بند کریں
جمعہ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انسانی سمگلنگ بردہ فروشی کا بھیانک روپ دھار گئی!
امریکہ‘ یورپ‘ برطانیہ اور دیگر ممالک میں عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرنے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ آج لاکھوں مرد، کواتین اور بچے اسی مذموم تجارت کا شکار ہیں۔ 2کروڑ سے زائد لوگ انسانوں کی تجارت کا شکار ہورہے ہیں
محبوب احمد:
جدید دور کی غلامی دنیا بھر کے ممالک میں پائی جاتی ہے لیکن انسانوں کی تجارت ایسا جرم ہے جو ہمارے سماجی تانے بانے کو تار تار کر کے ہماری مشترکہ انسانیت کی بنیادیں کھوکھلی کررہا ہے۔ آج لاکھوں مرد، کواتین اور بچے اسی مذموم تجارت کا شکار ہیں۔ 2کروڑ سے زائد لوگ انسانوں کی تجارت کا شکار ہورہے ہیں اور اس تجارت سے تقریباََ ہر سال 150بلین ڈالر کا غیر قانونی منافع کمایا جارہا ہے، اس مذموم دھندے سے امریکہ بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔
2007ء میں انسانی سمگلنگ کے زریعے جرائم پیشہ گروہوں کا منافع 787ملین ڈالر سے بڑھ کر 2013ء میں 927ملین ڈالر تک جاپہنچا تھا۔ بااثر افراد کی پشت پناہی اور قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے سے دنیا بھر میں انسانی سمگلنگ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ سمگل ہونے والوں میں اکثر یت خواتین اور بچوں کی ہے۔ 2007ء سے 2010ء کے دوران انسانی سمگلنگ کے 27فیصد واقعات پیش آئے تھے جو کہ 2003ء سے 2006ء کے درمیان 7فیصد سے زائد ہیں۔
سمگل ہونے والی خواتین کی تعداد 15 سے 20 فیصد پر مشتمل ہے جبکہ لڑکوں کی تعداد 10 فیصد ہے، ہر سال 2لاکھ بچوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ سمگل کیا جاتا ہے اور سمگلنگ کے دوران 95فیصد افراد کو کسی نہ کسی قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس میں جنسی تشدد بھی شامل ہے۔
جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں پایا جانے والا سیاسی عدم استحکام ایسے گروہوں کو پھلنے پھولنے کا مکمل موقع فراہم کررہا ہے۔
معصوم لوگوں کو بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر ان کی جمع پونجی لوٹنے کے ساتھ ساتھ ان کو جرم و گناہ کی دلدل میں پھنسانے کا کام آج کل عام ہے۔ وطن عزیز میں انسانی جمبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے بیوپاری بکثرت نظر آئیں گے جو کام کا جھانسہ دے کر لوگوں کو غیر قانونی دھندے میں ملوث کردیتے ہیں۔ موجودہ حالات میں انسانوں کی تجارت قومی سلامتی کیلئے ایک واضح خطرہ بن چکی ہے۔
بے روزگاری، ناانصافی، بنیادی حقوق کا عدم تحفظ، دہشت گردی اور کئی دیگر مسائل سے چھٹکارا پانے کیلئے لوگ بیرونی ممالک جانے کیلئے ایسے گروہ کا شکار ہوجاتے ہیں جو اس مذموم دھندے میں فعال ہیں، اب تک ایسی سینکڑوں داستانیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں معصوم لوگوں کو بیرونی ممالک بھجوانے کا جھانسہ دے رک لوٹ لیا گیا ہو۔ یورپ، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور مشرق وسطیٰ سمیت دیگر کئی ممالک میں ایسے ہزاروں لوگ موجود ہیں جن کا عدالتی کارروائی کے دوران کوئی پرسان حال تک نہیں ہوتا۔
انسانی سمگلروں نے اپنی کشتیاں، بوٹس اور چھوٹے بحری جہاز بھی بنا رکھے ہیں، ان ایجنٹس کا نیٹ ورک بیشتر ممالک میں پھیلا ہوا ہے جو وقت اور حالات کے مطابق انسانی سمگلنگ کیلئے نئے روٹس نکالتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے کسی بھی شہر سے اصل ویزا اور پاسپورٹ سے دوبئی بھیجا جاتا ہے اور پھر وہاں سے انک ے پارٹنرز جعلی دستاویزات کے ساتھ بحری جہاز سے انہیں دوسرے ممالک پہنچاتے ہیں، یہ سفر اتنا کٹھن ہوتا ہے کہ اکثر و بیشتر شدید حادثات بھی رونما ہوجاتے ہیں اور اب تک سینکڑوں افراد دیار غیر میں روشن مستقبل کی تلاش میں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہ لوگوں سے لاکھوں روپے کے عوض انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح خطرناک راستوں سے کوئٹہ، پھر ایران کے تفتان بارڈر اور وہاں سے ماکو کے پہاڑوں سے ترکی پہنچاتے ہیں۔ سفر پیدل، کشتیوں میں اور کبھی تو سامان والے کنٹینرز میں کیا جاتا ہے، راستہ انتنا دشوار ہوتا ہے کہ اکثر لوگ منزل پر پہنچے سے پہلے ہی مارے جاتے ہیں یا تو بڑی تعداد میں دوسرے ممالک کی سرحدوں پر گرفتار ہوجاتے ہیں لیکن یہ سب کچھ پہلے سے کسی کو نہیں بتایا جاتا۔

یورپی یونین میں مشرقی یورپ کے ممالک شامل ہونے سے قبل مشرقی یورپ سے بھی ٹرک اور ٹرالوں میں انسانی سمگلنگ عروج پر رہی ہے۔ یورپ جانے کیلئے سمگلر ترکی میں مرمرہ پورٹ استعمال کرتے ہیں اور یہاں سے سپیڈبوٹ کے ذریعے یورپ جاتے ہیں اور یا پھر مشکلات برداشت کرتے ہوئے ترکی اور یونان کی سرحد کو پیدل چل کر عبور کرتے ہیں، اب ملائیشیا اور انڈونیشیا کے راستے آسٹریلیا جانے کی کوششیں بھی تیز ہوئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں انسانی سمگلنگ اب اسلحے اور منشیات کی سمگلنگ کے بعد سب سے بڑا غیر قانونی کاروبار بن چکا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے دیگر ممالک جانے کی بڑی وجوہات بے روزگاری، غربت اور زیادہ رقم کمانے کی حوس ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف امریکہ میں اسلانہ 5لاکھ لوگ غیر قانونی طریقے سے داخل ہوتے ہیں۔ یورپی یونین کے ممالک میں بھی اتنے ہی لوگوں کی ناجائز درآمد کا اندازہ ہے، تقریباََ 15کروڑ لوگ ہیں جو بیرونی ممالک میں روزگار کمانے پر مجبور ہیں جن میں سے بہت سے اس مقصد کیلئے ہزاروں ڈالر تک خرج کرتے ہیں، بے شمال لوگ سمگل کرنے والے اداروں کے ہاتھوں فروخت بھی کئے جاتے ہیں۔
بحریہ روم میں سمگلنگ کے کاروبار سے سالانہ تقریباََ 30سے 60کروڑ یورو کمائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے نووارد اس جانب مائل ہورہے ہیں۔ انسانی سمگلر اٹلی میں منظم طور پر جرائم پیشہ افراد کے ساتھ روابط بڑھارہے ہیں۔ دنیا بھر میں ان سرگرمیوں سے سالانہ 10ملین ڈالر کی رقم حاصل کی جاتی ہے۔ پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے دھندے نے جس تیزی سے فروغ پایا ہے وہ لمحہ فکریہ ہے اور اس کی بازگشت اب دنیا بھرمیں بھی سنائی دی جانے لگی ہے۔
سینکڑوں ایسی این جی اوز ہیں جو غیر قانونی کام میں ملوث ہیں اور ان کاریکارڈ تحویل میں لے کر کارروائی بھی کی جارہی ہے۔ ماضی میں انسانی سمگلنگ میں ملوث سینکڑوں این جی اوز کے ریکارڈز بھی تحویل میں لئے گئے جو کہ لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے۔ انسانی سمگلنگ روکنے کیلئے قانون موجود ہے لین ایک تو اس پر عملدرآمد نہیں ہوپاتا اور اگر کہیں کوشش کی جائے تو جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہوتی ہے وہاں سمگلر مک مکا کرلیتے ہیں اس لئے ملزمان قانون کی گرفت سے نکل جاتے ہیں۔
بیشتر ممالک نے انسانوں کی تجارت کے خلاف قوانین منظور کرتے ہوئے ان پر عملدرآمد کیلئے خصوصی یونٹ قائم کئے ہوئے ہیں، اس جرم کے خلاف جنگ کیلئے عوام میں آگہی مہم شروع کی گئی ہے لیکن اس راہ میں ابھی بھی بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں، اس امر سے ہر کوئی بخوبی آگاہ ہے کہ دنیا کا ہر ملک اس جرم سے متاثر ہورہاہے لیکن اس مذموم دھندے کا دنیا بھر سے خاتمہ کرنے کیلئے ایک طویل سفر طے کرنا ہوگا۔
انسانوں کی غیر قانونی سمگلنگ سے اس دھندے میں ملوث گروہ بلاشبہ کروڑوں کماتے ہین لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا جو بیرون ملک جانے اور ملازمتوں کے لالچ میں اپنی عمر بھر کی جمع پونجی لگا بیٹھتے ہیں، یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ غیر قانونی سمگلنگ میں ملوث افراد اور گروہوں کے پیچھے اہم حکومتی اوربااثر شخصیات موجود ہیں، یہی وجہ سے کہ قانون کے ہاتھ ان تک نہیں پہنچتے، لوٹے جانوں والوں کی داستانیں تو عوام میڈیا کے ذریعے آئے روز سنتے اور پڑھتے ہیں لیکن لوٹنے واے کتنے کیفر کردار تک پہنچائے گئے اس کے بارے میں کوئی اطلاع منظر عام پر نہیں آتی۔
یہاں ضرورت اب اس امر کی ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانی امیج کو بہتر بنانے اور انسانی سمگلنگ کے مذموم دھندے سے چھٹکارہ پانے کیلئے انسانی سمگلروں کیلئے کم سے کم سزا سزائے موت ہونی چاہئے تاکہ ایسے پیشے سے وابستہ افراد کی حوصلہ شکنی ہو جو اپنے بچوں کی روٹی کی خاطر دوسروں کے بچوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان