تازہ ترین : 1
Jahan Jurm Safar Karta Hai

جہاں جرم سفر کرتا ہے

بھارتی ریلوے ٹریک پر مجرموں کا راج ہے۔۔۔ بھارت میں ریلوے ٹریک پر قتل و غارت گری، مار پیٹ اور ریپ کے واقعات معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ ریاست مشرقی بنگال کے لوگوں کے لیے ریل کا سفر کسی رومانوی داستان سے کم نہیں

بھارت میں ریلوے ٹریک پر قتل و غارت گری، مار پیٹ اور ریپ کے واقعات معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ ریاست مشرقی بنگال کے لوگوں کے لیے ریل کا سفر کسی رومانوی داستان سے کم نہیں مگر اب یہاں خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے اور خواتین کی بیحرمتی کی جاتی ہے۔ دراصل یہ ریاست ملک بھر میں ریلوے ٹریک پر قتل، اغوا اور ریپ جیسی وارداتوں میں سر فہرست ہے۔ بھارتی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادو شمار کے مطابق 2014 میں مشرقی بنگال میں ریلوے ٹریک پر 6ہزار 347 مختلف واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں قتل اور ریپ بھی شامل ہے ۔
ٹریک کے گردونواح میں قتل کی 120 وارداتیں ہوئیں جبکہ ریلوئے پولیس نے ملک بھر میں 346 قتل اور123 خواتین کی بیحرمتی کی گئی ۔ مشرقی ریاستوں میں 25 خواتین کی عصمت دری کی گئی صرف مدہیہ پردیش میں 11 خواتین کا ریپ ہوا ستم ظریفی یہ ہے کہ چند ہی واقعات کی رپورٹ درج ہوتی ہے بہت سے واقعات سے چشم پوشی کی جاتی ہے اور متاثرہ فرد کی طرف سے احتجاج کی صور میں سزا بھی اسے ہی بھگتنا پڑتی ہے ۔
کچھ عرصہ قبل بھارتی ریاست مغربی بنگال میں ریلوے لائن کے قریب ایک نوجوان لڑکی کی نیم عریاں لاش ملی جسے گاوٴں کے پنجایت کے حکم پر جنسی تذلیل کرنے کے بعد قتل کر دیا تھا۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق اس نوجوان لڑکی کی لاش ریلوے ٹریک کے پاس اس کے ایک دن بعد ملی جب ایک پنجائیت نے اسے اور اس کے والد کو ایک ٹریکڑپر ہونے والے تنازعے کو حل کرنے کے لیے بلایا تھا۔
بھارت میں خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات کی وجہ سے دارالحکومت دہلی کو ”کییپیٹل آف ریپ“ کہا جاتا ہے۔ ریپ کی یہ وارداتیں ملک بھر میں عام ہیں۔ ریلوے ٹریک پرریپ کی وارداتیں معمول کا حصہ بن چکی ہیں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کے مطابق ریلوے ٹریک پر سکیورٹی نہ ہونے کے برابرہے۔ مقامی افراد و مسافر ہر وقت خدشات میں گھرے رہتے ہیں۔
جبکہ متعلقہ حکام اور ریلوے پولیس ان واقعات سے چشم پوشی کرتے ہوئے اصل حقائق کو دبا دیتی ہے۔ بھارتی ریلوے پولیس کے موٴقف ہے کہ اس کے پاس سکیورٹی کا مناسب انتظام نہیں، سٹاف کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بھارتی حکام کو عام آدمی کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ نمودونمائش اور دنیا کو دکھانے کے لئے اور اپنی معاشی ترقی کا ڈھنڈورا پیٹنے سے ہی غرض ہے۔
بعض اخباری رپورٹس کے مطابق نریندرا مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارت میں ہونے والی جرائم کی شرح میں90 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ قابل غور امر یہ ہے جب ملک کے اندر لوگ بے یقینی کی سی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں تو اس نمود و نمائش اور پُرفریب دعووٴں کا کیا مقصد ہے؟ یقینا یہ ”روشن انڈیا“ کا ایک تاریک پہلو ہے۔
وقت اشاعت : 2015-10-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں