بند کریں
اتوار مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ملائیشیا کا لاپتہ طیارہ ،عالمی میڈیا کا غیر سنجیدہ کردار
پائلٹ کے گھر میں بوئنگ سسٹم کا کیا کام؟ ہوا بازی کی تاریخ کا مشکل ترین امتحان،ایک جانب سپر کمپیوٹر‘ جدید ٹیکنالوجی‘ ریڈرا اور سیٹلائٹ سے لیس جدید دنیا محو حیرت ہے
شہزاد چغتائی:
ملائشیاکے طیارے کی تلاش کیلئے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے جس میں 25 ممالک اور 30لاکھ افراد حصہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کی جانب سے آسمان کی وسعتوں‘ سمندروں‘ پہاڑوں‘چٹانوں اور صحراؤں کی خاک چھاننے کے بعد بھی طیارے کا اب تک سراغ نہیں مل سکا۔ جس کے بعد یہ سوال کیا جارہا ہے کہ بوئنگ 777کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔
فضائی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اب تک 169طیارے غائب ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ اس زمانے کی بات ہے جب دنیا عالمگیر گاؤں میں تبدیل نہیں ہوتی تھی اور گورے یہ دعوے نہیں کرتے تھے کہ انہوں نے زمین کے اندر رینگنے والے جانوروں کا سراغ حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی حاصل کرلی ہے ۔ ایک جانب سپر کمپیوٹر‘ جدید ٹیکنالوجی‘ ریڈرا اور سیٹلائٹ سے لیس جدید دنیا محو حیرت ہے تو دوسری جانب بڑے ممالک طیارے کی گمشدگی کو کسی نئے طوفان کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
جبکہ اس دوران میڈیا بھی اس افسوس ناک واقعہ کے غیر سنجیدہ اور سنسنی خیز پہلوؤں کو ہوا دینے میں کردار ادا کررہا ہے۔ اس خدشے کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ انتہا پسندوں اور عسکریت پسندوں کے ہتھے کوئی ایسی ٹیکنالوجی آگئی ہے جس کو استعمال کر کے وہ دنیا کو یرغمال بنا سکتے ہیں۔اس طرح دنیا کو نائن الیون کے بعد ایک نئے خطرے سے آگاہ کیا جارہا ہے۔

بوئنگ 777دنیا کا جدید ترین طیارہ ہے جو کہ بیک وقت کئی سسٹم سے منسلک ہوتا ہے۔ ائیر ٹریفک کنٹرول سسٹم کے ساتھ بوئنگ کمپنی کے نظام سے بھی منسلک ہوتا ہے۔ طیارے کے اس طرح غائب ہونے پر بوئنگ کمپنی کی ساکھ بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ کیونکہ عام مسافروں کیلئے کسی جہاز کے غیر محفوظ ہونے کاتصور جان لیوا ہوتا ہے۔ ملائشیا نے جن 25ملکوں سے مدد مانگی ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔
ملائشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے وزیر اعظم نواز شریف سے براہ راست رابطہ کر کے درخواست کی ہے کہ گمشدہ طیارے کی تلاش میں مدد کریں۔ لیکن بین الاقوامی میدیا کی سوئی پاکستان پر اٹکی ہوئی ہے ۔ طیارہ پاکستان میں اترنے کا بغیر کسی شواہد سب سے پہلا شوشہ ایف بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے چھوڑا جس کو مغربی میڈیا نے اچک لیا اور پاکستان کے پیچھے پڑگیا۔
مغربی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ جب طیارے کا رابطہ ختم ہوا تو اس کا رخ پاکستان کی جانب تھا اور وہ پاکستان سے 3500کلو میٹر دور تھا۔
اس دوران برطانوی میڈیا نے یہاں تک کہہ دیا کہ طیارہ پاکستان افغان سرحد پر اتار لیا گیا ہے، انکا اشارہ طالبان کی جانب تھا۔ جس پر طالبان نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا کہ کاش ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہوتی۔ ایک دوسری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہائی جیک ہونے کے بعد جہاز ملایشیا میں دیکھا گیا۔
قصہ مختصر مغربی میڈیا اس واقعہ کی طالبان کے ساتھ کڑیاں ملانے کیلئے سرگرداں ہے۔
یہ سوال اس وقت بھی مسلسل موضوع بحث ہے کہ طیارے سے شب بخیر کا آخری پیغام کس نے دیا۔ جب ملائشیا کے وزیر اعظم نے خود طیارہ ہائی جیک ہوجانے کا اندیشہ ظاہر کر دیا ہے تو اس سے دنیا میں کھلبلی مچ جانا ایک فطری بات ہے۔ درحقیقت شب بخیر کا پیغام طیارہ کا ٹرانس پاؤنڈر بند کر کے رابطہ ختم کیا گیا تھا۔
اندیشہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ پرواز نمبر 370میں چین کے کمپیوٹر انجینئر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین شامل تھے لہٰذا کسی نے طیارے کے نچلے حصہ میں جار ٹرانس پاؤنڈر بند کردیا۔ یہ کام کس نے کیا یہ بات موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور اس کارروائی میں وہی افراد شامل ہوسکتے ہیں جو طیارے کے بارے میں تکنیکی معلومات اور مہارت رکھتے ہوں۔
گو ساری توپوں کا رخ مسلمانوں کی جانب ہے۔
طیارے کے مسلمان پائلٹ بھی زیر عتاب ہیں۔ ان کا جھکاؤ اپوزیشن کی جانب بتایا جاتا ہے اور طیارہ اڑانے سے قبل اس سابق وزیر اعظم انور ابراہیم کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں موجود ریکھا گیا ہے۔ سینئر پائلٹ ظاہری احمد شاہ کے گھر پر چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ سمیت ایسے آلات برآمد کئے گئے ہیں جن میں بوئنگ طیارے کا نظام اور سمولیٹر شامل ہے، جس کے بعد سوال اٹھایا جارہاہے ظاہری نے سمولیٹر اور بونگ 777کا سسٹم گھر پرکس کام کیلئے رکھا ہوا تھا اور ان کے مقاصد کیا تھے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طیارہ ہائی جیک ہونے کے بعد کئی گھنٹے پروازکرتا رہا اور پائلٹ نے ریڈار سے بچنے کیلئے 1500میٹر کی بلندی پر سفر کیا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ جہاز کو دہشت گرد اغوا نہیں کرسکتے‘ لیکن کسی مالک کی مدد سے طیارے کی خفیہ لینڈنگ کروائی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی جانب مغربی میڈیا کا روئے سخن زیادہ ہے لیکن ایف بی آئی نے بھارت میں طیارہ اتارنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے جو کہ تکنیکی اعتبار سے ممکن بھی ہوسکتا ہے ۔
اس ضمن میں انڈمان (کالاپانی )اور ایک دوسرے جزیرے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا یا ہے کہ کالا پانی میں اتنا بڑ رن وے موجود ہے جہاں بوئنگ 777کو اتارا جاسکتا ہے۔
جہاز کو مختلف جگہوں پر اتارے جانے کی باتوں میں زیادہ وزن دکھائی نہیں دے رہا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بوئنگ 777عام ائیر پورٹوں پر نہیں اتر سکتا۔ پاکستان میں بھی ماسوائے چند ائیر پورٹس ہر جگہ جمبو جیٹ طیارے نہیں اتارے جاسکتے۔
جبکہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر تو ایسا بالکل ہی ممکن نہیں۔ جہاز کے لاپتہ ہونے کے بعد مغربی پروپیگنڈا کی تلخ یادیں پھر تازہ ہوگئی ہیں اور المیہ یہ ہے کہ پاکستان ایک مدت سے عالمی سازشوں کا ہدف رہا ہے۔ اب جہاز نہیں مل سکاتو پاکستان کی شامت آگئی ہے۔ جہاں تک پاکستان کے شمالی علاقوں کا تعلق ہے وہ سنگلاخ چٹانوں اور پہاروں پر مشتمل ہے جہاں ایک بڑا طیارہ تو ور کی بات کوئی چھوٹا طیارہ بھی لینڈ نہیں کرسکتا۔
یہاں 5000میٹر سے کم بلندی پر کوئی بہت ماہر پائلٹ ہی فلائنگ کرسکتا تھا تاکہ وہ ریڈار سے بچ سکے۔ جب اس ضمن میں پی آئی اے کے پائلٹوں سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے طیارے کی پاکستان آمد کو بڑا مزاق قرار دیا اور افسانے گھڑنے والوں کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا کہ طیارے کو پاکستان تک لانا ممکن ہی نہیں۔
یہ خیال بھی ظاہر کیا جرہا ہے کہ طیارے کو لیزر کے ذریعہ دھواں بنیادیا گیا اور اس کے ملبہ بھی نہیں ملا۔
یہ ٹیکنالوجی کئی ممالک کے پاس ہے جو کہ اب تک استعمال نہیں ہوئی۔ بعض حلقے یہ دور کی کوڑی بھی لائے ہیں کہ طیارے میں کوئی ایسا شخص سوار تھا جو کہ اہم ترین معلومات لے کر چین جارہا تھا اگر یہ انفارمیشن اور چپ چین پہنچ جاتے تو چین دنیا میں انقلاب لے آتا۔ لہٰذا طیارے کو فضا ہی سے غائب کرادیا گیا۔ پاکستان ائیر فورس کے سربراہ طاہر رفیق بٹ کہتے ہیں کہ پاکستان کی حدود میں طیارے کے داخلے کے سگنلز نہیں ملے لیکن پھر بھی ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ طیارہ پاکستان میں داخل ہوتا تو ایمرجنسی نافذ کردی جاتی ہے اور فضائیہ کے طیارے حرکت میں آجاتے ہیں۔ مواصلاتی سیارے سے اب تک لی جانے والی 25کروڑ 70لاکھ تصاریو اور نقشوں پر 30لاکھ افراد نے کام کی اہے لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوسکی۔ اس وقت 24ہزار مربع رقبے پر تلاش جاری ہے اور 1200ائیر پورٹو ں کی چھان بین جاری ہے۔
43بحری جہاز اور 58طیارے بھی اس کی تلاش میں حصہ لے چکے ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سیکرٹری محمد علی گردیزی نے طیارے کے پاکستان پہنچے کے تمام امکانات کو مسترد کردیا ہے۔ بات چیت کرتے ہوئے انہیں نے کہا کہ طیارے کا ریڈار پر کوئی ریکارڈ نہیں۔ پی آئی اے کے مینجنگ ڈائریکٹر جنید یونس نے استفسار پر کہا کہ اس وقت دنیا شہری ہوا بازی اور فضائی تاریخ کے سب سے مشکل امتحانی پرچے کو حل کرنے کی کوشاں ہے۔
ملائشین ائیر لائن بوئنگ 777طیاروں کے بڑے خریداروں میں شامل ہے۔
777بوئنگ طیارے پاکستان کی قومی ائیر لائن کے بھی زیر استعمال ہیں۔ پاکستان کا ایک فوکر طیارہ 90ء میں گلگت میں گم ہوگیا تھا جس کا اب تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ جبکہ 45سال قبل فرانس کی طرف پوش وادیوں میں گرنے والے بھارتی طیارے کا ملبہ اسی زمانے میں مل بھی گی تھا ۔ اب تک کئی طیارے برمودا ٹرائینگل کی نزر ہوچکے ہیں۔ جبکہ جنگلوں میں گرنے والے بعض طیاروں کے حادثات میں زندہ بچ جانے والوں سے پیش آنے والے انسانیت سوز واقعات بجائے خود کئی داستانوں کا مجموعہ ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان