بند کریں
پیر مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بھارت کی خارجہ پالیسی
پڑوسی سے دشمنی اور اُن کے پڑوسی سے ساز باز! مختلف علاقوں پر جبری قبضے اور اُنہیں اَٹوٹ اَنگ قرار دینے کے حوالے سے بھارت بدنام ہے
ابنِ ظفر :
کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اُس کے رجحانات اور منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ وہاں کے حکومتی مزاج کی بھی ترجمانی کرتی ہے۔ یہی خارجہ پالیسی مستقبل میں اس ملک کی تاریخ پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ترقی یافتہ ممالک اپنی خارجہ پالیسی پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ وہ نہ صرف یہ کہ اپنے پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات استوار کرتے ہیں بلکہ خارجہ پالیسی کی مدد سے ہی اپنے عوام کے لئے دنیا بھر میں سہولیات حاصل کرتے ہیں۔
بھارت کی خارجہ پالیسی اس اصول کے برعکس نظر آتی ہے۔
ہندوستان کے دو ٹکڑے ہونے کے بعد سے ہی بھارت نے اپنی سرحدوں کو وسعت دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بھارت نے صرف یہ کہ تقسیم ہند کو دل سے قبول نہیں بلکہ اس کا ازالہ کرنے کے لیے دیگر ممالک کی جانب بھی دیکھنا شروع کر دیا۔ بھارت نے 1947سے اپنی سرحدوں بڑھانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ اس سلسلے میں کشمیر اور جونا گڑھ سمیت مختلف ریاستو ں پر فوجی حملے کر کے اُنہیں قبضے کے بعد بھارت نے پڑوسی ممالک پر نظر رکھنی شروع کر دی۔
بھارت نے پڑوسی افغانستان اورچین کے علاقوں کے بھی اکھنڈ کے ساتھ سرحدی معاملے پر بھارت کی جنگ بھی ہوئی۔ اس جنگ کے بعد بھارت نے امریکہ سے رابط بڑھا دیئے تاکہ چین میں سے جنگ کی صورت اُسے بھی بڑی طاقت کی پشت پناہی حاصل ہو سکے۔ بھارت 1947ء سے ہی جبری قبضوں اور پھر ان علاقوں کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کے حوالے سے بدنام ہے۔
بھارت کی خارجہ پالیسی انتہائی جارحانہ ہے۔
2005ء میں امریکہ کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے اور معاہدوں کے بعد بھارت اور امریکہ دفاعی امور میں بہت قریب آگئے ہیں ۔ بھارت کے امریکہ اور روس کے ساتھ ہتھیاروں کی خریدوفروخت کے بھی بڑے معاہدے ہیں۔ بھارت ان دونوں ممالک سے بہت زیادہ اسلحہ خریدتا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کاجائزہ لیں تو اس کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات نہیں رکھتا۔
بھارت چین ، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور مالدیپ کے ساتھ اپنے تعلقات بڑی حد تک بگاڑ چکا ہے۔ ان میں بنگلہ دیش میں فی الوقت بھارت نواز حکومت ہے لیکن بھارت کے بنگلہ دیش سے بھی اختلافات چل رہے ہیں۔ دیگر پڑوسی ممالک کے خلاف بھی بھارت جارحیت پر اُترا رہتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ کشمیر ہی نہیں بلکہ سیاچن کا مسئلہ بھی چل رہا ہے۔ کشمیر پر تو بھارت نے جبری قبضہ کر رکھا ہے لیکن وہ سیاچن پر بھی قابض ہونا چاہتا ہے۔
ان معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان جنگیں ہو چکی ہیں ۔اسی طرح چین کے علاقوں پر قبضے کی کوشش میں بھارت کی چین کے ساتھ بھی جنگ ہو چکی ہے۔
دیکھا جائے تو بھارت خود کو خطے کی سپر پاور کے طور پر منوانا چاہتاہے۔ اُس نے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کر رکھے ہیں لیکن وہ سپر پاورز کی چمچہ گیری میں مصروف رہتا ہے۔ اس لیے اُسے امریکہ اور روس کی پشت پناہی حاصل ہے۔
ان ممالک سے وہ مہلک ترین اسلحہ بھی خریدتا ہے۔ بھارت میں عام انتخابات میں بی جے پی اور نریندرامودی بھارتی جارحیت کو اُبھارتے نظر آتے ہیں۔ مودی اپنی الیکشن مہم میں بھی پاکستان کے خلاف بیانات دے رہا ہے۔ اگر اُن کی حکومت آئی تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی کس حد تک تباہی کا باعث بن سکتی ہے ۔ بھارتی خارجہ پالیسی چانکیہ کے اس اصول پر ہے کہ اپنے پڑوسی کو ڈرا دھمکا کر رکھو لیکن اُس کے پڑوسی سے دوستی کر لو تا کہ تم نہ صرف پڑوسی کے گھر پر قابض ہو سکو بلکہ ضرورت پڑے تو اسے دو طرف سے گھیر بھی سکو۔
اس طرح دشمن کے دشمن کا اپنا دوست بنا لو تو آدھی جنگ جیت جاوٴ گے۔ بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک سے روابط اسی اصول کے تحت نظر آتے ہیں۔ خطے کے حالات جس نہج پرجا رہے ہیں، اُس میں متعدد ممالک کی کوشش ہے کہ بہتری کی جانب سفر کیا جائے اور دیگر ممالک سے اچھے تعلقات رکھے جائیں لیکن ان ساری کوششوں کے درمیان بھارت کی خارجہ پالیسی آڑے آجاتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-22

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان