تازہ ترین : 1
Maghrib Aur America Ki Atomi Munafqat

مغرب اور امریکہ کی ایٹمی منافقت

دوہرا معیار دنیا کوجوہری ہتھیاروں سے پاک نہیں کرسکتا

شیخ عثمان یوسف قصوری:
ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور پھیلاؤ کوانسانیت کی تباہی وبربادی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ عالمی امن کے نام نہاد ٹھیکیدار، امریکہ ، یورپ ایٹمی ہتھیار رکھتے کے باوجود دنیا کوان خطرناک ہتھیاروں سے اپنی ترجیحات کے مطابق پاک کرنا چاہتے ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ دنیا کے ممالک کوایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہونے سے بازرکھاجائے اورا ن کواین پی ٹی پر دستخط کرنے پر مجبور کیاجائے۔
ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے عدم پھیلاؤ کے سلسلے میں کئی سالوں سے کوشش جاری ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اس سلسلے میں کامیابی کیوں نہیں ہوئی؟ اس کاجواب امریکہ اور یورپ کادوہرا معیار ہے۔مغرب اور امریکہ اپنے خاص اتحادوں کو تو خصوصی رعایت دیتے ہیں لیکن دیگرممالک پردباؤ اور پابندیوں کے حربے استعمال کرکے مجبوع کیاجاتا ہے کہ وہ این پی ٹی پر دستخط کرکے اپنا ایٹمی پروگرام ختم کردیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیاکوایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کاخواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی دیگر ممالک سے کئے گئے سوال نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے معاہدے محض اسلئے جائزقرار دیتے ہیں کہ آپ خوداس معاہدے میں شامل ہیں؟ اس کی سب سے بڑی مثال امریکہ بھارت کے درمیان ہونے والے سول نیوکلیئر معاہدے کی صورت میں دی جاسکتی ہے جواین پی ٹی کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ مستقبل کی تیزی سے ابھرتی ہوئی سپرپاور چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے خوفزدہ ہے اور وہ بھارت کوچین کے مد مقابل کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد امریکہ نے اپنے اٹامک انرجی ایکٹ 1954ء میں ترمیم کرکے بھارت کوخصوصی سہولیات دیں اس کے ساتھ ساتھ بھارت کو نیوکلیئر سپلائی گروپ (این ، ایس ،جی) تک رسائی کیلئے اقدامات کئے گئے۔
اس معاہدے نے عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف مہم کے مقاصد شدید نقصان پہنچایا۔ اس معاہدے کے ذریعے بھارت دوسرے ممالک سے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی اور خام میٹریل حاصل کرنے کے قابل ہوجائے گااور وہ بآسانی عالمی سطح پر ایٹمی تجارت کرسکے گا۔ اسی طرح امریکہ کی دیکھا دیکھی فرانس اور برطانیہ نے بھی بھارت کے ساتھ ایسے ہی معاہدات کر رکھے ہیں۔
بھارت اور برطانیہ نے گزشتہ دنوں اس معاہدے کے تسلسل میں13.7ارب ڈالر کاروباری ڈیل کااعلان کردیا۔ لندن میں اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم مودی کی پھرتیاں دیکھنے لائق تھیں جواس معاہدے پر برطانوی وزیراعظم کوزبردستی گلے لگا کر پھولے نہیں سمارہے تھے۔
آسٹریلیا ، جوعالمی سطح پر یورنیم کے کل ذخائر کے 40فیصد کامالک ہونے کادعویٰ کرتا ہے، نے بھی بھارت کویورنیم کے ذخائرفروخت کرنے کا معاہدہ کررکھا ہے۔
یہ عالمی طاقتیں پاکستان کے ساتھ ہی معاہدہ کرنے کوتیار نہیں بلکہ یہ پاکستان پر بدستور اپنا دباؤ بڑھ رہی ہیں کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کوبند کردے۔ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ پاکستان اپنی سکیورٹی کے اصولی مئوقف کوچھوڑتے ہوئے این پی ٹی کے معاہدے پردستخط کردے۔ پاکستان کسی بھی صورت میں ایسا کرنے کوتیار نہیں ہے کیونکہ اس کامقصد یہ نہیں ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کوپھیلاتے ہوئے دنیا کے امن کو خطرے دو چار کرے۔
اس کے برعکس پاکستان اپنی بقاء کویقینی بنانے کیلئے ایٹمی پروگرام جاری رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب بھارت اپنی جوہری صلاحیت بڑھانے اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے جنون میں مبتلا ہے اور وہ یہ سب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی معاونت سے کررہاہے۔ یہ بات پاکستان کی سکیورٹی کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت اپنی سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
نریندرامودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف شرانگیز کارروائیوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔سرحدوں پر اشتعال انگیز فائرنگ کے واقعات روزکامعمول بن چکے ہیں اور ان کے نتیجے میں درجنوں پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوچکے ہیں۔ اس ساری صورتحال پر امریکہ ویورپ ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ امتیازی رویہ رکھے ہوئے ہیں جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوسکتا۔

پاکستان کاسمارٹ میزائل پروگرام محدود نیوکلیئر وارہیڈزلیجانے کی صلاحیت رکھتاہے۔ یہ دونوں ممالک میں محدود پیمانے پر جنگ روکنے کی عملی کوشش ہے۔ امریکہ ویورپ پاکستان نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے یہ پرپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کے ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں حالانکہ پاکستان کی جانب سے ان کی حفاظت کیلئے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں۔
یہ بات مغرب کاتعصب عیاں کرنے کیلئے کافی ہے کہ وہ اپنی اسلام مخالف سوچ کے باعث ہی پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہوئے ہیں۔ ایران کاایٹمی پروگرام بھی اسیلئے رول بیک کرایا گیا کہ وہ مسلمان ملک ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے دورہ امریکہ سے قبل یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ اوبامانوازشریف سے یہ کہیں گے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ختم کردی تو پاکستان کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدہ کیاجاسکتا ہے۔
جس وزیراعظم نے امریکہ جانے سے پہلے یہ بیان دیاکہ پاکستان کسی بھی صورت اپنے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ جب تک امریکہ ویورپ پاکستان کے مئوقف کوسمجھے بغیر اپنا امتیازی رویہ ترک نہیں کرتے اس وقت تک این پی ٹی کے مقاصد کوحاصل کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی پاکستان کو اس معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے مجبور کیاجاسکتا ہے۔ اس کاسب سے بہترین حل یہ ہے کہ یہ عالمی طاقتیں دونوں ممالک کے درمیان ویرنیہ تنازعات کوحل کروانے کی مخلصانہ کوششیں کریں۔
ان دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے جو1947ء کانامکمل ایجنڈاہے اور اگر اسے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ صرف ایشیاء بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کیلئے خطرہ بنارہے گا۔ اگر خدانخواستہ دونوں ممالک میں ایٹمی جنگ جھڑگئی تواس سے ساری دنیا شدید متاثر ہوئی اسلئے اس مسئلے کواقوام متحدہ کی قرار داداور کشمیروں کی رائے کی مطابق حل کرایا جائے۔
تنازعات کے حل کے بعدبھارت سے این پی ٹی پر دستخط کروائیں جائیں، اس کے بعد پاکستان کوبھی اس معاہدے پر دستخط کرنے پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ اس لئے پاکستان پر دباؤنہ ڈالا جائے کیونکہ یہ ایک خود مختار ریاست ہے اور یہ اپنی سلامتی اور سکیورٹی کے اہم ایشوپر کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا کیونکہ ایٹمی پروگرام ہی پاکستان کی بقاء کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔
وقت اشاعت : 2015-12-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں