تازہ ترین : 1
Insani Smuggling Or Jabri Mushaqat

انسانی سمگلنگ اور جبری مشقت

امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک بھی اس سے پاک نہیں ہے جون 2013ء کی ایک رپورٹ میں امریکہ نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کرنے کیلئے چین اور روس کو دنیا کے بدترین ممالک قرار دیاتھا

اے یو درانی:
جون 2013ء کی ایک رپورٹ میں امریکہ نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کرنے کیلئے چین اور روس کو دنیا کے بدترین ممالک قرار دیاتھا بلکہ اس درجہ بندی کو مد نظر رکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔ امریکی محکمہ کارجہ کی جانب سے ہونے والی اس سالانہ رپورٹ میں چین اور روس کے ساتھ ازبکستان کو انسانی سمگلنگ حوالے سے بدترین ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ ایران، شمالی کوریا، سوڈان، زمبابوے، کیوبا اور دیگر ممالک کو بھی بدترین درجے میں شمار کیا گیا۔ اس رپورٹ کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ کان کیری نے کہا تھاکہ امریکہ کی یہی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ انسانی سمگلنگ کے خاتمے کو چیلنج کے طور پر پورا کرے۔ انہوں نے اس عمل کو بنیادی انسانی وقار پر حملہ قرار دیا ۔ امریکہ کی جانب سے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے پیش کی گئی اس رپورٹ کو کئی ممالک نے درست قرار دیا تھا اور اپنے ملکوں میں پائیجانے والی خامیوں کو تسلیم کیا تھا جبکہ کئی ملکوں نے اس رپورٹ کے اعداد و شمار کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔
دنیا بھر میں اس حوالے سے صورتحال بہت اچھی نہیں ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ڈھائی کروڑ افراد جبری مشقت کی زندگی گزاررہے ہیں۔ غلامی کے طور پر زندگی گزارنے والے ان افراد میں مرد، عورتیں اور بچے سب ہی شامل ہیں۔ ان افراد سے جبری مشقت کے علاوہ جسم فروشی کا مکروہ پیشہ بھی کرایا جاتا ہے۔ جسم فروشی کے کاروبار کیلئے خواتین کو اسمگل کیا جاتا ہے۔
خواتین اور بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف دنیا بھیر کے ممالک میں موٴثر قوانین موجود ہیں مگر بدقسمتی سے ان پر عملدرآمد کرنے میں سستی برتی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ مختلف ممالک میں دولت کے لالچ میں اس دھندے میں ملوث ہیں۔ گزشتہ برس امریکہ میں چھپنے والی رپورٹ کو سامنے رکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اس نے دیگر ممالک کو تو نشانہ بنایا ہے مگر خود امریکہ میں اس حوالے سے صورتحال انتہائی خراب ہے۔
امریکہ کے بڑے شہروں میں مرد، خواتین اور بچے سمگل کئے جاتے ہیں۔ جو وہاں جبری مشقت کا شکار ہیں۔ خصوصاََ خواتین کی سمگلنگ صرف اس مقصد کیلئے کی جاتی ہے کہ ان سے عصمت فروشی کا کام کرایا جائے۔
امریکہ جس نے گزشتہ برس پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں دیگر ممالک کے علاوہ روس اور چین کو بھی انسانی سمگلنگ کے حوالے سے بدترین ممالک قرار دیا تھا مگر خود امریکہ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کرنے میں ناکام نظر آتاہے کیونکہ یہاں بھی بہت سے بچوں، خواتین اور مردوں کو غلامی میں رکھا جارہا ہے جو ریستورانوں، فیکٹریوں، فارموں اور بار وغیرہ میں زبردستی کام کررہے ہیں۔
ان میں زیادہ تر خواتین سے جسم فروشی کا کام لیا جاتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق 14سے 17ہزار تک مرد ، خواتین اور بچوں سے مختلف جگہوں پر مختلف کام لیے جاتے ہیں۔ یہ کام امریکہ جیسے ملک میں بہت زیادہ منظم طریقے سے کیا جارہا ہے۔ اس جرم میں ملوث افراد اپنے کام سے بہت زیادہ مخلص ہیں، وہ ان جرائم کے ارتکاب میں سرگرم ہیں، بہت سے دوسرے ممالک سے سمگل کی گئی خواتین کو عصمت فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔
کئی مرتبہ نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ اگر کوئی خاتون اس حوالے سے انکار کر دے تو اس کو گون پوائنٹ پر ایسا کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ امریکہ میں موجود اس کاروبار سے منسلک افراد بہت گھناؤنے انداز میں اپنا یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دیگر ممالک میں بھی انسانی سمگلنگ، جبری مشقت، جسم فروشی اور ایسے دیگر دھندوں کی روک تھام کرنا ان کی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ مگر امریکہ کو خصوصاََ اس حوالے سے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دوسرے پر تنقید کرنے سے پہلے اگر اپنی اس خامی کو دور کرلیا جائے تو اس سے بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
وقت اشاعت : 2014-02-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں