تازہ ترین : 1
Mashroot Muzakrat Per Amadgi

مشروط مذاکرات پر آمادگی

افغان طالبان میں تقسیم واضح ہو رہی ہے۔۔۔۔تجزیہ کاروں کی رائے میں اب ملا اختر منصور چونکہ اپنی گرفت مضبوط کر چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے افغان حکومت کے ساتھ مشروط مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے

افغانستان میں طالبان کے نئے سربراہ ملا منصور نے اپنے گروپ کی سربراہی سنبھالتے ہی ہر قسم کے مذاکرات ختم کر دئیے تھے۔ تجزیہ کاروں کی رائے میں اب ملا اختر منصور چونکہ اپنی گرفت مضبوط کر چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے افغان حکومت کے ساتھ مشروط مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ان کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ افغان سرزمین سے تمام غیر ملکی فوجیں مکمل طور پر نکل جائیں اور افغان حکومت نے دیگر ممالک کے ساتھ جو سکیورٹی معاہدے کئے ہیں ان کو کالعدم قرارد یا جائے۔

اپنے عید پیغام میں ملا اختر منصور نے اپنے ساتھیوں کو متحد ہونے اور بے گناہ لوگوں کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے سے باز رہنے کی نصیحت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے کارکنان کو ہدایت کی ہے وہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید علوم پر بھی دسترس حاصل کریں۔
چند ہفتے قبل افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی نے دونوں ممالک کے دورے کے بعد کہا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا دارومدار طالبان پر ہے۔
ملا محمد عمر کے بھائی مال عبدالمنان اور بیٹے ملا محمد یعقوب نے ابتدا میں ملا اختر منصور کی بیعت سے انکار کیا تھا تاہم بعد ازاں انہوں نے ملا اختر منصور کی سیادت تسلیم کر لی اور اس کے بعدہی وہ توقع پیدا ہوئی تھی کہ افغان حکومت اورطالبان کے درمیان پاکستان ، امریکہ اور چین کے تعاون سے شروع ہونے والے مذاکرات بحال ہو جائیں گے۔
ملا اختر منصور نے واضح کیا ہے کہ اگر طالبان کو ”بیرونی دباوٴ“کے تحت مذاکرات پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائیں گے۔
پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہاے کہ افغانستان میں مستقل اور پائیدار قیام امن کی منزل اسی صورت حاصل ہو سکتی ہے جب تمام افغان متحارب گروپ مذاکرات میں شریک ہوں۔ ملا اختر منصور نے اس مسئلے پر موقف اختیار کیا ہے کہ تمام افغان گروپوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز اسی صورت ممکن ہے جب افغانستان سے غیر ملکی تسلط کا خاتمہ ہو جائے اور افغان عوام کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جائے۔

ملااختر منصورنے طالبان میں پھوٹ کی خبروں کو ”دشمن“ کا پروپیگنڈا قرار دیا تاہم اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”طالبان ایسے ساتھیوں کی ضرورت نہیں ہے جو غیر شاعی راستے اختیار کرتے ہیں۔ خدا نے چاہا توہم ان کا راستہ روکیں گے۔ ملا اختر منصور کی امارت کو تسلیم نہ کرنے والے طالبان کمانڈرز نے الگ عید پیغام جاری کیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملا محمد عمر کی وفات کے بعد نئے امیر کے انتخاب کے لیے نئی شوریٰ قائم کی جائے۔ ان طالبان کمانڈرز کی سربراہی عبدالقیوم ذاکر کر رہے ہیں۔
وقت اشاعت : 2015-10-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں