تازہ ترین : 1
Israel ky jangi jaraim aur aqwam e mutahda ki mujrmana khamooshi

اسرائیل کے جنگی جرائم اور اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی

مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کے دعوے سوالیہ نشان؟ فلسطین میں صہیونی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیاں روکنے کئے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے

محبوب احمد
صہیونی فوک کی درندگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کوایسی سخت جسمانی ایذائیں دی جارہی ہیں کہ جس سے روح کانپ اٹھتی ہے قیدیوں کے حوصلوں کو پست کرنے کے لئے انہیں بنیادی سہولیات سے محروم کرنا معمول بن چکا ہے اسرائیلی فوجیوں کا خاص طور پر بیمار اور بوڑھے قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک عالمی اصولوں کے منافی ہے تسلط و طاقت کے فلسفہ پر قائم اس ناجائز ریاست کے ساتھ ہی ظلم و جور اور سفاکیت و بربریت کا یہ سلسلہ ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز تر ہوتاجا رہا ہے تاریخ میں اگرانسانوں پر مظالم کا شمار کیا جائے تو امریکہ اور اسرائیل اس میں سرفہرست نظر آئیں گے جس کا اعتراف امریکی پر وردہ ویب سائٹ و کی لیکس کی منظر عام پر آنے والی رپورٹس سے بھی لگایا جاسکتا ہے لیکن یہ طرفہ تماشا ہے کہ عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کو یہ مظالم نظر آتے سب سے بڑھ کر ستم ظریفی یہ ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی جبروتسلط سے صرفِ نظر ہی نہیں کیا جارہا بلکہ ان ظالمانہ اقدامات پر اسرائیل کی حمایت جاری رکھنے کے اعلانات بھی سامنے آتے رہتے ہیں صہیونی حکومت کے ظالمانہ برتاﺅ سے متعلق عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کی سستی و کاہلی اور مغرب کی ہمہ گیر حمایت نے خطے میں خاص طورپر فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کو اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کے سلسلے میںمزید گستاخ بنایا ہوا ہے اگر بغور دیکھا جائے تو 2017 کے دوران قابض صہیونی حکام کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے خلاف کریک ڈاﺅن عروج پر رہا گزشتہ برس اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی سے 95 فلسطینی شہید جبکہ مزاحمتی کا روائیوں کے دوران 21 صہیونی جہنم واصل اور409 زخمی ہوئے قابض فوج نے 6 ہزار کے لگ بھگ فلسطینیوں کو حراست میں لیا یہاں یہ بھی قابل غور امر ہے کہ سب سے زیادہ گرفتاریاں دسمبر میں ہوئیں یاد رہے کہ28 ہزار 656 یہودیوں نے قبلہ اول اور 12 سودیگرمقدس مقامات کی بے حرمتی کی فلسطینیوں کی855 املاک مسمار کرکے اراضی غضب کی گئی اس امر سے سبھی بخوبی آگاہ ہیں کہ صہیونی نے بیسویں صدی کے اوائل میں فلسطین کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر اسے اپنے قبضہ میں کرنے کا پروگرام تربیت دیا تھا لہٰذا عالمی طاقتوں کی سرپرستی میں یہ سازش اس وقت عملی شکل اختیار کرگئی جب دنیا کے نقشے پر مسلمانوں کے قلب میں واقع اسرائیلی نامی ناجائز صہیونی ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا تو اس وقت اس کا کل رقبہ صرف 5 ہزار مربع میل تھا اور اس کی حدود میں کم و بیش 6 لاکھ یہودی آباد تھے جبکہ اب اسرائیل کا رقبہ 34 ہزار مربع میل اور آبادی 60 لاکھ سے زائد ہے اسرائیلی عالمی برادری کی طرف سے مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی آبادیاں قائم نہ کرنے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے آئے روز مظلوم فلسطینیوں کی زمینیں غصب کرکے نئی یہودی بستیاں تعمیر کررہا ہے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں 5 لاکھ کے لگ بھگ یہودی آباد کاروں کو بسایا جاچکا ہے جبکہ 22 لاکھ مقامی فلسطینی اس علاقے میں رہ رہے ہیں آبادی کے تناسب سے غرب اردن میں آباد کار یہودی کل آبادی کا 16 فیصد ہیں جبکہ عملی طور پر وہ پورے غرب اردن کے42 فیصد علاقے پر قابض ہیں امریکی آشیرباد پر اسرائیلی حکومت نے غزہ میں اسلامی مزاحمت کو شکست دینے کے لئے 2007 سے اس علاقے کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے یہ صہیونی ریاست کی ہٹ دھرمی ہی ہے کہ مسئلہ فلسطین آج بھی ہنوز حل طلب ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں بدامنی کی لہر مزید پھیل رہی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدہ کو پورا کرنے کے لیے سرکاری طور پر بیت المقدس کو اسرائیل کو دارلحکومت ہونے کا جو اعلان کیا تھا اس کے خلاف پوری دنیا میں جو غم و غصہ اور ناراضگی کا اظہار کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے بظاہر اس اعلان کا واضح مطلب بھی یہی دکھائی دیا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اس کردار سے نکل گیا ہے جو وہ امن و سلامتی معاہدہ کی کاروائی کے سلسلہ میں ادا کررہا تھا نیتین یا ہو حکومت کے جنگی جنون کا خمیازہ اسرائیلی عوام پر بجلی بن کر ٹوٹ رہا ہے صہیونی جیلوں میں آج بھی ہزاروں فلسطینی بچے خواتین اورمرد سخت اذیت میں مبتلاہیں جن پر مختلف قسم کی خطرناک ادویات آزمائی جارہی ہیں ان مظلوم فلسطینیوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی فلسطینیوں پر صہیونی کے مظالم کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی پابندی نہیں کررہا اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات ساری دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑ رہے ہیں حد تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ بھی اس کے سامنے بے بس نظر آتی ہے جس کی وجہ بھی ساری دنیا جانتی ہے فلسطین میں موجود صورتحال عالمی قوانین انصاف اور انسانیت کے لیے لمحہ فکریہ ہے وسیع اقتصادی اور سماجی محرمی کی موجودگی میں امن کا حصول ناممکن ہے کشمیر اور فلسطین دنیا کے سامنے نا انصافی کی بدترین مثالیں ہیں مسئلہ کشمیر اور فلسطین اقوام متحدہ کا نا مکمل ایجنڈا ہے لہٰذا ان مسائل کے حل کے لیے تعمیری مذاکرات کی جانب بڑھنا ہوگا یہاں ضرورت اب اس امر کی ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے صرف لفظی مذمت کرنے پر اکتفانہ کریں بلکہ غاصب صہیونی حکومت کے مظالم اور فلسطینی سرزمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر کو رکوانے کے لیے موثر کردار ادا کیا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔

وقت اشاعت : 2018-01-29

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں