تازہ ترین : 1
Israel Ki Palestine Main Mazeed Najaiaz Yahudi Bastiyon Ki Tameer Ki Manzoori

اسرائیل کی فلسطین میں مزید ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر کا منظوری

شام میں اسرائیلی فوج کی بمباری۔۔۔3 لاکھ سے زائد بے گناہ فلسطینی صہیونی قید میں ہیں۔۔۔۔ خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں ان کی تعمیراتی کی منظوری ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے

رمضان اصغر :
قابض صیہونی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی کالونیوں میں توسیع کا فیصلہ کرتے ہوئے مزید 380 مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ اسرائیل کے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکومت کیزیر انتظام بیت المقدس کی بلدیہ کونسل کی جانب سے ہونے والے ایک اجلاس میں یہودی کالونی راموت میں 307 اور جبل ابوغنیم کالونی میں73 مکانات کی تعمیر کی منظوری دی۔

خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں ان کی تعمیراتی کی منظوری ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے سلامتی کونسل میں قرار داد جمع کرائی ہے ۔جس میں فلسطینی علاقوں میں یہودی توسیع پسنددی روکنے اور مزید یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب فلسطینی مجلس قانون ساز کی خاتون رکن اور اسلامی تحریک مزاحمت ”حماس“ کی رہ نما مریم صالح نے بیت المقدس میں یہودیوں کے لئے مزید مکانات کی تعمیر کو ”المیہ“قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں یہودی تو سیع پسندی کی روک تھام کے لئے فلسطین کے تمام نمائندہ دھڑوں بالخصوص حماس اور الفتح کے درمیان مفاہمت کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی سیاسی جماعتوں کی صفوں میں پائے جانے والے انتشار اور بے اتفاق نے صہیونی ریاست کو فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی کا موقع فراہم کیا ہے۔ فلسطینی عوام باہم مل کر دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں ترکی نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں اسرائیلی حکومت کی طرف سے 380 مکانات کی تعمیر کے اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صہیونی ریاست کی گنڈہ گردی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ترکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی بیت المقدس اور فلسطین کے کسی بھی دوسرے عالمی متنازعہ علاقے میں اسرائیل کی توسیع سرگرمیاں نہ صرف عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ صہیونی ریاست کی بدمعاشی اور غنڈہ گردی کا واضح ثبوت ہے۔ ترکی نے عالمی برادری سے مطالبہ کی ہے کہ وہ بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر وتوسیع پر پابندی عائد کرنے کے لئے موثراقدامات کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ مشرقی بیت المقدس میں مزید تین سو اسی مکانات کی تعمیر کااعلان مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کے لئے جاری جل کو تباہ کرنے اور امن کوششوں کو سیوتاژ کرنے کی گھناونی سازش ہے۔ عالمی برادری کو اس سازش کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔ اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے لئے جاری مہم کے دوران ملک کی بیشتر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے میں کسی نہ کسی شکل میں بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کا نام بھی شامل ہے۔
صہیونی سیاست دان اقتدار تک پہنچنے اور یہودیوں کا زیادہ سیزیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے مسجد اقصیٰ کے خلاف بھرپور طریقے سے اشتعال انگیز مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ملک کے بیشتر سیاسی گروپوں نے کسی نہ کسی شکل میں مسجد اقصیٰ کو اپنے سیاسی ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے۔ کئی سرکردہ سیاسی رہ نماوٴں نے اپنی انتخابی مہمات کا آغاز مسجد اقصیٰ پر دھاو ں سے کیا اور انہوں نے یہودیوں کے قبلہ اول میں داخل ہونے اور وہاں تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرنے کی کھل کر حمایت کی ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ انتخابات میں کامیابی اور حکومت بنانے کی صورت میں وہ یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں کھلے عام داخلے کی اجازت فراہم کریں گے۔ دیگر سیاست دانوں کی طرح اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو بھی اس اشتعال انگیز مہم میں کسی دوسرے انتہا پسند لیڈر سے پیچھے نہیں ہیں۔ انہیں اپنی انتخابی مہم کے دوران کئی بار مسجد اقصیٰ کی دیوار براق (دیوار گریہ) کانام لیتے سنا گیا ۔
نیتن یاھو نے اپنے انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ دیوار ریہ اور بیت المقدس ہمارے قبضے میں رہیں گئے۔ اس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے۔ اسرائیل کی تحلیل شدہ پارلیمنٹ کی سبکدوش اسپیکریولی اڈلچائن نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس باک کے صفحے پر لکھا کہ ”بیت المقدس ہم سب اور تمام صہیونیوں کے لئے مقدس ترین مقام ہے۔
اس کادفاع اور حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اور ہم پوری قوت سے بیت المقدس کا دفاع کریں گئے۔ ہم نے آج تک تمام سیاسی جماعتوں کو بیت المقدس کے معاملے میں یکسو اور متحد پایاہے۔ بیت المقدس کے موضوع کے پر ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اڈلچائن کا کہنا ہے کہ میں روس سے ہجرت کر کے اسرائیل میں اس لئے آباد کاری اختیار کی تاکہ میں بیت المقدس کا دفاع کر سکوں ۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کی سب سے بڑی حریف زیپی لیونی نے بھی اپنے انتخابی جلسوں میں متعدد مرتبہ دیوار براق کی اہمیت کا تذکرہ کیا ۔ مسزلیونی کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں دیوار گریہ وہ جگہ ہے جس کے تقدس پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی سیاست دانوں میں مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے نام پر جاری انتخابی مہم میں ایک مقابلے کی کیفیت پائی جارہی ہے اور سب ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنی انتخابی جیت یقینی بنانے کیلئے قبلہ اول کے خلاف اشتعال انگیز بیانات جاری کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فضائیہ نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پرتازہ کشیدگی کے بعد سرحد پر راکٹ شکن نظام ”آئرن ڈوم “ کی مزید دو بیٹریاں نصب کی ہیں۔ دوسری جانب مبصرین نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے آئرن ڈوم کی تازہ بیٹریاں ایک ایسے وقت میں نصب کی گئی ہیں جس دو روز پیشتر غزہ کی سرحد پر ایک جھڑپ میں ایک فلسطینی مزاحمت کا ر شہید اور دوسرا اسرائیلی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔
اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق فوج نے غزہ کے بالمقابل جنوبی اسرائیل میں بئرسبع اور نتیفوت یہودی کالونی کے درمیان آئرن ڈوم کی مزید دو بیٹریاں نصب کی ہیں۔ رواں سال جولائی اور اگست میں غزہ کی پٹی پر اسرائیل فوج کے قریباََ دو ماہ تک جاری رہنے والے حملوں کے بعد فلسطینی مزاحمت کا روں اور اسرائیل کے درمیان مصر کی ثالثی کے تحت جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا۔
جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے اس کی خلاف ورزیاں بھی جاری رہی ہیں۔ بدھ کے روز سخت کشیدگی اس وقت دیکھی گئی جب اسلامی تحریک مزاحمت ”حماس“ کے عسکری ونگ عزالدین القسام شہید بریگیڈ کے ساتھ جھڑپ میں ایک فلسطینی مزاحمت کار بھی شہید ہوا۔ اسرائیل کے ایک موقر عبراتی اخبار ”ہارٹز“ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر دفاع کنارے میں فلسطینیوں کی اراضی اور املاک پر غاصبانہ قبضے کی خفیہ سازشوں میں ملوث ہیں۔
اخبار لکھتا ہے کہ مسٹر موفاز اور ان کے موجودہ مشیر ماضی میں بھی رئیل اسٹیٹ کی مشکوک سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک نو سرباز ایجنٹ کی مدد سے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی اراضی اور دیگر املاک ہتھیانے کے کئی خفیہ معاہدے کر رکھے ہیں ۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ حال ہی موجودہ وزیر دفاع موشے بعلون نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیردفاع کے مشیر کے خلاف مغربی کنارے میں 1600 ایکڑ اراضی ہتھیانے کے بعد اس پر تعمیراتی کام شروع کرنے کی اسکیم شروع کر رکھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر کے مشیر سے اس امر کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاھو کی جماعت لیکوڈ کا ایک عہدیدار بھی اس خفیہ معاہدے میں شامل ہے۔ اخبار سے بتایا کہ خفیہ طور پر ہتھیائی گئی یہ اراضی مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہررام اللہ میں ”تل تسیون“ یہودی کالونی کے قریب واقع ہے۔ اس کا لونی میں یہودیوں کے متشدد فرقے ”حریدیم“ کے یہودی آباد ہیں۔
اخباری رپورٹ کے مطابق سابق وزیر دفاع کے مشیر نے رام اللہ میں فلسطینیوں کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ اس وقت کیا جب شاول موفاز وزیر دفاع تھے۔ انہوں نے اپنے اس اہم منصب سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے۔ فلسطینی اراضی پر قبضے کے بعد اس پر یہودیوں کی آبادکاری کے لئے تعمیرات شروع کی تھیں۔رپورٹ کے مطابق اس معاہدے میں لیکوڈ کے موتی کو گیل نامی ایک رکن نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔
وہ امریکا سے آنے کے بعد پہلے بیت المقدس میں رہائش پذیر رہا۔ تاہم بعد میں وہ مغربی کنارے میں منتقل ہو گیا ۔ امریکا میں بھی وہ دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں عدالتوں کو مطلوب رہ چکا ہے اور فرار کے بعد اس نے اسرائیل میں پناہ لے رکھی ہے۔ اسرائیل میں بھی اسے جعلی ویزے پر سفر کرنے کی پاداش میں جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی۔ قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسجد اقصی کی بنیادوں اور اس کے گردوپیش کی گئی کھدائیوں کے نتیجے میں مسجد کے مراکشی دروازے کے سامنے دیوار براق کے مقام پر ایک بڑا شگاف پڑگیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا جمعہ کے روز مراکشی دروازے کے قریب اچانک مسجد کے صحن میں دو میٹر گہرا شگاف پڑا اور زمین بیٹھ گئی۔ تاہم اس کے نتیجے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس وقت مسجد میں نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔خیال رہے کہ اسرائیل نے مذموم ہیکل سلیمانی کی تلاش کی آڑ میں مسجد اقصیٰ کی بنیادوں اور اس کے گردوپیش میں سرنگوں کا ایک جال بنا رکھا ہے جو قبلہ اول کیلئے نہایت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

فلسطینی وزارت اواقاف نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس جامع مسجد النبی صموئیل کو اسرائیلی پارک میں تبدیل کرنے کے اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قابض ریاست کے فلسطینیوں کے خلاف مذہبی مظالم کا تسلسل قرار دیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فلسطین میں مسلمانون اور مسیحی برادری کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بیت المقدس میں برسوں پرانی جامع مسجد النبی صموئل پر قبضہ اور اسے یہودی آثار قدیمہ کا حصہ قرار دینا صہیونی ریاست کی مذہبی دہشت گردی اور غنڈہ گردی کا تسلسل ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند یہودی تنظیموں نے حال ہی میں بیت المقدس میں قائم تاریخی مسجد ”النبی صموئل“ کو بنی اسرائیل کے پیغمبر حضرت شموئیل علیہ السلام کی آخری آرام گاہ قرار دیتے ہوئے اسے یہودی تاریخی مقامات کا حصہ قرار دیا اور اسی بہانے کی آڑ میں مسجد پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں پر یہودیوں کیلئے ایک عبادت گاہ کی تعمیر کا بھی اعلان کیا گیا ہے مسجد اور اس سے ملحقہ اراضی پر بھی اسرائیل نے قبضہ کرلیا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی محکمہ اوقاف نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کا مسجد اور اس کی اراضی پر کوئی حق نہیں۔ مسجد اور اس کی املاک پر قبضہ صہیونی ریاست کا مذہبی ڈاکہ ہے جس کا مقصد فلسطین کے تاریخی حقائق کو مسخ کرتے ؤئے سرزمین فلسطین میں یہودیوں کی جعلی تاریخ کو ثابت کرنے کی سازش کرنا ہے۔
سرزمین فلسطین اپنی قدرتی خوبصورتی اور دلفریب فطری نظاروں کی بدولت ہمیشہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے لیکن جب سے ارض فلسطین پر صہیونی ریاست کے ناسور کو گاڑھا گیا تب سے یہ جنت ارضی جنم زار میں تبدیل ہوچکی ہے۔
جہاں جہاں اسرائیل کی پہنچ ہوسکی ہے وہاں فلسطین کی سرسبزی و شادابی کو ویرانوں اور بیابانوں میں تبدیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ مقبوضہ غرب اردن کی سلفیت گورنری کی ”وادی قانا“ کو فلسطین کی ’جنت گم گشتہ“ کہا جاتا ہے ۔ کسی دور میں یہ علاقہ اپنی سرسبزی شادابی، قدرتی حسن کے دلفریب نظاروں، زمین سے ابلتے پانی کے چشموں اور آبشاروں، زیتون، کھجور، اخروٹ اور سینکڑوں قسم کے پھل دار پودوں، انواع اقسام کی سبزیوں اور فصلوں کی شکل میں سونا اگلتی مٹی اس کی پہچان تھی۔
یہی وجہ ہے کہ اسے فلسطین ”گم شدہ فردوس“ کہا جاتا ہے تو اس کی وجہ بھی صہیونی ریاست ہے، جس نے اس وادی کے چارسو یہودی آباد کاروں کو لاکربسانے کیلئے آٹھ بڑی یہودی کالونیاں تعمیر کررکھی ہیں۔ یہ کالونیاں روز مرہ کی بنیاد پر توسیع پزیر ہیں اور نہایت تیزی کے ساتھ وادی کی زمین کو نگلنے کے ساتھ اس کی سرسبزی و شادابی کو بھی ویرانی میں بدل رہی ہیں۔
کھیتی باڑی، اس وادی کے باسیوں کا جدی پشتی پیشہ ہے اور پر نہ صرف فخر کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اپنی اراضی کے ایک بڑے حصے کے کھوجانے پراب افسردہ ہیں۔ ایک مقامی کسان احمد منصور نے مرکز اطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اب ہر چیز یہودیوں کے رحم و کرم پر ہے۔ اسرائیلی فوج کے بلڈوزر، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، یہودی فوجی اور آباد جہاں سے گزرتے ہیں، تباہی پھیلاتے جاتے ہیں۔
ان کی شر سے نہ فصلیں محفوظ، نہ پھل دار درخت اور نہ ہی شہریوں کی جان و مال اور ان کے مویشی محفوظ ہیں۔ ہر چیز خطرے میں ہے۔ کوئی پتا نہیں کب کس کا کتنا نقصان ہوجائے“۔ احمد منصور نے کہا کہ مقامی آبادی کی جانب سے ہائے فریاد بھی کسی کام نہیں آتی کیونکہ ہماری چیخ پکار سے یہودیووں کے دلائل اور دعوے زیادہ موثر ہوتے ہیں۔ انہی کی بات سنی جاتی اور اسی پر عمل کیا جاتا ہے۔
فلسطینیوں کی فریاد تو یہ کہہ کررد کردی جاتی ہے کہ فوج کو اپنی اور یہودی آبادکاروں کی سکیورٹی بھی تو آخر کرنا ہے۔ اسرائیلی فوج کی پابندیوں اور یہودیوں کے حملوں کے خطرات کے باوجود آپ کا گذارا گر وادی قانا سے ہو تو آپ کو فلسطینی کسان اپنے کھیتوں میں جھکے اپنے پیشے سے انصاف کرتے دکھائیں دیں گے۔ وہ اپنی جانوں پر کھیل کر اپنی اراضی میں کھیتی باڑی کرتے ہیں۔
یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں تشدد برداشت کرتے ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں اور پولیس کی گولیاں کھاتے ہیں مگر اپنی مٹی سے محبت انہیں پھر کھیتوں میں لئے چلتی ہے۔دری استیا گاؤں کے بلد یہ کونسل کے چیئرمین ایوب ابو حجلہ ایک سرگرم کارکن ہیں۔ انہیں اکثر مقامی اور غیر ملکی ابلاغی نمائندوں، انسانی حقوق کے رضاکاروں اور فلسطینیوں سے یکجہتی کیلئے آئے وفد کے ساتھ وادی قانا میں چلتے پھرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
ان سے بات ہوئی تو کہنے لگے ”ہم وادی قانا کی زمین بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں، لیکن ہم کیا کریں، یہودی آباد کار ہیں کہ حملوں سے فرصت نہیں دیتے۔ مہینے کا کوئی ہفتہ، ہفتے کا کوئی دن اور دن کا کوئی وقت ایسا نہیں جس میں یہودی گروپوں کی شکل میں وادی میں گھستے، کسانوں کو مارتے پیٹتے اور ان کی فصلوں کاور پھلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
“ ایوب حجلہ نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ سیاحتی مقاصد کیلئے نہ سہی انسانی بنیادوں پر اپنے مندو بین وہاں بھیجیں تاکہ انہیں بھی اندازہ ہو کہ ”فردوس گم گشتہ“ کو یہادیوں نے کس حال کو پہنچا رکھا ہے۔ اسرائیل نے بھی تحفظ ماحولیات کے حوالے سے ایک ادارہ قائم کر رکھا ہے، لیکن یہ ادارہ قدرتی حسن کی حفاظت کے بجائے فلسطینی آبادی کی جبری بے دخلی کا ایک آلہ ثابت ہورہا ہے۔
وادی قانا میں اسرائیل کے مقاصد اس کے قدرتی حسن کے نظاروں کو بچانا ہر گز نہیں بلکہ اسے فلسطینیوں سے چھین کر یہودی آباد کاروں کا مرکز بنا نا ہے۔آئے روز یہاں فلسطینیوں کی اراضی پر قبضے کیے جاتے ہیں، مکانات مسما ہوتے اور پھل دار درخت جڑوں سے اکھاڑ پھینکے جاتے ہیں۔ وادی قانا کا رقبہ 10ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے اور یہ مقبوضہ فلسطین کی خوبصورت ترین وادی میں سے ایک ہے۔ لیکن اس کے چاروں اطراف میں آٹھ یہودی کالونیاں عمانوئیل، وائل متان، باکیر، توفیم، کرنی شمرون، جنوبی شمرون، معالی شمرون اور نوف ارونیم ایک اژدھے کی شکل میں وادی قانا کی زرخیز زمین اور سنہری مٹی کو نہایت سرعت کے ساتھ نگل رہی ہیں۔
وقت اشاعت : 2015-01-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں