بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حضرت مخدوم سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش
جہاں پر اب آپ کا مزار مقدس ہے وہاں ایک مسجد بنا کر پیر روشن ضمیر کے ارشاد کے مطابق لاہور میں رہتے ہوئے، آپ نے ہنگامہ فضیلت و مشیخت گرم کیا۔ دن کو طالب علموں کی تدریس اور رات کو طالبان حق کی تلقین ہوتی
علامہ منیر احمد یوسفی :
امام طریقت ‘رہبر شریعت ‘ مخدوم شیخ علی بن عثمان گنج بخش ہجویری جلابی عظیم المرتبت اولیاء میں سے ہیں۔آپ کی کنیت ابو الحسن ہے اور حضرت داتا گنج بخش کے نام سے مشہور ومعروف زمانہ ہیں۔
حضرت داتا گنج بخش کا سال ولادت قدیم کتابوں میں نہیں ملتا۔ البتہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ آپ کی پیدائش پانچویں صدی کے شروع میں ہوئی اور بعض نے سال پیدائش 400ھ بمطابق 1009ء کے لگ بھگ لکھا ہے۔
آپ حسنی سادات کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ کا شجرہ نسب حضرت مخدوم علی بن عثمان بن سید علی بن عبدالرحمان بن سید عبداللہ (شجاع شاہ) بن ابوالحسن علی بن حسین بن علی اصغر بن سید زید شہید بن حضرت سیدنا امام حسین اصغر بن علی اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کا خاندان ایک عملی خاندان سمجھا جاتا تھا جو افغانستان کے شہر غزنی کے دومحلوں میں آباد تھا۔ ایک کا نام ہجویر اور دوسرے کا نام جلاب تھا ۔
اس لئے آپ علی بن عثمان بن علی الجلابی الہجویری، غزنوی (لاہور) کہلاتے ہیں۔
آپ سلسلہ جنید یہ میں حضرت شیخ ابو الفضل محمد بن الحسن حتلی جیندی (460ھ) سے بیعت تھے۔ آپ کا شجرہ طریقت اس طرح ہے حضرت شیخ علی بن عثمان ہجویری مرید شیخ ابوالفضل محمد بن حسن ختلی کے وہ مرید حضرت شیخ جیند بغدادی کے وہ مرید شیخ مری سقطی کے وہ مرید حضرت معروف کرخی کے وہ مرید حضرت داوٴد طائی کے وہ مرید حضرت حبیب عجمی کے وہ مرید حضرت حسن بصری کے اور مرید امیر المومنین حضرت سید نا علی کے۔

ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے خاندانی بزرگوں سے غزنی میں حاصل کی۔ اس کے بعد علوم ظاہر و باطن کی تکمیل کیلئے اور زمین کی سیروسیاحت کیلئے نکل کھڑے ہوئے اور ماروالنہر، آذر بائیجان، فرغانہ ، خراسان، مرو وغیرہ بلاد اسلامیہ میں تشریف لے گئے اور اس سازگار فضا میں ارباب فضل وکمال اور وقت کے چوٹی کے مشائخ کرام سے علمی استفادہ کرتے رہے۔
آپ کے استاتذہ میں حضرت ابولقاسم عبدلکریم بن ہوازن ابوالعباس احمد بن محمد القصاب ،شیخ ابو سعید ابوالخیر نہایت نامور ہستیاں ہیں۔ صرف ملک خراسان میں آپ نے تین سواساتذہ سے علم صاحل کیا۔
آپ قطب وقت حضرت ابولفضل محمد بن الحسن ختلی کی داستانیں سنا کرتے تھے۔ آتش شوقِ دیدار آپ تک لے چلی۔ شیخ کامل کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت شیخ ختلی کی نگاہ آپ پر پڑی تو انوار تجلیات برسنے لگے۔
آپ نے شیخ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ پیری مریدی کا یہ رشتہ اتنا محکم ہوگیا کہ ہمہ وقت آپ کی خدمت میں حاضر رہتے ۔ غرض اس معدن تصوف کو گوہر نے مقناطیسی قوت کے ساتھ اکتسابِ معرفت کیا اور تھوڑی سے مدت میں فضا ئے معرفت کی بلندیوں میں پرواز کرنے لگے۔ جب مرشد نے دیکھا کہ میرا مرید علمی اور روحانی تکمیل فیض کر چکا ہے تو اسے ہندوستان جانے کا حکم صادر فرمایا۔

جہاں پر اب آپ کا مزار مقدس ہے وہاں ایک مسجد بنا کر پیر روشن ضمیر کے ارشاد کے مطابق لاہور میں رہتے ہوئے، آپ نے ہنگامہ فضیلت و مشیخت گرم کیا۔ دن کو طالب علموں کی تدریس اور رات کو طالبان حق کی تلقین ہوتی ۔ ہزاروں جاہل علم ،ہزاروں کافر مسلمان، ہزاروں گمراہ رہبر،ہزاروں فاسق نیکو کار بنے۔ غرضیکہ آپ کی لاہور میں تشریف آوری لوگوں کیلئے سکونِ قلب اور اطمینان خاطر کا باعث بنی ۔
آپ کی روحانی اور اخلاقی شخصیت کا اس قدر اثر کار فرما تھا کہ سب سے پہلے جو شخص اُن کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہوا وہ پنجاب کا نائب حاکم رائے راجو تھا جو بعد میں شیخ ہندی کے نام سے مشہورہوا مزار شریف کے خدمت گزار اور مجادر اسی شیخ ہندی کی اولاد سے تھے۔ تمام زمانے نے ان کی غلامی کو اپنا فخر تصور کیا۔ دور دور سے مشائخِ عظام ، حضرت داتا گنج بخش کی خدمت میں آ کر بہرہ یاب ہوئے۔
آپ نے اس شہر میں قیام کے دوران ہزاروں بت پرست کفار کو مسلمان کیا۔ جو خڈائے وحدہ لاشریک کیلئے سجدہ ریز ہو گئے اور گم گشنگامنزل کو راہِ ہدایت و بلند مرتبہ مل گیا۔
آپ کے فیوضِ باطنیہ سرمد یہ کا سلسلہ آپ کے مزار پر انوار سے آج تک جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا اور مزار مبارک مرجغ خلائق رہے گا۔ سلاطین اسلام میں سے پہلا بادشاہ سلطان مسعود بن سلطان ابراہیم 576ھ میں واردِہند ہوا جس نے آپ کے مزار مبارک کی زیارت کی سعادت حاصل کی اور مقبرہ تعمیر کیا۔
سلطان ابراہیم غزنونی سے لیکر اکبر، جہانگیر، شاہجہان اور دارلشکوہ تک سب کے سب یہاں آتے رہے اور اس وقت تک جو بھی حاکم وقت ہوا ہے اس دربار مقدس کی حاضری سے ضرور مستفیض ہوتا ہے اور نذرِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ آستانہ پر حاضر ہونے والوں میں ایک طرف جہاں دنیا کے زبردست تاجدار ہیں۔ واہاں دوسری طرف بڑے بڑے فقراء اور جلیل القدر بزرگ روحانی فیض حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔
صوفیاء کرام میں سے سب سے پہلے جس نے آپ کے مزار پر انوار کی زیارت کی اور جوارِ قدس پر 580ھ میں پاوٴں کی جانب جلہ و اعتکاف کیا وہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ہیں ۔ان کے بعد 600 ھ میں سلطان الزاہدین گنج شکر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر حاضرِ بارگاہ ہوئے اور اکتسابِ فیض فرمایا اور حضرت لال حسین لاہوری نے بھی فیض حاصل کیا ۔ علیٰ ہٰذالقیاس ، تمام بزرگان اقلیم ہند جس قدر ہوئے ہیں سب نے آستانہ پر حاضری دی ہے۔
شہزادہ دارالشکور قادری فرماتے ہیں کہ جو شخص چالیس جمعرات یا چالیس دن کامل کوئی پہیم ان کے دربار پر انوار پرحاضری دے اللہ تعالیٰ سے جو مانگے سو پائے۔ اب بھی ہر جمعرات کو معتقدینِ شہرِ لاہور ار ملک کے تمام صوبوں سے لوگ حاضر ہو کر تمام رات بیدار رہتے ہیں۔ شام سے لیکر صبح تک دورد، سلام ونعت کا ذکر ہوتا ہے اور میلاد کی مجالس منعقد ہوتی ہے۔

آپ کی کئی تصانیف ہیں، جن میں سے کشف المحجوب کو شہرہ آفاق حاصل ہے یہ تصنیف درحقیقت کتب تصوف میں مرشد کامل اور رہنمائے کامل ہے۔ آپ کی تعلیمات اور ارشادات طالبانِ راہ حق کے لئے مرشد طریقت کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ آپ نے برصغیر پاک وہند میں دین اسلام کیلئے لوگوں کے دلوں میں وہ محبت جگائی کہ آج تک اس کارواں کا فیض جاری ہے۔
این سعادت بزودبازوینست
تانہ بخشندخدائے بخشندہ
ُُ” کشف المحجوب “ تصوف کی کتابوں کی سردار ہے جو شخص اسے توجہ سے پڑھے اس کی دنیا وآخرت سنور جاتی ہے۔
حضرت داتا گنج بجش نے بے شمار حجابات کو اس میں کھولا ہے۔ کتاب کے شروع میں آپ نے علم کی اہمیت کو خوب بیان کیا ہے اور نماز، جسے عبادات میں مرکزی اہمیت حاصل ہے اس بھی بڑے حسین پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ جس کے بغیر کلمہ کو انسان صحیح مسلمان نہیں بن سکتا ۔
فرماتے ہیں کہ : علم دو قسموں کا ہے۔ایک ”علم الہٰی “دوسرا ”علم مخلوق“۔
بندہ کا علم ،علم الہٰی کے مقابلے میں ( لاشی ءِ) محض ہوتا ہے کیونکہ علم الہٰی اللہ تعالیٰ کی صفتِ قدیم ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے او ر اس کی صفتوں کیلئے انتہا نہیں جبکہ ہمارا علم ہماری صفت ے جو ہمارے ساتھ قائم ہے اور ہمارے اوصاف متناہی ہیں۔
”علم“ کی تعریف معلوم چیز کا احاطہ کرنا اور اس کو بیان کرنا ہے اور علم کی نہایت عمدہ تعریف یہ ہے کہ : ’علم ایک صفت ہے جس سے جاہل عالم ہو جاتا ہے۔“
پس تھوڑے سے علم کی مدد سے بہت سا عمل کرنا چاہیے اور ضروری ہے کہ علم کے ساتھ عمل بھی ہو کیونکہ رسول اللہ فرماتے ہیں:” عابد علم ِ دین کے جانے بغیر خراس کے گدھے جیسا ہے کہ وہ کتنا ہی گھومے اپنے پہلے ہی قدم پر رہتا ہے اور آگے راستہ طے نہیں کر سکتا۔“
تاریخ اشاعت: 2014-12-13

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان