں کیونکہ وہ سنگور میں ٹاٹا کے لئے ہوئی تحویل اراضی کے خلاف لڑتے ہی ریاست کے اقتدار پر فائز ہوئی تھی اس لئے وہ اس مدعے کو کسی بھی قیمت نہیں چھوڑنا چاہتی ۔
ترنمول کانگریس کے اراکین پہلے ہی پارلیمنٹ میں اس بل کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں۔دراصل مغربی بنگال میں بھی کسانوں کی خودکشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور ریاستی سرکار اس جانب توجہ نہیں دیتی ۔تحویل اراضی بل کے خلاف بولنے والی ممتا بنرجی کو کسانوں کے مفادات سے کوئی غرض نہیں۔ پچھلے مہینہ سے اب تک ریاست کے 10 کسان اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر چکے ہیں۔
سماجی کارکن اناہزارے کا کہنا ہے کہ حکومت تحویل اراضی قانون کے تحت کسانوں کی زمینوں پر بڑے پیمانے پر صنعتیں لگانے کا منصوبہ بنارہی ہے اور ریاستی شاہراؤں کی اراضی پر قبضہ کر کے انڈسٹریل زون بنانے کا سوچ رہی ہے جو صحیح نہیں ہے حکومت کو صنعتی اور زرعی شعبہ میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ فیکٹریاں لگانے سے صنعتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے قدرتی وسائل کا بے جااستعمال ہوتا ہے اور ہندوستان میں کسانوں کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہورہی ہے۔
وقت اشاعت : 2015-05-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں