تازہ ترین : 1
India Main Nayi Shuddhi Tehreek Shoro

بھارت میں نئی شدھی تحریک شروع

آر ایس ایس کا بھارت کو سو فیصدہندو ملک میں بدلنے کا منصوبہ۔۔۔ مسلمانوں‘ عیسائیوں کو زبردستی ہندو بنانے کے پروگرام کو درپردہ آگے بڑھایا جائے گا

رابعہ عظمت :
انتہا پسند ہندو تنظیموں راشٹر یہ سیوک سوئم اور دشوا ہندوپریشد نے بھاررت کو سو فیصد ہندو اکثریتی ملک میں بدلنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ ایک بھارتی تجزیہ کار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سنگھ پریوار نے آخر وہ پتہ شو کر دیا ہے جو اس نے طویل عرصے سے چھپا رکھا تھا اور وہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ غریب مسلمانوں اور عیسائیوں کو ”گھر واپسی“ پروگرام کے تحت دوبارہ ہندودھرم میں شامل کر لیا جائے۔
سنگھ پریوار کے سربراہ اشوک سنگھل سمیت فرقہ پرست رہنماوں کا کہنا ہے کہ عیسائی اور مسلمان دراصل ہندو اور عیسائی ہمارے بچھڑے ہوئے بھائی ہیں۔ انہیں ان کے آباو اجداد کے ”دھرم “ میں واپس لانا کوئی غلط نہیں کیونکہ انہیں مسلم حکمرانوں اور انگریزوں کے ادوارِ حکومت میں زبردستی ہندو سے مسلمان بنایا گیا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ مذہب تبدیلی پر اعتراض کرنے والے اس پر پابندی لگوانے کے لئے پارلیمنٹ میں قانون لے آئیں۔
ان کا واضح اشارہ کانگریس ،راشٹر جنتادل اور دیگر سیکولر جماعتوں کی طرف ہے جنہوں نے بھارتی اقلیتوں کوجبراََ ہندو بنائے جانے کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کیا اور دونوں ایوانوں کی کارروائی ہنگامہ آرائی کے باعث چلنے نہیں دی۔ اب حکمران جماعت بی جے پی بھی کہنے لگی ہے کہ وہ مذہب کی تبدیلی پر پابندی عاید کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں بل لانے کو تیار ہے، کانگریس اور دوسری جماتیں اس کا ساتھ دیں۔
دراصل اس سارے کھیل کا مقصد یہ ہے کہ بھارت کی ہندو آبادی کو مسلمان یا عیسائی بننے سے روکا جائے۔ اگر لوک سبھا میں یہ قانون منظوری کے بعد نافز بھی ہو گیا تو بھی آر ایس ایس اور واشو ہندو پریشد اس کی مخالفت کریں گی اور نہ ہی اس عمل پیراہوں گی۔ اس سے ان کی دو فائدے ہوں گے۔ ایک ہندووں کو ان کا مذہب چھوڑنے سے دوکا جائے گا جبکہ دوسری طرف غریب مسلمانوں، عیسائیوں کو لالچ اور ترغیبات دے کر دھونس اور دھمکیوں کے ذریعے جبراََ مذہب تبدیل کرنے کیلئے شدھی کرن یا گھر واپسی پروگرام کو درپردہ آگے بڑھایا جائے گا۔
اور اس میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوگئی۔ روپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے تبلیغی اور عیسائی مشنریوں کی طرح ہندو تنظیموں کے پاس لوگوں کو ہندو بنانے کے لئے کوئی پروگرام نہیں ہے۔ تاہم نریندر مودی کے برسر اقتدار آتے ہی ہندو فرقہ پرست تنظیمیں ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے کے لئے ایک بار پھر متحرک ہو گئی ہیں اور انہوں نے برسوں کے ارمان پورے کرنے کی ٹھان لی ہے۔

تقسیم ہند سے قبل1920 میں متعب ہندو سوامی دیانند سرسوتی نے شدھی تحریک شروع کی تاکہ مسلمانوں کو زبردستی ہندو دھرم اپنانے پر مجبور کیا جائے یعنی انہیں شدھی کیا جائے۔ کہاگیاکہ مسلمان اور ان سے پہلے عیسائی اس خطے میں آئے اس سے قبل سارے لوگ ہند ہی تھے لہٰذا ان سب کو ہندو بنانا ضروری ہے۔ حالانکہ ہندوستان پر گیا رہ سو سال تک مسلمانوں نے حکومت کی لیکن ہندووں نے کبھی اس زمین پر مسلمانوں کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کیا۔
اور ان کی نفرت 1857 کی جنگ آزادی کے بعد کھل کر باہر آگئی۔ ہندوستان کو مکمل طورپر ہندوبنانے اور مسلمانوں کویہاں سے نکالنے کیلئے سنگھٹن جیسی پر تشدد تحریک کا آغاز بھی ہوا۔ پہلے مسلمانوں کو ہندو (شدھی) بنانااگر وہ نہ مانے توا نہیں سنگھٹن یعنی قتل کر دیا جائے۔ اس حوالے سے میو آبادی کا علاقہ میوات شردھانند نے بھارتیہ ہندو مہاسبھا نامی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا مقصد مسلمانوں کو ہندو مذہب میں داخل کرنا تھا۔
جسے 23 دسمبر 1926 کو عبدالرشید نامی ایک غیرت مند مسلم نوجوان نے واصل جہنم کر ڈالا تھا۔ اسی ملعون سوامی کا شمار آج بھارت کے قومی ہیروز میں ہوتا ہے۔ ہدنو مہاسبھا تنظیم کا مقصد وہی تھا جو شدھی تحریک کا تھا۔ ا س کے مطابق مسلمان غیر ملکی ہیں اور ان کا ہندوستان سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اگر مسلمان ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں تو ان کو ہندومعاشرے میں جذب ہونا پڑے گا۔
سنگھٹن تحریک کا بانی انتہا پسند پنڈت مدہن مالویہ کھلم کھلا ہندو نوجوانوں کو مسلمانوں سے لڑنے کی ترغیب دیتا تھا اور وہ ہندووٴں سے کہتا تھا کہ تمہیں اپنے دشمن مسلمانوں سے لڑنا ہے ان سے مقابلہ کرنا ہے ۔ اور آج بی جے پی کے دور حکومت میں ہندوسوامی شردھا نند اور دیانند کے چیلوں نے ایک بار پھر شدھی تحریک کا آغاز کر دیا ہے ۔ زبردستی نہ صرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں کو بھی ہندودھرم اپنانے پر مجبور کیا جا رہاہے اور یہ کھم کھلا ہورہا ہے۔
آگرہ میں غریب مسلمانوں کو پوجا میں بٹھا کر میڈیا کے سامنے مذہب کی تبدیلی کے طور پر دکھایا گیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں فرقہ پرست تنظیمیں بے لگام ہو گئی ہیں۔ آر ایس ایس کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ ہندوستانی مسلمان فی الواقع ہندو ہیں انہیں جبراََ مسلمان بنایا گیا۔ اب ان کے مذہب کو تبدیل کر کے ہم گھر واپس لا رہے ہیں۔ لیکن یہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے یہ گھر واپسی نہیں بلکہ زبردستی ہے ۔
کبھی ہندوستان میں ہندووں کو طاقت کے بل بوتے پر مسلمان نہیں بنایا گیا بلکہ ہندوستان میں محمد بن قاسم کے دور میں جب مسلمان آئے تو ان کے حسنِ سلوک اور اخلاق و کردار سے متاثر ہوکر یہاں کے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ سنگھ پریوار کا مسلمانوں کے ساتھ دھونس ودھمکیوں کے ذریعے ایسا کرنا قابل مذمت ہے۔
ہندووں کے اسلام قبول کرنے کی بات موہن بھاگوت اور اشو ک سنگھل وغیرہ کے نزدیک آٹھ سو سال پہلے کی بات ہے اور ہندووں کے عیسائی بننے کی بات سے سال یا اس سے کچھ زیادہ کی بات ہے۔
ہندووں نے عیسائی مذہب اس وقت قبول کیا جب یہاں انگریزوں کی حکومت تھی۔ جانوروں کی طرح زندگی گزارنے والے غریب قبائیلوں اور اعلیٰ ذات کے ہندووں کو عیسائی بنایا گیا۔ عیسائی مذہب قبول کرنے والے زیادہ تردلت تھے یہ وہ آدی واسی تھے جو پہاڑوں کے نیچے جنگلوں میں رہتے تھے۔ تاریخ کی کوئی ایسی کتاب نہیں جس میں درج ہو کہ مسلم حکمرانوں نے حکومت کے زرد پر ہندووں کو مسلمان بنایا ہو ۔
یہ سراسر الزام ہے۔
تاہم اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ سنگھ پریوار نے ہندو راشٹر بنانے کے گھناوٴنے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ ہندوراشٹر بنانے کے اس منصوبے پر آہستہ آہستہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ آر ایس ایس کے سربراہ بھگوت نے وشواہندو پریشد کے اجلاس کے خطاب کرتے ہوئے جو زہر اگلا وہ بھارت میں جاری جبری تبدیلی مذہب کی مہم کے خدوخال کی واضح کرتا ہے ۔
موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان کو ہندوملک بنانے کا خواب ضرور پورا ہوگا اور اس وقت تک چین نے نہیں بیٹھیں گئے جب تک تمام لوگوں کی ”گھر واپسی“ کا عمل پورا عمل ہو جاتا ۔ آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم جاگرن منچ کے سربراہ اجیشور سنگھ نے کہا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندوستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ راجیشور سنگھ نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 31 دسمبر 2021 تک ہندوستان مسلمانوں اور عیسائیوں سے پاک ہو جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی تنظیم اب تک تین لاکھ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ فرقہ پرست لیڈر کے اس بیان پر ابھی تک کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
قابل ذکر بات ہے کہ بھارت میں پسماندہ ذاتوں کے ہندو محض اس لئے اپنا مذہب تبدیل کرکے عیسائیت قبول کرتے ہیں ان کے ساتھ تفریق برقی جاتی ہے اور انہیں کم تر درجے کا انسان تصور کیا جاتا ہے۔
ہندووں کی اعلیٰ ذاتیں اپنی پسماندہ اور غریب ذاتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھتی ہیں وہ انتہائی شرمناک ہے۔ جس طرح دلتوں اور پسماندہ برادریوں کو کچل کر رکھ دیا گیا ہے اس کی ایک پوری تاریخ موجود ہے۔
آر ایس ایس اور اس سے وابستہ فرقہ پرست تنظیمیں تبدیلی مذہب کا شور اس لئے مچا رہی ہیں تاکہ پارلیمنٹ میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف ایک باقاعدہ قانون وجود میں آجائے اور پھر بھارت میں مذہب تبدیل کرنا ایک جرم بن جائے ۔
اوراس قسم کے قوانین صوبائی سطح پر بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں پہلے ہی بنائے جا چکے ہیں۔ ہندوستانی آئین کے تحت ہر فرد کو اپنی مرضی کا مذہب اختیار کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی آزادی حاصل ہے ۔ اسی دستوری حق کی بنیاد پر ہندو دلت طبقے برہمنوں کے ظلم وستم سے نجات حاصل کرنے کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرتے ہیں۔ سنگھ پریوار کویہ خوف لاحق ہے کہ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو ہندوستان میں ہندووٴں کی تعداد کم ہو جائے گی۔

دارصل بی جے پی آر ایس ایس کی تابعدار ہے اور بی جے پی کو اقتدار میں لانے کیلئے کیں وہ سب آر ایس ایس کا ہی منصوبہ تھا۔مصدقہ ذرائع کے مطابق الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے دھاندلی بھی بی جے پی کے انجینئروں کا ہی منصوبہ ہے۔ جن حلقوں میں فرقہ پرست پارٹی کو اپنی جیت کی امید خود بھی نہیں تھی وہاں پر بی جے پی نے اکثریتی ووٹ حاصل کیا۔ بنارس کے حلقے دارنسی میں جعلی ووٹوں کی کثیر تعدا کا انکشاف اور اس پر بھارتی الیکشن کمیشن کی لیپاپوتی غیر تسلی بخش ہے ۔
ووٹنگ مشین کی خرابی کی بہت زیادہ واقعات کے پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو مشینوں میں گڑبڑ کر کے اور کسی بھی بٹن دہانے کی صورت میں ووٹ بی جے پی کو جانے کے انتطامات یا تکنیک انتخابی مہم پر بے دریغ روپیہ بہا کر جس طرح کنول ‘کو کامیابی کروایا گیا اس کے پیچھے سنگھ پریوار کے خطرناک عزائم ہیں۔ جن میں ہندوستان کو ہندوراشٹر میں بدلنے کی سازش بھی شامل ہے۔

اقتدار میں آنے سے قبل ہی آر ایس ایس نے مذموم ایجنڈے پر عملدرآمد کاآغاز کر دیا تھا۔ہندو فرقہ پر ست لیڈ ر گری راج سنگھ نے کہا تھا کہ مودی کو ووٹ نہ دینے والے پاکستان چلے جائیں یہ ابتدا تھی۔ مودی کے مسند اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کیلئے دفعہ370 کی منسوخی کا مطالبہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
مسلم پرسنل لاء بھی ان کی نظروں میں کھٹک رہا ہے وہ اس کی جگہ یکساں سول کوڈ کانفاذ چاہتے ہیں۔ تعلیم کا بھگوا کرن اور ہندوستانی تاریخ کو توڑ مروڑ کرازسر نو درج کرنا بھی سنگھ پریوار کے کوفناک کھیل کا ایک حصہ ہے۔ آر ایس ایس کے پروگرام میں یہ شامل ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم رہے اس لئے اترپردیش کے ضمنی الیکشن میں ”الوجہاد“ کا شوشہ چھوڑا گیا اور مدارس پر دہشت گردی کے الزامات عائد کر کے انہیں بند کرنے کی سازش بھی کی گئی اور تو اوردر پردہ ہندووں کی کتاب شریمد بھگویت گیتا کو قومی کتاب کادرجہ دینے کی کوشش بھی جاری ہے۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارتی فرقہ پرست وزیراعظم نریندر مودی نے تبدیلی مذہب کے سلسلے میں دہشت گرد تنظیموں بجرنگ دل ، وشواہندو پریشد اور جاگرن منچ کی مذموم سرگرمیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اور بھارتی مسلمانوں کو مطمئن کرنے کیلئے ایک نیا پینترا بدلا ہے۔ انہوں نے انوکھا پلان تیار کیا ہے جس کے تحت بی جے پی کے ترجمان مختار عباس نقوی اور بالی وڈ سٹار امیتابھ بچن کو یہ ذمہ دار سونپی گئی ہے کہ وہ پسماندہ مسلم طبقات میں جاکر بی جے پی کے ترقیاتی منصوبوں سے انہیں آگاہ کریں اور انہیں بی جے پی کی حمایت پر آمادہ کریں۔

بھارتی وزیر پارلیمانی امور وینکینا نائیڈو نے کہا ہے کہ حکومت مذہب کی تبدیلی روکنے کیلئے قانون نہیں بنا سکتی کیونکہ یہ معاملہ حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں۔ تاہم اگر اپوزیشن جاعتیں اس مقصد کیلئے کوئی قانون سازی چاہتی ہیں تو تب حکومت اس معاملے پر غور کر سکتی ہے۔
انتہا پسند تنظیمیں محض سیاسی وہ مذہبی بنیادوں پر اس مہم کو نہیں چلا رہیں بلکہ حکومتی مشینری اور ریاستی ادارے بھی ان کے ساتھ متعصبانہ مہم میں برابر کے شریک ہیں جس کاثبوت فرقہ پرست لیڈر پر وین تو گڑیا کی جانب سو دو ہیلپ لائن نمبروں کا اعلان ہے جو خالصتاََ ہندو مذہب کی اشاعت کے لئے کام کریں گے۔
یہ ہیلپ لائنیں تمام تر دھیہ پردیش کے علاقوں کے لئے خدمات مہیا کریں گی۔ ایک سیکولر ریاست میں صرف ہندو مقاصد کیلئے اور صرف ہندووں کی تعلیم ، صحت ،قانونی معاونت، ہندوتہذیب اور دیگر ہندو مسائل کے حل کے لئے اور ہندو مذہب کی ترویج و اشاعت کے لئے ریاستی کل پرزوں کا استعمال سیکولر ام کے منہ پرطمانچہ ہے ۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق سیکولر بھارت میں آر ایس ایس کی اعلیٰ ترین قیادت نے ناگ پور میں 0142 کا اہم اجلاس منعقد کیا تھا۔
اس اجلاس میں 58 پرچار کروں کا ایک گروہ تیار کیا گیا جسے زبرستی تبدیلی مذہب کا منصوبہ سونپا گیا۔ اس منصوبے کا نام”دھرم جاگرن مانک“ رکھا گیا جس کا مطلب تفہیم مذہب ہے جبکہ نئے سال 2015 کے اختتام تک مزید پچاس ہزار مسلمانوں کو ہندودھرم میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے چنانچہ جہاں جہاں زبردستی تبدیلی مذہب کی کارروائی بڑے پیمانے پر ہوچکی تو خبروں میں آگیا اور جہاں کہیں اندرون ِ خانہ سازشیں تیار ہو رہی ہیں وہاں کے بارے میں کسی کو خبر نہیں۔
وقت اشاعت : 2015-01-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں