تازہ ترین : 1
Insani haqooq ki pamali pur aqwam mutahda ki khamoshi lamha fikria

انسانی حقوق کی پامالی پر اقوام متحدہ کی خاموشی لمحہ فکریہ

پناہ کے متلاثی افراد کی آبادکاری سے امریکہ و یورپ کا راہِ فرار پُر تشدد تنازعات کے باعث گھر باڑ چھوڑنے پر مجبور مہاجرین کی تعداد 7 کروڑ سے تجاوز کرگئی

محبوب احمد
عالمی افق پر اقتدار کے خواب کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے عراق اور افغانستان پر چڑھ دوڑنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی لیکن جونہی مسئلہ جنگی حالات کے سبب دیگر ممالک کا رخ کرنے والے مہاجرین کی آباد کاری کا پیش آیا توان کی مدد کے بجائے محض بیان بازی پر ہی اکتفا کیا گیا 2014 میں پناہ گزینوں کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 43 ہزار افراد کا اضافہ ہوا جبکہ 2013 میں یہ تعداد 32 ہزار روزانہ تھی 2014 میں سال کے آخر تک ان افراد کی تعداد تقریباً ساڑھے 5 کروڑ تک پہنچ چکی تھی جن میں نصف سے زیادہ بچے تھے ایک کروڑ 95 لاکھ مہاجرین اورتین کروڑ 82 لاکھ اندرون ملک دربدر ہونے والوں کے علاوہ 18 لاکھ دو لوگ بھی ان میں شامل تھے جو غیر ممالک میں پناہ کی درخواستیں پر فیصلوں کے منتظر تھے2015 میں یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن میں سب سے بڑی تعداد شام اس کے بعد افغان اور پھر اریٹریا نائیجریا اور صومالیہ کی ہے کیونکہ ان تمام ممالک میں جنگ اور انسانی حقوق کی پامالی کی صورت حال تاحال ابتر ہے2016 میں جرمنی میں داخل ہونے والے سیاسی پناہ کے متلاثی افراد کی تعداد 2 لاکھ80 ہزار کے لگ بھگ تھی 2017 میں 7 لاکھ45 ہزار سے زائد مہاجرین کی جانب سے دی گئی سیاسی پناہ کی درخواستوں کا اندراج کیا گیا ایک اندازے کے مطابق دنیا کا ہر122 واں شخص یا تو مہاجر یا اندرون ملک دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور ان مجبور افراد کی تعداد7 کروڑ کے لگ بھگ ہیں براعظم یورپ میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور افراد کی تعداد 50 فیصد ہے اور یہ تعداد 70 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پناہ گزینوں کی کل تعداد کا86 فیصد ترقی پذیر ممالک میں ہے جبکہ صرف2.2 فیصد پناہ گزینوں کو دیگر ممالک نے اپنے ہاں پناہ دی ہوئی ہے پرتشدد تنازعات اور ظلم و ستم کے نتیجے میں جہاں ایک طرف اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین اپنا گھر بار چھوڑ کر پر امن مقام کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں وہیں دوسری طرف ستم ظریفی یہ ہے کہ بعض ممالک خصوصاً یورپ میں ان تارکین وطن سے چھٹکارے کے لیے ایسی پالیسیاں نافذ کی جارہی ہے کہ جو ایک مہذب معاشرے کو زیب نہیں دیتیں آسٹریا جرمنی سمیت بیشتر ممالک اس کے ضمن میں نئے سے نئے قوانین سامنے آ رہے ہیں حالانکہ دنیا بھر کے ممالک اقوام متحدہ کے قانون”نان ریفاﺅلمنٹ“پر عمل پیرا ہونے کے پابند ہیں جس کے مطابق لوگوں کو ایسے علاقوں میں واپس نہیں بھیجا جائے گا جہاں انہیں ان کی جان کو خطرہ ہے پاکستان ترکی اور لبنان تین ایسے ممالک ہیں جہاں اب بھی پناہ گزینوں کی تعداد دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہے یہاں قابل غور امریہ بھی ہے کہ عالمی برادری کی طرف سے خاطر خواہ مالی مدد نہ ہونے کے باعث ان ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی بوجھ کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے آسٹریلیا کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تارکین وطن کے لیے قائم کئے جانے والے حرامتی مراکز میں سے ایک مرکز جزیرہ مانس ہے جسے بحرالکاہل کے ”گوانتانا موبے“سے بھی تشبیہہ دی جاتی ہے ”پاپواینوگنی کا“مانس جزیرہ وہ جگہ ہے جسے آسٹریلیا دنیا دنیا کی آنکھوں سے اوجھل رکھنا چاہتا تھا یادر ہے کہ2013 میں آسٹریلوی حکومت نے پاپااینوگنی کی پناہ کے متاثی افراد کے لیے حرامتی مرکز بنانے پر30 کروڑ ڈالر دینے کا ایک معاہدہ کیا تھاحقیقت میں یہ آسٹریلوی حکومت کی طرف سے ایک واضح پیغام تھا کہ پناہ کے متلاثی افراد کو اسی جزیرہ مانس میں رکھا جائے گا اقوام متحدہ نے جزیرہ مانس پر حرامتی مراکز کو غیر قانونی تو قرار دیا لیکن اس کی بندش کے لئے بظاہر کوئی ایسا اقدام نظر نہیں آیا کہ جس سے تارکین وطن کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا ہو سہولیات زندگی کی عدم فراہمی اورقید کے دوران تارکین وطن سے نارواسلوک پر اس حراستی مرکز میں حالات کافی کشیدہ رہے ہیں کئی بار تو فسادات کے نتیجے میں ہلاکتیں بھی ہوئیں قابل غور امر یہ ہے کہ ایک طرف ان حراستی مراکز میں ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہا جبکہ دوسری طرف دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کیلئے آسٹریلیا میں ان مہاجرین کے حق میں اجتجاجی ریلیوں کا اہتمام کرکے اس مراکز کی بندش کے حوالے سے خبریں بھی منظر عام پر آئیں لیکن حقیقت میں تاحال ایسا کوئی اقدام دیکھنے کو نہیں ملا کہ جس سے ان پناہ گزینوں کے حقوق کا تحفظ یقینی ہوا ہو آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کیمپ میں موجود تقریباً 6 سو مہاجرین کے لئے نئے ”شیلٹر ہاﺅس“بنائے گئے ہیں تاہم یہ مہاجرین اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اگر انہوں نے جزیرہ مانس پر واقع یہ کیمپ چھوڑا تو انہیں ملک بدر کیا جاسکتا ہے آسٹریلیا کے جزیرہ مانس کی طرح نجانے کتنے نظروں سے اوجھل ایسے حرامتی مراکز ہیں جہاں پناہ گزین کسمپر سی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں شام افغانستان صومالیہ جنوبی سوڈان عوامی جہموریہ کانگو برما اور عراق کے مہاجرین آج کسمپری کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں دوسری طرف جہموریہ وسطیٰ افریقہ اور جنوبی سوڈان میں بڑے تنازعات کے سبب کثیر تعداد میں لوگ بے گھر ہورہے ہیں اگرچہ یہ ممالک بہت کم اس بات کے اہل ہیں کہ وہ لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کی میزبانی کرسکیں اردن اور لبنان جس کی اپنی آبادی بہت قلیل ہے وہ تقریباً 18 لاکھ پناہ گزینوں کی میزبانی کررہے ہیں جبکہ سب سے زیادہ بوجھ ایتھوپیا اور پاکستان کو برداشت کرنا پڑرہا ہے جو اپنی اپنی معیثت کے حجم کی نسبت زیادہ مہاجرین کی میزبانی کررہے ہیں اکثر اوقات ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے انہیں مناسب امداد بھی نہیں ملتی دنیا بھر میں جنم لینے والے نت نئے بحرانوں نے ایک بڑی تعداد کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا ہے اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کیونکہ نقل مکانی کرنے والے افراد کے حقوق کا کوئی بھی ضامن نہیں کیونکہ بہت سے ممالک میں امیگریشن کنٹرول کے نام پر انسانی حقوق کا استحصال جاری ہے جس کہ وجہ سے غربت بھوک اور بے سروسامانی کے شکاردربدر کی ٹھوکریں کھانے والے مہاجرین کی محرومی حددرجہ بڑھ رہی ہے لہٰذا اس ضمن میں امریکہ اور یورپی ممالک کو چاہئت کہ دو پناہ گزینوں کے گھمبیر مسائل سے نمٹنے کے لئے جامع حکمت عملی وضع کرتے ہوئے تارکین وطن سے چھٹکارے کے لیے ایسے اقدامات سے گریز کریں کہ جن سے انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں۔

وقت اشاعت : 2018-01-31

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں