بند کریں
اتوار مارچ

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عید پر بھی غزہ لہو لہو
ظلم رہے اور امن بھی ہو
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جہاں جہاں ظلم ہوا‘ وہاں وہاں ظالم کے خلاف آواز بھی بلند ہوئی اور یہ سلسلہ جاری ہے رمضان المبارک سے عیدالفطر کے دن تک اسرائیلی فلسطینیوں کے خلاف ظلم و ستم کے خلاف کے پہاڑ توڑ رہا ہے
خالد یزدانی:
ظلم رہے اور امن بھی ہو…یہ کیسے ممکن ہے‘ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جہاں جہاں ظلم ہوا‘ وہاں وہاں ظالم کے خلاف آواز بھی بلند ہوئی اور یہ سلسلہ جاری ہے رمضان المبارک کے مقدس ماہ سے عیدالفطر کے دن تک اسرائیلی فلسطینیوں کے خلاف ظلم و ستم کے خلاف کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور نہتے فلسطینی بوڑھے بچے خواتین اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔
ایک طرف غزہ کے فلسطینی اور دوسری طرف جدید ترین اسلحہ سے لیس اسرائیلی بری و فضائی فوج غزہ میں مقیم فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کر رہی ہے۔ عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور ہسپتالوں تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عالم اسلام خصوصاً مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک و ریاستیں کھل کر فلسطینیوں کی حمایت بھی نہیں کر رہیں۔ اگرچہ مصری حکومت نے ایک منصوبہ پیش کیا تھا جسے فلسطینی قیادت نے مسترد کر دیا تھا جبکہ امریکہ سمیت یورپی ممالک کھل کر اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔
اسرائیل نے اپنے جن تین اسرائیلی نوجوانوں کی ہلاکت کو جواز بنا کر غزہ پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا‘ اس کے حوالے سے غزہ میں انسانی حقوق کی کارکن سوراجی نے انکشاف کیا تھا کہ تینوں اسرائیلیوں کے اغوا میں اسرائیلی انٹیلی جنس موساد اور داخلی سکیورٹی کا عمل دخل تھا کیونکہ اسرائیلی حکومت پہلے ہی سے رمضان کے مہینہ میں غزہ میں کارروائی کا فیصلہ کر چکی تھی۔
سوراجی کا کہنا تھا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 85 فیصد ہلاک اور شدید زخمی لوگ سویلین شہری ہیں
اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں کا سلسلہ انتہائی جامع اور سفاکانہ ہے جس کے کئی پہلو ہیں۔ اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ پر حملے کی پلاننگ میں گرفتاریوں‘ ٹارگٹ کلنگ‘ اغوا‘ فضائی بمباری‘ سرنگوں کی تباہی اور ڈرون حملوں کے الگ الگ یونٹ قائم کئے گئے تھے۔
صرف فلسطینیوں کی گرفتاری کیلئے بنائی جانے والی ٹاسک فورس نے 35,00 فلسطینیوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ تمام گرفتار شدگان سویلین ہیں جبکہ ان میں فلسطینی پارلیمنٹ کے 28 معزز ممبران بھی شامل ہیں جنہیں نیم برہنہ کرکے گرفتار کیا گیا تھا۔ سو راجی نے کہاکہ ان کی اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر 2000 فضائی حملے کئے ہیں جو عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔
اسرائیلی طیاروں اور ڈرونز نے درجنوں مساجد‘ سکولوں‘ مدارس اور سرکاری انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیلیوں کے سر پر خون سوار ہے۔ اس وقت غزہ میں پانی‘ بجلی‘ گیس اور سیوریج کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ 90 فیصد فلسطینی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ رمضان کے مہینے سے قبل ہی بیروزگاری نے 65 فیصد فلسطینیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا اور رہی سہی کسر اسرائیلی حملوں نے پوری کر دی ہے۔
مسئلہ فلسطین کا واحد حل یہی ہے کہ غزہ کا محاصرہ ختم کرایا جائے تاکہ فلسطینیوں کو کھل کر سانس لینے کا موقع ملے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون‘ مصری صدر السیسی‘ ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان بھی ”جنگ بندی“ کیلئے کوشاں ہیں اور فریقین کو ایک دوسرے پر حملے بند کرکے مذاکرت کی ٹیبل پر لانے کیلئے زور دے رہے تو دوسری طرف دنیا بھر میں نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے کھل کر اسرائیلی فوج کی غزہ پر حملے کی مذمت کی ہے اور ان سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے کہا فلسطینی عوام اور غزہ کی سلامتی کیلئے ہاتھ سے ہاتھ ملائیں اور ہمیشہ ان کی مدد کرنے کا عہد کریں۔ غزہ کے مظلوموں کی حمایت میں پاکستان بھر میں عیدالفطر سے قبل جمعتہ الوداع کے روز بھی ریلیاں نکالی گئی تھیں اور ان سے بھرپور اظہاریکجہتی کیا گیا تھا۔
اسی طرح بلجیم اور فرانس میں بھی اسرائیلی ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھائی گئی اور لوگوں کی بڑی تعداد نے بینر اٹھا کر احتجاج ریکارڈ کروایا۔اسرائیلی بربریت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ ترجما ن نے کہا بار بار خبردار کئے جانے کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں اقوام متحدہ کے ایک سکول پر تباہ کن حملہ کرکے بچوں سمیت 15 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔
اس سکول میں فلسطینی پناہ لئے ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کرس گنیس نے کہا ہے کہ یہ حملہ پوری دنیا کی تذلیل ہے غزہ میں اب تک تیرہ سو سے زیادہ فلسطینی اسرائیلی ظلم کا شکار ہو چکے ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک لڑنے کیلئے تیار ہے جب تک اسرائیل کی طرف سے گزشتہ سات سال سے جاری غزہ کی اقتصادی ناکہ بندی ختم نہیں کی جائے گی۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان موجودہ فوجی تصادم سب سے زیادہ طویل ہو گیا ہے۔
2012ء میں ہونے والی لڑائی آٹھ دن تک جاری رہی تھی جبکہ 2008ء میں فریقین کے درمیان لڑائی 22 دن بعد ختم ہو گئی تھی۔ موجودہ لڑائی میں اسرائیل نے دس دن تک غزہ پر مسلسل فضائی‘ بحری اور بری فوج کی بمباری کے بعد زمینی کارروائی شروع کی تھی۔ اقوام متحدہ کے امدای ادارے ”ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی“ کے ہ سربراہ کرس گنیس نے کہا ہے کہ اسرائیل فوج کو کئی مرتبہ بتایا گیا تھا کہ جیالیا کے سکول میں مہاجرین پناہ لئے ہوئے ہیں۔
آخری مرتبہ حملے سے چند گھنٹے قبل انہیں بتایا گیا تھا کہ سکول میں شہریوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ ان کی طرف سے کئی گئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے سکول کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں اس حملے میں عورتوں اور بچوں سمیت متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں اور یہ واقعہ عالمی شرمندگی کا باعث ہے۔ حملے کے بعد سکول کی تصاویر میں دیواروں اور اور چھتوں میں بڑے بڑے شگاف دیکھے جا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے غزہ میں امدادی کارروائیوں کے ڈائریکٹر باب ٹولر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتاہے کہ اسرائیل ہی اس کا ذمہ دار ہے۔ چند روز قبل فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے وفد کے ہمراہ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ سے جدہ میں ملاقات کی تھی جس میں شاہ عبداللہ نے فلسطینی عوام کی ہرممکن مدد جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
اسرائیلی فوج نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی ہے اور عالمی امن قائم کرنے والے ادارے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے۔ خون مسلم بہہ رہا ہے اور اس وقت تک بہتا رہے گا جب تک مسلم اْمہ نیل کے ساحل سے کاشغر تک ایک نہیں ہو جاتی۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان