بند کریں
پیر مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مقبوضہ کشمیر میں سیلاب
۔ کٹھ پتلی انتظامیہ دعویٰ کرتی ہے کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے مکانوں کی تعمیر کیلئے اب تک 43کروڑ 18 لاکھ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔مقبوضہ جموں کشمیر کے میڈیا نے اس حقیر فنڈ کو متاثرین کے زخموں پن نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا ہے
ارشاد احمد ارشد :
بھارتی حکمرانوں کو کشمیری مسلمانوں کی نہیں بلکہ سر زمین کشمیر کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے بھارتی فوج 67 سال سے کشمیری مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے۔ سب سے پہلے 1947 میں کشمیری مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا گیا اور لاکھوں مسلمانوں کو پاکستان کی طرف دھکیل دیا گیا۔ 1965 اور 1971 کی جنگ میں بھی بھارتی فوج نے کشمیریوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا۔
1989 میں شروع ہونے والی آزادی کی تحریک میں کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ جب کشمیری مسلمانوں کے گھروں سے جنازے نہ اُٹھتے ہوں۔
اکتوبر 2005 کا زلزلہ بہت ہی تباہ کن تھا۔ اس زلزلہ کے نتیجہ میںآ زاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر دونوں طرف وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی۔ تباہی کے اثرات کے ازالہ اور متاثرین کی مدد کیلئے پاکستان عالمی ڈونر کانفرنس بلانے پرمجبور ہو گیاجبکہ بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر کے زلزلہ متاثرین کی بحالی کیلئے بیرونی مدد قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
اسلئے نہیں کہ بھارت بیرونی مدد کو اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا۔ مدد قبول کرنے سے انکار صرف اسلئے کیا گیا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں مرنے والے ہندو نہیں بلکہ مسلمان تھے اور پھر کشمیری بھی تھے۔ بھارتی حکمرانوں کو کشمیری مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہ تھی۔ کشمیری مسلمانوں کا بے یارو مدد گار اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجانا ہی اُن کے مفاد میں ہے۔
اس وجہ سے بھارتی حکمرانوں نے غیر ملکی امداد قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں 2005 کے زلزلہ متاثرین آج بھی دربدر پھر رہے ہیں۔ کشمیری مسلمانوں کے زلزلے کے زخم ابھی تازہ تھے کہ ستمبر 2014 کے سیلاب نے سرینگر میں تباہی پھیر دی۔ اس سے پہلے سری نگر کے درو دیوار نے اتنی بڑی تباہی کبھی نہ دیکھی تھ۔ تباہی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ سرینگر کے گلی کوچوں میں کئی دن تک انسانی لاشیں پانی میں تیرتی رہیں جبکہ وادی کشمیر میں مجموعی طور پر سیلاب سے 6 لاکھ افراد متاثر ہوئے ۔
متاثرین کی بہت بڑی تعداد ہنوز ہر قسم کی امداد اور چھت کے سائے سے محروم ہے ۔ یہ لوگ اس وقت کھلے آسمان تلے کٹے پھٹے خیموں میں زندگی گزرانے پر مجبور ہیں۔ کشمیر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ بارشیں بھی جاری ہیں۔ ہر طلوع ہونے والا سورج سیلاب متاثرین کوخوف میں مبتلا کر رہا ہے۔ با ت صرف موسم سرما کی نہیں سرینگر سمیت صوبہ کشمیر کے بہت سے علاقوں میں کئی فٹ برف پڑتی ہے ۔
یہ وہ موسم ہوتا ہے جو کشمیری لوگ گھروں کے اندر چولہوں کے سامنے یا بستروں میں گزارتے ہیں۔ عموماََ موسم شروع ہونے سے پہلے اشیاء خوردونوش اور مویشوں کا چارہ گھروں میں ذخیرہ کر لیا جاتاہے لیکن اس دفعہ کشمیری مسلمانوں کے گھرہی سلامت نہیں کہ جن میں وہ موسم سرما کیلئے اشیاء خوردونوش اور چارہ ذخیرہ کیا کرتے تھے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں پہلی برف پڑ چکی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ برف کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
یہاں تک کہ سرینگر کی ڈل جھیل کا پانی منجمد ہوجائے گا اور اس پر برف کی موٹی تہہ جم جائے گی۔
کشمیر کے بعض علاقوں میں 10 سے 15 فٹ برف پڑتی ہے۔ رگوں میں خون جما دینے والی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں ۔ ایسے حالات میں خیمے برفیلی طوفانی ہواوٴں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور برف کے نیچے دب جاتے ہیں تب اس بات کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے کہ کھلے آسمان تلے 6 لاکھ متاثرین کس کرب و اذیت سے گزریں گے۔

مقبوصہ وادی میں اگرچہ سرکاری راشن ڈپو موجود ہیں لیکن وہاں سے متاثرین کو راشن فراہم نہیں کیا جا رہا ۔ سرینگر کے شورگری محلہ اور نواب بازار کے متاثرین کا کہنا ہے کہ ہم باربار راش کی شدید قلت کی شکایت حکام بالا تک پہنچا چکے ہیں مگر کٹھ پتلی انتظامیہ کے کانوں پرجوں بھی نہیں رینگ رہی ۔ کٹھ پتلی انتظامیہ دعویٰ کرتی ہے کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے مکانوں کی تعمیر کیلئے اب تک 43کروڑ 18 لاکھ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

مقبوضہ جموں کشمیر کے میڈیا نے اس حقیر فنڈ کو متاثرین کے زخموں پن نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا ہے ۔ مزید یہ کہ اس رقم کازمینی سطح پر کوئی وجود نظر نہیں آرہا۔ کٹھ پتلی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے صورتحال دن بدن بد سے بدتر ہو رہی ہے ۔ کٹھ پتلی انتظایہ کی غفلت اور مودی حکومت کی بے حسی کی وجہ سے متاثرین موت کے منہ کے دہانے پر کھڑے ہیں ۔
دُکھ کی بات ہے کہ بھارتی حکومت نہ تو خود متاثرین کی مدد کر رہی ہے اور نہ کسی دوسرے کو متاثرین کی مدد کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔جب سیلاب سے تباہی آئی تو پاکستان نے مقبوضہ جموں کشمیر کے بھائیوں کی مدد کیلئے پیشکش کی تھی مگر بھارتی حکومت نے یہ پیشکش حقارت سے ٹھکرا دی تھی۔ اس کے بعد جماعة الدعوة نے مقبوضہ کشمیر کے سیلاب متاثرین کیلئے 15 ٹرکوں پر مشتمل 90 لاکھ روپے کا سامان ورانہ کیا۔
یہ سامان دراصل سید علی گیلانی ، شبیر شاہ ، میر واعظ عمر فاروق ، آسیہ اندرابی اور دیگر کی اپیل پروانہ کیا گیا تھا۔یہ امدادی قافلہ لاہور سے مظفر آباد پہنچا اور وہاں سے چکوٹھی روانہ کیا ۔ اس موقع پر مظفر آباد میں ایک دعائیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں سردار عتیق احمد خان، جماعة الدعوة آزاد جموں کشمیر کے امیر مولانا عبدالعزیز علوی، مسلم کانفرنس کے رہنما دیوان چغتائی ،غلام اللہ آزاد ، ڈاکٹر منظور اور دیگر نے شرکت کی۔
دعائیہ تقریب سے امیر جماعة الدعوة پروفیسر حافظ محمد سعید نے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیری قائدین کی اپیل پر محض انسانی ہمدردی کے ناطے اپنے متاثرہ بھائیوں کیلئے امدادی سامان روانہ کر رہے ہیں۔بھارتی حکومت کوبھی چاہیے کہ وہ انسانی ہمدردی کا ثبوت دیتے ہوئے امدادی قافلے کو متاثرین تک پہنچنے دے۔
امیر جماعة الدعوة پروفیسر حافظ محمد سعید کے مقبوضہ جمو کشمیر کے متاثرین کیلئے جذبات ،احساسات اور خدمات اپنی جگہ لیکن بھارتی حکمرانون کی شفاوت قلبی، بے رحمی اور سفاکی کا کہا جائے کہ جو ہمدردی کے جذبات و احساسات سے قطعاََ عاری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جماعة الدعوة کی طرف سے بھیجا جانے والا یہ امدادی قافلہ کئی دن تک چکوٹھی کے کراسنگ پوائیٹ پر کھڑا رہا مگر کٹھ پتلی اور بھارتی حکومت نے قافلے کو داخلے کی اجازت نہ دے کر ثابت کر دیا کہ انہیں مصیبت کے مارے کشمیریوں کی کوئی پروا نہیں ہے ۔ اس سے بھی بڑی دکھ کی بات نام نہاد انسانی حقوق کی دعویدار این جی اوز کا بے رحمانہ رویہ اور پاکستانی الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا کی سرد مہری ہے کہ جنہوں نے بھارت کی اس سفاکی کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-29

(0) ووٹ وصول ہوئے