بند کریں
بدھ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خون مسلم کی ارزانی!۔۔۔او آئی سی کی معنی خیز پراسرار خاموشی
بوسنیا چیچنیا میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جاتے رہے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ کشمیر کےمسلمانوں پرغاصب بھارتی درندوں کی سفاکیاں کسے نہیں معلوم۔فلسطینی مسلمان کسطرح یہودی و عیسائی مذہبی جنونیوں سے نبردآزما ہیں
عثمان احمد:
انسانیت ابتدائے آفرینش سے ہی مختلف مراحل سے گزرتی رہی ہے۔ کبھی انسان جنگ و جدال کا دلدادہ رہا تو کبھی ایک دوسرے سے تعلقات استوار کرنے میں مصروف۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی ضلالت و گمراہی کے اندھیرے گھٹاٹوپ شکل اختیار کرلیتے اور آدمی آدمی کو ڈسنے لگتا تو ایسی صورت حال میں انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے آنے والے انبیاء و رسل کی تعلیمات میں ایک چیز میں مکمل طور پر مشترک نظر آتی ہے اور وہ احترام آدمیت ہے۔
آمد اسلام کے وقت معروضی حالات جو نوعیت اختیار کرچکے تھے اور مکروہ زمینی حقائق انسانیت کے منہ پر طمانچے رسید کررہے تھے ایسے میں پیغمبرآخرالزمان حضرت محمد مصطفٰیﷺ نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عدم تشدد اور باہمی مودت کی فضاء کو عام فرمایا بکھرے ہوؤں کو یکجا کردیا۔ کمزوروں اور ناتوانوں کو سہارا دیا۔تو ہر سو خوشحالی کا دور دورہ ہونے لگا‘ خوبصورت اسلامی معاشرہ اپنی تابناکیوں کے ساتھ پنپنے لگا۔
کچھ عرصہ تک یہ سفر چلتا رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمان عظمت و سطوت کے اس رستے سے دور ہٹتے چلے گئے اور اغیار کو کھل کھیلنے کا موقع ملنے لگا۔ ہر دور میں مسلمانوں کو اس کی کڑی قیمت بھی چکانا پڑی۔ ماضی بعید سے لے کر آج کی جدید دنیا میں جہاں انسانی حقوق‘ جمہوریت اور آزادی کے بڑے بڑے علمبردار اپنی سرتوڑ کاوشوں میں مصروف نظر آتے ہیں وہیں مسلمانوں کے ساتھ ہر جگہ امتیازی سلوک بلکہ متعصبانہ رویہ برتا جاتا ہے۔
آج چار دانگ عالم میں نظر دوڑائی جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ہر جگہ مسلمان عتاب کا شکار ہوکر کسمپرسی کی حالت سے دو چار ہیں۔ بوسنیا اور چیچنیا میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جاتے رہے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ کشمیر کے مسلمانوں پر غاصب بھارتی درندوں کی سفاکیاں کسے نہیں معلوم۔ کون نہیں جانتا کہ فلسطین کے پسے ہوئے مسلمان کس طرح یہودی و عیسائی مذہبی جنونیوں سے نبردآزما ہیں۔
ظاہری جنگ وجدال کے علاوہ معاشی استحصال بھی وہ ہتھیار ہے جسے مسلمانوں پر بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ اب گزشتہ چند ہفتوں میں فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و بربریت اور دل دہلادینے والے اذیت ناک تشدد کی جو نئی لہر چلی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ انبیاء کی سرزمین پر بسنے والے مسلمانوں سے حقِ زندگی چھین کر عبرت کا نشانہ بنادیا گیا‘ مسلمان خواتین کی عزت و عصمت پر دست درازی کی جارہی ہے اور مسلمانوں کو نہ صرف گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے بلکہ نہتے مسلمانوں کے گھروں اور ان کی بستیوں کو جلا کر راکھ کردیاگیا۔
نہتے فلسطینی جس طرح بندوق کی گولی اور ٹینک کا مقابلہ غلیل اور پتھر سے کررہے ہیں اس جذبہ ایمانی کی مثال نہیں ملتی۔ دنیا بھر پر چھائی ہوئی یہودی لابی صیہونیت کی پشت پناہی کررہی ہے اور ظلم بالائے ظلم یہ ہے کہ کوئی بھی اس کا ہاتھ روکنے والا نہیں۔ ہر روز اخبارات کے صفحات معصوم فلسطینیوں کی بے بسی اور لاچاری کی تصاویر سے سجے ہوتے ہیں۔
کوئی ان تڑپتی لاشوں سے پوچھے کہ ان کا قصور کیا ہے‘ ان کو کس بات کی سزا دی جارہی ہے؟ سوائے اس کے کہ وہ مسلمان ہیں۔ یہ کوئی بہت پرانے واقعات نہیں بلکہ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے دعویداروں اور نام نہاد پرچارکوں نے درندہ صفت اسرائیلی یہودیوں کی انسانیت سوز کاروائیوں پر اس طرح سے آنکھیں موند رکھی ہیں کہ گویا وہ مسلمانوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے اور یہ جو کچھ ہورہا ہے یہ انسانی حقوق کے زمرے میں ہی نہیں آتا۔
امریکی یا مغربی باشندے کو معمولی سی زک پہنچنے پر چیخ اْٹھنے والی اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی خاموشی یہ اعلان کررہی ہے کہ وہ ہر اْس ظلم و بربیت کے حمایتی ہیں جو مسلمانوں پر روا رکھا جائے۔ غیروں کی بات تو کجا اس معاملے میں تو اپنے بھی مجرم ٹھہرے وہ ایسے کہ کرہ ارضی پر موجود کسی ایک مسلمان ملک نے بھی من حیث القوم اپنے اِن بھائیوں کی داد رسی کو اپنا فریضہ نہ جانا اور ہر کوئی اس بات کو جانتے ہوئے بھی صرف نظر کررہا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کی نسل کْشی کی جارہی ہے۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت OIC نے اس معاملے پر ایسی پراسرار چپ سادھ رکھی ہے کہ حیرت گم ہوجاتی ہے۔ معلوم نہیں کس کا کیا مفاد ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہم نے اپنی اندرونی کمزوریوں کے باعث اپنے آپ کو اتنا گِرا لیا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی خطہ‘ کوئی ملک اور معاشرہ بھی مسلمانوں کو اْن کا جائز مقام اور احترام دینے کو تیار نہیں۔
چاہیے تو یہ تھا کہ 57اسلامی ممالک کے غیور مسلمان اپنے مجبور و مقہور مسلمان بھائیوں کی حالتِ زار پر سراپہ احتجاج ہوتے اور اقوام عالم کو یہ پیغام جاتا کہ مسلمان واقعی جسدِ واحد کی طرح ہیں۔ کسی بھی عضو کو پہنچنے والی گزند پورے جسم کے لیے باعثِ تکلیف ہوتی ہے۔ مگرنہ جانے کیوں اس دنیا میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ سستی اور عام سمجھی جاتی ہے تو وہ مسلمان کا خون ہے۔ جس کے ساتھ جو چاہتا ہے ہولی کھیل لیتا ہے اور باقی ماندہ مسلمانوں کے لیے سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے۔ مسلمانوں کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور دشمن کے سامنے اپنے اندرونی اختلافات اور گروہی مفادات پیش کرنے کی روش کو بھی ختم کرنا ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-28

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان